Thursday, September 3, 2026

خوشخطی اور کتابت قائم رکھنا ضروری ہے؟


مذکورہ سرخی کو پڑھنے کے بعد اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ خوشخطی اور کتابت سیکھنا اور قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟ آج کے کمپیوٹری زمانے میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اکثر یہ رائے اُن اساتذہ اور معلّمین کا ہوتا ہے جو سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور اُن میں اکثر وہ ہیں جو اپنی ذمہ داری کو وہیں تک نبھاتے ہیں جہاں تک اسباق پورے ہو جائیں اور طلبہ اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں۔ کچھ وہ ہوتے ہیں جو صرف اسباق پورے کراتے ہیں، طلبہ کو سمجھ میں آئے یا نہ آئے، وہ اپنی ذمہ داری یہیں تک سمجھتے ہیں۔ اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ طلبہ پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس طرح پڑھاتے اور سمجھاتے ہیں طلبہ پوری زندگی سبق کو نہیں بھولتے۔ اور وہ پوری زندگی اپنے استاذ کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ ہر میدان میں یہ تین چار طرح کے افراد پائے جاتے ہیں۔

مطالعہ ہر میدان کی پہلی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر پڑھا لکھا انسان سمجھتا ہے کہ مطالعہ صرف کتابوں کا ہی کیا جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جب کہ اساتذہ میں بھی اب اکثر ایسے ہوتے ہیں جو نہ خود مطالعہ کرتے ہیں اور نہ طلبہ کو مطالعہ کی رغبت دلاتے ہیں۔ کلاس میں بھی موبائل پر لگے رہتے ہیں۔ زیادہ تر اسباق موبائل پر ڈھونڈ کر نقل کرنے کو دے دیتے ہیں۔ ان میں نہ ان کی کوئی اپنی کوشش، توجہ اور زمانے سے مطابقت ہوتی ہے اور نہ حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے۔ 

موجودہ تعلیمی میدان میں ہمارے اداروں میں جو کمی محسوس کی جارہی ہے۔ وہ ہے تحریر، کتابت، خوشنویسی یعنی اچھی لکھائی۔ مدارسِ دینیہ میں تو ڈرائننگ نام کا کوئی فن تو ہوتا نہیں، اور اگر ہے بھی تو ایسے ادارے انگلیوں پر شمار کیے جا سکتے ہیں۔ تب ہی تو کہا جا رہا ہے کہ ’’آج کے کمپیوٹری زمانے میں خوشنویسی یعنی اچھی لکھائی چنداں ضرورت نہیں ہے۔‘‘ تو میرا صرف یہ کہنا ہے کہ *’’اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو لکھنے کے قابل بچائے رکھیں ورنہ بینک میں دستخط مماثل نہیں ہوگا۔‘‘* جنہیں لگتا ہے کہ لکھنے کا فن یا اچھی تحریر غیر ضروری ہے تو میرا کہنا ہے کہ جائیے بازار میں دیکھیے کہ کتنی ہی بحالی میں اچھی تحریر نہ ہونے کی وجہ سے ردّ ہوئی ہے۔ تحریر اور طرز تحریر کسی بھی زبان میں کی جائے، ہر دور میں ضرورت رہی ہے، اور رہے گی۔ یہ گھر بیٹھے یعنی بغیر پونجی لگائے بھی کمائی کا ذریعہ ہے۔ باقی دوسرے فنون ہیں جس کی اکیسویں صدی میں ضرورت ہے، اسے بھی حاصل کیجیے۔ 

لیکن یہ کہنا اور سوچنا کہ AI کی آمد نے خطاطی یا ہینڈ رائٹنگ کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے، ٹیکنالوجی کو تھوڑا اور قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلےتو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI خود ایک ٹول ہے، فنکار نہیں ہے۔ اگر آپ کو تحریر، طرزِ تحریر، جمالیات، توازن اور ترتیب کی مضبوط سمجھ ہے تو آپ AI سے بہتر ڈیزائن یا خوشنویسی ٹائپ بنا سکتے ہیں۔ اور یہ سمجھ خطاطی سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک غیر ہنر مند شخص صرف AI سے خراب پیداوار تیار کرے گا۔

دوسرا، خطاطی آج صرف کاغذ تک محدود نہیں ہے۔ حسب ضرورت فونٹس، لگژری برانڈنگ، ڈیجیٹل آرٹ، اور گیمنگ یوزر انٹرفیس میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اور نیورو سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ لکھاوٹ بچوں کی ذہنی توجہ اور تخئیل صلاحیت کو بہتر بناتی ہے، جو آج کی سکرین پر منحصر جنرل الفا نسل کے لیے اہم ہیں۔

مارکیٹ کا سادہ اصول ہے جب AI ڈیزائن مفت میں دستیاب کرتا ہے، تو ہاتھ سے بنے اور مستند آرٹ کی قدر میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ AI قلم کو ختم نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ، یہ مضبوط بصری احساس رکھنے والوں کی قدر میں اضافہ کر رہا ہے۔

دیکھیے، یہ کوئی "خطاطی بمقابلہ AI" کی جنگ نہیں ہے جہاں ایک کو دوسرے کو منتخب کرنے کے لیے برخاست کرنا پڑتا ہے۔ AI سکھانا بالکل ضروری ہے، لیکن AI میں مہارت کہاں سے آتی ہے؟ AI ایک ٹول ہے، اور اس سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے، انسانوں کے پاس بنیادی ڈومین علم اور جمالیات کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی بچے میں ٹائپوگرافی، خلائی توازن اور بصری فن کی سمجھ نہیں ہے، تو وہ کیسے AI کو اشارہ دے سکتا ہے؟ انسانی بصری احساس کے بغیر AI صرف عام اور بے روح ڈیزائن تیار کرے گا۔

آپ جنرل الفا کے بارے میں بات کر رہے ہیںجب کہ آج نیورو سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اسکرین پر منحصر بچوں کی توجہ کا دورانیہ اور عمدہ موٹر مہارتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ کی بورڈ اور ٹچ اسکرین دماغ کے ان حصوں کو چالو نہیں کرتے ہیں جو قلم پکڑنے اور اپنے ہاتھوں سے ڈرائنگ کرتے ہیں۔

جہاں تک اکیسویں صدی کی ضروریات کا تعلق ہے،تو جاننا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی روایتی مہارتوں کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انہیں بااختیار بناتی ہے۔ آج، ٹیک انڈسٹری، UX/UI، اور فونٹ ڈیزائن کے سب سے اوپر وہ لوگ ہیں جو روایتی آرٹ اور AI ٹیکنالوجی دونوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ جنرل الفا کو صرف "AI آپریٹرز" نہ بنائیں، انہیں ایسے تخلیق کار بنائیں جو ٹولز کو چلانے میں اہل اور مہارت دونوں کے حامل ہوں۔

اگر ہم ہر چیز کو صرف اور صرف عام آدمی یا مالی فائدے کے پیمانے پر تولنا شروع کر دیں تو کل ہم تمام عجائب گھر بند کر دیں گے، صدیوں پرانی زبانوں اور تاریخ کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے اور اعلان کریں گے کہ اب کمپیوٹر سب کچھ کر دے گا۔ کیا کسی قوم کی رونق اور تشخص کی کوئی قدر نہیں؟ 

خطاطی عام لکھاوٹ نہیں ہے۔ یہ ہماری صدیوں پرانی چمک، ہمارے ورثے اور ہماری بصری شناخت کی علامت ہے۔ AI ایک مشین ہے؛ یہ لاکھوں ڈیزائن بنا سکتا ہے، لیکن یہ اس دستکاری پنکھے کے پیچھے چھپے جذبات، گہرائی اور انسانی چشم کبھی نہیں بنا سکتا۔

جاپان اور چین جیسی ترقی یافتہ قوموں کا مشاہدہ کرنے والوں کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے قدیم دستکاری اور روایتی فنون کو کتنے فخر سے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ اپنی شناخت چھوڑ کر آگے نہیں بڑھے ہیں۔ اس کے بجائے، انہوں نے اپنے ورثے کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ جنرل الفاس کو مکمل طور پر AI اسکرینوں پر منحصر کرنا اور انہیں ان کے اپنے ورثے سے الگ کرنا غیر دانشمندانہ ہے۔ انہیں AI کو چلانے کا طریقہ سکھائیں، بالکل سکھائیں، لیکن اپنی شناخت اور ثقافت کو "وقت کا ضیاع" سمجھ کر مسترد نہ کریں۔ اپنے فن اور ثقافت کا تحفظ پسماندگی نہیں ہے۔ یہ آپ کی شناخت کو زندہ رکھنے کے بارے میں ہے۔

آج ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ دوسری قومیں اپنی زبان و تحریر میں کیلی گرافی سیکھنے سکھانے کے عمل میں مشغول ہیں، کمپنیوں نے مختلف قسم کے قلم اور برش بنانا بند نہیں کیا ہے، کیوں کہ اُن کے خریدار ابھی زندہ ہیں اور وہ قومیں اپنی شناخت کو زندہ کرنے کے لیے روزانہ جدو جہد میں مصروف ہیں۔ وہ امیر ترین قومیں اپنا وقت اور سرمایہ صرف ذہنی عیاشی میں خرچ نہیں کرتی، بلکہ کلبوں میں جاکر مختلف قسم کے ذہنی اور جسمانی کھیل، ہنر اور لکھنے پڑھنے میں بھی خرچ کرتی ہیں۔ 

اتنی گفتگو کے بعد ہماری صرف اتنی درخواست ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی تحریر اور شناخت کو محفوظ رکھنے میں پوری دلچسپی لیجیے۔ اپنی نسل کو اہلِ قلم بنائیے، تاکہ آپ کی پہچان زندہ اور باقی رہے۔

*محمدفیروزعالم*

مصنف، ایک ماہر خطاط، فونٹوگرافر،  ڈیزائنر، صحافی اور طبیب ہیں۔

 

Tuesday, June 9, 2026

دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ


ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیالات میں الجھن مدارس و مکاتب کے نصاب تعلیم اور تربیتی نظام کو لے کرمباحثہ کیا جاتا ہے۔ یہ مباحثہ آئے دن اختلاف اور طعن و تشنیع کا موضوع بنا رہتا ہے۔ اور عمومی طور پر کئی قسم کے دعوے کیے جارہے ہیں اور مشورے بھی دیے جا رہے ہیں۔ کئی ادارے اپنی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ مکمل اسکولی تعلیم کو بھی جوڑ چکے ہیں۔ کوئی اس کا مخالف ہے کہ ہم صرف دین پڑھانے کے مکلف ہیں؛ دنیا کمانا میرا شیوہ نہیں ہے۔ کوئی دین کی تعلیم کو مقدم کہتا ہے اور عصری تعلیم کو بعد میں حاصل کرنے کو کہتا ہے۔ کوئی عصری تعلیم کو مقدم ٹھہراتا اور کہتا ہے کہ دین کی تعلیم تو کبھی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کوئی دین کے بنیادی اصولوں کو پڑھائے جانے کے معاملے میں عمر اور عقل و شعور کو معیار بنا کر اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ وغیرہ۔ 

ان میں سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ مشورے دینے والے وہ لوگ ہیں، جو اِس وقت خالی پھر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور اپنی علمی بخار کو انڈیل رہے ہیں۔ جنہوں نے زندگی میں زیادہ سے زیادہ چند لوگوں کی رہنمائی کی یا کفالت کی ہوگی۔ سرکاری پوسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد چوں کہ مال کی فروانی رہتی ہے تو ایسے میں اپنے خیالات کو دوسرے پر تھوپنا زیادہ آسان معلوم پڑتا ہے، اور  وہ کر رہے ہیں۔ اسی قسم کی سوچ نے ہمارے معاشر ے کی سوچ کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اور دُنیا کے دوسرے لوگوں کے سامنے ہماری شناخت پیچیدہ نظر آتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی ادارے یا مدارسِ اسلامیہ دینِ اسلام کے مضبوط قلعے ہیں اور دین کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ مجھے اب کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر اداروں کے تعلیمی نظام و نصاب میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں خاطر خواہ اور بہتر نتائج نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حالاں کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق دین آسان ہے۔ 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’دین آسان ہے، لیکن جو اس میں سختی برتے گا، دین اُسے پچھاڑ دے گا۔ اس لیے تمھیں چاہیے کہ سیدھی راہ پر چلو، میانہ روی اختیار کرو۔ لوگوں کو انعام کی نوید بھی دو اور صبح وشام اور رات کے خوش گوار وقتوں میں اللہ کی بندگی بجا لایا کرو‘‘ اور فرمان نبوی ’’ان الدین یسرٌ دین آسان ہے۔‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ دین اپنے سب تقاضوں کے ساتھ مشکل نہیں ہے، کیونکہ اس کے تمام تقاضے ہماری فطرت کے مطابق ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ یہ دین انسان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی حکم نہیں دیتا۔ لیکن مذہبی پیشواؤں کی مجرمانہ حرکتوں، لوگوں کی بے علمی اوردین میں عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ آسان ترین دین مشکل ترین صورت اختیار کرتا چلاگیا ہےجس طرح  دین میں غلو اور مبالغہ بڑا گناہ ہے اسی طرح اس میں آسانی کے نام پر کمی کرنا بھی جرم عظیم ہے۔

ہمارے ملک ہندوستان میں مدارسِ اسلامیہ کی کثیر تعداد موجود ہے۔ ہم یہ جملہ نہیں لکھ سکتے کہ ’’ہمارے ملک میں مدارسِ اسلامیہ کا جال بچھا ہوا ہے۔‘‘ کیوں کہ اکثر مدارس کا ایک دوسرے سے کوئی تال میل نہیں ہے۔ جال یا نیٹ کا مطلب ہے آج کے دور کا آسان سا لفظ۔

 News and Edutainment Technology 

اگر واقعی نیٹ ہوتا اور مضبوط نیٹ ہوتا تو دہائیوں سے قائم اداروں کا بار بار تعارف کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہاں کے فارغین اُس کا عمدہ پیرائے میں تعارف کراتے۔ پھر بھی ہندوستان کے ہر صوبہ کی راجدھانی میں ایک سے زائد ایسے مثالی ادارے مل جائیں گے جو بنیادی سہولتوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں۔ 

اِسی ہندوستان میں کئی شہر تو ایسے ہیں جسے مدرسوں کا شہر کہتے ہیں، جیسے اترپردیش میں مئو ناتھ بھنجن، دیوبند، سہارن پور، مظفر نگر، کاندھلہ وغیرہ۔ مہاراشٹر میں اکل کوا، ناندیڑ، دھولیہ، گجرات میں ڈابھیل،’’بھج‘‘ وغیرہ

اس کے علاوہ ہندوستان میں سینکڑوں شہر ایسے ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم دیئے جانے کے ایک سے زائد ادارے موجود ہیں۔  جیسے اترپردیش میں بنارس، لکھنؤ، جون پور، کان پور، سرائے میر، اعظم گڑھ، مرزاپور، الٰہ آباد، مظفر نگر، سہارن پور، بریلی، مرادآباد، ہاپوڑ، میرٹھ وغیرہ … کرناٹک میں بنگلور، بھٹکل، ہبلی وغیرہ … مغربی بنگال میں کولکاتہ، مالدہ، چوبیس پرگنہ، دیناج پور وغیرہ … بہار میں پٹنہ، بہار شریف، مظفرپور، دربھنگہ، جہان آباد، گیا، چندن بارہ، آرہ، سہسرام، مونگیر، بھاگل پور وغیرہ … جھارکھنڈ میں رانچی، جمشید پور، گڈا، مدھوپور، دھنباد وغیرہ … راجستھان میں جے پور، جودھپور، جیسلمیر، پوکرن، اجمیر، باڑمیڑ، میل کھیڑا، الور وغیرہ

تعلیم و تربیت کا روایتی نظام

تعلیم و تربیت کا روایتی نظام جو کہ ایک نہایت ہی غلط روش میں رواج پا چکا ہے۔ جس میں قوم کا سرمایہ اور وقت ضائع ہو رہا ہے۔ اور یہ دونوں قسم کے ضیاع کے معاملے میں ہمارے بیشتر علماء کرام اور ذمہ داران کا احساس مر چکا ہے۔ چند لوگ جو بہتر نظام تعلیم و تربیت کے تحت ادارہ چلا رہے ہیں اور وہاں سے بیشتر کامیاب افراد پیدا ہو رہے ہیں، تو اُن کی مخالفت میں تقریریں کی جا رہی ہیں اور مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ کہ یہ حافظوں اور مولویوں کو دین سے بھٹکا کر دنیا داری میں لگا رہے ہیں۔ 

جب کہ ہمارے معاشرے کی بہت بڑی بدنصیبی ہے کہ دین کے نام پر قائم اداروں میں چند سال ابتدائی تعلیم لے کر وہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے مسجدو مدرسہ بنا لیتے ہیں اور دور دراز کے بچوں کو لاکر چندے کا کاروبار کرلیتے ہیں، علاقے کے لوگ ایسے ہی لوگوں کو علماء کرام میں شمار کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ نئی کالونیوں میں یہ اپنی جگہ بنا کر اپنے گزر بسر کا سامان کر لیتے ہیں۔ علاقے کے لوگ بھی اکثر بنیادی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں تو انہیں احساس دلا دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ دین کے معاملے میں بہت بہتر ہو چکے ہیں آپ کے بچے حافظ ہو جائیں گے تو جنت آپ کی ملکیت بن جائے گی، وغیرہ جیسے خیالات کو فروغ دیاجاتا ہے اور اسی کو دین بتایا جاتا ہے۔ جب کہ یہ دوسری قوموں کی نقل میں اس طرح کا کام کرکے عوام کو تسلی دے دی جاتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ بھی  ہے کہ اگر گاؤں میں ایک یا کئی حافظ یا مولوی بن جاتے ہیں، یعنی کسی مستند ادارے سے تعلیم مکمل کرکے آتے ہیں، اُن کے علم کی وہاں کوئی اہمیت نہیں بچتی، اس لئے وہ روزی روٹی اور عزت کے لیے مجبوراً دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔

علم اور عالم کی قدر

علم اور عالم کی قدر زمانۂ قدیم میں بھی نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ زمانۂ قدیم کے علماء و ائمہ کے حالات کا مطالعہ فرمائیں، قدر واضح ہو جائے گی۔ طعن و تشنیع کے شکار گزشتہ زمانے کے علماء کرام بھی ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ چند اہلِ خیر کی برکت ہے کہ حالات کچھ بہتر بنے ہوئے ہیں، ذلت و خواری تو ہر جگہ اور آئے دن دیکھنے اور سننے کو ملتے ہی رہتے ہیں۔ کبھی مؤذن پر حملہ کبھی امام کی خودکشی۔ جو واقعی اللہ والے ہیں، ذلت ان کو نہیں چھو پاتی، بس ظاہری طور پر وہ مالی کسمپرسی کے شکار بے شک دکھائی دیتے ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر و ضبط اور اطمینان کی دولت سے نوازا ہے۔

ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے میں خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘۔ 

کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔

بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … 

ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے عربی زبان و ادب، فقہ، حدیث اور تفسیر وغیرہ کی تعلیم حاصل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، ایک اچھے خطیب اور ماہر استاذ بن جاتے ہیں۔ جو عمومی طور بیس سے چوبیس برس کی عمر پہنچنے تک پوری کی جا سکتی ہے۔ کئی اداروں تخصص فی الحدیث، تخصص فی الفقہ، تخصص فی الادب وغیرہ کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ جو ملک و بیرونِ ملک میں آمدنی کا بہتر ذریعہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی کئی اداروں میں میں مختلف قسم کے صنعتی کام بھی سکھائے جاتے ہیں، جس میں ۱۔کمپیوٹر ڈی ٹی پی وغیرہ، ۲۔ الیکٹریشن ۳۔ خراد جس میں لکڑی کے علاوہ دیگر اقسام کی دھاتوں کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ وغیرہ اب یا تو ان کاموں سے اپنا معاشی زندگی شروع کریں یا مزید تعلیم کے لیے وہ عصری کالج یا دیگر اداروں کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اپنے سیکھے ہوئے ہنرسے پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔

علم و ہنر کیا ہے

علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب یہ طے کرنا آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔

افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی۔ پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نوٹ؛  مصنف آزاد صحافی اور نیچرو پیتھ ہومیوپیتھ ہیلتھ کنسلٹنٹ ہیں۔

ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا    پانے اور ڈائٹ پلان کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں؛

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

9811742537


Sunday, May 17, 2026

تہذیب و ثقافت کا گرتا معیار اور ہمارا رویّہ

تہذیب و ثقافت کا گرتا معیار اور ہمارا رویّہ

موجودہ دور میں جس تیزی سے سماجی رویّہ میں بدلاؤ گراوٹ کی شکل میں آیا ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تہذیبیں بدلیں، ثقافتی معیار بدلا، لیکن تنزلی اتنی نہیں آئی تھی جتنی کہ اب آ چکی ہے۔ جب کہ آج کے دور میں سہولتوں اور ذرائع کی بہتات ہے۔ اس کے باوجود ہمارا سماجی رویّہ نہایت ہی خودغرضانہ ہو چکا ہے۔ جس کے نقصانات تعلیم و تعلّم، تعلقات، معاملات کے علاوہ دیگر شعبۂ حیات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ 

’’اردو زبان ہماری مذہبی اور تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور علمی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ زبان صدیوں تک علم و ادب صحافت اور تدریس کا مؤثر ذریعہ رہی اور موجودہ دور میں اردو زبان اپنی وسعت لچک اور ادبی حسن کے باعث ہر دور میں نئے موضوعات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘ 

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہماری علمی شناخت کس معیار پر پہنچ چکی ہے؟ اس کی بھی وضاحت ضروری ہے۔ جب سائنسی و تکنیکی ایجادات و اصطلاحات کی بات آتی ہے تو عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اردو زبان اس میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ کیوں کہ علمی اور عملی حقیقت حال یہ ہے کہ سائنسی و تکنیکی اصطلاحات موجود ہونے کے باوجود ہم اسے برتنے میں پیچھے رہ گئے۔ حالاں کہ نئی اصطلاحات بنائی بھی جا سکتی ہیں لیکن ہمارے اوپر انگریزی کا ایسا رعب برپا ہو چکا ہے کہ ہم اس زبان کے غلام بن کر رہ گئے ہیں اور علمی میدان ایک طرح سے مال کمانے کا ذریعہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اکثر علماء کرام اور پڑھے لکھے لبرل خاندانوں کا رویّہ تہذیب و تمدن سے بے میل دکھائی دیتا ہے۔ اور اکثر طبقہ ایک فریم میں زندگی گزارنے کا عادی بھی بن چکا ہے۔ 

اُردو طرزِ تعلیم خصوصاً کالج اور اعلیٰ تعلیمی سطح پر زوال کا شکار ہے۔ یہ زوال صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہماری سماجی نفسیات اور اجتماعی رویّوں پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمومی طور اردو سے جڑے ہوئے لوگ بھی اپنی نسل کو اردو پڑھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اُردو کے دعویدار خود اردو کو کس طرح درگور کر رہے ہیں اُس کی ایک مثال ’’احمد علوی‘‘ کے اِن اشعار میں ملاحظہ فرمائیں؛

بجاتے ہیں ہراک محفل میں یہ شہنائی اردو کی

کہ ساری عمر کھائی ہے فقط بالائی اردو کی

پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں

اسی پیسے سے بچّوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں

ہماری مذہبی کتابیں اب اُردو اور عربی زبان کے بجائے ہندی یعنی دیوناگری خط میں شائع کی جا رہی ہیں۔ حالاں کہ دیوناگری میں اشاعت کوئی معیوب عمل نہیں ہے۔ لیکن اپنی پہچان کو دھندلا کرنا بھی تو اچھا عمل نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ اب عربی سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ عربی، اردو دونوں ہی زبانیں لکھنے اور پڑھنے کے اعتبار سے زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت دوسری زبانوں کے۔ پھر بھی یہ ہماری کتنی بڑی کم نصیبی ہے کہ ایک سو خاندان پر بھی ہم ایک پرائمری درجہ تک کی تعلیمی ادارے کھولنے اور چلانے کے اہل نہیں بن پائے۔ ہم کیوں نہیں اپنے بچّوں کے لیے دینیات اور عصری تعلیم کے ساتھ ابتداء تا پانچویں درجہ تک کی تعلیم کا بندوبست کر پائے؟

اِس وقت جب تہذیب تمدن کی بات کی جائے گی تو دیکھ لیجیے کہ ہم کسی کے نیک اور پرہیزگار ہونے کے لیے نمازی ہونا اوّلین علامت سمجھتے ہیں۔ جب کہ اگر عبادات کی بات کی جائے تو کیا ’’نماز‘‘ سے ہماری زندگی بدل رہی ہے؟  …جب کہ قرآن میں کہا گیا کہ کہ نماز فحش اور منکرات سے روکتی ہے۔ … کیا ہم نے وقت پر کام کرنا سیکھ لیا ہے؟ …جب کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ نماز وقت مقررہ پر فرض کیا گیا ہے۔ … کیا ہم نے زکوٰۃ و صدقات اسی طرح ادا کرنا سیکھ لیا ہے جس طرح سے ہمیں حکم دیا گیا ہے؟ جب کہ حکم کے تحت یہ فرض ہونے پر میل یا گندگی کی طرح اسے نکال پھینکنا ضروری ہے۔ … ہمارا اکثر طبقہ اسے سنبھال کر رکھے ہوتے ہیں۔ …فرائض کا احساس دل و دماغ سے جاتا رہا ہے۔ …

شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے مالدار طبقہ اور اکثر لوگ اپنی پچاس سال کی محنت کی کمائی عمر کے آخری پانچ برسوں میں بہتر زندگی کی خواہش لیے اسپتالوں میں دے کر گزر جاتے ہیں، …یا جسمانی طور پر اپاہج ہو کر بستر پر زندگی گزارتے ہیں، …یا مساجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز کی ادائیگی کرتے ہیں، وہ بھی صفوں کے درمیان۔ …ذہنی اور جسمانی طور پر اپاہج ہونے کے باوجودہ دل و دماغ سے اکڑ نہیں جاتی۔ …

ایسا لگتا کہ وہ اللہ کے سامنے عاجزی نہیں بلکہ اپنی شان دکھانے جاتے ہیں۔ …

ایسا ہی کچھ رویّہ مالدار حاجیوں اور عمریوں میں نظر آتا ہے۔ …حاجی، نمازی، زکاتی، سب طرح کے لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں، …لیکن اُن کے طریقہ سے رواداری کی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔ …یا صرف خودغرضی اور مطلب ہی تک دوستی اور تعلقات قائم ہوتے ہیں۔

اکثر طبقہ تعلیم اور دین کے بنیادی معلومات کو پس پشت ڈال چکے ہیں یا تبرکاتی تعلیم پر منحصر ہو چکے ہیں۔ تعلیم کے سلسلے میں ہمیں وراثت میں ایک سوچ ملی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کو نوکری تو ملتی نہیں، تو پڑھ لکھ کے کیا کریں گے؟  یا کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ … 

اب ہم تبرکاتی تعلیم سے ہی اپنے آپ کو بہت بڑا عالم، فاضل یا قابل سمجھ لیتے ہیں۔ اور اسی کو تعلیم کا معراج سمجھ چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان دینی ادارہ کے تعلیم یافتہ بے روزگار نہیں ہوتے، لیکن اکثریت شاکی اور غیر مطمئن ضرور ہوتے ہیں۔ 

مسجد اور ابتدائی تعلیم یعنی ناظرۂ قرآن مجید اور حفظ پر توجہ دیتے ہیں، لیکن وقت اور سرمایہ زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔ پورے ملک میں بہت کم ایسے ادارے ہوں گے جہاں ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بندوبست کیا گیا ہے، جہاں سے نکلنے کے بعد بچّے آگے کی تعلیم کے لیے عصری اسکول میں یا عربی اداروں میں داخل ہونے کے قابل بن پاتے ہیں۔ یہ ہماری علمی کمی ہے۔ 

جب کہ بحیثیت مسلم ہمیں سب سے پہلے پڑھنے کی رہنمائی کی گئی ہے جس کا ثبوت قرآن کی وہ پہلی پانچ آیتیں ہیں۔ کیا صرف ’’إقرأ‘‘ کے نام پر مسجد اور اداروں کا نام رکھ لینے سے اُس حکم کا مقصد پورا ہو رہا ہے ؟ ہرگز نہیں۔

آج کے دور میں مسجد و مدرسہ کا قیام تعلیم و تعلّم اور آپسی تعلقات معاشرتی ضرورت کو بچائے رکھنے کے لیے نہیں بلکہ زیادہ تر اپنا پیٹ پالنے کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ بعدہٗ عصبیت یا ذات پات کے جھگڑے میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور کمتر ثابت کرنے کے لیے کیا جانے لگا ہے۔ جب کہ جو ہمارے لیے سماجی اور معاشرتی رابطے کی جگہ اور وقت تھا وہ صرف نماز یا مسلکی تضاد یا تبرکاتی تعلیم کی جگہ بن گئے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ جہاں گنجائش ملی، ایک نیا مدرسہ وجود میں آ گیا اور تعلیم کے نام پر معصومیت کے استحصال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب کہ محلّہ یا علاقہ والے اس سے استفادہ کرنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ محلّہ میں میت نہانے اور کفنانے دفنانے کا علم رکھنے والے ناپید، لیکن قرآن خوانی کرنے والے چند بچے موجود ہیں۔

آخر جمعہ کے خطابات محلّہ والوں کے لیے بہتری کا سبب کیوں نہیں بن پا رہا ہے؟ بنیادی مسائل تک کی معلومات لوگوں میں کیوں نہیں پائی جاتی۔ کیا صرف اُن ہی پر سیکھنا فرض ہے یا سکھانے والے کی بھی کچھ ذمہ داری ہے؟ اگر مساجد کے امام و خطیب نے یہ ذمہ داری نبھائی ہوتی تو مساجد کے قرب و جوار میں گندگی کی بھرمار نہ ہوتی۔ نہ وضوخانہ و پائخانہ پان و گٹکھا کے پیک سے بھرا ہوتا اور نہ نالیوں میں کوڑا کرکٹ بھرا ہوتا، یا بہہ رہا ہوتا۔ نہ گلیوں میں غیرضروری قبضہ ہوتا، نہ بالکونی سے کپڑوں سے ٹپکتا پانی ہوتا۔ …

جس سے اپنا دل و دماغ تو پراگندہ رہتا ہی ہے، 

ساتھ میں آنے جانے والوں کو ہونے والی تکلیفوں کا خمیازہ کس کو بھگتنا ہوگا؟ 

کس کے حصہ میں یہ عذاب آئے گا؟ 

جب کہ مسلم کی پہچان تو یہ بتائی گئی ہے؛

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسَ مِنْ لِسَانِہٖ وَ یَدِہٖ

جس کے ہاتھ اور زبان سے انسان محفوظ رہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ بعض محلّہ اور علاقہ کے مسلمان اپنے علاوہ کسی کو انسان سمجھتے ہی نہیں۔ ورنہ وہ منفی سوچ و الفاظ اور دشنام طرازی کے ذریعہ ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی پوری کوشش نہ کرتے ہیں خواہ وہ اپنی سوچ اور عمل میں غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ 

لیکن اپنا کھونٹا گاڑنے کے لیے یا رعب و دبدبہ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک شریعت اور انسانی اصول کو پامال کر سکتے ہیں۔ 

اگر اجتماعی طور پر تجزیہ کیا جائے تو ہماری روزمرّہ کی زندگی دوسری قوموں سے مشترک ہے، سوائے چند لوگوں کے نمازی حاجی بن جانے کے۔ حالاں کہ یہ عبادت ہے یعنی حقوق اللہ کا حصہ ہے۔ 

جب کہ حقوق العباد (یعنی سماجی زندگی اور آپسی لین دین، میں جھوٹ، فراڈ، دشنام طرازی، اور بداخلاقی اور دیگر بےترتیبی) میں دوسرے کے بالکل مماثل ہیں۔  پبلک پیلس پر قبضہ اور جانوروں کے ذریعہ آس پاس کے لوگوں کے پریشانی کا سبب پیدا کرنا روایتی حق سمجھا ہوا ہے۔ 

مال داروں کی زندگی گھر کے آسائشی سامان بدلتے ہوئے اور چھوٹے مکان سے بڑے مکان میں منتقل ہوتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ متعدی مرض میں مبتلا ہو کر صحت بہتر بنانے کی خواہش میں جوانی کی کمائی ہوئی دولت آخری عمر میں لگزی اسپتالوں کی بستروں کا کرایہ دینے میں خرچ ہو جاتی ہے۔

مالی طور پر درمیانہ اور کمزور طبقہ پرانے صوفے بیڈ خریدتے اور مکان بدلتے ہوئے گزرتے ہیں۔ اگر پلاٹ خرید لیا اور مکان مالک بن گئے تو دروازہ اونچا کرنے، نالی اور سڑک کے معاملے میں پڑوسی سے لڑتے جھگڑتے زندگی گزر جاتی ہے۔ اگر لاپرواہی کی وجہ سے بیمار ہوئے تو گھر بیچ کر علاج کرانے کے لیے سرکاری اسپتالوں کی آمد و رفت کا خرچ اٹھاتے اٹھاتے قلاش ہو کر گزر جاتے ہیں، یا معاشرہ کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔

اگر کوئی بغیر بیماری کے ٹھیک ٹھاک زندگی گزار رہے تھے تو اپنی آن بان شان بیٹیوں کی شادی میں دکھاتے ہوئے، لڑائی جھگڑے کرکے قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہیں اور اپنی نسل کو قلاش چھوڑ کر بے نام و نشاں ہو جاتے ہیں۔

کوئی قابل قدر کارنامہ مل بھی جائے تو اسے انگلیوں پر ہی شمار کرکے تمام کر دیاجاتا ہے۔ ہاں علمی شیخی بگھارنے میں ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ ایسے ریٹائرڈ عالموں کی کمی نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نیک سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

فیروز ہاشمی

۸؍مئی ۲۰۲۶

 

Sunday, April 19, 2026

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری


یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

روز غم دینے لگا مجھ کو مجھی کا لکھا

شاعر؛ ڈاکٹر عطا عابدی، دربھنگہ

تھوڑا ٹھہریے اور غور کیجیے کہ اس جملہ یا مصرع کن حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟  کیوں اس غم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔؟

اس کا بہت ہی واضح اور بیّن ثبوت یہ ہے کہ ہمارے اردو کے رکھوالوں کی ساری کوششیں اور لن ترانی اپنے پیٹ کے جگاڑ تک ہی محدود رہی۔ اسکولوں و کالجوں میں استاذ مقرر ہوئے، اچھے پیسے کمائے، لیکن دوسرے کے بچوں کے لیے اتنے مفید ثابت نہیں ہوئے۔ جتنا کہ معاشرے میں بتائی جاتی ہیں۔ آج جتنے بھی اسکالرس جو اردو کی رکھوالی کا دم بھرتے ہیں، سب کے سب صرف کتابوں کا ڈھیر ڈھو رہے ہیں یا تو چھوڑ کر گئے یا چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ اپنے بچّوں کو وہ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانے لگے اور عمومی مقامات اور سوشل میڈیا پر اردو کا رونا رونے لگے ہیں اور برسوں روتے رہے ہیں۔ آج اردو کے اداروں میں اردو کے اساتذہ تو موجود ہیں لیکن اُن میں زیادہ تر کے اندر جملہ، املا، معنی و مفہوم کو سمجھنے اور بتانے تک کی بھی کمی ہے۔ کیوں کہ عمومی طور پر اردو صرف افسانے اور شاعری تک ہی کو معاشرے میں تعارف کرایا گیا ہے۔ مذکورہ غم زدہ شعر کی آپ جتنی بھی اور جیسی بھی تشریح کر سکتے ہیں، وہ آپ کے سوچ و فہم پر مبنی ہوگا۔ حالات تو بہرحال یہاں تک ہمارے اردو کے دعویداروں نے پہنچا دیا۔

اردو والوں کے ذریعہ اردو کو نقصان پہنچانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب احمد علوی نے درست فرمایا ہے؛

پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں

اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں

ٹھیک ایسی ہی صورتِ حال دین اسلام کی پائیداری اور استحکام کے نام پر مدارسِ اسلامیہ و دینیہ کے ناظمین و مہتممین جن میں اکثر علماء کرام اورخود ساختہ علماء کرام ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں کہ اگر یہ ادارے بند ہو گئے تو ہماری نسل بے دین اور مرتد ہو جائیں گی۔ خوف کے تعلق سے وسیم بریلوی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔

خوف کے سایے میں بچّہ کو اگر جینا پڑا

بے زباں ہو جائے گا یا بدزباں ہو جائے گا

ہماری روزمرہ کے حالات و معاملات خواہ کسی میدان سے تعلق رکھتا ہو، خوف پیدا کرکے اپنا پیٹ پالنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ دینی اداروں کا بھی حال اتنا بہتر نہیں ہے، جتنا کہ لوگوں میں بتایا جاتا ہے۔ اس بارے میں دہلی کے معروف صحافی مطیع الرحمٰن عزیز کا کہنا ہے کہ

’’مدرسوں میں تنخواہ خفیہ رکھ کر اساتذہ کی مجبوری ناپ تول کر اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہاں قابلیت مدنظر نہیں ہوتی بلکہ مدنظر انسان کی مجبوری۔ کم سے کم تنخواہ پلس استاذ کا جی حضوری ہونا لازم ہوتا ہے۔ قابل اساتذہ کا انتخاب کرکے کون جاہل ناظم اپنے لٸے وبال جان پیدا کریگا۔ قابل اساتذہ خصیہ بردار نہیں ہوتے اور خصیہ بردار کبھی قابل نہیں ہوتے۔‘‘

شریعت محمدیﷺ کو تبرکاتی علماء کرام نے اوراردو تہذیب و تمدن کوتبرکاتی ادیب و شاعر نےزندگی درگور کیا ہے۔ جس کی دو مثالیں آپ نے ملاحظہ فرما لی۔

اب رہی بات کی بہتری کیسے ہو؟؟؟ 

تو شریعت محمدیﷺ سے بہتر کوئی اصول نہیں اور طریقۂ محمدﷺ سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ جسے ہم نے ہر مقام پر اپنے مفاد کی خاطر بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ذلت وخواری ہمارے حصّے میں آ رہی ہے۔

ہر تعلیم و تربیت اور بہتری کی شروعات اپنے گھر سے کریں۔ ورنہ دنیا میں جیسے لوگ کر رہے ہیں وہی آپ کو برداشت کرنا پڑے گا، بہتری کی شروعات کریں ، اپنے بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم اپنے گاؤں محلّہ میں دیں۔ یا بندوبست کریں۔ معصومیت کا استحصال بالکل بند کریں۔ نہ دوسروں کے بچّے اپنے یہاں لائیں اور نہ اپنے بچے دوسروں کے حوالے کریں۔ ورنہ آئندہ سو برس نہیں بلکہ قیامت تک آپ اپنی نسل کو بہتر انسان نہیں بنا پائیں گے۔

بقول اسرار جامعی مرحوم

رونا دھونا جاری ہے

سب کچھ کاروباری ہے

 ☆ ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

9th April 2026


Friday, April 17, 2026

شرم ہم کو مگر نہیں آتی

شرم ہم کو مگر نہیں آتی



جب ہی تو ہم دِل کھول کر چندہ دیتے ہیں، یہ سمجھے بوجھے بغیر کہ وہ مال کہاں جا رہا ہے۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرتے ہیں اور چندہ کی اپیلیں کرتے ہیں، اور ہم جنّت کی امید میں اپنی کمائی لگا دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی تقریروں نے صرف ہمیں خرچ کرنا بتایا اور ثواب کی امید دکھائی ہے لیکن 

’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ 

کے مصداق مسائل بڑھ ہی رہے ہیں۔ 

چندے بھی بڑھ رہے ہیں۔ چندے مانگنے والے بھی بڑھ رہے ہیں۔ مساجد اور مدارس و مکاتب کی تعداد بھی بڑھ رہے ہیں۔ 

لیکن اِس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔

نہ ہم عالم با عمل بن پا رہے ہیں۔ نہ ہم ڈھنگ کے عابد ہی بن پائے۔ نہ ڈھنگ والدین بن پائے۔ نہ ڈھنگ کے پڑوسی۔ 

چلیں اُدھر ہی۔ ہوا ہو جدھر کی؛ بہے جا رہے ہیں۔

کیوں

کیوں کہ ہم نے طریقۂ نبوی کو چھوڑ کر طریقۂ تبرکاتی منتخب کر لیا ہے۔

سب سے پہلے تو اس پر غور و خوض کرنا ضروری ہے کہ 

کیا ہم اپنے طریقے اور رویے میں مخلص ہیں؟ 

اور غلط طریقہ اور رویّہ سے شرمندہ ہیں؟

جواب یہی آئے گا کہ نہ ہم مخلص ہیں اور نہ شرمندہ۔  کمی تو ہے اِس میں۔

ہم ایک بے غیرت قوم بن چکے ہیں۔ 

کیسے ؟؟؟ آئیے غور کرتے ہیں اور احساس کرتے ہیں۔

شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کا ضمیر جاگ جائے اور پھر سنّت نبوی کو اپنا کر دنیا و آخرت کو بہتر کر سکیں۔

ہم اپنے گاؤں، محلّہ اور شہر میں دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ سو برس میں ایک فریضہ حج کے علاوہ کئی بار حج اور کئی بار عمرہ کرنے کے قابل تو بن گئے۔ الحمدللہ

لیکن

اس قابل نہ بن سکے کہ اپنے محلّے کی مسجد اور پرائمری تک کے دینیات پڑھانے کا بندوبست خود کر سکیں۔ 

ہم دور دراز سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں، سفر و اسفار کرتے ہیں۔ اور اب تو حجرے میں بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعہ چندہ وصول کر لیتے ہیں۔ کون پوچھنے آئے گا کہ آپ کی ضرورت کیا ہے اور آپ درست جگہ پر اس کا استعمال کر رہے ہیں کہ نہیں۔ علماء کرام تو نائب رسول ہیں، اُن پر شک کرنا یا تہمت لگانا اور حساب طلب کرنا، گویا اپنی عاقبت خراب کرنا ہے۔ یہی سوچ کر ہم ڈر جاتے ہیں، کیوں کہ ہمیں ڈرایا بھی تو گیا ہے۔ اور مسلسل ڈرایا جاتا ہے کہ خبردار لب کشائی کی تو جہنم تمہارا ٹھکانا ہوگا۔

چندہ طلب کرنے کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں؛

۱۔ چار سو سے زائدہ مصلّیوں کی مسجد کے لیے کارپٹ صف کی ضرورت ہے جس کی لاگت تقریباً اڑسٹھ ہزار روپے ہیں۔ صدقۂ جاریہ کے طور پر تعاون فرمائیں۔ … … …

۲۔مصلّیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مسجد کی دوسری منزل کے لیے چھت بنانا ضروری ہے۔ جس سے جو بن سکے، سیمنٹ، سریا، ریت، روڑی، بجری، یا نقد کی صورت میں تعاون فرمائیں، اپنی طرف سے یا اپنے مرحومین کی طرف سے … … …

۳۔ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں بہت مشکل سے ہم ایک مدرسہ شروع کر پائے ہیں، جس میں گاؤں کے علاوہ بیرونی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدرسہ میں ناظرہ حفظ اور قرأت کی تعلیم ماہر حافظ و قاری اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہے۔ مہمانانِ رسول کی کفالت مدرسہ کے ذمہ ہے۔ آپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیجیے اور ثوابِ دارین حاصل کیجیے۔ … … … … …

۴۔ ہم فلاں جگہ سے مدرسہ کا چندہ کے لیے آئے ہیں، جہاں یتیم و نادار طلبہ دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ علاقہ بہت پچھڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم خاطر خواہ طریقے سے مدرسہ کو نہیں چلا پاتے ہیں۔ مال کی بے حد کمی ہے۔ آپ لوگوں سے تعاون کی درخواست ہے۔ اللہ کے واسطے اُن یتیم و نادار بچوں کی کفالت میں اپنا حصہ ڈال کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ …  … … …

اب آئیے عمومی چندہ کرنے والے یا کہیے بھیک مانگنے والے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ خاص علاقے کا پچھڑا پن کا حوالہ دے کر اور بیماری کا بہانہ بنا کر چند سکّوں کے بجائے کم سے کم سو پچاس روپے طلب کرکے ایک دن میں ایک شخص کی آمدنی ڈیڑھ ہزار سے تین ہزار روپے تک یا اُس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ( اس طرح کی کئی سروے رپورٹ سوشل میڈیا پر موجود ہے) جن کی اجتماعی آمدنی پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک فی کس ہو جاتی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں پڑھے لکھے اساتذہ کو بھی شاذ و نادر ہی کوئی تعلیمی ادارہ تیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرتا ہوگا۔ 

بھیک مانگنے میں کیا حرج ہے؟ تھوڑا بے غیرت بننا پڑتا ہے۔ عاقبت کی فکر کیوں کریں؟ دنیا کی زندگی ہی اتنی خراب چل رہی ہے۔ چندہ کرنے اور بھیک مانگنے سے متعلق کئی ویڈیو رپورٹ میرے پاس موجود ہیں جس میں اس پیشہ میں لگے ہوئے لوگوں کی ماہانہ آمدنی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں بھی ہے۔

اپاہج پن کا بہانہ بنا کر یا بیٹی کی شادی کا بہانہ بنا کر تو ہر جمعہ آپ مانگنے والے کو دیکھ اور برت رہے ہوں گے۔ تو ایسے لوگوں کا مالی تعاون دے کر آپ کس کا بھلا کر رہے ہیں؟؟؟

مذکورہ بیان کردہ چندہ نمونوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے خود معاشرے میں ہاتھ پھیلانے والوں کی تعداد بڑھائی نہ کہ خود کفیل بنانے میں معاون بنے ہیں۔

میری درخواست ہے کہ اب معصوموں کا امپورٹ ایکسپورٹ بالکل بند کیا جائے۔ مسجد اور اسی میں پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست اپنی ہمت و طاقت اور مال سے کیا جائے۔  اگر ایک سو خاندان پر مشتمل گاؤں ہے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اپنے بوتے پر مسجد اور پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست نہ کر سکیں۔ مشوروں اور طریقوں کی بھرمار ہے۔ کرنے کی تیاری کریں۔ ہو جائے گا۔

کیا کرنا ضروری ہے۔

۱۔ اپنے علاقہ ایک کمیٹی اور بیت المال بنایا جائے اور اپنے مال سے ادارہ اور مسجد قائم کیا جائے اور اپنے ہی یہاں کے مولوی اور ماسٹر کو پارٹ یا فل ٹائم بطورِ استاذ مقرر کیا جائے۔

۲۔کوئی بھی خاندان خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو، ایک نکاح کی سنت ادا کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے سے زیادہ مال خرچ نہ کیا جائے۔ مہمانوں کی تعداد رشتہ دار سمیت چار سے گیارہ تک کے درمیان محدود رکھا جائے۔ ظہر سے قبل تشریف لائیں، صلوٰۃ ظہر مسجد میں ادا کریں، وہیں نکاح کیا جائے اور شربت پی کر رخصتی کر دی جائے۔

۳۔خواہ آپ کتنے ہی مالدار ہوں زندگی میں صرف ایک بار آپ پر حج فرض ہے، صرف اُسی کو ادا کریں۔ اور صرف ایک ہی بار عمرہ کریں۔ بقیہ مالوں کا بہت استعمال ہے، جس کا اجر اتنا ہی ملے گا جتنا آپ نفلی حج سے امید کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ (ہاں نمائش نہیں ہو پائے گی، جس سے آپ کو تسلی ملتی ہے اور شیطان خوش ہوتا ہے۔ کیوں فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں۔)

۴۔مالدار لوگ جو نمائشی کام کرتے ہیں، اس پر لگام لگائیں، اُن پیسوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں پر خرچ کرکے گاؤں کی تعلیم میں اضافہ کریں۔

۵۔ تعلیم اور صحت کی افادیت پر ہر ماہ ایک نشست مسجد میں ہی رکھا جائے اور ماہرین کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کیا جائے۔ ماہرین کے اخراجات کمیٹی میں جمع بیت المال سے ادا کیا جائے۔ سال میں بارہ نشستیں مختلف موضوعات پر رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ پھر ناقابل ہضم ہو جائے گا۔

۶۔مغلظاتِ کام و دہن کو بالکل ترک کریں۔ اپنی صاف ستھری پہچان بنائیں، دوسری قومیں جانیں کہ ہماری پہچان اُن سے بہت الگ ہے۔ مغلظات حرام تو ہے ہی، فضول خرچی کے بھی ضمن میں آتا ہے اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ گویا شیطان کو خوش کرنے والا عمل کو بالکل ترک کیا جائے۔

۷۔ جو مولوی خود مغلظات کام و دہن میں مصروف ہوں ایسے کو نہ مسجد کا امام مقرر کیا جائے اور نہ ادارہ میں استاذ مقرر کیا جائے۔ یہ شکم پرور مولوی ہیں، یہ صرف اپنا پیٹ پالنے والے ہیں اور سماج کو گمراہی میں مبتلا کرنے والے تبرکاتی مولوی ہیں۔

۸۔ وقت اور صحت اللہ کی دی ہوئی بڑی نعمت ہے، اس کا خیال رکھیں اور درست استعمال کریں، آپ سے جب مال کا حساب لیا جائے گا، تب وقت اور صحت کا بھی حساب طلب کیا جائے گا۔ 

بہت ہی افسوس سے مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی پچاس برس کی آمدنی عمر کے آخری پانچ برسوں میں بہتر زندگی جینے کی خواہش میں خرچ کرکے دُنیا سے رخصت ہو جائے جاتے ہیں۔ اس پر بھی دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آخر کیوں ہم اتنے زیادہ بیمار ہونے لگے ہیں۔ ذہنی اور سماجی بیماری کی تو ساری باتیں کی جا چکی۔ اس میں کتنی بہتری ہو سکتی ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن جسمانی بیماری کے ساتھ بھی ہم اکثر لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر بھی غور کر لینا ضروری ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھرانہ موجود ہو جس کا کوئی فرد بیمار نہ ہو یا اُس کے روزمرہ میں کسی قسم کی دوا شامل نہ ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم زندہ ہیں کھانے کے لیے۔ جب کہ صحت کا تقاضا ہے کہ کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے۔ وقت پر جاگیں، وقت پر سوئیں، وقت پر صلوٰۃ ادا کریں اور وقت پر کھانا کھائیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے سنت نبویﷺ سب سے بہتر عمل اور نمونہ ہے۔

 ☆ ☆ ☆


از؛ فیروزہاشمی، نئی دہلی

9811742537

(مضمون نگار نئی شناخت، نئی دہلی کے ایڈیٹر اور نیچرو ہیلتھ کنسلٹینٹ ہیں)

5th April 2026 

Tuesday, March 24, 2026

فکری غربت کے شکار

 ☘️☘️فکری غربت کے شکار☘️☘️



دورِ موجودہ میں جس طرح علمی اور دانشورانہ پیغام کی بہتات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں، اتنے کسی بھی زمانہ نہیں تھے۔ آج ہر کوئی سوشل میڈیا پر علمی پیغام کے ڈرم انڈیل رہا ہے۔ پہلے یہی کام اخبارات و رسائل اور کتابوں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے تھے۔ حالاں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو گزشتہ ایک صدی میں جس طرح کتابوں کے بنڈل تیار کرنے والے دانشور پیدا ہوئے، وہ پہلے کی صدی میں دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا ہمارے معاشرے میں اتنی زیادہ علمی اور دانشورانہ بہتات ہونے کے باوجود بہتری آئی ہے؟؟؟ …یا ہم سوچنے سمجھنے کے معاملے میں آج بھی ویسے ہیں، جیسا کہ کئی صدی سے چلے آ رہے ہیں؟ …کیا درجاتی تعلیم اور کتابوں کی بھرمار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے؟؟ … اگر بہتری آئی ہوتی تو سب کے سب بہتر حالت اور عیش و آرام کے ساتھ ساتھ عزت و احترام کی زندگی گزار رہے ہوتے اور شکر گزار ہوتے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ساری سہولتیں، مادی آسائشیں ہونے اور ملنے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے شاکی ہیں … … … اس پر دانشورانِ قوم کا کیا خیال ہے؟ … …اور کیوں ظاہر نہیں کرتے؟ …ساری نیکیاں، عبادات تک ہی کیوں محدود ہیں؟ …آج ہر پچاس گھر میں سے ایک دو حاجی اور عمری ضرور مل جائیں گے۔ لیکن اُن ہی میں ایک اصول پسند انسان ملنا مشکل ہو رہا ہے۔

آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جس بنا پر ہمارے معاشرتی معاملات نہایت پسماندہ ہیں؟؟؟ …یہ بات کہنے یا عذر پیش کرنے کی جرأت اس لیے کر پا رہا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مالکان کو عملہ ناکارہ، نادہندہ اور کام چور ملتا ہے۔ جب کہ ملازمین کی رائے ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے؟ …  ہماری محنت کے مطابق ہمیں معاوضہ نہیں دیا جاتا؟ …

اس طرح کا رُجحان عموماً دینی اداروں اور ملّت کے نام پر قائم اداروں میں دیکھا اور برتا جاتا ہے۔ ایک بار اس پر بھی غور کیجیے گا۔

اگر ہمارےدانشورانِ قوم اور ادارہ کے ذمہ داران حقوق العباد پر صدفیصد نہیں تو پچاس فیصد ہی سہی عمل پیرا ہو جاتے تو دنیا کے لوگ کم از کم شکایت کرنے والے تو بہت کم ہو جاتے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی اِس معاشرتی خرابی کی؟

سماج میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کی سوچ و فکر پر منحصر ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔

وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى

سورۃ النجم؛ آیت ۳۹

اگر سورہ نجم کو پڑھا اور سمجھا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ یہ حالات ہماری اپنی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم خدائی اصول کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے اصول اور مفاد پر عمل پیرا ہوں گے تو معاشرہ سے غربت و استحصال کبھی بھی کم نہیں ہو سکتا۔ یہ سب سے پہلی اور بنیادی وجہ ہے۔ اب بات کرتے ہیں دوسری وجہ پر۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".

صحیح بخاری؛ کتاب الایمان

مذکورہ دونوں بنیادی اصولوں کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہمارا رویّہ بے ایمانی والی ہو تو تو ہم اسے علمی غربت اور ذہنی مفلسی سے ہی تعبیر کریں گے۔

اب ان دو بنیادی غلطیوں کو اپنانے کے بعد یقیناً ہمارے اندر خودغرضی پیدا ہوگی۔  اور ہماری خودغرضی اور مطلب پرستی نے ہمیں علمی طور پر مسئلے مسائل کو اپنے مطلب میں نکال لینے کا جواز پیدا کر لیا۔ جیسا کہ صدقات کے آٹھ مستحقین میں یتیموں اور غریبوں کے نام پر ابتدائی درجہ کا مدرسہ چلانے والوں نے کر رکھا ہے۔ پورے ملک میں مدرسہ زکوٰۃ کو ہڑپ کرنے کی ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ ہماری مالی غربت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن اور حفظ پڑھانے کے نام پر تو نہ صرف زکوٰۃ کا غلط استعمال ہو رہا ہے بلکہ غریب اور معصوم بچوں کے حال اور مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے بچّوں کو ذہنی طور پر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لڑکے ناظرہ یا حفظ کرکے معاشرے کے مفید ہونے کے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور ان کو بھی یہی سوجھتا ہے کہ کہیں ایک مدرسہ قائم کر لیا جائے اور دور دراز سے بچوں کو لاکر اُن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے اپنا پیٹ پالا جائے۔  اب تو لڑکیوں کے نام پر بھی یہ کام شروع ہو گیا ہے، جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ معاشرے کے لیے معاون نہیں بن رہا ہے۔ معاف کیجیے گا۔ یہ بہت ہی تلخ جملہ ہے، لیکن سنجیدگی سے غور کیجیے گا تو آپ کو ایسے حالات پر شرم آگے گی۔ کہ آخر ہمارے لوگوں نے صدیوں سے یہ کون سا طریقہ اپنا رکھا ہے؟ کیا یہ طریقۂ محمدیﷺ ہے؟؟؟  

تعلیم باہر سے لی جا رہی ہے۔ خواہ مستقل ادارہ جاتی تعلیم یافتہ ہوں یا چِلّہ پہ چِلّہ لگا کر تعلیم لی جار ہی ہو۔ پھر بھی حالات جوں کے توں بنے ہیں، بلکہ اندر سے خاندانی ماحول بگڑ رہا ہے۔ مرد اپنی قابلیت جتا رہے ہیں، اور خواتین خود سر ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی علماء کرام ابتدائی ضروری تعلیم کے لیے نصاب تیار کر رکھی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سہولت کے اعتبار سے ابتدائی طور پر اپنے محلّہ میں ادارہ قائم کریں اور اس نصاب پر عمل کرکے معاشرہ کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔ 

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ …بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اب گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چار سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں، اور علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ۔ … پیسہ تو ہنر سے کمایا جاتا ہے۔ …افسوس تب ہوتا جب کہ اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔  جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروزہاشمی

10th March 2026


Saturday, March 21, 2026

معصومیت کا استحصال بند کیا جائے

 ☘️☘️معصومیت کا استحصال بند کیا جائے ☘️☘️


قوم کے رہنما و ذمہ داران سے گزارش ہے کہ معصوم بچّوں اور اُن کے غریب والدین کی معصومیت کا استحصال بند کیا جائے۔ اُنہیں وہ حقوق ادا کئے جائیں جن کا شریعت نے حصّہ مقرر کیا ہے۔ بات تھوڑی کڑوی ہے غور کیا جائے تو ایسے مسائل کا حل نکلنا آسان ہے۔

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مسجد اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مدرسہ اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک لائبریری اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک پرائمری تک کاادارہ اپنے دم پر تعمیر کر سکیں؟

ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘ 

کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔

بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں۔ 

علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب طے کرنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔

افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروز ہاشمی

9th March 2026


خوشخطی اور کتابت قائم رکھنا ضروری ہے؟

مذکورہ سرخی کو پڑھنے کے بعد اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ خوشخطی اور کتابت سیکھنا اور قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟ آج کے کمپیوٹر...