Sunday, April 19, 2026

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری


یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

روز غم دینے لگا مجھ کو مجھی کا لکھا

شاعر؛ ڈاکٹر عطا عابدی، دربھنگہ

تھوڑا ٹھہریے اور غور کیجیے کہ اس جملہ یا مصرع کن حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟  کیوں اس غم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔؟

اس کا بہت ہی واضح اور بیّن ثبوت یہ ہے کہ ہمارے اردو کے رکھوالوں کی ساری کوششیں اور لن ترانی اپنے پیٹ کے جگاڑ تک ہی محدود رہی۔ اسکولوں و کالجوں میں استاذ مقرر ہوئے، اچھے پیسے کمائے، لیکن دوسرے کے بچوں کے لیے اتنے مفید ثابت نہیں ہوئے۔ جتنا کہ معاشرے میں بتائی جاتی ہیں۔ آج جتنے بھی اسکالرس جو اردو کی رکھوالی کا دم بھرتے ہیں، سب کے سب صرف کتابوں کا ڈھیر ڈھو رہے ہیں یا تو چھوڑ کر گئے یا چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ اپنے بچّوں کو وہ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانے لگے اور عمومی مقامات اور سوشل میڈیا پر اردو کا رونا رونے لگے ہیں اور برسوں روتے رہے ہیں۔ آج اردو کے اداروں میں اردو کے اساتذہ تو موجود ہیں لیکن اُن میں زیادہ تر کے اندر جملہ، املا، معنی و مفہوم کو سمجھنے اور بتانے تک کی بھی کمی ہے۔ کیوں کہ عمومی طور پر اردو صرف افسانے اور شاعری تک ہی کو معاشرے میں تعارف کرایا گیا ہے۔ مذکورہ غم زدہ شعر کی آپ جتنی بھی اور جیسی بھی تشریح کر سکتے ہیں، وہ آپ کے سوچ و فہم پر مبنی ہوگا۔ حالات تو بہرحال یہاں تک ہمارے اردو کے دعویداروں نے پہنچا دیا۔

اردو والوں کے ذریعہ اردو کو نقصان پہنچانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب احمد علوی نے درست فرمایا ہے؛

پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں

اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں

ٹھیک ایسی ہی صورتِ حال دین اسلام کی پائیداری اور استحکام کے نام پر مدارسِ اسلامیہ و دینیہ کے ناظمین و مہتممین جن میں اکثر علماء کرام اورخود ساختہ علماء کرام ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں کہ اگر یہ ادارے بند ہو گئے تو ہماری نسل بے دین اور مرتد ہو جائیں گی۔ خوف کے تعلق سے وسیم بریلوی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔

خوف کے سایے میں بچّہ کو اگر جینا پڑا

بے زباں ہو جائے گا یا بدزباں ہو جائے گا

ہماری روزمرہ کے حالات و معاملات خواہ کسی میدان سے تعلق رکھتا ہو، خوف پیدا کرکے اپنا پیٹ پالنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ دینی اداروں کا بھی حال اتنا بہتر نہیں ہے، جتنا کہ لوگوں میں بتایا جاتا ہے۔ اس بارے میں دہلی کے معروف صحافی مطیع الرحمٰن عزیز کا کہنا ہے کہ

’’مدرسوں میں تنخواہ خفیہ رکھ کر اساتذہ کی مجبوری ناپ تول کر اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہاں قابلیت مدنظر نہیں ہوتی بلکہ مدنظر انسان کی مجبوری۔ کم سے کم تنخواہ پلس استاذ کا جی حضوری ہونا لازم ہوتا ہے۔ قابل اساتذہ کا انتخاب کرکے کون جاہل ناظم اپنے لٸے وبال جان پیدا کریگا۔ قابل اساتذہ خصیہ بردار نہیں ہوتے اور خصیہ بردار کبھی قابل نہیں ہوتے۔‘‘

شریعت محمدیﷺ کو تبرکاتی علماء کرام نے اوراردو تہذیب و تمدن کوتبرکاتی ادیب و شاعر نےزندگی درگور کیا ہے۔ جس کی دو مثالیں آپ نے ملاحظہ فرما لی۔

اب رہی بات کی بہتری کیسے ہو؟؟؟ 

تو شریعت محمدیﷺ سے بہتر کوئی اصول نہیں اور طریقۂ محمدﷺ سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ جسے ہم نے ہر مقام پر اپنے مفاد کی خاطر بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ذلت وخواری ہمارے حصّے میں آ رہی ہے۔

ہر تعلیم و تربیت اور بہتری کی شروعات اپنے گھر سے کریں۔ ورنہ دنیا میں جیسے لوگ کر رہے ہیں وہی آپ کو برداشت کرنا پڑے گا، بہتری کی شروعات کریں ، اپنے بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم اپنے گاؤں محلّہ میں دیں۔ یا بندوبست کریں۔ معصومیت کا استحصال بالکل بند کریں۔ نہ دوسروں کے بچّے اپنے یہاں لائیں اور نہ اپنے بچے دوسروں کے حوالے کریں۔ ورنہ آئندہ سو برس نہیں بلکہ قیامت تک آپ اپنی نسل کو بہتر انسان نہیں بنا پائیں گے۔

بقول اسرار جامعی مرحوم

رونا دھونا جاری ہے

سب کچھ کاروباری ہے

 ☆ ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

9th April 2026


Friday, April 17, 2026

شرم ہم کو مگر نہیں آتی

شرم ہم کو مگر نہیں آتی



جب ہی تو ہم دِل کھول کر چندہ دیتے ہیں، یہ سمجھے بوجھے بغیر کہ وہ مال کہاں جا رہا ہے۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرتے ہیں اور چندہ کی اپیلیں کرتے ہیں، اور ہم جنّت کی امید میں اپنی کمائی لگا دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی تقریروں نے صرف ہمیں خرچ کرنا بتایا اور ثواب کی امید دکھائی ہے لیکن 

’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ 

کے مصداق مسائل بڑھ ہی رہے ہیں۔ 

چندے بھی بڑھ رہے ہیں۔ چندے مانگنے والے بھی بڑھ رہے ہیں۔ مساجد اور مدارس و مکاتب کی تعداد بھی بڑھ رہے ہیں۔ 

لیکن اِس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔

نہ ہم عالم با عمل بن پا رہے ہیں۔ نہ ہم ڈھنگ کے عابد ہی بن پائے۔ نہ ڈھنگ والدین بن پائے۔ نہ ڈھنگ کے پڑوسی۔ 

چلیں اُدھر ہی۔ ہوا ہو جدھر کی؛ بہے جا رہے ہیں۔

کیوں

کیوں کہ ہم نے طریقۂ نبوی کو چھوڑ کر طریقۂ تبرکاتی منتخب کر لیا ہے۔

سب سے پہلے تو اس پر غور و خوض کرنا ضروری ہے کہ 

کیا ہم اپنے طریقے اور رویے میں مخلص ہیں؟ 

اور غلط طریقہ اور رویّہ سے شرمندہ ہیں؟

جواب یہی آئے گا کہ نہ ہم مخلص ہیں اور نہ شرمندہ۔  کمی تو ہے اِس میں۔

ہم ایک بے غیرت قوم بن چکے ہیں۔ 

کیسے ؟؟؟ آئیے غور کرتے ہیں اور احساس کرتے ہیں۔

شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کا ضمیر جاگ جائے اور پھر سنّت نبوی کو اپنا کر دنیا و آخرت کو بہتر کر سکیں۔

ہم اپنے گاؤں، محلّہ اور شہر میں دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ سو برس میں ایک فریضہ حج کے علاوہ کئی بار حج اور کئی بار عمرہ کرنے کے قابل تو بن گئے۔ الحمدللہ

لیکن

اس قابل نہ بن سکے کہ اپنے محلّے کی مسجد اور پرائمری تک کے دینیات پڑھانے کا بندوبست خود کر سکیں۔ 

ہم دور دراز سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں، سفر و اسفار کرتے ہیں۔ اور اب تو حجرے میں بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعہ چندہ وصول کر لیتے ہیں۔ کون پوچھنے آئے گا کہ آپ کی ضرورت کیا ہے اور آپ درست جگہ پر اس کا استعمال کر رہے ہیں کہ نہیں۔ علماء کرام تو نائب رسول ہیں، اُن پر شک کرنا یا تہمت لگانا اور حساب طلب کرنا، گویا اپنی عاقبت خراب کرنا ہے۔ یہی سوچ کر ہم ڈر جاتے ہیں، کیوں کہ ہمیں ڈرایا بھی تو گیا ہے۔ اور مسلسل ڈرایا جاتا ہے کہ خبردار لب کشائی کی تو جہنم تمہارا ٹھکانا ہوگا۔

چندہ طلب کرنے کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں؛

۱۔ چار سو سے زائدہ مصلّیوں کی مسجد کے لیے کارپٹ صف کی ضرورت ہے جس کی لاگت تقریباً اڑسٹھ ہزار روپے ہیں۔ صدقۂ جاریہ کے طور پر تعاون فرمائیں۔ … … …

۲۔مصلّیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مسجد کی دوسری منزل کے لیے چھت بنانا ضروری ہے۔ جس سے جو بن سکے، سیمنٹ، سریا، ریت، روڑی، بجری، یا نقد کی صورت میں تعاون فرمائیں، اپنی طرف سے یا اپنے مرحومین کی طرف سے … … …

۳۔ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں بہت مشکل سے ہم ایک مدرسہ شروع کر پائے ہیں، جس میں گاؤں کے علاوہ بیرونی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدرسہ میں ناظرہ حفظ اور قرأت کی تعلیم ماہر حافظ و قاری اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہے۔ مہمانانِ رسول کی کفالت مدرسہ کے ذمہ ہے۔ آپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیجیے اور ثوابِ دارین حاصل کیجیے۔ … … … … …

۴۔ ہم فلاں جگہ سے مدرسہ کا چندہ کے لیے آئے ہیں، جہاں یتیم و نادار طلبہ دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ علاقہ بہت پچھڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم خاطر خواہ طریقے سے مدرسہ کو نہیں چلا پاتے ہیں۔ مال کی بے حد کمی ہے۔ آپ لوگوں سے تعاون کی درخواست ہے۔ اللہ کے واسطے اُن یتیم و نادار بچوں کی کفالت میں اپنا حصہ ڈال کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ …  … … …

اب آئیے عمومی چندہ کرنے والے یا کہیے بھیک مانگنے والے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ خاص علاقے کا پچھڑا پن کا حوالہ دے کر اور بیماری کا بہانہ بنا کر چند سکّوں کے بجائے کم سے کم سو پچاس روپے طلب کرکے ایک دن میں ایک شخص کی آمدنی ڈیڑھ ہزار سے تین ہزار روپے تک یا اُس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ( اس طرح کی کئی سروے رپورٹ سوشل میڈیا پر موجود ہے) جن کی اجتماعی آمدنی پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک فی کس ہو جاتی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں پڑھے لکھے اساتذہ کو بھی شاذ و نادر ہی کوئی تعلیمی ادارہ تیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرتا ہوگا۔ 

بھیک مانگنے میں کیا حرج ہے؟ تھوڑا بے غیرت بننا پڑتا ہے۔ عاقبت کی فکر کیوں کریں؟ دنیا کی زندگی ہی اتنی خراب چل رہی ہے۔ چندہ کرنے اور بھیک مانگنے سے متعلق کئی ویڈیو رپورٹ میرے پاس موجود ہیں جس میں اس پیشہ میں لگے ہوئے لوگوں کی ماہانہ آمدنی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں بھی ہے۔

اپاہج پن کا بہانہ بنا کر یا بیٹی کی شادی کا بہانہ بنا کر تو ہر جمعہ آپ مانگنے والے کو دیکھ اور برت رہے ہوں گے۔ تو ایسے لوگوں کا مالی تعاون دے کر آپ کس کا بھلا کر رہے ہیں؟؟؟

مذکورہ بیان کردہ چندہ نمونوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے خود معاشرے میں ہاتھ پھیلانے والوں کی تعداد بڑھائی نہ کہ خود کفیل بنانے میں معاون بنے ہیں۔

میری درخواست ہے کہ اب معصوموں کا امپورٹ ایکسپورٹ بالکل بند کیا جائے۔ مسجد اور اسی میں پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست اپنی ہمت و طاقت اور مال سے کیا جائے۔  اگر ایک سو خاندان پر مشتمل گاؤں ہے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اپنے بوتے پر مسجد اور پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست نہ کر سکیں۔ مشوروں اور طریقوں کی بھرمار ہے۔ کرنے کی تیاری کریں۔ ہو جائے گا۔

کیا کرنا ضروری ہے۔

۱۔ اپنے علاقہ ایک کمیٹی اور بیت المال بنایا جائے اور اپنے مال سے ادارہ اور مسجد قائم کیا جائے اور اپنے ہی یہاں کے مولوی اور ماسٹر کو پارٹ یا فل ٹائم بطورِ استاذ مقرر کیا جائے۔

۲۔کوئی بھی خاندان خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو، ایک نکاح کی سنت ادا کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے سے زیادہ مال خرچ نہ کیا جائے۔ مہمانوں کی تعداد رشتہ دار سمیت چار سے گیارہ تک کے درمیان محدود رکھا جائے۔ ظہر سے قبل تشریف لائیں، صلوٰۃ ظہر مسجد میں ادا کریں، وہیں نکاح کیا جائے اور شربت پی کر رخصتی کر دی جائے۔

۳۔خواہ آپ کتنے ہی مالدار ہوں زندگی میں صرف ایک بار آپ پر حج فرض ہے، صرف اُسی کو ادا کریں۔ اور صرف ایک ہی بار عمرہ کریں۔ بقیہ مالوں کا بہت استعمال ہے، جس کا اجر اتنا ہی ملے گا جتنا آپ نفلی حج سے امید کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ (ہاں نمائش نہیں ہو پائے گی، جس سے آپ کو تسلی ملتی ہے اور شیطان خوش ہوتا ہے۔ کیوں فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں۔)

۴۔مالدار لوگ جو نمائشی کام کرتے ہیں، اس پر لگام لگائیں، اُن پیسوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں پر خرچ کرکے گاؤں کی تعلیم میں اضافہ کریں۔

۵۔ تعلیم اور صحت کی افادیت پر ہر ماہ ایک نشست مسجد میں ہی رکھا جائے اور ماہرین کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کیا جائے۔ ماہرین کے اخراجات کمیٹی میں جمع بیت المال سے ادا کیا جائے۔ سال میں بارہ نشستیں مختلف موضوعات پر رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ پھر ناقابل ہضم ہو جائے گا۔

۶۔مغلظاتِ کام و دہن کو بالکل ترک کریں۔ اپنی صاف ستھری پہچان بنائیں، دوسری قومیں جانیں کہ ہماری پہچان اُن سے بہت الگ ہے۔ مغلظات حرام تو ہے ہی، فضول خرچی کے بھی ضمن میں آتا ہے اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ گویا شیطان کو خوش کرنے والا عمل کو بالکل ترک کیا جائے۔

۷۔ جو مولوی خود مغلظات کام و دہن میں مصروف ہوں ایسے کو نہ مسجد کا امام مقرر کیا جائے اور نہ ادارہ میں استاذ مقرر کیا جائے۔ یہ شکم پرور مولوی ہیں، یہ صرف اپنا پیٹ پالنے والے ہیں اور سماج کو گمراہی میں مبتلا کرنے والے تبرکاتی مولوی ہیں۔

۸۔ وقت اور صحت اللہ کی دی ہوئی بڑی نعمت ہے، اس کا خیال رکھیں اور درست استعمال کریں، آپ سے جب مال کا حساب لیا جائے گا، تب وقت اور صحت کا بھی حساب طلب کیا جائے گا۔ 

بہت ہی افسوس سے مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی پچاس برس کی آمدنی عمر کے آخری پانچ برسوں میں بہتر زندگی جینے کی خواہش میں خرچ کرکے دُنیا سے رخصت ہو جائے جاتے ہیں۔ اس پر بھی دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آخر کیوں ہم اتنے زیادہ بیمار ہونے لگے ہیں۔ ذہنی اور سماجی بیماری کی تو ساری باتیں کی جا چکی۔ اس میں کتنی بہتری ہو سکتی ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن جسمانی بیماری کے ساتھ بھی ہم اکثر لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر بھی غور کر لینا ضروری ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھرانہ موجود ہو جس کا کوئی فرد بیمار نہ ہو یا اُس کے روزمرہ میں کسی قسم کی دوا شامل نہ ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم زندہ ہیں کھانے کے لیے۔ جب کہ صحت کا تقاضا ہے کہ کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے۔ وقت پر جاگیں، وقت پر سوئیں، وقت پر صلوٰۃ ادا کریں اور وقت پر کھانا کھائیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے سنت نبویﷺ سب سے بہتر عمل اور نمونہ ہے۔

 ☆ ☆ ☆


از؛ فیروزہاشمی، نئی دہلی

9811742537

(مضمون نگار نئی شناخت، نئی دہلی کے ایڈیٹر اور نیچرو ہیلتھ کنسلٹینٹ ہیں)

5th April 2026 

Tuesday, March 24, 2026

فکری غربت کے شکار

 ☘️☘️فکری غربت کے شکار☘️☘️



دورِ موجودہ میں جس طرح علمی اور دانشورانہ پیغام کی بہتات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں، اتنے کسی بھی زمانہ نہیں تھے۔ آج ہر کوئی سوشل میڈیا پر علمی پیغام کے ڈرم انڈیل رہا ہے۔ پہلے یہی کام اخبارات و رسائل اور کتابوں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے تھے۔ حالاں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو گزشتہ ایک صدی میں جس طرح کتابوں کے بنڈل تیار کرنے والے دانشور پیدا ہوئے، وہ پہلے کی صدی میں دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا ہمارے معاشرے میں اتنی زیادہ علمی اور دانشورانہ بہتات ہونے کے باوجود بہتری آئی ہے؟؟؟ …یا ہم سوچنے سمجھنے کے معاملے میں آج بھی ویسے ہیں، جیسا کہ کئی صدی سے چلے آ رہے ہیں؟ …کیا درجاتی تعلیم اور کتابوں کی بھرمار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے؟؟ … اگر بہتری آئی ہوتی تو سب کے سب بہتر حالت اور عیش و آرام کے ساتھ ساتھ عزت و احترام کی زندگی گزار رہے ہوتے اور شکر گزار ہوتے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ساری سہولتیں، مادی آسائشیں ہونے اور ملنے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے شاکی ہیں … … … اس پر دانشورانِ قوم کا کیا خیال ہے؟ … …اور کیوں ظاہر نہیں کرتے؟ …ساری نیکیاں، عبادات تک ہی کیوں محدود ہیں؟ …آج ہر پچاس گھر میں سے ایک دو حاجی اور عمری ضرور مل جائیں گے۔ لیکن اُن ہی میں ایک اصول پسند انسان ملنا مشکل ہو رہا ہے۔

آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جس بنا پر ہمارے معاشرتی معاملات نہایت پسماندہ ہیں؟؟؟ …یہ بات کہنے یا عذر پیش کرنے کی جرأت اس لیے کر پا رہا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مالکان کو عملہ ناکارہ، نادہندہ اور کام چور ملتا ہے۔ جب کہ ملازمین کی رائے ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے؟ …  ہماری محنت کے مطابق ہمیں معاوضہ نہیں دیا جاتا؟ …

اس طرح کا رُجحان عموماً دینی اداروں اور ملّت کے نام پر قائم اداروں میں دیکھا اور برتا جاتا ہے۔ ایک بار اس پر بھی غور کیجیے گا۔

اگر ہمارےدانشورانِ قوم اور ادارہ کے ذمہ داران حقوق العباد پر صدفیصد نہیں تو پچاس فیصد ہی سہی عمل پیرا ہو جاتے تو دنیا کے لوگ کم از کم شکایت کرنے والے تو بہت کم ہو جاتے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی اِس معاشرتی خرابی کی؟

سماج میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کی سوچ و فکر پر منحصر ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔

وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى

سورۃ النجم؛ آیت ۳۹

اگر سورہ نجم کو پڑھا اور سمجھا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ یہ حالات ہماری اپنی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم خدائی اصول کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے اصول اور مفاد پر عمل پیرا ہوں گے تو معاشرہ سے غربت و استحصال کبھی بھی کم نہیں ہو سکتا۔ یہ سب سے پہلی اور بنیادی وجہ ہے۔ اب بات کرتے ہیں دوسری وجہ پر۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".

صحیح بخاری؛ کتاب الایمان

مذکورہ دونوں بنیادی اصولوں کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہمارا رویّہ بے ایمانی والی ہو تو تو ہم اسے علمی غربت اور ذہنی مفلسی سے ہی تعبیر کریں گے۔

اب ان دو بنیادی غلطیوں کو اپنانے کے بعد یقیناً ہمارے اندر خودغرضی پیدا ہوگی۔  اور ہماری خودغرضی اور مطلب پرستی نے ہمیں علمی طور پر مسئلے مسائل کو اپنے مطلب میں نکال لینے کا جواز پیدا کر لیا۔ جیسا کہ صدقات کے آٹھ مستحقین میں یتیموں اور غریبوں کے نام پر ابتدائی درجہ کا مدرسہ چلانے والوں نے کر رکھا ہے۔ پورے ملک میں مدرسہ زکوٰۃ کو ہڑپ کرنے کی ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ ہماری مالی غربت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن اور حفظ پڑھانے کے نام پر تو نہ صرف زکوٰۃ کا غلط استعمال ہو رہا ہے بلکہ غریب اور معصوم بچوں کے حال اور مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے بچّوں کو ذہنی طور پر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لڑکے ناظرہ یا حفظ کرکے معاشرے کے مفید ہونے کے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور ان کو بھی یہی سوجھتا ہے کہ کہیں ایک مدرسہ قائم کر لیا جائے اور دور دراز سے بچوں کو لاکر اُن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے اپنا پیٹ پالا جائے۔  اب تو لڑکیوں کے نام پر بھی یہ کام شروع ہو گیا ہے، جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ معاشرے کے لیے معاون نہیں بن رہا ہے۔ معاف کیجیے گا۔ یہ بہت ہی تلخ جملہ ہے، لیکن سنجیدگی سے غور کیجیے گا تو آپ کو ایسے حالات پر شرم آگے گی۔ کہ آخر ہمارے لوگوں نے صدیوں سے یہ کون سا طریقہ اپنا رکھا ہے؟ کیا یہ طریقۂ محمدیﷺ ہے؟؟؟  

تعلیم باہر سے لی جا رہی ہے۔ خواہ مستقل ادارہ جاتی تعلیم یافتہ ہوں یا چِلّہ پہ چِلّہ لگا کر تعلیم لی جار ہی ہو۔ پھر بھی حالات جوں کے توں بنے ہیں، بلکہ اندر سے خاندانی ماحول بگڑ رہا ہے۔ مرد اپنی قابلیت جتا رہے ہیں، اور خواتین خود سر ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی علماء کرام ابتدائی ضروری تعلیم کے لیے نصاب تیار کر رکھی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سہولت کے اعتبار سے ابتدائی طور پر اپنے محلّہ میں ادارہ قائم کریں اور اس نصاب پر عمل کرکے معاشرہ کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔ 

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ …بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اب گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چار سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں، اور علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ۔ … پیسہ تو ہنر سے کمایا جاتا ہے۔ …افسوس تب ہوتا جب کہ اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔  جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروزہاشمی

10th March 2026


Saturday, March 21, 2026

معصومیت کا استحصال بند کیا جائے

 ☘️☘️معصومیت کا استحصال بند کیا جائے ☘️☘️


قوم کے رہنما و ذمہ داران سے گزارش ہے کہ معصوم بچّوں اور اُن کے غریب والدین کی معصومیت کا استحصال بند کیا جائے۔ اُنہیں وہ حقوق ادا کئے جائیں جن کا شریعت نے حصّہ مقرر کیا ہے۔ بات تھوڑی کڑوی ہے غور کیا جائے تو ایسے مسائل کا حل نکلنا آسان ہے۔

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مسجد اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مدرسہ اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک لائبریری اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک پرائمری تک کاادارہ اپنے دم پر تعمیر کر سکیں؟

ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘ 

کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔

بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں۔ 

علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب طے کرنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔

افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروز ہاشمی

9th March 2026


Friday, March 20, 2026

عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام


ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اصول چھوڑ کر عصبیت کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، تو اس کا وقتی فائدہ تو ممکن ہے، لیکن معاشرہ کی بہتری یا دیرپا فوائد یا بہتر نتائج کا ملنا ناممکن ہے۔ یہ بات اصول سے ثابت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید سورۃ البقرہ کی آیت ۳۰ سے ۳۷ تک میں وحدانیت سے لے معاشرتی زندگی اورمخلوق کی اہمیت کے بارے میں واضح پیغام موجود ہے۔ جس میں انسانی زندگی کے بنیادی اصول کرنا کیا ہے؟ اور کیا نہیں کرنا ہے؟ بتا دیا گیا ہے۔ 

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ 

انسانیت کی بھلائی کے لیے اس آیت پر غور کریں۔

اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاؤ گے۔

اس آیت میں ’’ولا تقربا‘‘ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرکے آدم اور حوا دونوں کو خطاب کیا گیا ہے اور دونوں کو ہی متنبہ کیا گیا ہے۔ یہ اس اصول کا ثبوت ہے کہ دونوں پر ذمہ داری برابر کی عاید ہوتی ہے۔ جب کہ آئے دِن ہم اپنے معاشرے میں مختلف قسم کے غیرمساواتی حالات اور نزاع ہوتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے تعلق سے۔ دنیا کے بننے سے لے کر تا قیامت اصول قرآن حکیم میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اور دوسری جگہ سورۃ الاعراف آیت ۱۹ میں ایسا ہی حکم موجود ہے۔

 وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

جیسا کہ اکثر کو پتا ہے کہ ہر برس 8مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس موقع پر مختلف افراد و خواتین نے عورتوں کے تعلق سے مختلف پہلوئوں پر جائزہ پیش کیا کرتے ہیں۔ ہر برس متعدد مضامین میری نظر سے بھی گزرتے ہیں لیکن اُن کے حقوق اور اہمیت کے بارے میں کوئی خاص ذکر نہیں کیا جاتا۔ جب کہ تعلیمی اعتبار سے ہمارے یہاںکے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ بنے ہیں۔ اَب سے پہلے ہمارے ملک میں اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ تعلیمی اداروں کی بھرمارہے۔ اخبارات و رسائل، ڈرامے، فلمیں غرض کہ ہر ایک ذریعہ سے خواتین کو مظلوم اور بے یارومددگار پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے ہمارے ذہنوں کو مزید پراگندہ کر دیا ہے۔ اور اِن حالات میں جو مضامین اور تبصرے لکھے جارہے ہیں وہ سب یاتو سستی شہرت کے لئے یا پھرخانہ پری کرنے کے لئے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ ہندوستان پروش پردھان دیش ہے۔ جس نظریہ سے ’’ہندوستان کو پروش پردھان دیش‘‘ کہا جارہا ہے، اُس نظریہ کے مطابق پوری دنیا میں مردوں کو ہی غلبہ حاصل ہے۔ ’’پدر سری نظام‘‘  کہہ کر خود اپنے آپ کو کمزور کرنے والی سوچ رکھ کر خواتین اپنی بھی ذمہ داری بخیر و خوبی انجام نہیں دے پائیں گی۔ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنے والے افراد و خواتین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جب سے دُنیا بنی ہے، اللہ تعالیٰ نے دونوں صنف کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھی ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر برتری حاصل نہیں ہے۔ بلکہ دونوں یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریوں اور ساخت کو بلاوجہ کچھ لوگ موازنہ اور مقابلہ کرکے دونوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ غلط موازنہ اور مقابلہ ہی ہے۔ جس صنف کی ذمہ داری نبھانے کے لئے جہاں ضرورت ہو نبھانا چاہیے۔ تاکہ دنیا بہتری کی جانب گامزن ہو اور سماج میں بہتری آئے۔ انسان انسانیت کے طریقے پر زندگی گزارے۔

ہم معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ اکثر بیوائیں اور طلاق شدہ مالی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اکابرین و مفکرین اگر طلاق شدہ عورتوں کے مقابلے بیوائوں کو زیادہ ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں یا دونوں کو ہی ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں تو وہ خود بتائیں کہ اُن کے لئے یا اُن کے حق میں کیا بہتر کر سکتے ہیں؟ شریعت بھی کہتی ہے اور بڑے بزرگ یہ مشورہ دیتے ہیں ’’یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھو‘‘ اِس کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟ جو احکام قرآن میں دیئے گئے ہیں یا احادیث میں ثبوت موجود ہیں وہ طریقے آج ہمارے معاشرے میں گالی کی طرح استعمال ہو رہے ہیں۔ اور وہ ہے  لفظ ’’سوتیلا‘‘ اگر آپ کسی یتیم لڑکا یا لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہتے ہیں تو غور کیجیے کہ آپ کے ذہن میں کتنے قسم کے خیالات آتے ہیں۔ آپ کے رشتہ دار کیا کہیں گے یا سوچیں گے؟ آپ کے پڑوسی کس طرح کا سلوک کریں گے؟ دوست و احباب کا رویّہ کیسا رہے گا؟ وغیرہ۔  کیا آپ اِن حالات سے نبرد آزما ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کتنے افراد و خواتین ہیں جو یتیم کو باپ کا اور ماں کا پیار دے سکتے ہیں؟ کتنی خواتین ہیں جو سوکن کو قبول کرنے کی ہمت رکھتی ہیں؟ 

معاف کیجیے گا یتیموں اور بیوائوں کے لئے جو بھی ادارے مالی تعاون دینے میں سرگرم ہیں وہ اصل میں اُن کے بہانے سے اپنے پیٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو جہیز طلب کرنے کی لعنت موجود ہے، اِس میں تقریباً ننانوے فیصد خواتین کا کردار رہتا ہے۔ طلب کرنے میں بھی اور بعد کی زندگی کے معاملے میں بھی۔ لالچ میں کسی حد تک گِر سکتے ہیں۔اِس کا مشاہدہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ ہم یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کے چار روپ ہیں اور چاروں قابل عزت و احترام ہیں۔ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی۔ لیکن اِن کے علاوہ جو روپ ہیں وہ اِس لئے نہیں بیان کئے جاتے کہ شاید وہ سماج میں ہیرو اور ویلن دونوں کا کردار نبھاتے ہیں۔ جس گھر میں عورتیں یہ مثالی کردار نبھاتی ہیں وہ گھر یقیناً بہتر اور سلیقہ شعار گھرانہ کہلاتا ہے لیکن جس گھر میں یہ عورتیں ویلن(منفی) کا کردار نبھاتی ہیں وہ گھر -گھر نہیں بن پاتا۔ وہ کردار ہے ساس، بہو، نند، بھابھی۔

مردوں کے بگاڑ اور بے رُخی کے تعلق سے کئی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جس میں خرچ پورا نہ کرنا، نشہ کرنا، یا غیر اخلاقی حرکت میں مبتلا ہونا شامل ہے۔ ان تینوں میں سب سے بُرا اثرنشہ کی لت کی وجہ سے پڑتا ہے۔ خاندان بکھرتا ہے، بچے بےپرواہ ہو جاتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک بڑی سماجی برائی ہے، جو محلّہ اور سماج تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن برائی میں مبتلا ہونے یا کرنے میں اہم کردار بیوی کا ہی ہے۔ گرچہ ایسی حرکت کرنے والے صرف دو فیصد ہی ہیں لیکن یہ سماج کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

اگر مرد نشہ کی لت میں مبتلا ہو کر باہر اور گھر میں اُدھم بازی مچانے کی بات تو معاشرے میں ایسا صرف دو فیصد ہی ہے۔ اس میں بھی مرد کو نشہ میں مبتلا کرنے کی وجہ بننے والی اٹھاسی فیصد خواتین کا کردار ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق نشہ میں مبتلا ہونے والے تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جس میں عورت کی بے رخی والے نوے فیصد ہیں، ایکسٹرا پوکٹ منی والے دو فیصد اور باقی آٹھ فیصد تجارتی بنیادوں کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔

نوے فیصد والے میں اٹھاسی فیصد بیوی کا کردار ہوتا ہے، جو اپنے شوہر کو نشہ کا عادی بنانے میں معاون بننے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بگاڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نشہ کی لت میں مبتلا ہونے کی وجوہات

۱۔ مالداروں کی ساتھ دوستی جو کسی بھی طرح کا نشہ کرنے والے ہوں۔ خاص طور سے بزنس یا تجارتی تعلقات کی بنیادں پر

۲۔بچپنے میں مالدار وں کے بچوں کی ایکسٹرا پوکٹ منی یا اچھے تجارتی تعلقات والے خاندان کے بچے۔ جو بڑے ہو کر یعنی والد بننے کے بعد بھی بچوں اور خاندان کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

۳۔ عورت یا بیوی کی بے رُخی کی وجہ سے نشہ کا عادی بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ آمدنی ہو یا نہ ہو وہ کہیں سے بندوبست کر ہی لیتے ہیں۔ 

خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہر دَور میں یہ کوششیں جاری رہی ہیں۔ لیکن موجودہ معاشرے کا جب مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر خواتین نے درجات (کلاسیں) گزاری ہیں۔ اور اِسی بنا پر وہ اپنے معاشرے میں خاندانوں کو جوڑنے کا سبب بنی ہیں، لیکن شعوری اعتبار سے بہت پچھڑی ہوئی ہیں۔ اُنہیں اپنے معاملات، ذمہ داری اور حقوق کا علم نہیں ہوتا۔ یہی اہم وجہ اُن کے ساتھ معاشرتی زیادتی کا ہے۔ خواہ وہ زیادتی کریں یا خود زیادتی کا شکار ہوں۔ اگر اُن کے اندر معاملہ فہمی، ذمہ داری اور حقوق کا علم ہو جائے اور وہ اچھی طرح سمجھ کر نبھائیں تو کوئی بعید نہیں کہ وہ ظلم و زیادتی کا شکار ہوں یا معاشرہ اُنہیں غیر اہم سمجھے۔ شادی کے بعد جب خاتون نئے گھر میں جاتی ہیں تو اکثر خواتین اپنے آپ کو اُس گھر کی ضرورت سمجھتی ہیں۔ جب کہ وہ اُس کا گھر کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھتی۔ ہم اسے عورتوں کی شعوری فقدان کہہ سکتے ہیں۔

خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم اور غیرمساواتی عمل میں ساری وجوہات جو معاشرے میں رائج ہیں۔ اُن میں عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 

’’صنفی تشدد محض کسی فرد کے غصے یا مزاج کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پر محیط سماجی ڈھانچہ کارفرما ہے جسے پدر سری نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام نے طاقت اور اختیار کو مردانگی سے جوڑ دیا اور عورت کو تابع اور کمزور تصور کیا۔ جہاں طاقت کو حق سمجھ لیا جائے، وہاں تشدد آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔‘‘

گویا ہمیں جس دین کی دعویداری سکھائی جاتی ہے، وہ دین اور اصول نہیں سکھایا جاتا اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں اُن اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے، جو قرآن و سنت سے ثابت شدہ ہے؟ تو ایسی صورت میں ہم کس طرح معاشرہ کو بہتر بنا سکتے ہیں؟

حقوق و ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اِس کی تفصیل کی ضرورت یہاں بالکل نہیں ہے۔ جو بھی معاشرہ کو بہتر بنانے اور اچھی زندگی جینے کا خواہشمند ہے اور دنیا و آخرت کی بہتری چاہتا ہے، اسے اُن تفصیلات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور عمل میں لاناچاہیے۔ معاشرہ بہتر بنے گا۔ ان شاء اللہ

🌹🌹

فیروزہاشمی

ری فورمسٹ، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537


 

Thursday, February 12, 2026

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘



صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ  

(سورۃ البقرۃ آیت ۱۸۵)

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اور روزہ رکھنا چاہے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں وہ چاہتا ہے تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس طرح کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

ترجمہ  محمد جونا گڑھی

﴿ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ﴾" رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔‘‘ یعنی جو روزے تم پر فرض کیے ہیں وہ رمضان کے روزے ہیں، یہ ایک ایسا عظمت والا مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل حاصل ہوا، یعنی قرآن کریم جو تمہارے دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف رہنمائی پر مشتمل ہے۔ جو حق کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے اور جو حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی اور خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ وہ مہینہ جس کی یہ فضیلت ہو جس میں تمام پر اللہ تعالیٰ کا اس قدر احسان اور فضل ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ وہ بندوں کے لیے نیکیوں کا مہینہ بنے اور اس کے اندر روزے فرض کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کردیا اور اس نے اس کی فضیلت اور روزوں کے لیے اس کو مختص کرنے کی حکمت کو واضح کردیا، تو فرمایا  ﴿ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ۭ﴾" پس جو تم میں سے اس مہینے کو پا لے، تو وہ اس کے روزے رکھے" اس آیت کریمہ میں یہ بات متعین کردی گئی کہ ہر صحت مند شخص جو سفر میں نہ ہو اور روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو وہ رمضان کے روزے رکھے۔

چونکہ نسخ کا تعلق اس اختیار سے ہے جو خاص طور پر روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان دیا گیا تھا، اس لیے مریض اور مسافر کے لیے رخصت کو دوبارہ بیان کردیا گیا، تاکہ اس وہم کا ازالہ ہوجائے کہ مریض اور مسافر کے لیے بھی رخصت منسوخ ہوگئی ہے۔ پس فرمایا  ﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ﴾ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا" یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تم پر اپنی رضا کے راستے حد درجہ آسان کر دے۔ اس لیے ان تمام امور کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے، اصل میں حد درجہ آسان بنایا ہے اور جب کوئی ایسا عارضہ پیش آجائے جو ان کی ادائیگی کو مشکل اور بوجھل بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور طرح سے آسان کردیا۔ یا تو سرے سے اس فرض ہی کو ساقط کردیا یا ان میں مختلف قسم کی تحقیقات سے نواز دیا۔ یہ اس (آسانی) کا اجمالاً ذکر ہے۔ یہاں تفاصیل بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کی تفاصیل تمام شرعیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان شرعیات میں تمام رخصتیں اور تحقیقات شامل ہیں۔

﴿ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔" اس آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے۔ واللہ اعلم کہ کوئی شخص اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ رمضان کے چند روزے رکھنے سے مقصود و مطلوب حاصل ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں روزوں کی تکمیل کے حکم کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا، نیز حکم دیا گیا کہ روزوں کے مکمل ہونے پر بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق، سہولت اور تبیین کا شکر ادا کیا جائے۔ رمضان کے اختتام اور روزوں کے پورے ہونے پر تکبیریں کہی جائیں۔ اس حکم میں وہ تمام تکبیریں شامل ہیں جو شوال کا چاند دیکھ کر خطبہ عید سے فراغت تک کہی جاتی ہیں۔

تفسیر عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

یہ تو میں نے بطورِ تمہید پیش کیا۔تاکہ قرآن کے احکام کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔ اب معاشرے میں ہونے والے واقعات اور طور طریقے ملاحظہ فرمائیں۔ عنوان کے تحت تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہر شخص کے لیے نہ صرف نیکی میں سبقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ جسم اور روح  کے تزکیہ کا بھی وسیلہ ہے۔ 

لیکن افسوسناک صورتِ حال دکھائی دے رہا ہے، اسے خرافاتِ رمضانی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

عمومی خرافات۔۱

نوجوان لڑکے جسے کچھ علاقوں میں لونڈے بھی کہے جاتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں ٹوپی لگاکر اپنی دکانوں پر بیٹھیں گے یا خالی خولی گھومتے پھرتے رہیں گے، ساتھ میں دھواں بازی یا تھوک بازی بھی کرتے رہیں گے۔ یعنی نہ تو وہ سگریٹ نوشی ترک کریں گے اور نہ ہی گٹکا خوری۔ کئی اور بگڑے خاندان یا پیسہ والے خاندان کے ہوں گے تو وہ ساتھ میں کتّا لیے پھریں گے، اسی سے پیار محبت بھی جتائیں گے۔ 

بھائی یا تو جیسے پہلے نہیں ظاہر کئے تھے کہ مسلمان ہیں، اب بھی مت بتائیے۔ 

یا تو اپنا طریقہ بدلیے، اور سچ مچ کے مسلمان بنئے۔ 

یا پھر طریقہ نہیں بدل رہے تو قوم کی پہچان خراب مت کیجیے۔

عمومی خرافات۔۲

اِس ماہ مبارک میں بائیکوں پر ایسے زنّاٹے پھریں گے جیسے دوسری قوم کے کچھ لوگ کچھ خاص مواقع پر شور شرابہ والی حرکت کرتے ہیں۔ شاید مسلم قوم کے لونڈے اس کے جواب میں بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ایک مہینہ ہوتا ہے، جس میں راتوں میں ہم اُدھم بازی کرتے ہیں۔ ابھی پندرہویں شعبان گزرا ہے، اس شب قدر کو بھی ایسے مناتے ہیں۔

عمومی خرافات۔۳

ماہِ مبارک شروع ہونے سے کچھ روز پہلے اور کچھ روز بعد اکثریت بیماری کا بہانہ بنا کر روزہ چھوڑتے ہیں۔ اور کئی لوگوں نے تو پیشہ ایسا اختیار کیا ہوا ہے، کہ پیشہ کی خرافات کی وجہ سے روزہ احتراماً چھوڑتے ہیں۔ حالاں کہ ایسے لوگ حج اور عمرہ کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔

عمومی خرافات۔۴

کچھ لوگوں کی عادت تو یہاں تک بگڑی ہوئی ہے کہ بڑی مشکل سے روزہ رکھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے، تراویح بھی پڑھتے ہیں لیکن وہ فضولیاتِ لب و دہن نہیں چھوڑ پاتے۔ اب ہمیں تشویش ہونے لگتی ہے کہ آخر اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ  کا اثر معاشرہ پر کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ ’’یعنی نماز فحش اور منکرات سے روکتی ہے۔‘‘ نہیں پایا جا رہا ہے۔

ایک ایسی عمومی غلطی جو پورے معاشرے کے نظام کو بگاڑ کے رکھا ہوا ہے، وہ برکت اور اصلاح کے نام پر وقت اور سرمایہ کی بربادی اور ساتھ میں عمومی بدنظمی۔ وہ ہے جمعہ کا خطبہ اور جماعت میں دیر کرنا۔ اکثر جگہوں پر ذرا سی دیر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جس کا احساس اِس قوم کے خطیبوں کو بالکل نہیں ہے۔ جلسے جلوس میں لاکھوں روپے اور وقت برباد کر وا ہی رہے ہیں۔ نکاح جیسی سادہ سنت کو نمائش کا ذریعہ بنا لیا گیا تو پھر …

ایک اور عمومی غلطی کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کرنے والے افراد کرتے ہیں۔ اس ماہِ مقدس میں روزہ افطاری اور تراویح کے لیے مہلت یا چھٹی طلب کرتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے لیے مہلت طلب کرتے ہیں، تو اکثر کارپوریٹ سیکٹروں میں انکار کر دیا جاتا ہے۔ تو مسلمان یا تو اپنی نوکری بچا لیتے ہیں اور عبادتیں چھوڑتے ہوئے اپنے آپ کو مظلوم کہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ جذباتی ہوکر ملازمت چھوڑ دیتے ہیں۔ رمضان تو جوش و خروش سے گزار لیتے ہیں لیکن بعد میں روزگار کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں بعض لوگ اپنے آپ کو مسلمان کے ساتھ ساتھ مظلوم بھی کہتے ہیں۔ جب کہ اگر ہم پہلے دن سے ہی نماز ادا کرنے والے بنے رہتے تو ہمیں کسی بھی کارپوریٹ سیکٹر میں روکا نہیں جاتا۔ کیوں کہ پرائیوٹ کمپنیاں شروع کے چھ ماہ میں بندے کے طور طریقے اور کارگزاری کو اچھی طرح پرکھ لیتی ہیں، پھر کمپنی کو ان کے طور طریقے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ گویا ہماری پہچان ہی غلط ہے۔ ہم اپنی شناخت معلّمِ اخلاق (رسولِ اکرم ﷺ) کے طور طریقے پر کیوں نہیں کرانا چاہتے؟

عمومی رسمیں اور فتاوے بھی کئی قسم کی رائج ہیں۔ اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے کس کس اور کتنے کا فائدہ ہوتا ہے؟ مثلاً اگر آپ فلاں فلاں مرض میں مبتلا ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے اور بہتر ہے کہ مسلم ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے کہ کس طرح دوا کھانا ہے اور کس طرح رمضان کے احکام بھی بجا لانا ہے۔

جب کہ ان امراض میں سارا دار و مدار ٹیسٹ پر مبنی ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحبان مشین کے سہارے اور مشین پر اعتبار کرکے ہی نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ 

جب کہ بہت سی بیماریاں تو دوا بنانے والی کمپنیوں نے رائج کیا ہے۔ تو کیا اُن کی بنائی ہوئی مشینوں سے چیک کرائیں اور اُن کی بنائی ہوئی دوائیں استعمال کریں؟ اور روزہ بھی رکھیں؟ 

کتنی بڑی بیماری ہے یہ کہنا اور پتا لگانا آسان ہے لیکن یقین دلانا مشکل ہے۔

چوں کہ اکثر ڈاکٹروں نے اُسے رمضان سے جوڑ دیا، اس لئے جاننا اور سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی، یہ سب بیماریاں ہیں؟ یا بیمار بنا کر ہمیں مالی طور پر کمزور اور جسمانی و روحانی طور پر ناکارہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟

میری گزارش ہے کہ 

یا تو قوم کو بیمار رہنے دیجیے۔  روزہ چھڑوائیے۔

یا پھر قوم کو صحت مند بنائے رکھنے کا نسخہ بتائیے۔ دوا چھڑوائیے۔ اور روزہ رکھوائیے۔

کیوں کہ روزہ کا اصل مقصد  ’’تزکیۂ نفس اور تزکیۂ جسم‘‘ ہے۔ 

اور یہ صفات دوا کھا کے پیدا نہیں ہو سکتی۔

مفتیوں نے بھی فتنہ پیدا کیا ہوا ہے کہ

انجکشن لگانا جائز ہے۔ (اس کی تشہیر کی کیا ضرورت پڑی؟)

اور اس کی بھی تشریح اسی طرح کر رہے ہیں جس طرح امراض کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں تو عبادات بھی خرافات کے ساتھ کی جانے لگی ہے۔ جس کی کئی مثالیں ابھی حال ہی میں سامنے آ چکی ہیں اور آئے دن آتی ہی رہتی ہیں۔ جیسے کہ مسجد کے علاوہ اضافی زمین پر مسجد کی توسیع۔ خواہ وضوخانہ کی شکل میں ہو یا بیت الخلاء و استنجا خانہ کے طور پراور  غلط طریقے سے بجلی کا استعمال۔ وغیرہ۔

اماموں اور پیشواؤں کا غلط طریقے سے چندہ کرنا اور اپنے مصرف میں استعمال کرنا۔ 

کیا اس طرح سے ہماری عبادتیں قابل قبول ہوں گی؟

کیا ایسے پیشواؤں کی پیروی کرتے ہوئے ہم ایک اچھے اور با اخلاق مسلمان ہو سکتے ہیں؟ جو دین کے نام پر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔

(محمد فیروزعالم) 

ری فورمسٹ،  ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537   

?🌹


 

Tuesday, January 27, 2026

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹 

از فیروز ہاشمی


مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہے؟ کیا اِسے فروغ دینا چاہیے؟ ہر اہل و نا اہل کو مفت دے کر یا مفت کھلا کر کیا کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ اور کیا کیا نقصان ہو رہا ہے؟ وغیرہ  … اور دوسری طرف مادّی سہولت نہ ہونے یا نہ ملنے کی شکایت عام ہے۔ کیوں؟ …کیا حقیقت میں ہمارے پاس مادّی یا مالی سہولت نہ ہونے کی کی وجہ ہمارا معاشرہ ابتری کا شکار ہے؟ 

یہ سب وہ سوالات و اشکالات ہیں جو اپنی جگہ درست بھی ہیں اور اکثر جگہوں پر بے ترتیبی کا شکار بھی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ابتری کی طرف گامزن ہے۔

کیا اِس کا حل موجود نہیں ہے؟ یا اِس کا کوئی حل ہے؟ اور ہم اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔

یہ سوالات ہمیں خود سے پوچھنا ہے، خود ہی اس کا حل ڈھونڈنا ہے اور خود ہی اُس پر عمل پیرا ہونا ہے تب ہی ہماری مالی اور معاشرتی صورتِ حال بہتر ہونے والی ہے۔ ورنہ ابھی جس حال میں ہیں۔ اس سے بہتر صورتِ حال نہیں ہو سکتی۔ کیوں؟

کیوں کہ اس کی سب اہم وجہ ہے یقین اور اعتماد کی حد درجہ کمی۔ اور یہ کیوں ہوا؟

کسی بھی مقصد یا نشانہ کو پورا کرنے لیے اور حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اس نشانہ کو جاننا ضروری ہے اور اُس آلہ کو بھی سمجھنا ضروری ہے جس کے ذریعہ آپ وہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔  وہ ہے تعلیم، دوسرے نمبر پر اس تعلیم یا علم کا درست استعمال۔ تیسرے نمبر پر اللہ کی رضا۔ اگر ہمارے اندر اِن تینوں کا فقدان ہے تو ہم کبھی بھی اپنے نشانہ یا Goalکو حاصل نہیں کر سکتے۔

قرآن مجید کی اِس آیت میں مجموعی طور اِسی مقصد کو حاصل کرنے کی تعلیم اور رہنمائی کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ

(سورۃ التحریم؛ آیت ۶)

معاشرہ کو بہتر بنانے اور قائم رکھنے کے لیے سلسلے میں اہم موضوع کی نشاندہی اس آیت کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے

اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

اس آیت میں اپنے آپ کی اور اپنے اہل عیال کی حفاظت کرنے اور جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ غور کا پہلو یہ آتا ہے کہ بحیثیت ایمان والا؛ کیا ہم اس حکم کی بجا آوری کرتے ہیں؟

اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے تو ہمیں وہ سارے اصول اپنانے ہوں گے، جسے اپنا کر انبیاء اور بزرگان دین نے شریعت کو فروغ دیا، اللہ کا پیغام لوگوں تک عام کیا۔ وہی کام آج بھی کرنا ہے۔ ظاہراً ہو بھی رہا ہے، لیکن جو سب سے بڑی کمی یقین اور اعتماد کی قائم ہو گئی ہے، اس نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا۔ یقین اور اعتماد کو اُس وقت ٹھیس پہنچا جب ہمارے اندر خودغرضی داخل ہوئی، خودغرضی آتے ہی مفت خوری دھوکہ دہی بڑھی، اور جب ان عملوں کا فروغ معاشرے میں ہو گیا تو ہمارے اندر سے مقصدیت اور اللہ کی رضا کی چاہت ختم ہونے لگی۔ آج ہم صرف پیدائشی اور نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔

یہ آخری جملہ بہت سخت ہے، اور کسی بھی مسلم کو اچھا محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن حقیقت کے بہت قریب ہے۔ کیسے؟

ہم نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یہ چاروں عبادات کو بخیر و خوبی انجام دیتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ایک عمل توحید بھی ہے۔ یہ کس انسان کے اندر کتنا ہے، یہ وہی جانتا ہے۔ لیکن اللہ کے رسولﷺ کا پیغام کی روشنی اپنے آپ کو تولا جا سکتا ہے کہ ہماری اہمیت کیا ہے؟

عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ((المُسلِمُ مَن سَلِمَ المسلمون مِن لسانه ويده، والمُهاجِرُ مَن هجَرَ ما نهى الله عنه))؛ متفق عليه.

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

اگر ہم اپنے آپ کو اس حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو ننگے محسوس کرتے ہیں۔ ہم صرف مسلم گھرانہ میں پیدا ہوئے، والدین نے ختنہ کراکر مسلمان بنا دیا۔ باقی سب اعمال روایتی ہیں، جس کا شریعت سے دور دور تک واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔

اوّلِ روز سے ہی حالات میں بہتری اور بدتری ، آسانی اور پریشانی، تنگی اور فراوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ جب حالات میں تنگی پیدا ہوئی تو مالداروں کی ضرورت مندوں کو مالی تعاون دیا، خوراک کی کمی ہوئی تو خوراک مہیا کیا۔ یا دیگر ضروریاتِ زندگی میں کسی طرح کی پریشانی یا تنگی آئی تو اُس میں تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی لاپرواہیاں اور بدنظمیاں بھی پیدا ہوئیں۔ کئی جگہوں پر اور قوموں میں ابتری اور برتری کا سلسلہ بھی شروع ہوا گیا۔ اور انسانیت کے ناطے تعاون کا جذبہ خودغرضی اور دبدبہ بنانے کے لیے کیا جانے لگا۔ یہی وہ مفت کا چلن مادّی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی کا سبب بنا۔ اِس وقت دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ مسلم قوم بھی ذہنی غلامی کا شکار ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قوم مالی اعتبار سے کب کی خود کفیل ہو جاتی۔ یہاں تک مسلم قوم دوسری قوموں کو بھی خود کفیل بنانے میں اہل ہو جاتی۔ جیسا کہ دیگر مسلم ممالک سے آنے والے صدقات و زکوٰۃ کی رقم جو ہندوستان اور پڑوسی ملکوں میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس کے باوجود ہماری قوم دست سوال کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں؟ 

کیوں کہ ہماری قوم میں مالی بدنظمی عروج پر ہے۔ معاشرتی زندگی کے کسی بھی شعبہ پر نظر ڈالیں، خواہ و تعلیمی ادارہ ہو، خیراتی ادارہ ہو، تحقیقی یا تصنیفی ادارہ ہو، یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ بدنظمی سے پاک نہیں ہے۔ مدنی زندگی کی آخری سات آٹھ برس میں ہی ہماری قوم خود کفیل کیسے بن گئی تھی۔ اس کے بعد کے بھی حالات سے پتا چلتا ہے مسلم قوم کئی صدی تک مالی  طور پر اور دیگر میدانوں میں خود کفیل تھی۔ اور اب کی حالت یہ ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں اپنے آپ کو غریب، بے سروسامان، تعلیمی اعتبار سے پسماندہ، اور دیگر جو کار ہائے زندگی میں ہم سے زیادہ ناکارہ کسی دوسری قوم کا تعارف نہیں کرایا جاتا۔ مظلوم ہم، مسکین ہم، بے سہارا ہم، جاہل اور اَن پڑھ ہم۔ یہ سارے منفی علم اور سوچ بچپن سے ہمارے ذہن میں ڈالا گیا اور فروغ بھی دیا جاتا رہا۔ مسجد صرف عبادت کی جگہ رہ گئی۔ مدرسے دین کے قلعہ کے نام پر چندہ وصولنے اور اپنے مصرف میں استعمال کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ذمہ داران کے مزے ہوگئے اور ملازمین کے درمیان بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر خیراتی اداروں کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے نام پر چندہ لیا جاتا اور رمضان، عید کٹ بانٹ کر نمائش کر دی جاتی۔ 

کیا ہماری قوم میں ایسے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکیں کہ ’’اب مجھے اِس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی اور ضرورت مند کو دے دیجیے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔ میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کت...