Tuesday, January 27, 2026

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹 

از فیروز ہاشمی


مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہے؟ کیا اِسے فروغ دینا چاہیے؟ ہر اہل و نا اہل کو مفت دے کر یا مفت کھلا کر کیا کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ اور کیا کیا نقصان ہو رہا ہے؟ وغیرہ  … اور دوسری طرف مادّی سہولت نہ ہونے یا نہ ملنے کی شکایت عام ہے۔ کیوں؟ …کیا حقیقت میں ہمارے پاس مادّی یا مالی سہولت نہ ہونے کی کی وجہ ہمارا معاشرہ ابتری کا شکار ہے؟ 

یہ سب وہ سوالات و اشکالات ہیں جو اپنی جگہ درست بھی ہیں اور اکثر جگہوں پر بے ترتیبی کا شکار بھی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ابتری کی طرف گامزن ہے۔

کیا اِس کا حل موجود نہیں ہے؟ یا اِس کا کوئی حل ہے؟ اور ہم اس پر عمل پیرا نہیں ہیں۔

یہ سوالات ہمیں خود سے پوچھنا ہے، خود ہی اس کا حل ڈھونڈنا ہے اور خود ہی اُس پر عمل پیرا ہونا ہے تب ہی ہماری مالی اور معاشرتی صورتِ حال بہتر ہونے والی ہے۔ ورنہ ابھی جس حال میں ہیں۔ اس سے بہتر صورتِ حال نہیں ہو سکتی۔ کیوں؟

کیوں کہ اس کی سب اہم وجہ ہے یقین اور اعتماد کی حد درجہ کمی۔ اور یہ کیوں ہوا؟

کسی بھی مقصد یا نشانہ کو پورا کرنے لیے اور حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اس نشانہ کو جاننا ضروری ہے اور اُس آلہ کو بھی سمجھنا ضروری ہے جس کے ذریعہ آپ وہاں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔  وہ ہے تعلیم، دوسرے نمبر پر اس تعلیم یا علم کا درست استعمال۔ تیسرے نمبر پر اللہ کی رضا۔ اگر ہمارے اندر اِن تینوں کا فقدان ہے تو ہم کبھی بھی اپنے نشانہ یا Goalکو حاصل نہیں کر سکتے۔

قرآن مجید کی اِس آیت میں مجموعی طور اِسی مقصد کو حاصل کرنے کی تعلیم اور رہنمائی کی گئی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ

(سورۃ التحریم؛ آیت ۶)

معاشرہ کو بہتر بنانے اور قائم رکھنے کے لیے سلسلے میں اہم موضوع کی نشاندہی اس آیت کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے

اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

اس آیت میں اپنے آپ کی اور اپنے اہل عیال کی حفاظت کرنے اور جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ غور کا پہلو یہ آتا ہے کہ بحیثیت ایمان والا؛ کیا ہم اس حکم کی بجا آوری کرتے ہیں؟

اگر ہمارا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے تو ہمیں وہ سارے اصول اپنانے ہوں گے، جسے اپنا کر انبیاء اور بزرگان دین نے شریعت کو فروغ دیا، اللہ کا پیغام لوگوں تک عام کیا۔ وہی کام آج بھی کرنا ہے۔ ظاہراً ہو بھی رہا ہے، لیکن جو سب سے بڑی کمی یقین اور اعتماد کی قائم ہو گئی ہے، اس نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا۔ یقین اور اعتماد کو اُس وقت ٹھیس پہنچا جب ہمارے اندر خودغرضی داخل ہوئی، خودغرضی آتے ہی مفت خوری دھوکہ دہی بڑھی، اور جب ان عملوں کا فروغ معاشرے میں ہو گیا تو ہمارے اندر سے مقصدیت اور اللہ کی رضا کی چاہت ختم ہونے لگی۔ آج ہم صرف پیدائشی اور نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔

یہ آخری جملہ بہت سخت ہے، اور کسی بھی مسلم کو اچھا محسوس نہیں ہوگا۔ لیکن حقیقت کے بہت قریب ہے۔ کیسے؟

ہم نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یہ چاروں عبادات کو بخیر و خوبی انجام دیتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ایک عمل توحید بھی ہے۔ یہ کس انسان کے اندر کتنا ہے، یہ وہی جانتا ہے۔ لیکن اللہ کے رسولﷺ کا پیغام کی روشنی اپنے آپ کو تولا جا سکتا ہے کہ ہماری اہمیت کیا ہے؟

عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ((المُسلِمُ مَن سَلِمَ المسلمون مِن لسانه ويده، والمُهاجِرُ مَن هجَرَ ما نهى الله عنه))؛ متفق عليه.

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

اگر ہم اپنے آپ کو اس حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو ننگے محسوس کرتے ہیں۔ ہم صرف مسلم گھرانہ میں پیدا ہوئے، والدین نے ختنہ کراکر مسلمان بنا دیا۔ باقی سب اعمال روایتی ہیں، جس کا شریعت سے دور دور تک واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔

اوّلِ روز سے ہی حالات میں بہتری اور بدتری ، آسانی اور پریشانی، تنگی اور فراوانی کا سلسلہ جاری ہے۔ جب حالات میں تنگی پیدا ہوئی تو مالداروں کی ضرورت مندوں کو مالی تعاون دیا، خوراک کی کمی ہوئی تو خوراک مہیا کیا۔ یا دیگر ضروریاتِ زندگی میں کسی طرح کی پریشانی یا تنگی آئی تو اُس میں تعاون کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ کئی قسم کی لاپرواہیاں اور بدنظمیاں بھی پیدا ہوئیں۔ کئی جگہوں پر اور قوموں میں ابتری اور برتری کا سلسلہ بھی شروع ہوا گیا۔ اور انسانیت کے ناطے تعاون کا جذبہ خودغرضی اور دبدبہ بنانے کے لیے کیا جانے لگا۔ یہی وہ مفت کا چلن مادّی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی غلامی کا سبب بنا۔ اِس وقت دوسری قوموں کے ساتھ ساتھ مسلم قوم بھی ذہنی غلامی کا شکار ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قوم مالی اعتبار سے کب کی خود کفیل ہو جاتی۔ یہاں تک مسلم قوم دوسری قوموں کو بھی خود کفیل بنانے میں اہل ہو جاتی۔ جیسا کہ دیگر مسلم ممالک سے آنے والے صدقات و زکوٰۃ کی رقم جو ہندوستان اور پڑوسی ملکوں میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس کے باوجود ہماری قوم دست سوال کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں؟ 

کیوں کہ ہماری قوم میں مالی بدنظمی عروج پر ہے۔ معاشرتی زندگی کے کسی بھی شعبہ پر نظر ڈالیں، خواہ و تعلیمی ادارہ ہو، خیراتی ادارہ ہو، تحقیقی یا تصنیفی ادارہ ہو، یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ بدنظمی سے پاک نہیں ہے۔ مدنی زندگی کی آخری سات آٹھ برس میں ہی ہماری قوم خود کفیل کیسے بن گئی تھی۔ اس کے بعد کے بھی حالات سے پتا چلتا ہے مسلم قوم کئی صدی تک مالی  طور پر اور دیگر میدانوں میں خود کفیل تھی۔ اور اب کی حالت یہ ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں اپنے آپ کو غریب، بے سروسامان، تعلیمی اعتبار سے پسماندہ، اور دیگر جو کار ہائے زندگی میں ہم سے زیادہ ناکارہ کسی دوسری قوم کا تعارف نہیں کرایا جاتا۔ مظلوم ہم، مسکین ہم، بے سہارا ہم، جاہل اور اَن پڑھ ہم۔ یہ سارے منفی علم اور سوچ بچپن سے ہمارے ذہن میں ڈالا گیا اور فروغ بھی دیا جاتا رہا۔ مسجد صرف عبادت کی جگہ رہ گئی۔ مدرسے دین کے قلعہ کے نام پر چندہ وصولنے اور اپنے مصرف میں استعمال کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ذمہ داران کے مزے ہوگئے اور ملازمین کے درمیان بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر خیراتی اداروں کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے نام پر چندہ لیا جاتا اور رمضان، عید کٹ بانٹ کر نمائش کر دی جاتی۔ 

کیا ہماری قوم میں ایسے لوگ ہیں جو یہ کہہ سکیں کہ ’’اب مجھے اِس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی اور ضرورت مند کو دے دیجیے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




 

Wednesday, December 10, 2025

مسلمانوں کی تربیتی پسماندگی-ذمہ دار کون؟

 مسلمانوں کی تربیتی پسماندگی-ذمہ دار کون؟


مدارسِ اسلامیہ کا تربیتی نظام اتنا بگڑ چکا ہے کہ اب سبزی بیچنے، قصائی بن جانے یا کپڑے کے مل میں نوکری کرنے ہی میں عافیت محسوس ہورہی ہے۔ ایکسرے اور دوائی کی پرچی دکھا کر بھیک مانگنا اور جلسے جلوس کرکے پریس ریلیز اور فوٹو دکھا کر چندہ مانگنے میں کتنا فرق رہ گیا ہے؟

آخر کب تک ہم مسجد اور مدرسوں کا چندہ لاٹری کے ٹکٹ کی طرح کرتے رہیں گے؟

کیا ہماری قوم اس مد میں اپنی آمدنی کا ایک فیصد بھی خرچ کرنے کی اہل نہیں ہے؟

یا 

مال اور اولاد کی خواہش نے انہیں دبوچ رکھا ہے؟


جو قوم مسجد کے امام کو تیس دن کے آٹھ ہزار روپے دے۔

قوال اور شاعر کو تیس منٹ کے پچاس ہزار روپے

تو اس قوم کا انجام کیا ہوگا؟

انجام تو سب کے سامنے ہی ہے نا!!! جو ہو رہا وہ بھی ٹھیک ہے، جو ہوگا وہ بھی ٹھیک ہی ہوگا۔


نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے والے نمازی کیلئے فرشتے کیا دُعا کرتے ہیں


سلام پھیرنے کے بعد نماز پوری ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد کی دعائیں وہیں پر بیٹھ کر پڑھنی چاہیے۔ لیکن جمعہ کی نماز سلام پھیرنے کے بعد دعا پڑھنی تو دور کی بات چندہ اور اعلانات میں گزرتا ہے۔ تو ایسی جگہ بیٹھ کر باقی دعائیں پڑھنے میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسجد یا مدرسہ کی پہلی ضرورت سلام پھیرنے کے بعد اعلانات اور چندہ ہی ہے۔ دوسری سب سے اہم بات کہ سلام پھیرنے کے بعد ٹوپی پھینک کر بھاگنے والی بات پر غور کیجیے۔ کہ کیوں بھاگتے ہیں۔ آج تک مجھے کوئی ایسی جامع مسجد نہیں ملی جہاں پانچ سے پندرہ منٹ دیر نہ لگائی گئی ہو۔ نماز اور اذان کا وقت مقرر ہے۔ پھر دیری کیوں؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جواز یہ پیش کرنا کہ نیکی کرنے کے لئے بیٹھے ہیں، کیوں؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اس زبردستی کے جواز اور دیری نے امت کو مسجد سے دور کیا ہے۔ اور علماء کرام سے بدظن۔ آپ وقت پر نماز پڑھائیے۔ وقت کا خیال کیجیے۔ سنت پر عمل پیرا بنئے اور تب ہی لوگ بن پائیں گے۔ ورنہ آپ کی ساری دلیلیں بے کار محض ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ائمہ صرف بزرگوں کے لئے نمازیں پڑھاتے ہیں، جنہیں فرصت ہے۔ جن پر اب کوئی ذمہ داری نہیں، یہ غلط توضیح نہ کیجے کہ روزی کمانا فرض نہیں ہے۔ نماز بھی فرض ہے، اس کے علاوہ دیگر کئی ضروریات فرض ہیں۔ ان الصلاۃ کانت علی المومنین کتابا موقوتا۔ اگر آپ وقت کا خیال نہیں کرتے ہیں تو ساری باتیں بے کار ہیں۔

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی ہو یا تربیتی پسماندگی -ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مسلم قوم تعلیمی پسماندگی کا شکار نہیں ہے، یہ اصل میں تربیتی پسماندگی کا شکار ہے۔ عملی پسماندگی کا شکار ہے۔ یہ قوم انانیت پسندی کا شکار ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کیوں کہ ہم نے قرآن کے احکام اور سنت کے طریقہ کو چھوڑا ہے، اس لئے ہم ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔ ہم ذہنی طور پر پسماندہ کیوں اور کیسے ہوئے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔حالانکہ ہمیں مالک حقیقی نے بہتر شکل و صورت، جسم و شباہت، ذہن و دماغ، ضروریاتِ زندگی وغیرہ سب کچھ فراہم کیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ  فَاَبَوَاہُ  یُہَوِّدَانِهٖ اَوْ یُنَصِّرَانِهٖ اَو یُمَجِّسَانِهٖ (بخاری ومسلم)

ہر بچہ فطرتِ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی و عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

یہاں فطرت سے مراد فطرت اسلام ہے۔ ظاہر ہے جو جس مذہب کا ہوگا وہ اپنے بچوں کی ویسی ہی تربیت کرے گا۔ ہمارے اکابرین اب دولت پرست اور عیش پرست ہو گئے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی اولاد کوبھی اُسی جانب رغبت دلاتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نسلیں صرف پیسہ پرست بنی ہیں۔ خود وہ لوگ جنہوں نے دین کے پھیلانے اور فروغ دینے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، اُن کی اکثریت کا بھی اوّلین نشانہ دولت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اُن اداروں کے فارغین بھی ویسا ہی چاہتے اور کرتے ہیں۔ یعنی ہماری زندگی پر سب سے بڑا اور پہلا اثر سوچ کا ہے۔ ہماری سوچ کا جو معیار ہوگا وہی ہماری ترقی یا پسماندگی کا سبب بنے گا۔

ہماری سوچ کا پہلا اثر ہمارے اخلاق و کردار پر ہوگا۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور تفصیل طلب ہے لیکن بے شمار مثالیں آپ معاشرے میں خود مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ غیر برابری کا رویہ رکھتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے جو اور جہاں سہولیات دستیاب نہیں ہیں، وہ اپنی جگہ ایک منفرد بحث ہے۔ وہ اپنے طریقے کے مطابق کرے گی جلد یا بدیر۔ لیکن جہاں اور جو سہولتیں ہمیں مہیا ہیں کیا ہم اُن کا صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں؟ آئے دن اخباروں میں مسلم علاقوں کی پسماندگی کی جو خبریں شائع ہوتی ہیں کیا اُس پریشانی کے لئے صرف حکومت ذمہ دار ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ذرا غور کریں مسلم علاقوں میں جو سرکاری اسکول موجود ہیں، کیا وہ حقیقی معنوں میں اسکول جیسے لگتے ہیں۔ ہم نے دہلی کے بہت سارے سرکاری اسکولوں کو دیکھا لیکن جو خالص مسلم علاقوں میں ہے وہاں جاکر آپ خود مشاہدہ کریں کہ اگر وہ اسکول کسی اہم سڑک یا گلی میں واقع ہے تو اس کی دیوار کے سہارے زمینوں پر عام لوگوں کا قبضہ ہے۔ یا تو گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہوگا یاریڑی پٹری پر دکانیں لگی ہوں گی۔ یہاں تک کہ جو صدر دروازہ ہوگا وہ بھی مختصراً چار یا پانچ فٹ چوڑا ہوگا، جو ڈھونڈنے کے بعد ملے گا۔ اگر گارجین کو ملنے جانا ہوتاہے تو وہ کن حالات سے گزرتا ہے یہ بتانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات اُن سے ہی پوچھ لیا جائے کہ تم پر کیا گزری؟ اور تم اسکول کا معیار کیسا چاہتے ہو؟ اسکول کی دیواروں کے سہارے غلط طریقے سے رہائش، پارکنگ، کوڑا کرکٹ ، ملبہ، قضائے حاجت کے لئے استعمال کرنا، کیا اسکول کے ماحول اور آب و ہوا پر اس کا اثر نہیں پڑے گا؟ کیا یہ اخلاقی معیار کو متأثر نہیں کرے گا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تعلیمی اداروں سے متعلق و علی ہذاالقیاس اس طرح کی بے شمار منفی مثالیں مل جائیں گی۔

اب آئیں دوسرے نمبر پر رفاہی ادارے۔ ہمارے یہاں رفاہی اداروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہم دہلی کے ایک ایسے علاقے سے روزانہ گزرتے ہیں جہاں ہر سو میٹر پر ایک رفاہی ادارہ رجسٹرڈ ہے۔ چند ایک کو میں نے جاننے کی کوشش کی، اندر جاکر دیکھا تو عجیب سی کسم پرسی کا عالم پایا۔ یہ ادارہ بیٹھے بٹھائے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے۔ ایک بار محنت کرنی پڑتی ہے پھر سلسلہ چل پڑتا ہے آمدنی کا۔ اس کا مصرف کیا ہے؟ وہ کس کے لئے رفاہ کا کام کرتے ہیں؟ اس کے لئے وہ سال کے دو تین مہینے ایسے ہیں جن میں لوگ جان جاتے ہیں کہ اس ادارے میں مسلمانوں کی فلاح کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ مثلاً رمضان، عید اور بقرعید یہ تین مہینے تو اُن کے لئے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے اور عوام سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان مہینوں میں یہ افطار کٹ، عیدی اور بقرعیدی کرکے وہ اچھا خاصا نام کما لیتے ہیں اور دولت مندوں سے اچھا خاصا تعاون زکوٰة و خیرات کے مد میں وصول ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ وصولیابی کا تو آپ کو پتا نہیں چلے گا ہاں خرچہ کا اندازہ آپ کو ان تینوں مواقع پر اخباروں اور انٹرنیٹ پر شائع شدہ خبروں، رپورٹوں اورتصاویر کے ذریعہ ہو جائے گا۔ کچھ مواقع اور ہیں جیسے سردیوں میں لحاف، کمبل، گرم کپڑے وغیرہ کے نام پر۔ اس کے علاوہ ناگہانی آفات جس کا ہمیں پتا نہیں ہوتا، یہ کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے لیکن بازآبادکاری کے نام پر چند دنوں کا سامان۔ خواہ سیلاب، آگ، پانی یا طوفان۔ آدھی سردی نکل جائے گی تو لحاف اور کمبل جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے اخباروں میں اشتہار دیئے جائیں گے۔ رمضان المبارک میں دھکم پیل افطار کٹ بانٹیں جائیں گے۔ اُن اشیاءکی تقسیم کے لئے عموماً ٹوکن بنائے جاتے ہیں، یہ ٹوکن زیادہ تر اُن اداروں میں کام کرنے والے کارندوں کے ہاتھوں تقسیم کرائے جاتے ہیں کہ بھائی فلاں دن فلاں جگہ یہ چیز تقسیم کی جائے گی، جاکر لے لینا، جو وہ زیادہ تر اپنے جاننے والے یا رشتہ داروں کو دیتے ہیں بلا لحاظ کہ وہ شخص واقعی اس چیز کو لینے کا مستحق ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔دوسرا اہم پہلو یہ کہ جن ناداروں کو اس طرح کی امداد دی جاتی ہے انہیں کیوں نہیں اہل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی قطار لگتی ہے اور انہیں جزوقتی کھانا کپڑا وغیرہ کا بندوبست کر دیا جاتا ہے جبکہ وہ پھر اپنی وہی پرانی حالت میں ہو جاتے ہیں۔ ضرورت مند ایسے بھی ہیں جن کے گارجین کی اتنی آمدنی نہیں کہ وہ اپنے ہونہار بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

شاید ہی کسی ادارے کے پاس یہ فہرست ہوگی کہ فلاں علاقے میں ادارہ یہ کام کر رہا ہے۔ اسے وہاں رہنے والے ضرورت مندوں کی صحیح تعداد کا علم ہے اور اس ادارے کے ذریعہ انہوں نے ایک سال میں یا ایک مقررہ مدت میں کتنے لوگوں کو مالی اعتبار سے خود کفیل بنایا؟ یا کتنے ضرورت مند طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کرکے اس لائق بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم قوم ہر جگہ سوالی کی طرح نظر آتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے دوست احباب اور ملنے ملانے والے یعنی ملاقاتی حضرات بھی ان مہینوں میں ہماری خیریت دریافت کرتے ہیں اور ساتھ میں افطار وغیرہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن پورے سال میں شاید ہی کبھی توفیق ہوتی ہوگی کہ وہ اُن کی خیریت یا صورتِ حال دریافت کرلیں کہ کیا واقعی ہمارا دوست یا پڑوسی کسی مسئلہ سے دوچار ہے؟ اور ہماری کسی تعاون کا مستحق ہے؟

جب کوئی ضرورت مند اُن رفاہی اداروں میں مالی امداد یا تعلیمی امداد کے لئے جاتا ہے تو اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اُس کا بہت غلط اور منفی نتیجہ میرے سامنے آیا، جو ناقابل بیان ہے۔ جب کہ کسی بھی قوم کے بچے کو تعلیمی اعتبار سے بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے ذہنی نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جبکہ ان کے رویہ سے یہ بچے اور اُن کے گارجین سخت مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی اپنی طاقت سے جینے کی صلاحیت میں بھی کمی آجاتی ہے۔ ایسے اداروں کی طرف سے جن ضرورت مند لوگوں کے ساتھ بھی منفی رویہ اختیار کیا گیا ہے یا جو لوگ بھی اُن اداروں سے بہتری کی امید لے کر جاتے ہیں اور ناامیدی ہاتھ آتی ہے، میرا مشورہ ہے کہ اُن کی مالی حیثیت جتنی بھی ہے اُسی میں کوشش کریں لیکن اپنی ذہنی صلاحیت کو ابتر ہونے سے بچا لیں، انشاءاللہ آپ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب و سرخرو ہوں گے۔

ابھی اسی ماہ ایک کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔ اِس موقع پر تعلیم کے ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنمنٹ کے ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کتاب مرتب کیا گیا۔

Year Book 2022, "Status of Muslim Dropouts in Comparative Perspective"

میں نے اس کتاب کے مرتب سے پوچھا کہ کیا ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے یا اہل طلباء کو ڈراپ آؤٹ سے بچانے کے لئے کوئی حل بھی پیش کیا ہے؟ تو جواب تھا ’’نہیں‘‘ طوالت کی وجہ ابھی چھوڑ دیا ہے، اگلے حصہ میں اسے پیش کیا جائے گا۔

عمومی طور پر یہ مسئلہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہمارے بچے اکثر درمیان میں تعلیم ترک کرکے کسی پیشہ سے جڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ معاشی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ماحول کے اثرات زیادہ دقت پیدا کرتے ہیں۔ جب تک ممکن ہوا خیراتی اداروں خواہ و سرکاری ہو یا غیر سرکاری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ان کے پاس پیسہ نہیں ہوتا تو وہ تعلیم ترک کے کسی نہ کسی پیشہ میں لگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ بلکہ مجبوراً کام کرناپڑتا ہے۔ 

لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ مالی پریشانی کی وجہ سے تعلیم ترک کرنے والے ننانوے فیصد مل جائیں گے، لیکن مالی پریشانی کی وجہ بری لتیں چھوڑنے والے شاید ہی ملیں۔ بری لتیں یا عادتیں یعنی تنباکو، گٹکھا، پان  وغیرہ کو ترک کرنے والے مجھے ابھی تک نہیں ملے۔ جواز یہ ہے کہ اِس میں خرچ ہی کیا آتا ہے؟ لیکن اپنے حلقے میںجتنے لوگوں کا سروے کیا اُن کے روز کا خرچ  دس روپے سے پچاس روپے تک کا ہے۔ اور وہ صرف عادت سے مجبور ہو کر کرتے ہیں۔ یہ عادتیں کیسے لگیں؟ یا لگتی ہیں یہ بھی ایک بحث طلب موضوع ہے۔

مسلمانوں میں تعلیم ترک کر دینے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اہل علم اور اہل ہنر کو اُن کے اداروں میں معقول معاوضہ ادا کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انٹرویو کے وقت جب اہل شخص مل جاتا ہے تو ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کم سے کم کتنی اجرت میں کام کر لیں گے؟ ایک بار جب میں نے اسی سوال کے جواب میں سوال کر دیا کہ آپ نے اس پوسٹ کے لئے کتنا معاوضہ مقرر کیا ہے؟ تو جواب یہ ملا کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے ضرورت مند ہیں؟ تو میں نے اپنی ضرورت کے مطابق بتایا کہ کم سے کم مجھے اتنا معاوضہ چاہئے اور میں جتنا کام جانتا ہوں اس کے مطابق اتنا (جو کہ پہلے والے سے بھی زیادہ تھا) تو انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو صرف اتنا دے سکتے ہیں جو میرے طلب کئے گئے معاوضہ کا نصف بھی نہیں تھا تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورت کے مطابق دیتے ہیں؟ جب کہ ان ہی کے کہنے کے مطابق نہ تو میرا معاوضہ میری اہلیت کی بنا پر دینے کو راضی ہوئے اور نہ ہی میری ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ تو ایسی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داران ہمیں مجبور کر کے ہمارا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔ 

حالانکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ کسی بھی میدان میں کام کا معیار اہلیت اور اس کے مطابق اس کا معاوضہ طے ہوتا ہے۔ کئی صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے بھی تعلیمی اعتبارسے ایک دن کا کم سے کم معاوضہ متعین کر دیا ہے۔ جب کہ آج بھی ان اداروں میں کام کرنے والوں کو آدھا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اُن رفاہی اداروں کے بارے میں عام رائے یہی بنے گی کہ اُن کے ذمہ داران اسے اپنی مالیت سمجھتے ہیں اور اس کا استعمال اسلامی طریقے پر نہ کر کے اپنے خود ساختہ طریقوں پر کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قوم کا جاہل اور مجبور طبقہ ہمیشہ ہی جاہل اور مجبور ہی رہتا ہے کیوں کہ اسے مجبوری سے نکالنے اور جہالت سے علم کی طرف لے جانے والی اصل مشینری ہی ناکارہ ہے۔

چند فیصد جو یونیورسٹی کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں وہ بھی صرف نام اور شیخی بگھارنے کی حد تک۔ تعلیمی اعتبار سے اب پی ایچ ڈی کی ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے کہ اُن میں بہتوں کا اپنے مضمون سے ایک فیصد کا بھی تعلق نہیں ہوتالہٰذا ایسے ٹیچر، لیکچرر، ڈاکٹر یا پروفیسرکتابوں کا بوجھ تو دنیا کو دے جاتے ہیں جو کہ 

”محقق بود نہ دانشمند-چارپائے بروکتابے چند“ 

کی مثال بنتے ہیں۔ 

اہل علم نے مسلمان اور اسلام کی الگ الگ تشریحات کی ہیں۔ قرآن و احادیث سے بھی ان کی دو مختلف تشریحات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ لیکن یہاں اتنی لمبی تشریح کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اسلام وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عرش عظیم سے سیّدالانبیاءمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔ یہ وحی آج دو صورتوں میں ہمارے پاس موجود ہے۔ (۱) قرآن مجید(۲) صحیح حدیث۔ مختصراً یہ کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے“ جس کا الہامی پیغام قرآن مجید کی صورت میں موجود ہے۔ اسلام کی تکمیل کا ثبوت قرآن مجید کی آخری آیت ” الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا “ (سورة المائدة۵، آیت۳) [آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمتوں کا اتمام کر دیا اور تمہارے لئے بطور ”دین“ اسلام کو پسند کیا] سے ملتا ہے۔ سب سے بہتر اسوہ یا طریقہ اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خود قرآن مجید نے اعلان کیا ہے ” وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى “ (سورة النجم ۳ ۵، آیت ۲-۳) [وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کہتے وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اُن کو بذریعہ وحی بتا دی جاتی ہے] اس روئے زمین پر بسنے والے وہ انسان جو قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہیں یا یہ کہ جو اللہ اور رسول کو مانتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔

تعلیمی پسماندگی کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔چند ایک یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلی وجہ انتشار۔ عقیدہ، سوچ۔ تعلیم، گھریلو، علاقائی، ذاتی، زبان وغیرہ۔ منفی سوچ اور انتشار ہی ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلم قوم کے طبقہ کا اتحاد ہے۔ سب سے پہلے تو یہاں کی مسلم قوم ملّی انتشار کا شکار ہے۔ ۔۔۔ انہوں نے ملت کی خیرخواہی اور بھلائی کے نام پر ہزاروں تنظیمیں، کونسل اور جماعتیں بنا رکھی ہے۔ ہر تنظیم کے روح رواں اور ان کے کچھ خاص لوگ تنظیم چلانے کے نام پر قوم سے چندہ وصول کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی بھلائی کے نام پر اپنے لوگوں کی بھلائی کا کام زیادہ کرتے ہیں۔ گویا ایک طرح سے یہ سب تنظیمیں قائم مذہب اسلام کے نام پر ہوئی ہیں۔ انسانیت کی بھلائی کے نام پر ہوئی ہیں۔ اور ہر روح رواں کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ ملت کی صحیح سمت رہنمائی کرنے کا کام انجام دیتے ہیں لیکن یہ اُن کا دعویٰ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اصلیت سے اس کا تعلق بہت کم ہوتا ہے۔ اُسے آٹے میں نمک کے براہ کہا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ درگاہیں اور خانقاہیں پہلے آمدنی کے لئے زیادہ بٹتی تھیں۔ اب مدارس و مساجد یہاں تک کہ منبر و محراب تک تقسیم ہو رہی ہیں۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق جس کا جہاں قبضہ ہو گیا نسل در نسل اماموں، مجاروں اور رہنماؤں کا دور چل رہا ہے۔ ۔ ۔ ٹرسٹ اب ذاتی ملکیت کا درجہ پانے لگا ہے۔ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تو نئے ٹرسٹی اور جانشین اپنے بیٹے کو سونپ دیتا ہے۔ ۔ ۔ اگر ان کے کئی بیٹے ہوئے تو آپس میں دھینگا مشتی ہوتی ہے۔ بالآخر وہ قابض ہو جاتا ہے جو طاقتور یا مضبوط ہوتا ہے۔ بلکہ آج کی زبان میں دبنگ ہوتا ہے۔ تقریباً اسی قسم کی صورت حال تعلیمی اداروں میں بھی ہے، خواہ چھوٹے ہو یا بڑے۔ محلوں کی مسجدوں ، عیدگاہوں، قبرستانوں وغیرہ کے نام پر بھی ہو رہا ہے۔ نتیجہ آپ خود نکالیے جب مسلم قوم کی اقل اکثریت کا یہ حال ہو تو باقی مسلمانوں کا کیا حال ہو سکتا ہے؟

آزادئ ہند کے بعد تعلیم یافتہ حلقوں میں یہ امر بار بار سر اٹھا رہا ہے کہ مسلمانوں کا اپنا کوئی میڈیا پاور نہیں ہے جو حکومت پر اپنا اثر ڈال سکے اور اس کے لئے انگریزی کا اخبار ہونا بہت ضروری ہے۔ گزشتہ پچھتّر برسوں میں کئی بار یہ ایشو بن کر ابھرا، کانفرنسیں ہوئیں۔ لیکن آج تک مسلمانوں کا کوئی انگریزی اخبار اس قابل نہیں نکل سکا جو مؤثر ہو۔ یہاں تک کہ جو مؤثر اردو میڈیا تھا وہ بھی اب مہاجنوں (کارپوریٹ سیکٹرمیں)کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ گذشتہ ایک دہائی میں جتنے بھی اردو کے نئے اخبارات شروع ہوئے یا اخباروں کے ایڈیشن بڑھے وہ صرف تجارتی حد تک ہی محدود ہیں۔ اس سے نہ تو اردو زبان کے فروغ میں کوئی خاص پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے اپنے تشخص کو بہتر بنانے میں کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہاں چند اردو کے صحافیوں کو ملازمت ضرور مل گئی ہے۔

قیادت کی بھی صورت حال بہتر نہیں کہی جاسکتی۔ قائدین کی تو کمی نہیں ہے، لیکن صحیح سمت اور اور قائدانہ صلاحیت کی بیحد حد کمی ہے۔ ہمارے زیادہ تر قائد موقع پرست اور زر پرست ہیں۔ یہ قطعی اپنے قوم کے بارے میں خیال نہیں کرتے کہ وہ قوم کو کس طرح بھروسہ میں لے کر رہبری حاصل کرتے ہیں اور کس طرح چند پیسوں کی خاطر قوم کی عزت و ناموس کا سودا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہماری اپنی کوئی ایسی سیاسی پارٹی بھی قوم کے لئے مفید ثابت نہ ہو سکی۔ چہ جائیکہ ہم آبادی کے لحاظ سے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں، اپنی بات منوا سکیں اور اپنا حصہ حاصل کر سکیں۔ کچھ مسلم ممبر پارلیمنٹ اپنے حق کی آواز بلند کرنا بھی چاہتے ہیں تو ہمارے ہی قوم کی غلطیوں اور موقع پرستانہ ذہنیت کا حوالہ دے کر اُنہیں خاموش کر دیا جاتا ہے ۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہماری قوم بکھری ہوئی ہے۔ ہماری اِس انتشار کا فائدہ دوسری قومیں بآسانی اٹھاتی ہیں۔ جب بات میں دم اور جسم میں خم ہو توچاہے جس زبان میں اپنی بات کہی  جائے، اسے منوایا جا سکتا ہے۔۔۔ دنیا کی بہت ساری قومیں ہیں جو اپنی مادری زبان اور ایک بین الاقوامی زبان سے کام چلا رہی ہے اور عزت کی زندگی جی رہی ہے۔ لیکن ایک ہندوستانی مسلمان ہے کہ کم از کم تین زبان جاننے کے بعد بھی اپنی بات یا مافی الضمیر اپنے مخاطب کو نہیں سمجھا پارہا ہے؟ اردو زبان دنیا کے اکثر گوشے میں پھیل چکی ہے لیکن اُس کی حدیں صرف لطیفہ گوئی تک ہی محدود ہے۔ دسیوں ممالک کی درجنوں یونیورسٹیوں میں اس زبان کے پڑھانے والے موجود ہیں۔ دوسری قوموں کو خوب اردو پڑھائی جارہی ہے۔ پھر بھی ہندوستانی اردو والے اور مسلمانوں کی کیا حیثیت اور وقعت ہے؟ اس بات کا تجربہ ہمارے مفکرین کو بخوبی ہے۔

مسلم قوم کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنا موازنہ غلط طریقہ سے کرتے ہیں۔ اپنا وزن کرنے کے لئے ایسی چیزوں اور اعمال کو باٹ کے دوسرے پلڑے میں رکھتے ہیں جو ہماری شریعت سے ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارا وزن بھی غلط ہوتا ہے۔ مثلاً پچھتّر سال پہلے مسلمانوں میں بھی تعلیمی اداروں اور اکیڈمک تعلیمی رُجحان کی کمی تھی اور اب جب کہ جس قدر تعلیمی اداروں میں اضافہ ہوا ہے اسی قدر اکیڈمک تعلیمی رُجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ معیار میں گرچہ گراوٹ ہے لیکن موازنہ ہندوستان کے سرمایہ دارانہ اکیڈمک اداروں کا کیا جاتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نئی نسل مادّیت پرست بنتی جارہی ہے۔ اُس کا رُجحان ایسا بنتا جارہا ہے کہ زیادہ مہنگے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا مطلب زیادہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بلکہ یقین۔ نتیجہ عیش پرستی، بے راہ روی، آرام طلبی وغیرہ۔ اِن تینوں رُجحان رکھنے والے اکثر لوگ بزدل پائے گئے ہیں۔

محاسبہ نہ ہم اپنا کرتے ہیں اور نہ ہمیں یوم ِحساب کا خوف و احساس ہے۔ جس کو جو جی میں آیا کہہ رہا ہے اور کر گزر رہا ہے۔ اگر مال اور علم کے اعتبار سے مسلمانوں کا موازنہ کیا جائے تو تین طبقہ وجود میں آئے گا۔ سب سے پہلا اور خاص طبقہ وہ ہے جو اپنے آپ کو زیادہ پڑھا لکھا اور لبرل سمجھتا ہے، عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے دوسرا وہ جو پڑھے لکھے سمجھدار، خوددار اور محنتی ہیں وہ پہلے طبقہ کا دست نگر بنے رہنے ہوئے ہیں۔ بدعنوانی اور استحصال وہ دیکھتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ تیسرا وہ طبقہ ہے جو بہت ہی کسم پرسی کی زندگی جی رہا ہے۔ اُس طبقہ کے بیشتر لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو کیسے؟ کیوں کر؟ اور اُن کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہماری قوم کا رہن سہن کوئی انفرادی نہیں ہے سب یہاں کی دوسری قوموں سے صد فیصد مشابہ ہے۔

آخری بات یا پہلی بات یعنی زندگی کے رہنما اصول قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ ہمیں اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے اُسے ہی اپنانا ہوگا۔ تبھی ہم سماج میں محترم اور معزز بن سکتے ہیں۔  اپنی انا کو ہر حال میں قربان کرنا پڑے گا۔ خود ساختہ اصولوں کوبہر حال پھینکنا ہوگا۔  تب کہیں ہمارے اندر ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ میرے اِن خیالات اور تجربات سے غیر متفق ہوں لیکن حقیقت سے بہت قریب ہے۔

ختم شد

            فیروزہاشمی

۱۱؍ مارچ ۲۰۲۳ء

مصنف ؛ایڈیٹر، نئی شناخت، نئی دہلی اور ہیلتھ کنسلٹنٹ ہیں۔

اپنی رائے اور مشورے کے لئے واٹس ایپ یا ای میل پر رابطہ کریں۔

firozhashmi@gmail.com, 9811742537


Saturday, October 11, 2025

ہماری ذلت و رسوائی کے اسباب و تدارک

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(136) النساء

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ) ایمان رکھو اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا۔

اِس آیت کی روشنی میں غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ہم جب تک مکمل طریقے سے اللہ اور رسول کے فرمان اور سنت کو نہ اپنائیں گے تب تک عزت کی زندگی نہیں جی سکتے۔

{اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ اللہ اور اس کے رسول پرایمان رکھو۔} یہاں اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اٰمِنُوْا‘‘ ’’ایمان لاؤ‘‘ اگر یہ خطاب حقیقی مسلمانوں کو ہے تو اس کا معنیٰ ہوگا کہ ایمان پر ثابت قدم رہو۔ اور اگر یہ خطاب یہود و نصاریٰ سے ہو تو معنیٰ یہ ہوں گے کہ اے بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لانے والو! تم مکمل ایمان لاؤ یعنی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر جن میں قرآن اور مُحمَّدبھی داخل ہیں۔ اور اگر یہ خطاب منافقین سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اے ایمان کا ظاہری دعویٰ کرنے والو! اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ۔ یہاں جو فرمایا گیا کہ رسول اور کتاب پر ایمان لاؤ تو رسول سے سیدالانبیاء ﷺ اور کتاب سے قرآنِ پاک مراد ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ اہلِ ایمان کا لفظ حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے موجودہ زمانے میں صرف مسلمانوں پر بولا جاسکتا ہے، کسی اور مذہب والے پر خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی اس لفظ کو نہیں بول سکتے۔ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اور اس کے رسول، مُحمَّدپر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب اور رسول پر ایمان لاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے مگر عمل صرف قرآن شریف پر ہی ہوگا۔ ان کتابوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ وحدہٗ لاشریک کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں۔

یہاں واضح طور پر حکم دیا گیا کہ اے ایمان کے دعویداروں! اپنی دعویداری میں اگر سچے ہو تو احکامِ الٰہی پر عمل پیرا ہو جاؤ۔ اب خود اپنا محاسبہ کریں؛

کیا دعویداری کے مطابق ہمارا عمل ہے؟

کیا ہم وقت پر صلوٰۃ ادا کرتے ہیں؟ جیسا حکم دیا گیا ہے اورجیسے سکھایا گیا ہے؟

کیا ہم صوم کا اہتمام ویسے ہی کرتے ہیں؟ جس سے اُس کے مقاصد پورے ہوں؟

کیا ہم وقت پر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؟ اور اُس کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں؟

کیا ہم حج ویسے ہی ادا کرتے ہیں؟ جیسا حکم دیا گیا ہے اور جو اُس کے مقاصد ہیں؟ 

نوے فیصد سے زائد اسلام کے دعویداروں کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوگا۔

تو پھر ہم عالمی پیمانے پر جو گفتگو گلی محلے کے تیراہے ، چوراہے پر کرتے رہتے ہیں، اُس سے کس کا فائدہ ہوگا؟ یا کس کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اِس پر کسے غور کرنا چاہیے؟

کیا ’’آئی لو محمدﷺ‘‘ کا ٹیگ سینے پر لگا کر یا ہاتھوں میں بینر اٹھا کر محبت رسول ﷺ کا حق ادا ہو جائے گا؟ بالکل نہیں۔ یہ صرف دکھاوا ہے۔ نمائش ہے۔ اظہارِ دل و دماغ بھی نہیں ہے۔ ہم صرف نعرے اور احتجاج محبت رسول ﷺ کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو حضور ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنے اعمال کو سنت کے مطابق کریں۔

کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اِس میں ’’غلط‘‘ کیا ہے؟

میرا پوچھنا ہے کہ اِس میں ’’صحیح‘‘ کیا ہے؟

اگر واقعی مُحمَّد سے محبت ہے تومصیبت کی گھڑی میں ویسے ہی آپ بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں جیسا کہ نبوت کےساتویں برس سے دسویں برس تقریباً دس برس تک ابی طالب کے گھاٹی میں گزارا کیا۔ تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیے۔

اگر آپ واقعی محبت رسولﷺ کے دعویدار ہیں تو اپنے دعویٰ کو اُن کے اخلاق سے مزین کرکے دنیا کے سامنے دکھائیں کہ ہاں مُحمَّد کے ماننے والے اصول پسند ہوتے ہیں۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرتے جس سے انسانیت کو تکلیف پہنچے۔ 

"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده"

وہ سچ مچ اِس حدیث رسول کے مصداق پر قائم ہیں۔

لیکن نہیں   … …

اگر ہم وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اُس کا استعمال کیا ہوتا تو ہمارا شمار ایک محترم اور معظم قوم میں ہوتا؛ ہم ایک صحت مند معاشرہ کے فرد ہوتے۔ ہم ایک باوقار انسان کی حیثیت سے معاشرہ میں زندگی گزارتے۔ ہم باوقار طریقے سے مساجد میں صلوٰۃ کے لیے جمع ہوتے۔  لیکن نہیں، جوانی جیسے تیسے۔ بڑھاپے میں مسجد کی دوڑ اور نوجوانوں پر بلا وجہ اپنی نصیحتیں تھوپتے اور اُکساتے اور جذباتے بناتے نظر آتے ہیں۔

اگر ہم درست طریقے سے صوم کا اہتمام کرتے تو ہم میں ہر دسواں فرد اسپتال کے چکر لگانے والے نہ بنتے۔ بہت سے لوگ تو ایک کے ساتھ دو فری جا رہے ہیں؛ اور انہیں احساس تک نہیں ہو رہا ہے کہ انہوں نے جو کمایا تھا وہ اب کہاں جا رہا ہے؟ کس کے لیے کمایا تھا؟ اور جا کہاں رہا ہے؟ صوم کا درست اہتمام کرنے والے افراد صحت، دل، دماغ اور معاشرہ سب کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ہم نے فریضہ زکوٰۃ ادا کیا ہوتا اور مستحقین تک پہنچا دیا ہوتا تو ہماری قوم میں کوئی بھی زکوٰۃ لینے والا موجود نہیں ہوتا۔ لیکن ہماری شہرت در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے اور ہاتھ پھیلانے والے میں ہو رہی ہے۔ جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مساجد و عیدگاہ کے باہر بھیک مانگنے والے نوے فیصد غیرمسلم ہی ہوتے ہیں۔  اور ہمارے لوگ بیٹیوں کی شادی کے لیے چندہ مانگتے ہوئے ملتے ہیں یا مسجد و مدرسہ کی عمارت کے لیے چندہ کرنے والے ملتے ہیں۔ آخر کیوں؟؟؟ 

ترک سنت، غلط رواج اور نمائش نے اِس قوم کا مالی نظام درہم برہم کر چکا ہے۔ بیٹیوں کی شادی کے لیے چندہ چاہیے، بیٹے قرض چکاتے ہوئے ناکارہ یا بوڑھے ہو رہے ہیں۔ اور جن بیٹیوں والوں نے چندہ کرکے داماد حاصل کیے تھے، اُن کی بھی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دکھائی دیتی۔ مسجد و مدرسہ کی عمارت کے لیے دور دراز سے چندہ اکٹھا کرنا کون سا سنت طریقہ ہے؟ جب آپ کو گھر کی تنگی پڑتی ہے تو اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بناتے ہیں تو پھر محلّہ یا گاؤں کی مسجد اپنی وسعت اور ضرورت کے مطابق کیوں نہیں بنا سکتے؟

اب رہی بات ’’حج‘‘ کی تو یہ پیسے والوں کی روحانی پکنک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کیوں کہ یہ تو زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے، باقی تو سب نمائش ہے۔ کیوں کہ بقیہ مال سے آپ اپنے ضرورت مند رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی معاشی حالت تو بہتر بنا ہی سکتے ہیں اور اُتنا ہی اجر پا سکتے ہیں۔ اگر حاجی کہلانے کا شوق ہے تو وہ تو ایک بار ہی میں پورا ہو جاتا ہے۔ ویسے ہمارے یہاں ہی حاجی کہلانے کا شوق پایا جاتا ہے۔ اور احساس ہوتا ہے کہ اب معاشرہ میں ہماری بھی کوئی حیثیت ہو چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل پیرا فرمائے۔ نمائش سے بچائے۔ آمین


Thursday, September 4, 2025

اردو زبان کی تدریس کو درپیش مسائل

 ’’اردو زبان کی تدریس کو درپیش مسائل‘‘ 


یہ جملہ سنتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’اردو‘‘ ایک مسکین زبان ہے۔ جس کے نہ چاہنے والے ہیں اور نہ فروغ دینے والے۔ سوائے اِس کے کہ اپنی شہرت کی تمنا لیے اس کی آغوش میں جاتے ہیں اور شعر و شاعری اور نثر کے ذریعہ دنیا کو یہ دکھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ’’اردو‘‘ اگر زندہ ہے تو اُن کی وجہ سے ورنہ یہ کب کی مر چکی ہوتی۔ حالاں کہ ہندوستان میں تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ یہ زبان معدوم ہو جائے گی۔ بولنے اور سننے کے ساتھ ہی لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ، رہے گا اور فروغ بھی پائے گا۔

گزشتہ دنوں اِسی عنوان کے تحت ایک گفتگو کا پروگرام منعقد کیا گیا جس میں دہلی کے مختلف اداروں میں تعلیمی اور تدریسی خدمات انجام دے رہے اعلیٰ درجہ کے اساتذہ کرام نے اپنا تجرباتی تجزیہ پیش کیا۔  اگر اُن کی گفتگو کے مدعے کی بنیاد پر تجزیہ پیش کیا جائے تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔لہٰذا مختصراً عرض ہے

مسائل کے تعلق سے اکثر وہی پرانی باتیں بیان کی گئیں، جسے میں گزشتہ پینتیس برسوں سے سن رہا ہوں۔ اردو زبان کا رونا رویا گیا۔ لیکن دوسری طرف ایک اہم سوال یہ ہے کہ جتنے بھی اردو زبان کے فروغ کے ادارے ہیں، کیا وہ حقیقت میں زبان کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں؟ حکومت ہند کے تحت زبان کو فروغ دینے کا ادارہ قائم ہے، وہ بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے کتابیں شائع کرنے اور فروخت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اور اب تو مشاعرے بھی منعقد کرنے لگا ہے۔ کئی دہائیوں سے زبان کے موضوع پر کوئی کام نہیں ہوا۔ ہر جگہ صرف ادب اور شاعری کی بات کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شعیب رضاخان ڈائرکٹر این آئی او ایس نے اردو میں کتابوں کی دستیابی اور اردو اخبارات کے بارے میں اظہارِ خیال کیا۔ اور اردو اخبار خریدنے کے تعلق سے بیگم کے سوال کے جواب میں اظہار کیا کہ ’’اردو ہماری زبان ہے۔ اگر ہم اردو اخبار نہیں خریدیں گے تو کون خریدے گا؟‘‘

پروفیسر محمد کاظم نےجہاں اردو کے اشاعتی اداروں اور سہولیات کے بارے میں گفتگو کی وہیں دوسری طرف یہ بھی کہا کہ جب گوگل اور دوسرے ایپلی کیشنز میںsuggestionکی سہولت موجود ہے تو ’’اِن پیج‘‘ میں کیوں نہیں؟ گفتگو مکمل ہونے کے بعد سوال کے سیشن میں راقم نے بتایا کہ ’’ان پیج‘‘ کے موجودہ ورزن میں یہ سہولت موجود ہے۔ لوگ نہ تو اَپ ڈیٹ کرتے ہیں اور نہ ہی رجسٹرڈ ایپلی کیشن استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ تک یہ اہم معلومات نہیں پہنچ پائی۔ آج ہمارے ہاتھ میں دس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک کا موبائیل ہینڈ سیٹ موجود ہے۔ روزانہ چھ سے دس روپے انٹرنیٹ کے لیے بھی خرچ کرتے ہیں، لیکن کیا ’’ان پیج‘‘ استعمال کرنے کے لیے پانچ روپے روز کا خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اس کا جواب یا تو خاموشی ہے یا یہ کہ ہم کیوں خرچ کریں؟ جب کہ ہمیں آسانی سے کاپی شدہ مل جاتا ہے۔ افسوس کا پہلو یہ ہے کہ نئی تکنیک کی جب بات آتی ہے تو (AI)اے آئی ٹیکنالوجی اور چیٹ جی پی ٹی کو بطورِ تبرک پیش کردیا جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی وضاحت کسی مجلس میں سننے کو نہیں ملی۔ ٹھیک اُسی طرح اردو اخبارات کے سلسلے میں کہ ’’اردو ہماری زبان ہے۔ اگر ہم اردو اخبار نہیں خریدیں گے تو کون خریدے گا؟‘‘ 

تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا اردو اخبارات کا معیار اَب اس قابل ہے کہ ہم اسے اپنی میز پر سجائیں؟ کیا ہمارے بچے اُردو پڑھتے ہیں اور دلچسپی ہے؟ اس کا جواب مایوس کن ہے۔ تجربہ اور تجزیہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اردوزبان و ادب بولنے اور سننے میں تو رائج ہے لیکن لکھنے اور پڑھنے کا رواج کم ہوتاجا رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کتابیں اغلاط سے پُر ہونے کے ساتھ ہی اس کی تحریر اور طرزِ تحریر میں معیار کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ثبوت کے لیے این سی ای آر ٹی  کی ’’اپنی زبان‘‘  درجہ ہشتم، شوکت تھانوی کی نظم ’’خوابِ آزادی ‘‘ میں صفحہ ۸۷ پر ’’فرزند‘‘ کے معنی ’’سزا کے لایق ‘‘ لکھا گیا ہے۔ اور افسوس تو یہ کہ ٹیچر نے پڑھایا بھی یہی۔ کیوں کہ طالب علم بھی یہی ترجمہ میرے سامنے کر رہا ہے۔ بہر حال، اِس غلطی کی اطلاع این سی ای آر ٹی تک پہنچا دی۔ اب وہ اگلی اشاعت میں ہی درست ہو سکے گی۔  لیکن ٹیچر کیوں وہی پڑھا رہا ہے، جو اُس میں لکھا ہے۔؟ اُس کی اپنی بھی تو کوئی لیاقت ہوگی ہی!!! اخبارات، رسائل اور کتابیں، کس عمر اور لیاقت کے قاری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے؛ قطعی خیال نہیں رکھا جاتا۔ بچوں کے قاعدے تک کو مختلف پبلشروں نے مختلف طریقے سے شائع کیا ہے تو اسے پڑھنے والے بچوں کی استعداد لکھنے اور پڑھنے میں بھی اُسی طرح غیر معیاری ہوگا۔ اور اُن کے پاس دلیل ہوگی کہ کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے۔ میرے پاس غیرمعیاری بچوں کی کتابوں کے سلسلے میں کئی ثبوت موجود ہیں۔ ویسے بہتر کرنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے، چند خطاط باقی ہیں، اور کمپیوٹر خطاطی جاننے والے بھی موجود ہیں، اُن سے مدد لے کر کتابوں کی تیاری کے طور طریقے کو سیکھا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ ملک کے ہر صوبے میں کوئی نہ کوئی ادارہ اور ماہرینِ فن موجود ہیں۔ ہاں دقت یہ ہے کہ آپ اُن سے جو کام لیں گے، اُس کا معقول معاوضہ دینے میں آپ کو تکلیف ہوگی۔ اور سرکاری ادارے میں تو یہ کئی کئی برس لگ جاتے ہیں اور مختلف پیرامیٹر سے گزر کر یہ کام ہوتا ہے۔ اس لیے ان دو کمیوں کو پہلے دور کرنا پڑے گا۔ ایک ہی کام کے لیے ایک ہی ادارہ میں زبان کے کام کے تعلق مختلف پیرامیٹر ہے۔ آخر یہ اتنا بڑا فرق کیوں؟  اِسی لیے میں نے ابتدا اردو کو مسکین زبان کہا ہے۔ 

اگر اشاعتی اداروں نے اِس پر فی الفور توجہ نہ کی تو پھر تکنیک کے میدان میں AI اور ChatGPT کا حوالہ دے کر مجلسیں لوٹتے رہیے اور اردو زبان کا دُکھ مناتے رہیے۔ اردو صحافت کے میدان کے لیے بس ایک بنگلور کا نشیمن یاد ہے، اسی کے حوالے سے بازی جیت لیجیے اور خوش رہیے۔ اخبارات کے معیار میں اگر بہتری نہیں آئی تو دن بدن اس کے قاری کم ہوتے رہیں گے۔ ابھی گزشتہ دنوں کی بات ہے۔ ایک مضمون ’’طب یونانی ➖کیوں مقبول نہیں؟‘‘ دہلی کے ایک مؤقر اخبار کو بھیجا۔ انہوں نے صفحہ بھرنے کے لیے شامل کر لیا اور آخر کے تقریباً چھ سو الفاظ چھوڑ دیئے۔ جس کی وجہ سے مضمون کی معنویت جاتی رہی۔ ان سب کے علاوہ بھی کئی قسم کی عمومی غلطیاں اخبارات و رسائل اور کتابوں میں ہو رہی ہیں، جس پر توجہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں اردو زبان کے تعلق سے کیا حالات ہو سکتے ہیںیہ تو زبان و تدریس کے ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن حالات تو خراب ہو رہے ہیں اور اُس کے ذمہ دار ہر حال میں اُردو والے ہی ہیں، نہ کہ حکومت۔ 

آج اگر میں یہ مضمون لکھوں؟ کہ ’’اردو زبان لکھنے پڑھنے میں کیوں مقبول نہیں‘‘ تو بہتوں کو یہ سرخی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ اور جو اسباب میں بیان کروں اور یاد دہانی کراؤں تو اُس جانب توجہ دینے کو کوئی بھی ادارہ تیار نہیں۔ کیوں کہ انفرادی طور پر بھی کئی اداروں کو میں لکھ چکا ہوں۔اور جب بات کرنے کی کوشش کی تو سب کے تقریباً ایک سا جواب رہا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اردو کا قاعدہ انجمن حمایت اسلام لاہور کا عکسی ایڈیشن آپ برسوں سے شائع کر رہے ہیں۔ کاپی رائٹ ہمارے یہاں کوئی معیار نہیں ہے۔ توپھر اب اس کو ری کمپوز کراکے کیوں شائع کر رہے ہیں؟ کمپیوٹر سے بچوں کی کتابیں ری کمپوز کرنے پر جو حرکات و سکنات خوشنویسی میں استعمال کیے گئے تھے وہ نہیں آ پاتے۔ لہٰذا ایسی کتابیں بچوں کو پڑھنے میں دقت ہوتی ہے۔ اور ہر صوبہ میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کئی کئی قاعدہ شائع کیے جا رہے ہیں۔ جب کہ حرکات استعمال کرنے کے جو طریقے اِن پیج والوں نے بتائے ہیں، اُس پر عمل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کمپوزر اور پبلشر اِس قابل ہو سکے ہیں کہ اُسی طرح کتاب کی تیاری کرا سکیں جس طرح پہلے شائع ہو چکا ہے۔ تبدیلی کا مطلب بہتری کے ہوتا ہے نا کہ بدتری۔  اسی طرح تنقید کے مطلب بہتری کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے نا کہ کسی کی تنقیص کرنا۔

ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کس اخبار کے کتنے ایڈیشن کیسے کیسے شائع ہوتے ہیں اور کتنی تعداد میں لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ کس کس اداروں کی کتابیں کیسے شائع ہوتی ہیں، کتنا عرصہ صرف کیا جاتا ہے؟ کس قابل لوگ کام کرتے ہیں، اور بازار میں کتاب کے آنے تک اُن کی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔ اشاعت اور دلچسپی میں کمی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ اگر یہ سب کام وقت پر اور معیاری افراد کے ذریعہ کرایا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ہمارا تدریسی نظام و عمل اور معاشرہ بہتر نہ ہو سکے۔

محمد فیروزعالم


Friday, August 22, 2025

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی-ذمہ دار کون؟

 مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی-ذمہ دار کون؟


مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی-ذمہ دار ہم؟ کیوں کہ ہم ذہنی طور پر پسماندہ ہیں۔ ہم ذہنی طور پر پسماندہ کیوں اور کیسے ہوئے؟ حالانکہ ہمیں مالک حقیقی نے بہتر شکل و صورت، جسم و شباہت، ذہن و دماغ، ضروریاتِ زندگی وغیرہ سب کچھ فراہم کیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ  فَاَبَوَاہُ  یُہَوِّدَانِهٖ اَوْ یُنَصِّرَانِهٖ اَو یُمَجِّسَانِهٖ (بخاری ومسلم)

ہر بچہ فطرتِ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی و عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

یہاں فطرت سے مراد فطرت اسلام ہے۔ ظاہر ہے جو جس مذہب کا ہوگا وہ اپنے بچوں کو ویسی ہی تربیت کرے گا۔ ہمارے اکابرین اب دولت پرست اور عیش پرست ہو گئے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی اولاد کوبھی اُسی جانب رغبت دلاتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نسلیں صرف پیسہ پرست بنی ہیں۔ خود وہ لوگ جنہوں نے دین کے پھیلانے اور فروغ دینے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، اُن کی اکثریت کا بھی دولت حاصل کرنا اوّلین نشانہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے اُن اداروں کے فارغین بھی ویسا ہی چاہتے اور کرتے ہیں۔ یعنی ہماری زندگی پر سب بڑا اور پہلا اثر سوچ کا ہے۔ ہماری سوچ کا جو معیار ہوگا وہی ہماری ترقی یا پسماندگی کا سبب ہوگا۔

ہماری سوچ کا پہلا اثر ہمارے اخلاق و کردار پر ہوگا۔ یہ بہت بڑی بات ہے اور تفصیل طلب ہے لیکن بے شمار مثالیں آپ معاشرے میں خود مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم حکومت کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ غیر برابری کا رویہ رکھتی ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے جو اور جہاں سہولیات دستیاب نہیں ہیں، وہ اپنی جگہ ایک منفرد بحث ہے۔ وہ اپنے طریقے کے مطابق کرے گی جلد یا بدیر۔ لیکن جہاں اور جو سہولتیں ہمیں مہیا ہیں کیا ہم اُن کا صحیح طریقے سے استعمال کرتے ہیں؟ آئے دن اخباروں میں مسلم علاقوں کی پسماندگی کی جو خبریں شائع ہوتی ہیں کیا اُس پریشانی کے لئے صرف حکومت ذمہ دار ہے؟ ذرا غور کریں مسلم علاقوں میں جو سرکاری اسکول موجود ہیں، کیا وہ حقیقی معنوں میں اسکول جیسے لگتے ہیں۔ ہم نے دہلی کے بہت سارے سرکاری اسکولوں کو دیکھا لیکن جو خالص مسلم علاقوں میں ہے وہاں جاکر آپ خود مشاہدہ کریں کہ اگر وہ اسکول کسی اہم سڑک یا گلی میں واقع ہے تو اس کی دیوار کے سہارے زمینوں پر عام لوگوں کا قبضہ ہے۔ یا تو گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے استعمال ہو رہا ہوگا یاریڑی پٹری پر دکانیں لگی ہوں گی۔ یہاں تک کہ جو صدر دروازہ ہوگا وہ بھی مختصراً چار یا پانچ فٹ چوڑا ہوگا، جو ڈھونڈنے کے بعد ملے گا۔ اگر گارجین کو ملنے جانا ہوتاہے تو وہ کن حالات سے گزرتا ہے یہ بتانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ یہ بات اُن سے ہی پوچھ لیا جائے کہ تم پر کیا گزری؟ اور تم اسکول کا معیار کیسا چاہتے ہو؟ اسکول کی دیواروں کے سہارے غلط طریقے سے رہائش، پارکنگ، کوڑا کرکٹ ، ملبہ،قضائے حاجت کے لئے استعمال کرنا، کیا اسکول کے ماحول اور آب و ہوا پر اس کا اثر نہیں پڑے گا؟ کیا یہ اخلاقی معیار کو متأثر نہیں کرے گا؟ تعلیمی اداروں سے متعلق و علی ہذاالقیاس اس طرح کی بے شمار منفی مثالیں مل جائیں گی۔

اب آئیں دوسرے نمبر پر رفاہی ادارے۔ ہمارے یہاں رفاہی اداروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہم دہلی کے ایک ایسے علاقے سے روزانہ گزرتے ہیں جہاں ہر سو میٹر پر ایک رفاہی ادارہ رجسٹرڈ ہے۔ چند ایک کو میں نے جاننے کی کوشش کی، اندر جاکر دیکھا تو عجیب سی کسم پرسی کا عالم پایا۔ یہ ادارہ بیٹھے بٹھائے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے۔ ایک بار محنت کرنی پڑتی ہے پھر سلسلہ چل پڑتا ہے آمدنی کا۔ اس کا مصرف کیا ہے؟ وہ کس کے لئے رفاہ کا کام کرتے ہیں؟ اس کے لئے وہ سال کے دو تین مہینے ایسے ہیں جن میں لوگ جان جاتے ہیں کہ اس ادارے میں مسلمانوں کی فلاح کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ مثلاً رمضان، عید اور بقرعید یہ تین مہینے تو اُن کے لئے کمائی کا بہتر ذریعہ ہے اور عوام سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا بھی۔ ان مہینوں میں یہ افطار کٹ، عیدی اور بقرعیدی کرکے وہ اچھا خاصا نام کما لیتے ہیں اور دولت مندوں سے اچھا خاصا تعاون زکوٰة و خیرات کے مد میں وصول ہو جاتا ہے۔ وصولیابی کا تو آپ کو پتا نہیں چلے گا ہاں خرچہ کا اندازہ آپ کو ان تینوں مواقع پر اخباروں اور انٹرنیٹ پر شائع شدہ خبروں، رپورٹوں اورتصاویر کے ذریعہ ہو جائے گا۔ کچھ مواقع اور ہیں جیسے سردیوں میں لحاف، کمبل، گرم کپڑے وغیرہ کے نام پر۔ اس کے علاوہ ناگہانی آفات جس کا ہمیں پتا نہیں ہوتا، یہ کبھی بھی اور کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے لیکن بازآبادکاری کے نام پر چند دنوں کا سامان۔ خواہ سیلاب، آگ، پانی یا طوفان۔ آدھی سردی نکل جائے گی تو لحاف اور کمبل جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے لئے اخباروں میں اشتہار دیئے جائیں گے۔ رمضان المبارک میں دھکم پیل افطار کٹ بانٹیں جائیں گے۔ اُن اشیاءکی تقسیم کے لئے عموماً ٹوکن بنائے جاتے ہیں، یہ ٹوکن زیادہ تر اُن اداروں میں کام کرنے والے کارندوں کے ہاتھوں تقسیم کرائے جاتے ہیں کہ بھائی فلاں دن فلاں جگہ یہ چیز تقسیم کی جائے گی، جاکر لے لینا، جو وہ زیادہ تر اپنے جاننے والے یا رشتہ داروں کو دیتے ہیں بلا لحاظ کہ وہ شخص واقعی اس چیز کو لینے کا مستحق ہے؟ دوسرا اہم پہلو یہ کہ جن ناداروں کو اس طرح کی امداد دی جاتی ہے انہیں کیوں نہیں اہل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کی قطار لگتی ہے اور انہیں جزوقتی کھانا کپڑا وغیرہ کا بندوبست کر دیا جاتا ہے جبکہ وہ پھر اپنی وہی پرانی حالت میں ہو جاتے ہیں۔ ضرورت مند ایسے بھی ہیں جن کے گارجین کی اتنی آمدنی نہیں کہ وہ اپنے ہونہار بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

شاید ہی کسی ادارے کے پاس یہ فہرست ہوگی کہ فلاں علاقے میں ادارہ یہ کام کر رہا ہے۔ اسے وہاں رہنے والے ضرورت مندوں کی صحیح تعداد کا علم ہے اور اس ادارے کے ذریعہ انہوں ایک سال میں یا ایک مقررہ مدت میں کتنے لوگوں کو مالی اعتبار سے خود کفیل بنایا؟ یا کتنے ضرورت مند طالب علموں کی تعلیم پر خرچ کرکے اس لائق بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم قوم ہر جگہ سوالی کی طرح نظر آتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے دوست احباب اور ملنے ملانے والے یعنی ملاقاتی حضرات بھی ان مہینوں میں ہماری خیریت دریافت کرتے ہیں اور ساتھ میں افطار وغیرہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن پورے سال میں شاید ہی کبھی توفیق ہوتی ہوگی کہ وہ اُن کی خیریت یا صورتِ حال دریافت کرلیں کہ کیا واقعی ہمارا دوست یا پڑوسی کسی مسئلہ سے دوچار ہے؟ اور ہماری کسی تعاون کا مستحق ہے؟

جب کوئی ضرورت مند اُن رفاہی اداروں میں مالی امداد یا تعلیمی امداد کے لئے جاتا ہے تو اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اُس کا بہت غلط اور منفی نتیجہ میرے سامنے آیا، جو ناقابل بیان ہے۔ جب کہ کسی بھی قوم کے بچے کو تعلیمی اعتبار سے بہتر بنانے کے لئے سب سے پہلے ذہنی نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ان کے رویہ سے یہ بچے اور اُن کے گارجین سخت مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی اپنی طاقت سے جینے کی صلاحیت میں بھی کمی آجاتی ہے۔ ایسے اداروں کی طرف سے جن ضرورت مند لوگوں کے ساتھ بھی منفی رویہ اختیار کیا گیا ہے یا جو لوگ بھی اُن اداروں سے بہتری کی امید لے کر جاتے ہیں اور ناامیدی ہاتھ آتی ہے، میرا مشورہ ہے کہ اُن کی مالی حیثیت جتنی بھی ہے اُسی میں کوشش کریں لیکن اپنی ذہنی صلاحیت کو ابتر ہونے سے بچا لیں، انشاءاللہ آپ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب و سرخرو ہوں گے۔

عمومی طور پر یہ مسئلہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہمارے بچے اکثر درمیان میں تعلیم ترک کرکے کسی پیشہ سے جڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ معاشی کمزوری بھی ہو سکتی ہے۔جب تک ممکن ہوا خیراتی اداروں خواہ و سرکاری ہو یا غیر سرکاری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جب آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ان پاس پیسہ نہیں ہوتا تو وہ تعلیم ترک کے کسی نہ کسی پیشہ میں لگ جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ بلکہ مجبوراً کام کرناپڑتا ہے۔ مسلمانوں میں تعلیم ترک کر دینے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اہل علم اور اہل ہنر کو اُن کے اداروں میں معقول معاوضہ ادا کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔ انٹرویو کے وقت جب اہل شخص مل جاتا ہے تو ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کم سے کم کتنی اجرت میں کام کر لیں گے؟ ایک بار جب میں نے اسی سوال کے جواب میں سوال کر دیا کہ آپ نے اس پوسٹ کے لئے کتنا معاوضہ مقرر کیا ہے؟ تو جواب یہ ملا کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے ضرورت مند ہیں؟ تو میں نے اپنی ضرورت کے مطابق بتایا کہ کم سے کم مجھے اتنا معاوضہ چاہئے اور میں جتنا کام جانتا ہوں اس کے مطابق اتنا (جو کہ پہلے والے سے بھی زیادہ تھا) تو انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو صرف اتنا دے سکتے ہیں جو میرے طلب کئے گئے معاوضہ کا نصف بھی نہیں تھا تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورت کے مطابق دیتے ہیں؟ جب کہ ان ہی کے کہنے کے مطابق نہ تو میرا معاوضہ میری اہلیت کی بنا پر دینے کو راضی ہوئے اور نہ ہی میری ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ تو ایسی صورت میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان اداروں کے ذمہ داران ہمیں مجبور کر کے ہمارا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ کسی بھی میدان میں کام کا معیار اہلیت اور اس کے مطابق اس کا معاوضہ طے ہوتا ہے۔ کئی صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے بھی تعلیمی اعتبارسے ایک دن کا کم سے کم معاوضہ متعین کر دیا ہے۔ جب کہ آج بھی ان اداروں میں کام کرنے والوں کو آدھا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اُن رفاہی اداروں کے بارے میں عام رائے یہی بنے گی کہ اُن کے ذمہ داران اسے اپنی مالیت سمجھتے ہیں اور اس کا استعمال اسلامی طریقے پر نہ کر کے اپنے خود ساختہ طریقوں پر کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قوم کا جاہل اور مجبور طبقہ ہمیشہ ہی جاہل اور مجبور ہی رہتا ہے کیوں کہ اسے مجبوری سے نکالنے اور جہالت سے علم کی طرف لے جانے والی اصل مشینری ہی ناکارہ ہے۔

چند فیصد جو یونیورسٹی کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں وہ بھی صرف نام اور شیخی بگھارنے کی حد تک۔ تعلیمی اعتبار سے اب پی ایچ ڈی کی ایسی کھیپ تیار ہو رہی ہے کہ اُن میں بہتوں کا اپنے مضمون سے ایک فیصد کا بھی تعلق نہیں ہوتالہٰذا ایسے ٹیچر، لیکچرر، ڈاکٹر یا پروفیسرکتابوں کا بوجھ تو دنیا کو دے جاتے ہیں جو کہ ”محقق بود نہ دانشمند-چارپائے بروکتابے چند“ کی مثال بنتے ہیں۔ اس کی تفصیل کیا بیان کی جائے۔ حال کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں اکتوبر 2012ءمیں ہمارے ایک شناسا کے ذریعہ حیدرآباد سے ایک دعوت نامہ وصول ہوا جس میں ”اسلامی فن و ثقافت کے موضوع پر ایک سیمینار کے انعقاد کی خبر تھی اور مختلف موضوعات پر مقالہ پیش کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ دعوت نامہ اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں شائع شدہ ہیں۔ مختلف عنوانات میں سے ایک عنوان تھا ”ہندوستانی سماج پر مسلمانوں کے اثرات“ اور اس کا انگلش ترجمہ یا عنوان تھا Islamic influence on Indian society

اہل علم نے مسلمان اور اسلام کی الگ الگ تشریحات کی ہیں۔ قرآن و احادیث سے بھی ان کی دو مختلف تشریحات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں۔ لیکن میری سمجھ میں یہ نہ آسکی کہ ایک قومی یونیورسٹی ”مولانا ابوالکلام آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی“ کے ارکان نے اس طرح کا عنوان کیسے تجویز کیا؟ جو کہ اردو میں ہے وہ انگریزی میں نہیں اور انگریزی لفظ سے جو ظاہر ہورہا ہے وہ اُردو سے نہیں۔ اسلام اور مسلمان کی تشریحات عالموں نے خوب کی ہے۔ میں یہاں اتنی لمبی تشریح کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اسلام وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے عرش عظیم سے سیّدالانبیاءمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔ یہ وحی آج دو صورتوں میں ہمارے پاس موجود ہے۔ (۱) قرآن مجید(۲) صحیح حدیث۔ مختصراً یہ کہ ”اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے“ جس کا الہامی پیغام قرآن مجید کی صورت میں موجود ہے۔ اسلام کی تکمیل کا ثبوت قرآن مجید کی آخری آیت ” الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا “ (سورة المائدة۵، آیت۳) [آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمتوں کا اتمام کر دیا اور تمہارے لئے بطور ”دین“ اسلام کو پسند کیا] سے ملتا ہے۔ سب سے بہتر اسوہ یا طریقہ اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خود قرآن مجید نے اعلان کیا ہے ” وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى “ (سورة النجم ۳ ۵، آیت ۲-۳) [وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کہتے وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اُن کو بذریعہ وحی بتا دی جاتی ہے] اس روئے زمین پر بسنے والے وہ انسان جو قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہیں یا یہ کہ جو اللہ اور رسول کو مانتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔

تعلیمی پسماندگی کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔چند ایک یہاں مختصراً ذکر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلی وجہ انتشار۔ عقیدہ، سوچ۔ تعلیم، گھریلو، علاقائی، ذاتی، زبان وغیرہ۔ صرف انتشار ہی ایک ایسا موضوع ہے جس پر مسلم قوم کے طبقہ کا اتحاد ہے۔ سب سے پہلے تو یہاں کی مسلم قوم ملّی انتشار کا شکار ہے۔ انہوں نے ملت کی خیرخواہی اور بھلائی کے نام پر ہزاروں تنظیمیں، کونسل اور جماعتیں بنا رکھی ہے۔ ہر تنظیم کے روح رواں اور ان کے کچھ خاص لوگ تنظیم چلانے کے نام پر قوم سے چندہ وصول کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی بھلائی کے نام پر اپنے لوگوں کی بھلائی کا کام زیادہ کرتے ہیں۔ گویا ایک طرح سے یہ سب تنظیمیں قائم مذہب اسلام کے نام پر ہوئی ہیں۔ انسانیت کی بھلائی کے نام پر ہوئی ہیں۔ اور ہر روح رواں کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ ملت کی صحیح سمت رہنمائی کرنے کا کام انجام دیتے ہیں لیکن یہ اُن کا دعویٰ ہے۔ اصلیت سے اس کا تعلق بہت کم ہوتا ہے۔ اُسے آٹے میں نمک کے براہ کہا جاسکتا ہے۔ درگاہیں اور خانقاہیں پہلے آمدنی کے لئے زیادہ بٹتی تھیں۔ اب مدارس و مساجد یہاں تک کہ منبر و محراب تک بنٹ رہی ہیں۔ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مصداق جس کا جہاں قبضہ ہو گیا نسل در نسل اماموں، مجاروں اور رہنماؤں کا دور چل رہا ہے۔ ٹرسٹ اب ذاتی ملکیت کا درجہ پانے لگا ہے۔ جب باپ بوڑھا ہو جاتا ہے تو نئے ٹرسٹی اور جانشین اپنے بیٹے کو سونپ دیتا ہے۔ اگر ان کے کئی بیٹے ہوئے تو آپس میں دھینگا مشتی ہوتی ہے۔ بالآخر وہ قابض ہو جاتا ہے جو طاقتور یا مضبوط ہوتا ہے۔ بلکہ آج کی زبان میں دبنگ ہوتا ہے۔ تقریباً اسی قسم کی صورت حال تعلیمی اداروں میں بھی ہے، خواہ چھوٹے ہو یا بڑے۔ محلوں کی مسجدوں ، عیدگاہوں، قبرستانوں وغیرہ کے نام پر بھی ہو رہا ہے۔ نتیجہ آپ خود نکالیے جب مسلم قوم کی اقل اکثریت کا یہ حال ہو تو باقی مسلمانوں کا کیا حال ہو سکتا ہے؟

آزادئ ہند کے بعد تعلیم یافتہ حلقوں میں یہ امر بار بار سر اٹھا رہا ہے کہ مسلمانوں کا اپنا کوئی میڈیا پاور نہیں ہے جو حکومت پر اپنا اثر ڈال سکے اور اس کے لئے انگریزی کا اخبار ہونا بہت ضروری ہے۔ گزشتہ پینسٹھ سالوں میں کئی بار یہ ایشو بن کر ابھرا، کانفرنسیں ہوئیں۔ لیکن آج تک مسلمانوں کا کوئی انگریزی اخبار اس قابل نہیں نکل سکا جو مؤثر ہو۔ یہاں تک کہ جو مؤثر اردو میڈیا تھا وہ بھی اب مہاجنوں (کارپوریٹ سیکٹرمیں)کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ گذشتہ ایک دہائی میں جتنے بھی اردو کے نئے اخبارات شروع ہوئے یا اخباروں کے ایڈیشن بڑھے وہ صرف تجارتی حد تک ہی محدود ہیں۔ اس سے نہ تو اردو زبان کے فروغ میں کوئی خاص پیش رفت ہوئی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے اپنے تشخص کو بہتر بنانے میں کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہاں چند اردو کے صحافیوں کو ملازمت ضرور مل گئی ہے۔

قیادت کی بھی صورت حال بہتر نہیں کہی جاسکتی۔ قائدین کی تو کمی نہیں ہے، لیکن صحیح سمت اور اور قائدانہ صلاحیت کی بیحد حد کمی ہے۔ ہمارے زیادہ تر قائد موقع پرست اور زر پرست ہیں۔ یہ قطعی اپنے قوم کے بارے میں خیال نہیں کرتے کہ وہ قوم کو کس طرح بھروسہ میں لے کر رہبری حاصل کرتے ہیں اور کس طرح چند پیسوں کی خاطر قوم کی عزت و ناموس کا سودا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہماری اپنی کوئی ایسی سیاسی پارٹی بھی قوم کے لئے مفید ثابت نہ ہو سکی۔ چہ جائیکہ ہم آبادی کے لحاظ سے پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں، اپنی بات منوا سکیں اور اپنا حصہ حاصل کر سکیں۔ کچھ مسلم ممبر پارلیمنٹ اپنے حق کی آواز بلند کرنا بھی چاہتے ہیں تو ہمارے ہی قوم کی غلطیوں اور موقع پرستانہ ذہنیت کا حوالہ دے کر اُنہیں خاموش کر دیا جاتا ہے ۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہماری قوم بکھری ہوئی ہے۔ ہماری اِس انتشار کا فائدہ دوسری قومیں بآسانی اٹھاتی ہیں۔ جب بات میں دم اور جسم میں خم ہو توچاہے جس زبان میں چاہیں اپنی بات کہہ سکتے ہیں اور منوا سکتے ہیں۔ دنیا کی بہت ساری قومیں ہیں جو اپنی مادری زبان اور ایک بین الاقوامی زبان سے کام چلا رہی ہے اور عزت کی زندگی جی رہی ہے۔ لیکن ایک ہندوستانی مسلمان ہے کہ کم از کم تین زبان جاننے کے بعد بھی اپنی بات یا مافی الضمیر اپنے مخاطب کو نہیں سمجھا پارہا ہے؟ اردو زبان دنیا کے اکثر گوشے میں پھیل چکی ہے لیکن اُس کی حدیں صرف لطیفہ گوئی تک ہی محدود ہے۔ دسیوں ممالک کی درجنوں یونیورسٹیوں میں اس زبان کے پڑھانے والے موجود ہیں۔ دوسری قوموں کو خوب اردو پڑھائی جارہی ہے۔ پھر بھی ہندوستانی اردو والے اور مسلمانوں کی کیا حیثیت اور وقعت ہے؟ اس بات کا تجربہ ہمارے مفکرین کو بخوبی ہے۔

مسلم قوم کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنا موازنہ غلط طریقہ سے کرتے ہیں۔ اپنا وزن کرنے کے لئے ایسی چیزوں اور اعمال کو باٹ کے دوسرے پلڑے میں رکھتے ہیں جو ہماری شریعت سے ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارا وزن بھی غلط ہوتا ہے۔ مثلاً ساٹھ سال پہلے مسلمانوں میں بھی تعلیمی اداروں اور اکیڈمک تعلیمی رُجحان کی کمی تھی اور اب جب کہ جس قدر تعلیمی اداروں میں اضافہ ہوا ہے اسی قدر اکیڈمک تعلیمی رُجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ معیار میں گرچہ گراوٹ ہے لیکن موازنہ ہندوستان کے سرمایہ دارانہ اکیڈمک اداروں کا کیا جاتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نئی نسل مادّیت پرست بنتی جارہی ہے۔ اُس کا رُجحان ایسا بنتا جارہا ہے کہ زیادہ مہنگے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا مطلب زیادہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بلکہ یقین۔ نتیجہ عیش پرستی، بے راہ روی، آرام طلبی وغیرہ۔ اِن تینوں رُجحان رکھنے والے اکثر لوگ بزدل پائے گئے ہیں۔

محاسبہ نہ ہم اپنا کرتے ہیں اور نہ ہمیں یوم ِحساب کا خوف و احساس ہے۔ جس کو جو جی میں آیا کہہ رہا ہے اور کر گزر رہا ہے۔ اگر مال اور علم کے اعتبار سے مسلمانوں کا موازنہ کیا جائے تو تین طبقہ وجود میں آئے گا۔ سب سے پہلا اور خاص طبقہ وہ ہے جو اپنے آپ کو زیادہ پڑھا لکھا اور لبرل سمجھتا ہے، عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے دوسرا وہ جو پڑھے لکھے سمجھدار، خوددار اور محنتی ہیں وہ پہلے طبقہ کا دست نگر بنے رہنے ہوئے ہےں۔ بدعنوانی اور استحصال وہ دیکھتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ تیسرا وہ طبقہ ہے جو بہت ہی کسم پرسی کی زندگی جی رہا ہے۔ اُس طبقہ کے بیشتر لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو کیسے؟ کیوں کر؟ اور اُن کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہماری قوم کا رہن سہن کوئی انفرادی نہیں ہے سب یہاں کی دوسری قوموں سے صد فیصد مشابہ ہے۔

آخری بات یا پہلی بات یعنی زندگی کے رہنما اصول قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔ ہمیں اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لئے اُسے ہی اپنانا ہوگا۔ تبھی ہم سماج میں محترم اور معزز بن سکتے ہیں۔  اپنی انا کو ہر حال میں قربان کرنا پڑے گا۔ خود ساختہ اصولوں کوبہر حال پھینکنا ہوگا۔  تب کہیں ہمارے اندر ایثار کا جذبہ پیدا ہوگا۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ میرے اِن خیالات اور تجربات سے غیر متفق ہوں لیکن حقیقت سے بہت قریب ہے۔

ختم شد

 از؛   فیروز ہاشمی

Friday, July 4, 2025

بیمار جنّتی

کھلی فضا میں رہنے والے بیمار حضرات و خواتین کی شکایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ مضمون تیار کیا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ جنت جیسی سہولت والی جگہ میں رہنے والے لوگ بھی جوڑوں کے درد، شوگر، بی پی، تھائرائیڈ، مائیگرین جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔


ایک صاحب نے مہاراشٹر سے فون کیا کہ ہمیں پیروں کی ورزش بتائیں۔ میں نے چلنے سے متعلق آپ کا مضمون پڑھا ہے۔

حالاں کہ چلنے سے متعلق تفصیلات وہاں موجود ہے، پھر بھی ان کا سوال ہے پیروں کی تکلیف سے متعلق۔ 

سوال تو ان کا بھی ہے جن کی عمر چالیس، پچاس، ساٹھ سال سے زائد ہیں۔

اور 

سوال اُن کا بھی ہے جو قدرتی ماحول میں رہتے ہوئے گھٹنے اور کمر درد میں مبتلا ہیں۔ بہت سے پچاس پلس پر کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ 

یہ تو لوگوں کے حالات ہیں۔

اب وجوہات پر غور کریں۔ پھر اس کا حل بتایا جائے گا۔

سب سے پہلی وجہ مادّی سہولت نے تن آسانی پیدا کی۔ جس کی وجہ سے روزمرہ کے وہ کام جو ہم خود کرتے تھے اب دوسروں پر منحصر ہو گئے۔ یا مشینی ذرائع پر منحصر ہو گئے۔ 

مثلاً مختصر سی مسافت کے لیے بھی بائیک یا کار کا استعمال کرتے ہیں۔ کھانے پینے و دیگر اشیاء کی ہوم ڈیلیوری۔

دوسری وجہ ضرورت سے زیادہ خوراک اور بے وقت کھانا۔

پہلے لوگ ’’دو جون کی روٹی‘‘ کے طلب گار ہوتے تھے اور اسی کے لیے محنت کرتے تھے۔ اب پانچ وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔

بیماری کی شکایت پر کوئی تنبیہ کرے تو کہا جاتا ہے کہ میرے پاس ہے تو کھاتے ہیں۔ میرے پیٹ موٹا ہونے سے تجھے کیا تکلیف ہے؟

ایسے اصول پسندوں کو جو دوقت کا کھانا کھاتے ہیں انہیں کنجوس یا غریب اور پچھڑا گردانا جاتا ہے۔

تیسری اور سب سے بڑی وجہ ’’لاپرواہی‘‘ ہے۔ جس کی فہرست بہت لمبی ہے۔

اب اِس کا حل کیا ہے؟

بازار میں کئی قسم کی سہولتیں دوا، آپریشن، اور بیساکھی یا تکیہ یعنی سہارا کی شکل میں موجود ہیں۔ قیمت دیجیے اور حاصل کیجیے۔

چاہیں تو دوا سے ٹھیک ہو سکتے ہیں یا مسلسل دوا پر جی سکتے ہیں۔

آپ چاہیں تو آپریشن کرا لیں۔ جسم کے کئی حصّے اور ہڈیوں کو بدلنے، بڑا کرنے، جوڑنے وغیرہ جیسی سہولتیں آ چکی ہیں۔ جیسے Hip, knee, spine Replacement وغیرہ، سب کو بدلا جا سکتا ہے اور بدلا جا رہا ہے۔ ہڈی جتنی بھی چور ہو چکی ہو اس کی جگہ نئی ہڈی لگائی جا سکتی ہے یا کسی دھات کی مدد سے ویسی ہی ہڈی بنا کر جوڑ دی جاتی ہے اور لنگڑاپن بھی نہیں آتا۔ آرام سے چل سکتے ہیں، گاڑی ڈرائیو کر سکتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ اپنی ضروری حاجت کے لیے دوسرے کے محتاج نہیں رہیں گے۔

تیسری صورت لاپرواہی کا ایک حصہ ہے، بیساکھی، تکیہ یعنی دوسرے کی مددلینا۔

یعنی یہ مان چکے ہوتے ہیں کہ اب ہمیں پوری زندگی دوا کے سہارے ہی زندگی گزارنا ہے۔ یا بیساکھی کے سہارے ہی چلنا پھرنا، یا یہ کہ اب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ

پہلی اور تیسری قسم کی سوچ والے لوگ زیادہ ہیں۔

پوری زندگی دوا کھاتے، بیساکھی پر چلتے، کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے گزار دیں گے لیکن درست علاج کراکر صحت مند زندگی نہیں گزاریں گے۔

بیمار شخص نہ اپنے لیے مفید ہے اورنہ معاشرہ کے لیے۔ ایک طرح سے یہ منفی سوچ کے لوگ ہیں اور معاشرہ میں منفی اثرات و سوچ پھیلانے کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔

معمولی درد کو بھی بہانہ بنا کر اور عمر عہدہ، مال کا دھونس جما کر بیچ صف میں کرسی لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ معاشرہ میں یہ کیا طریقہ اپنایا گیا ہے؟ 

ایسی حالت میں نہ آپ اللہ کے قریب ہو پارہے ہیں اورنہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔ بلکہ بچوں اور جوانوں کے ذہن کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ 

اگر واقعی معذور ہیں تو کرسی لے کر کنارے بائیں طرف بیٹھیے، کیوں کہ آپ کی بیماری نے آپ کو سطحی طور پر بچوں کی صف میں لا دیاہے۔ اب آپ اپنی سوچ اور جگہ کے اعتبار سے ہی اللہ کے زیادہ قریب ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا ایسے لوگوں سے میری درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے اپنے لیے بہتر بنیں یا نہ بنیں، لوگوں کے لیے بدتری اور برائی کا ذریعہ نہ بنیں۔

اب آئیے سب سے آسان حل پر۔

اللہ تعالیٰ نے جن کو قدرتی ماحول اور سہولیات فراہم کی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس سے استفادہ کریں۔ مادّی سہولتوں کے قدرتی سہولتوں کو ترجیح دیں۔ ہم نے دیکھا ہے اور جانا ہے کہ 

 ☆ …لوگ گاؤں میں بھی اے سی استعمال کرنے لگے ہیں اور پانی کے لیے مشین اور ٹینک استعمال کر رہے ہیں۔

 ☆ …گاؤں کے لوگ کنویں یا ہینڈ پائپ کا پانی استعمال کر سکتے ہیں لیکن نہیں کرتے۔ صاف پانی کہیں سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …رہائشی کمرے میں کھڑکی اور روشندان ضرور بنائیں۔ ضرورتاً ہلکا پنکھا اور ایگزاسٹ فین استعمال کریں۔

 ☆ …کم سے کم دو کلو میٹر روزانہ پیدل چلیں۔

 ☆ …خوراک کا عرصہ دس سے بارہ گھنٹے کا رکھیں۔

 ☆ …مغرب بعد کھانا کھالیں تاکہ کھانے اور سونے میں تین گھٹنے کا فاصلہ رہ سکے۔ دس بجے رات تک سو جائیں۔

 ☆ …موبائیل فون بند کرکے اپنے جسم سے دور رکھ دیں۔

 ☆ …کوشش کریں کہ کوئی بھی الیکٹریکل آلات آپ کے جسم سے قریب نہ ہو، کم سے کم دو فٹ کی دوری کا خیال رکھیں۔

 ☆ …اس سہولت کے لیے زیرو وولٹ میٹ اور تھریپی کا طریقہ رائج ہے، استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …فجر پڑھ کے پندرہ تا تیس منٹ چہل قدمی کریں۔ اگر گھاس دستیاب ہو تو اس پر ننگے پاؤں چلیں۔

 ☆ …ناشتہ میں پہلے پھل کھائیں، بعد میں گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …بھوکے پیٹ کبھی چائے نہ پئیں۔ خواہ بسکٹ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔

 ☆ …صبح سات بجے سے پہلے کچھ بھی نہ کھائیں۔ چائے تو بالکل نہ پئیں۔ پانی پی سکتے ہیں۔

 ☆ …جن کو اسموکنگ کی عادت ہے وہ بھی چھوڑیں۔ یہ بیماری کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 ☆ …دوپہر کے کھانا میں پہلے سلاد کھائیں۔ اس کے بعد گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …کھانے سے پہلے تھوڑا پانی پی لیں اور کھانے کے بعد بھی تھوڑا ہی پانی پئیں۔

 ☆ …باقی پانی کی ضرورت بیس منٹ سے چالیس منٹ کے دوران محسوس ہوگی۔ اب جی بھر کر پانی پئیں۔

 ☆ …رات کا کھانا مغرب بعد کھالیں۔ سات بجے کے بعد پانی تو پئیں لیکن کھانا نہ کھائیں اور نہ ہی چائے یا کافی پئیں۔


اب رہی بات ’’بیمار جنتی‘‘ کی تو یہ اللہ والے لوگ جن کو ہرا بھرا کھیت، میدان، کھلیان، پارک دستیاب ہیں وہ بھی اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ٹانگوں، گھٹنوں، کمر اور بدن کے دوسرے حصّوں کے درد میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ گنہگار ہی کا جنت میں داخلہ منع ہے، بلکہ بوڑھے اور بیمار بھی جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔

 ☆ …لہٰذا وہ لوگ جو باقاعدہ نماز ادا کرتے ہیں اگر کہیں غلطی کر رہے ہیں تو میری اُن سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے سنت طریقے کے مطابق نماز کی ادائیگی کریں تاکہ جوڑوں کے درد اوربیماری سے بچ سکیں۔ 

 ☆ …جن کو سانس کی تکلیف ہو وہ لمبا سجدہ کریں۔ نماز میں وہ ساری ورزشیں موجود ہیں، جسے کرنے کے لیے لوگ جم جایا کرتے ہیں اور پیسہ دیتے ہیں۔ 

 ☆ …مسجد جائیں،درست طریقے سے نماز کی ادائیگی کریں۔ 

 ☆ …ممکن ہو تو نوافل کی بھی ادائیگی کریں۔ نوافل میں قیام، رکوع، سجدہ کو اپنی سہولت کی اعتبار سے طول دیں یعنی لمبا، قیام، رکوع اور سجدہ کریں تاکہ تندرستی برقرار رہے۔ 

 ☆ …جم والی رقم سے ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ ضرورت مند کو خودکفیل بنائیں۔ اپنے ہر کام میں معیانہ روی اختیار کریں، زندگی بہتر ہو جائے گی۔ جنت صرف وہی نہیں جس کا وعدہ اللہ نے کیاہے۔ 


اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جنت جیسی سہولتیں اِسی روئے زمین پر بھی فراہم کی ہیں اس کا فائدہ اٹھائیں، صحت مند زندگی گزاریں۔ دنیا و آخرت دونوں سنور جائے گی۔ ان شاء اللہ

 ☆ ☆ ☆

 محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس 

9811742537

نوئیڈا، اترپردیش، ہندوستان

Wednesday, June 4, 2025

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔


شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ محمدﷺ کی بعثت سے پہلے بھی بہت سارے معاملے ہوئے، ہر سیرت نگار اور جانکار کو پتا ہے کہ بعثت کے بعد آپ کے ساتھ کیا کیا برتاؤ کیا گیا۔ اور کس کس دور میں کیا گیا؟ ہر دور میں دین اور شریعت کا مذاق اڑایا گیا۔ ہر دور میں طریقے جدا جدا رہے۔ کبھی زبانی حملے کیے گئے، کبھی عملی حملے کیے گئے، کبھی نسلوں کو گالی دی گئی۔ لکھنے پڑھنے کے دور میں اخبارات اس کے ذرائع بنے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹ میں بیٹھ کر گالیاں دی جا رہی ہیں۔ دین و شریعت پر عمل پیرا لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی۔ ہر دور میں کی گئی اور آج بھی کی جا رہی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیوں ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے؟

ہمارے ساتھ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم خود اندرونی طور پر آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، برائی کرتے ہیں۔ نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح وہ ہمارے ساتھ سلوک کرتے ہیں، ہمارے اپنے خود ہمارے ساتھ عصبیت برتتے ہیں۔ یہی سب سے بنیادی وجہ ہے۔ اور سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ساری عصبی اور ذہنی خرابی ہماری نسل در نسل منتقل ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اِن غلطیوں کے وارث پیدا ہوئے ہیں۔ غور کریں تو پتا چلے گا کہ خود محمدﷺ کے اُمتی کا دم بھرنے والے اُن کے قول و عمل اور فرمان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ محمدﷺ کے اُمتی کہلانے کا شوق رکھتے ہیں لیکن طریقہ اور سوچ ابوجہل والی پالے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی جذباتی شناخت کے ساتھ فوٹو ایڈٹ کرکے ڈالا جاتا ہے کہ بس، عام آدمی اُسی میں جذباتی بن جاتا ہے۔ اور پھر ہماری قوم کے لوگ آن میں کان کٹا بیٹھتے ہیں۔ کیوں کہ دوسری طرف سے ہمارا اپنا طعنہ دیتا کہ تجھے رسولﷺ سے محبت نہیں۔ تجھے قرآن سے محبت نہیں۔

’’اُس مسلم کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جو اسے پڑھے اور فاروڈ نہ کرے۔‘‘

یا اس جیسے دیگر جذباتی جملے … … …

مسلم قوم کو تو کب کا شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔

 آخر اس طرح کے پوسٹ کو دوسروں تک پہنچا کر اُسے پرموٹ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیوں اپنے آپ کو خود ہی ذلیل کرتے ہیں؟

کچھ ٹی وی چینل نے تو اسی کام کا بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اس طرح کے جذباتی ڈیبیٹ کریں گے اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیں گے۔ فاروڈ کرنے کا کام تو ہماری قوم کے لوگ خود ہی کر دیتے ہیں۔

ہمارے یہاں گرافک ڈیزائنر کی بھرمار ہے جو اس کے چہرے پر جوتا بنا کر پوسٹ کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔

اسی طرح کی سوچ کے تعلق سے سینکڑوں امیجز اور ویڈیوز نظر سے گزرے ہوں گے۔ اور جب اُن پر غور کیا جائے اور سوچا جائے تو اس کا نتیجہ یہی آئے گا کہ سب سے زیادہ گستاخی اور مخالفت کرنے والے ہم خود ہی ہیں۔

وہ کیسے؟ ذرا اِس حدیث پر غور کریں۔

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللهُ عَنْه

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں (عادتوں اور طریقوں) کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

ہم کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن کیا اس کا حق ادا کرتے ہیں؟ 

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، لیکن کیا ہم مذکورہ حدیث پر عمل کرتے ہیں؟

آخر ہماری عبادات کیسی ہیں کہ ہم منکرات سے نہیں رُکتے؟ انسانیت کو تکلیف پہنچانے سے نہیں رُکتے۔ کیوں ہر غلط کام معاشرے میں ہماری پہچان بن چکی ہے۔ یہ چاروں عبادات ادا کرنے کے بعد بھی ہمارے قول اور عمل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ کیوں؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کو فاروڈ کرنے کی؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کے بارے میں جذباتی بیان دینے کی اور تشہیر کرکے لوگوں کو ورغلانےکی؟ یہ تو صرف دل کی بھڑاس نکالنے کی طرح ہے۔

آپ خود سے سوچئے کہ 

سنجیدہ موضوع پر کتنے لوگ گفتگو کرتے ہیں، یا عمل میں لاتے ہیں؟ 

کتنے لوگ سنجیدگی سے سنت نبویہ کے مطابق عبادات کو بجا لاتے ہیں؟ 

’’اپنی ذات سے دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے‘‘ کتنے لوگ یہ خیال رکھتے ہیں؟

اگر غلطیاں اور کمیاں شمار کرائی جائے تو غلطیوں کا پلندہ تیار ہو جائے گا۔

اگر ٹی وی پر اس طرح کے پروگرام آ رہے ہیں تو ٹی وی دیکھنا بند کیجیے۔ ویسے بھی اب ٹی وی دیکھنے کی یا معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہ گیا ہے۔ اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ 

سب کے سب آپ کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں اور اُس کا فائدہ اٹھاتے۔ نقصان ہوتا ہے تو صرف اور صرف ہمارا۔

مسلم قوم خود رسولﷺ کے فرمان (طور طریقے) کی نافرمانی کر رہا ہے تو کیا یہ رسولﷺ کو گالی دینے کی طرح نہیں ہے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔

ایک گالی اُس نے دی ہے۔ وہ ہم تک پہنچی تو ہمیں دُکھ ہوا۔ اور ہمارے دُکھی ہونے سے اُنہیں خوشی ملتی ہیں۔

اب ہمیں سوچنا ہے کہ کیا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا مخالف خوش ہو۔

یا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا رب خوش ہو۔

اگر ہمیں اللہ کی رضا مقصود ہے تو ہمیں رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر کام کرنا ہی ہوگا۔ اور خدا و رسول کی رضا کو اپنا نشانہ بنانا ہی ہوگا۔

لہٰذا ہمیں صبر کے ساتھ غلط ویڈیوز اور امیجز وغیرہ پرموٹ کرنا بند کردینا ضروری ہے۔

کوئی تبصرہ یا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اس پر گفتگو کرنا بند۔

برداشت کی عادت ڈالیے۔ 

آپ کا کیا ارادہ ہے۔؟

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

ری فورمسٹ

3rd June 2025

 

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...