🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹
از فیروز ہاشمی
مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہے؟ کیا اِسے فروغ دینا چاہیے؟ ہر اہل و نا اہل کو مفت دے کر یا مفت کھلا کر کیا کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ اور کیا کیا نقصان ہو رہا ہے؟ وغیرہ … اور دوسری طرف مادّی سہولت نہ ہونے یا نہ ملنے کی شکایت عام ہے۔ کیوں؟ …کیا حقیقت میں ہمارے پاس مادّی یا مالی سہولت نہ ہونے کی کی وجہ ہمارا معاشرہ ابتری کا شکار ہے؟
یہ سب وہ سوالات و اشکالات ہیں جو اپنی جگہ درست بھی ہیں اور اکثر جگہوں پر بے ترتیبی کا شکار بھی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ابتری کی طرف گامزن ہے۔
کیا اِس کا حل موجود نہیں ہے؟ یا اِس کا کوئی حل ہے؟ اور ہم اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔
یہ سوالات ہمیں خود سے پوچھنا ہے، خود ہی اس کا حل ڈھونڈنا ہے اور خود ہی اُس پر عمل پیرا ہونا ہے تب ہی ہماری مالی اور معاشرتی صورتِ حال بہتر ہونے والی ہے۔ ورنہ ابھی جس حال میں ہیں۔ اس سے بہتر صورتِ حال نہیں ہو سکتی۔ کیوں؟
کیوں کہ اس کی سب اہم وجہ ہے یقین اور اعتماد کی حد درجہ کمی۔ اور یہ کیوں ہوا؟
کسی بھی مقصد یا نشانہ کو پورا کرنے لیے اور حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اس نشانہ کو جاننا ضروری ہے اور اُس آلہ کو بھی سمجھنا ضروری ہے جس کے ذریعہ آپ وہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ وہ ہے تعلیم، دوسرے نمبر پر اس تعلیم یا علم کا درست استعمال۔ تیسرے نمبر پر اللہ کی رضا۔ اگر ہمارے اندر اِن تینوں کا فقدان ہے تو ہم کبھی بھی اپنے نشانہ یا Goalکو حاصل نہیں کر سکتے۔
قرآن مجید کی اِس آیت میں مجموعی طور اِسی مقصد کو حاصل کرنے کی تعلیم اور رہنمائی کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ
(سورۃ التحریم؛ آیت ۶)
معاشرہ کو بہتر بنانے اور قائم رکھنے کے لیے سلسلے میں اہم موضوع کی نشاندہی اس آیت کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے
اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اس آیت میں اپنے آپ کی اور اپنے اہل عیال کی حفاظت کرنے اور جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ غور کا پہلو یہ آتا ہے کہ بحیثیت ایمان والا؛ کیا ہم اس حکم کی بجا آوری کرتے ہیں؟
اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے تو ہمیں وہ سارے اصول اپنانے ہوں گے، جسے اپنا کر انبیاء اور بزرگان دین نے شریعت کو فروغ دیا، اللہ کا پیغام لوگوں تک عام کیا۔ وہی کام آج بھی کرنا ہے۔ ظاہراً ہو بھی رہا ہے، لیکن جو سب سے بڑی کمی یقین اور اعتماد کی قائم ہو گئی ہے، اس نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا۔ یقین اور اعتماد کو اُس وقت ٹھیس پہنچا جب ہمارے اندر خودغرضی داخل ہوئی، خودغرضی آتے ہی مفت خوری دھوکہ دہی بڑھی، اور جب ان عملوں کا فروغ معاشرے میں ہو گیا تو ہمارے اندر سے مقصدیت اور اللہ کی رضا کی چاہت ختم ہونے لگی۔ آج ہم صرف پیدائشی اور نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔
یہ آخری جملہ بہت سخت ہے، اور کسی بھی مسلم کو اچھا محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن حقیقت کے بہت قریب ہے۔ کیسے؟
ہم نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یہ چاروں عبادات کو بخیر و خوبی انجام دیتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ایک عمل توحید بھی ہے۔ یہ کس انسان کے اندر کتنا ہے، یہ وہی جانتا ہے۔ لیکن اللہ کے رسولﷺ کا پیغام کی روشنی اپنے آپ کو تولا جا سکتا ہے کہ ہماری اہمیت کیا ہے؟
عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ((المُسلِمُ مَن سَلِمَ المسلمون مِن لسانه ويده، والمُهاجِرُ مَن هجَرَ ما نهى الله عنه))؛ متفق عليه.
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔
اگر ہم اپنے آپ کو اس حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو ننگے محسوس کرتے ہیں۔ ہم صرف مسلم گھرانہ میں پیدا ہوئے، والدین نے ختنہ کراکر مسلمان بنا دیا۔ باقی سب اعمال روایتی ہیں، جس کا شریعت سے دور دور تک واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔
اوّلِ روز سے ہی حالات میں بہتری اور بدتری ، آسانی اور پریشانی، تنگی اور فراوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ جب حالات میں تنگی پیدا ہوئی تو مالداروں کی ضرورت مندوں کو مالی تعاون دیا، خوراک کی کمی ہوئی تو خوراک مہیا کیا۔ یا دیگر ضروریاتِ زندگی میں کسی طرح کی پریشانی یا تنگی آئی تو اُس میں تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی لاپرواہیاں اور بدنظمیاں بھی پیدا ہوئیں۔ کئی جگہوں پر اور قوموں میں ابتری اور برتری کا سلسلہ بھی شروع ہوا گیا۔ اور انسانیت کے ناطے تعاون کا جذبہ خودغرضی اور دبدبہ بنانے کے لیے کیا جانے لگا۔ یہی وہ مفت کا چلن مادّی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی کا سبب بنا۔ اِس وقت دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ مسلم قوم بھی ذہنی غلامی کا شکار ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قوم مالی اعتبار سے کب کی خود کفیل ہو جاتی۔ یہاں تک مسلم قوم دوسری قوموں کو بھی خود کفیل بنانے میں اہل ہو جاتی۔ جیسا کہ دیگر مسلم ممالک سے آنے والے صدقات و زکوٰۃ کی رقم جو ہندوستان اور پڑوسی ملکوں میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس کے باوجود ہماری قوم دست سوال کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں؟
کیوں کہ ہماری قوم میں مالی بدنظمی عروج پر ہے۔ معاشرتی زندگی کے کسی بھی شعبہ پر نظر ڈالیں، خواہ و تعلیمی ادارہ ہو، خیراتی ادارہ ہو، تحقیقی یا تصنیفی ادارہ ہو، یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ بدنظمی سے پاک نہیں ہے۔ مدنی زندگی کی آخری سات آٹھ برس میں ہی ہماری قوم خود کفیل کیسے بن گئی تھی۔ اس کے بعد کے بھی حالات سے پتا چلتا ہے مسلم قوم کئی صدی تک مالی طور پر اور دیگر میدانوں میں خود کفیل تھی۔ اور اب کی حالت یہ ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں اپنے آپ کو غریب، بے سروسامان، تعلیمی اعتبار سے پسماندہ، اور دیگر جو کار ہائے زندگی میں ہم سے زیادہ ناکارہ کسی دوسری قوم کا تعارف نہیں کرایا جاتا۔ مظلوم ہم، مسکین ہم، بے سہارا ہم، جاہل اور اَن پڑھ ہم۔ یہ سارے منفی علم اور سوچ بچپن سے ہمارے ذہن میں ڈالا گیا اور فروغ بھی دیا جاتا رہا۔ مسجد صرف عبادت کی جگہ رہ گئی۔ مدرسے دین کے قلعہ کے نام پر چندہ وصولنے اور اپنے مصرف میں استعمال کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ذمہ داران کے مزے ہوگئے اور ملازمین کے درمیان بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر خیراتی اداروں کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے نام پر چندہ لیا جاتا اور رمضان، عید کٹ بانٹ کر نمائش کر دی جاتی۔
کیا ہماری قوم میں ایسے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکیں کہ ’’اب مجھے اِس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی اور ضرورت مند کو دے دیجیے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔