Saturday, May 8, 2021

انجانا خوف اور ہماری صحت

ازفیروزہاشمی

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید کر رکھا ہے۔ اس حالت نے جہاں ایک طرف ہماری آزمائش کو بڑھا رکھا ہے، وہیں دوسری طرف ہمیں احتساب کرنے اور سدھارنے کا بھی موقع عنایت کیا ہے۔ ہمیشہ سے ہی اصول و ضوابط کی پاسداری ہمارے لئے بہتری کا سبب ہوتا ہے اور خلاف ورزی پریشانی، بیماری، مفلوک الحالی کا سبب بن جاتا ہے۔

اس وقت جو طاعون ہمارا ملک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا، خبروں کے مطابق بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس کی خبر لمحہ بہ لمحہ ملتی رہتی ہیں۔ کیوں کہ آج کے مواصلاتی دور میں بذریعہ انٹرنیٹ اور بذریعہ موبائیل ہر خبر آسانی سے پہنچ جاتی ہے۔ اس مہاماری سے نبردآزما ہونے کے جو بھی رہنما اصول مرتب کئے گئے ہیں، اسے اپنا کر ہی اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی گھر میں قید ہونے کی وجہ سے ہمیں کچھ اضافی وقت دستیاب ہوا ہے۔ ہم اگر اس وقت کا بہتر استعمال کرتے ہیں تو مستقبل کے لئے بہتر لائحہ عمل مرتب کر سکتے ہیں اور بہت سے کام اس خالی وقت میں بھی کر سکتے ہیں۔ پڑھنے لکھنے کا سلسلہ اکثر انہیں ایام میں کئے جاتے رہے ہیں۔ تاریخ میں بہت ساری شخصیتوں کے نام آتے ہیں جنہوں نے قید و بند کی حالت میں مختلف قسم کے ایجادات اور معرکۃ الآراء تصنیفی کام انجام دیئے۔ ریسرچ کئےگئے۔ اور لوگوں کے لئے بہتری کا ذریعہ بنے۔ 

اس وقت سب سے پہلا کام اپنا خود کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے جیسے کہ انہوں نے کون کون سے ایسے کام کئے جسے نہ کرتے تو زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔ یا کون کون سے ایسے کام کئےجس کی وجہ سے مالی تنگی میں مبتلا ہوئے۔ روزارنہ کے رہن سہن میں کس قسم کی غلطیاں کی جس کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہوا اوروہ بیماری اُن کی موت کا سبب بنا۔ اگر ہم ان باتوں پر غور کرتے ہیںتو پتا چلتا ہے کہ بہت ساری خامیوں اور کمیوں میں ایک سب سے بُری بیماری کا نام ہے ’’لاپروائی‘‘۔ اگر ہم نے معاشرتی لاپرواہیوں کو چھوڑ دیا تو ہم صحت مند اور خودکفیل زندگی گزار سکتے ہیں۔

وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ البقرہ آیت ۱۹۵) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہپڑو۔ اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ  احسان کرنے والے کو دوست رکھتا ہے۔

اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا کیا کہلاتا ہے۔  احسان کا مطلب یعنی اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھے کام کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ کام ہی احسان کہلاتا ہے۔

لیکن جب محاسبہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہماری بیماری کی وجہ ہماری خود کی لاپروائی ہے۔ نہ وقت پر کھانا پینا، نہ وقت پر کام کرنا، نہ وقت پر سونا۔ نہ اور دیگر کاموں کو اُس کے اپنے وقت پر انجام دینا ہماری پریشانی اور مفلوک الحالی کے اسباب ہیں۔ ہم اسے درست کرکے اپنی صحت اور مالیت دونوں کا صحیح استعمال کرسکتے ہیں۔ 

حالات چاہے جو بھی ہوں، ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (سورہ آل عمران، آیت ۱۳۹)

تم نہ سستی کرو، نہ غمگین ہو۔ تم ہی غالب رہوگے اگر ایمان دار ہو۔

اگر ہم ایمانداری سے کام نہیں کریں گے اور ہماری زندگی میں جھوٹ شامل ہوگا توہم کبھی بھی غالب نہیں ہو سکیں گے۔ کسی بھی طرح کی پریشانی پر ہمارا غلبہ نہیں ہو سکے گا۔ 

اس وقت جو ہمارے اندر خامیاں ہیں اور غلط قسم کے سطحی رائے اور مشوروں کی بدولت ہم اپنی مالیت اور صحت دونوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے گئے بہت سے قسم کے اقوال و آراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی تاریخ، اصلیت اور کہنے یا لکھنے والے کے نام و پتا کے بغیر فارورڈ کر دینا نقصان کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو رہنما اصول کے تحت ہی کامیابی نصیب ہوگی ورنہ آج جو حالت ہو رہی ہےوہ شاید نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے بندے کو آزماتا ہے۔ غور یہاں کرنا ہے کہ کیا ہم اُس آزمائش میں پورے اُترے؟ اگر نہیں تو  کیوں؟ کیا آئندہ ہمارے حالات بہتر ہو سکتے۔ ؟ خیر کی امید اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے۔ اور یہ دعا کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏  صحيح   (الألباني)

 "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےبرص، دیوانگی، کوڑھ  اور  تمام بری بیماریو ں سے پناہ طلب کرنے کے لئے یہ دعا بتائی ہے۔  اتنی عمدہ رہنمائی کے باوجود آخر کس وجہ سے اکثر اموات کی خبر میں ’’طویل علالت‘‘ یا ’’عرصہ سے صاحبِ فراش تھے‘‘  کا لفظ شامل رہتا ہے؟ یا اکثرمیّت میں شرکت کرنے والےافراد سوال کرتے ہیں کہ ’’کیسے موت ہوئی‘‘ یا ’’کس بیماری کی وجہ سے موت ہوئی‘‘۔  تو میّت کے اقرباء اور دوست احباب کے ذریعہ دسیوں اسباب شمار کرا دیئے جاتے ہیں۔ ڈائی بی ٹیز، بی پی، ہارٹ، ٹی بی، کینسر، برین ٹیومر وغیرہ اسباب کو تو بڑے طمطراق سے بیان کئےجاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے تمغہ جیتا ہے۔ !!!  کیا مرنے کے لئےبیمار ہونا ضروری ہے؟!!!  نہیں !!!  ہرگز نہیں۔  تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے ساتھ صحت مند اموات ہوتی رہی ہیں۔ بہت ہی پرسکون انداز میں لوگ فوت ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ 

’’آج انسان اپنے پچاس سال کی بچت کو زندگی کے آخری پچاس دنوں میں ہی خود کو موت سے بچانے میں خرچ کر دیتا ہے۔‘‘

کیا کبھی ہم نے اِس پر غور کیا ہے؟ کتنے فیصد لوگ اِس پر غور کرتے ہیں؟ ۔ 

اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی؟ ہم کھاتے پیتے گھر کے لوگ ہیں۔ اللہ نے فراوانی میسّر کی ہے۔ ہم ٹھیک ٹھاک تو ہیں۔

بالکل درست کہا آپ نے۔آپ کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں۔ 

لیکن غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔  

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (سورۃ النساء آیت ۸۲)

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟  اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

غور فرمائیں۔ قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و تدبر کی تاکید کی جارہی ہے اور اس کی صداقت جانچنے کے لئے ایک معیار بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہوتا  تو اس کے مضامین اور بیان کردہ واقعات میں تعارض و تناقض ہوتا۔ کیوں کہ ایک تو یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے۔ ایک ضخیم اور مفصل کتاب ہے، جس کا ہر حصہ اعجاز و بلاغت میں ممتاز ہے۔ حالاں کہ انسان کی بنائی ہوئی بڑی تصنیف میں زبان کا معیار اور اس کی فصاحت و بلاغت قائم نہیں رہتی۔ دوسرے اِس میں پچھلی قوموں کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں اللہ علام الغیوب کے سوا کوئی اور بیان نہیں کر سکتا۔ تیسرے اِن حکایات و قصص میں نہ باہمی تعارض و تضاد ہے اور نہ اُن کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی جزئیہ قرآن کی کسی اصل سے ٹکراتا ہے۔ حالاں کہ ایک انسان گزشتہ واقعات بیان کرکے توتسلسل کی کڑیاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہیں اور اُن کی تفصیلات میں تعارض و تضاد واقع ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کے اُن تمام انسانی کوتاہیوں سے مبرا ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ یقیناً کلامِ الٰہی ہے جو اُس نے فرشتے کے ذریعہ سے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ 

دوسری جگہ ارشاد فرمایا

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَآ (سورۃ محمد آیت ۲۴)

کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا اُن کے دلوں پر اُن کے تالے لگ گئے ہیں۔

جس کی وجہ سے قرآ ن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔

کب ہم قرآن میں غور و فکر اور تدبر کریں گے؟ جب کہ زندگی کے سارے احکام و مسائل طور طریقے بیان کئے جا چکے ہیں۔ کیا صحت و عافیت کی زندگی گزارنے کے طریقے قرآن میں بیان نہیں کئے گئے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے اور اب تک آپ نے صرف تلاوت کی، یہ سوچ کر پڑھا ہے کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، تو ان شاء اللہ وہ تو ملیں گی ہی  لیکن اصل جو یہ کتابِ زندگی و آخرت ہے، اس میں غور و تدبر کریں معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔  بہتیرے ترجمہ و تفسیر دستیاب ہیں۔  روزانہ آدھا گھنٹہ کا معمول بنایا جائے کہ اِس وقت میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور اپنی زندگی میں اُتارنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر آپ خود نہیں کر سکتے تو کئی افراد مختلف ذرائع سے قرآن کو سکھانے اور سمجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اُن سے سیکھیں۔ مختصر مدت کے کئی اسباق ترتیب دیئے جا چکے ہیں۔ اس سے استفادہ کریں اور دیگر  ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ہی صحت و عافیت کے بارے میں بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔  اور وقت پر کھانا، پینا، سونا اور دیگر امور زندگی انجام دیں گے تو ان شاء اللہ کبھی بیمار نہ ہوں گے۔ عمر بھر کی کمائی ہوئی دولت آخری ایام میں صحت کو بچانے کی خواہش یا چندایام مزید دُنیا کی لذتوں میں جینے کی خواہش لئے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ اِس بات کی پہچان ہے کہ پوری زندگی قرآن کی صرف تلاوت تو کی گئی ، اُس کو سمجھ کر زندگی میں اُتارنے کی کوشش نہیں کی گئی ورنہ دنیا کی لذتوں کی خواہش کیوں؟ اگر ہم صحت مند رہ کر اپنی زندگی گزاریں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں تو دنیاوی لذتوں کی خواہشیںکہاں رہ جائیں گی؟ بہت ساری ہستیاں گزری ہیں، جن کی کارکردگی اتنی ہے کہ ہم میں سے بہتیرے سوچ نہیں پاتے کہ ہماری طرح دکھائی دینے والے انسان اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ جی ہاں! اِسی روئے زمین پر ایسے لوگ گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن کی کارکردگی ہزاروں افراد کے لئے صحت و عافیت کا ذریعہ ہیں۔ مثالوں کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اے پی جے عبدالکلام، عبدالعظیم پریم جی، یوسف حمید، حکیم عبدالحمید، ویر عبدالحمید وغیرہ ۔ جن کی زندگی اپنے علاوہ دوسروں کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

 فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا * إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا  (سورۃ الشرح، آیت ۵ و ۶)

پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

پوری سورت کو سمجھیں، بہت ہی بہتر رہنمائی کی گئی ہے۔ ہم اپنے ہیلتھ اور ویلتھ کو مینج کرنا سیکھیں اور اپنائیں۔ ان شاء اللہ زندگی بہت آسان ہوجائے گی۔بیمار ہونے کے بعد علاج و معالجہ ضروری ہے۔ لیکن بہتر یہ ہوگا کہ ہم وہ طریقہ اپنا لیں کہ بیمار ہی نہ ہوں  اور ہم اپنی روزانہ کے طریقۂ کار کو سنت کے مطابق بہتر بنا ئیں ۔ اپنی کمائی ہوئی دولت کو طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی سے بچیں۔ ایک طرف جہاں کنجوسی اللہ کو ناپسند ہے تو دوسری طرف فضول خرچی حرام ہے۔ اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (سورۃ الإسرا۔ آیت ۲۷)

بے شک فضول خرچ کرنے والےشیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، صحت و عافیت کی زندگی عطا فرمائے۔ اور متعدی امراض و دیگر پریشانیوں سے حفاظت فرمائے۔ آمین

۔۔۔

ازفیروزہاشمی

صحت کے بارے میں مشورہ کے لئے اپنا تعارف اور اپنی رپورٹ اس نمبر پر واٹس ایپ کریں۔

9811742537 

عید یومِ محاسبہ و معاہدہ

 ⬅️’’عید‘‘  یومِ محاسبہ و معاہدہ ➡️ عمومی طور پر دنیا میں مسلمانوں کے تین تہوار منائے جاتے ہیں، جو کہ خوشی، معاہدہ، محاسبہ، ایثار وغیرہ کا پ...