Wednesday, June 4, 2025

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔


شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ محمدﷺ کی بعثت سے پہلے بھی بہت سارے معاملے ہوئے، ہر سیرت نگار اور جانکار کو پتا ہے کہ بعثت کے بعد آپ کے ساتھ کیا کیا برتاؤ کیا گیا۔ اور کس کس دور میں کیا گیا؟ ہر دور میں دین اور شریعت کا مذاق اڑایا گیا۔ ہر دور میں طریقے جدا جدا رہے۔ کبھی زبانی حملے کیے گئے، کبھی عملی حملے کیے گئے، کبھی نسلوں کو گالی دی گئی۔ لکھنے پڑھنے کے دور میں اخبارات اس کے ذرائع بنے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹ میں بیٹھ کر گالیاں دی جا رہی ہیں۔ دین و شریعت پر عمل پیرا لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی۔ ہر دور میں کی گئی اور آج بھی کی جا رہی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیوں ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے؟

ہمارے ساتھ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم خود اندرونی طور پر آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، برائی کرتے ہیں۔ نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح وہ ہمارے ساتھ سلوک کرتے ہیں، ہمارے اپنے خود ہمارے ساتھ عصبیت برتتے ہیں۔ یہی سب سے بنیادی وجہ ہے۔ اور سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ساری عصبی اور ذہنی خرابی ہماری نسل در نسل منتقل ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اِن غلطیوں کے وارث پیدا ہوئے ہیں۔ غور کریں تو پتا چلے گا کہ خود محمدﷺ کے اُمتی کا دم بھرنے والے اُن کے قول و عمل اور فرمان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ محمدﷺ کے اُمتی کہلانے کا شوق رکھتے ہیں لیکن طریقہ اور سوچ ابوجہل والی پالے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی جذباتی شناخت کے ساتھ فوٹو ایڈٹ کرکے ڈالا جاتا ہے کہ بس، عام آدمی اُسی میں جذباتی بن جاتا ہے۔ اور پھر ہماری قوم کے لوگ آن میں کان کٹا بیٹھتے ہیں۔ کیوں کہ دوسری طرف سے ہمارا اپنا طعنہ دیتا کہ تجھے رسولﷺ سے محبت نہیں۔ تجھے قرآن سے محبت نہیں۔

’’اُس مسلم کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جو اسے پڑھے اور فاروڈ نہ کرے۔‘‘

یا اس جیسے دیگر جذباتی جملے … … …

مسلم قوم کو تو کب کا شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔

 آخر اس طرح کے پوسٹ کو دوسروں تک پہنچا کر اُسے پرموٹ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیوں اپنے آپ کو خود ہی ذلیل کرتے ہیں؟

کچھ ٹی وی چینل نے تو اسی کام کا بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اس طرح کے جذباتی ڈیبیٹ کریں گے اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیں گے۔ فاروڈ کرنے کا کام تو ہماری قوم کے لوگ خود ہی کر دیتے ہیں۔

ہمارے یہاں گرافک ڈیزائنر کی بھرمار ہے جو اس کے چہرے پر جوتا بنا کر پوسٹ کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔

اسی طرح کی سوچ کے تعلق سے سینکڑوں امیجز اور ویڈیوز نظر سے گزرے ہوں گے۔ اور جب اُن پر غور کیا جائے اور سوچا جائے تو اس کا نتیجہ یہی آئے گا کہ سب سے زیادہ گستاخی اور مخالفت کرنے والے ہم خود ہی ہیں۔

وہ کیسے؟ ذرا اِس حدیث پر غور کریں۔

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللهُ عَنْه

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں (عادتوں اور طریقوں) کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

ہم کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن کیا اس کا حق ادا کرتے ہیں؟ 

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، لیکن کیا ہم مذکورہ حدیث پر عمل کرتے ہیں؟

آخر ہماری عبادات کیسی ہیں کہ ہم منکرات سے نہیں رُکتے؟ انسانیت کو تکلیف پہنچانے سے نہیں رُکتے۔ کیوں ہر غلط کام معاشرے میں ہماری پہچان بن چکی ہے۔ یہ چاروں عبادات ادا کرنے کے بعد بھی ہمارے قول اور عمل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ کیوں؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کو فاروڈ کرنے کی؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کے بارے میں جذباتی بیان دینے کی اور تشہیر کرکے لوگوں کو ورغلانےکی؟ یہ تو صرف دل کی بھڑاس نکالنے کی طرح ہے۔

آپ خود سے سوچئے کہ 

سنجیدہ موضوع پر کتنے لوگ گفتگو کرتے ہیں، یا عمل میں لاتے ہیں؟ 

کتنے لوگ سنجیدگی سے سنت نبویہ کے مطابق عبادات کو بجا لاتے ہیں؟ 

’’اپنی ذات سے دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے‘‘ کتنے لوگ یہ خیال رکھتے ہیں؟

اگر غلطیاں اور کمیاں شمار کرائی جائے تو غلطیوں کا پلندہ تیار ہو جائے گا۔

اگر ٹی وی پر اس طرح کے پروگرام آ رہے ہیں تو ٹی وی دیکھنا بند کیجیے۔ ویسے بھی اب ٹی وی دیکھنے کی یا معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہ گیا ہے۔ اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ 

سب کے سب آپ کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں اور اُس کا فائدہ اٹھاتے۔ نقصان ہوتا ہے تو صرف اور صرف ہمارا۔

مسلم قوم خود رسولﷺ کے فرمان (طور طریقے) کی نافرمانی کر رہا ہے تو کیا یہ رسولﷺ کو گالی دینے کی طرح نہیں ہے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔

ایک گالی اُس نے دی ہے۔ وہ ہم تک پہنچی تو ہمیں دُکھ ہوا۔ اور ہمارے دُکھی ہونے سے اُنہیں خوشی ملتی ہیں۔

اب ہمیں سوچنا ہے کہ کیا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا مخالف خوش ہو۔

یا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا رب خوش ہو۔

اگر ہمیں اللہ کی رضا مقصود ہے تو ہمیں رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر کام کرنا ہی ہوگا۔ اور خدا و رسول کی رضا کو اپنا نشانہ بنانا ہی ہوگا۔

لہٰذا ہمیں صبر کے ساتھ غلط ویڈیوز اور امیجز وغیرہ پرموٹ کرنا بند کردینا ضروری ہے۔

کوئی تبصرہ یا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اس پر گفتگو کرنا بند۔

برداشت کی عادت ڈالیے۔ 

آپ کا کیا ارادہ ہے۔؟

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

ری فورمسٹ

3rd June 2025

 

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...