معاشرے میں بائی پاس سرجری کی روایت
ہماری پیدائش خواہ کسی بھی مذہبی خاندان میں ہوئی ہو لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد جو معاشرہ دکھائی دیتا ہے وہ ایک طرح سے ہر میدان اور معاملے میں بائی پاس سرجری کی مصداق رواں دواں ہیں۔ بہت ہی آسان اور واضح اصولوں کے باوجود ہم ہر میدان میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کا رویّہ ہی اصل میں شیطانی طریقہ اور رویّہ ہے۔ اجمالی طور پر سمجھنے کے لیے جوہر کانپوری کے یہ چار مصرے کفایت کر سکتے ہیں۔ اگر ہم معاشرے کے دیگر معاملات و عبادات اور رہن سہن کے طور طریقے پر نظر ڈالیں گے تو وہ بھی تقریباً اس شعر کے مصداق ہی دکھائی دیں گے۔
قرآن کی تعلیم کو کر کے نظر انداز
شیطاں کے دکھائے ہوئے راستے میں پھنسے ہیں
آکاش کو چھونے کی ہے کوشش میں زمانہ
ہم سُنّی وہابی کے جھمیلے میں پھنسے ہیں
مذکورہ چار مصرے تو ہماری عبادات و عقاید سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ایسی ہی کچھ حالت ہماری معاشرتی اور روزمرہ کے معاملات میں بھی پیش آ رہے ہیں۔ مثلاً اگر ہم آس پاس نظر دوڑاتے ہیں اور دیکھتے اور برتتے ہیں تو سب سے پہلے ذہنی اور عملی آلودگی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ جب ذہنی آلودگی عمل سے ظاہر ہونے لگے تو یہی اُس فرد کی پہچان بننے لگتی ہے۔ جب یہی طریقہ کی غلطی قوم میں پرورش پا جائے تو وہ اُس قوم کی پہچان بن جاتی ہے۔ جیسے روزمرہ کے گھریلو کوڑے کرکٹ، بچے ہوئے کھانے کی اشیاء، پرانے کپڑے، اور غیر ضروری گھریلو اشیاء کو کہاں ٹھکانے لگایا جائے۔ کوڑے کرکٹ اصل جگہ پر جانے کے ساتھ نالیوں میں اور خالی پلاٹوں میں جانا طے ہیں۔ کیوں کہ ذہن نے طے کر دیا ہے کہ پلاٹ تو خالی ہے۔ یا کوئی اعتراض کرے یا جگہ بتائے تو کہا جاتا ہے، ’’تجھے کیا تکلیف ہے؟، تیرا پلاٹ ہے کیا؟ یعنی اگر ہمارا پلاٹ نہیں لیکن ہم پڑوس میں رہتے ہیں تو ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ شاید یہ ایسی سوچ ہے۔ اب رہی بات نالی کی تو اس کا جواب پہلے سے بنا ہوا ہے کہ ’’سب تو ایسا ہی کرتے ہیں‘‘ یعنی کوڑے کرکٹ نالی میں ڈالتے ہیں، تو ہمیں بھی ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ اصول کو طاق پر رکھیں اور دماغ پر زور دینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا چل رہا ہے ویسا ہی آپ بھی چلیے۔
باسی کھانا جسے آپ کھا نہیں سکتے، بعض جانور کھا لیتے ہیں تو اسے طریقے سے اس جانور کے آگے رکھیے تاکہ اس کھانا کے ضائع کرنے کے گناہ سے بچ سکیں۔ کھانا اتنا ہی بنائیں اور تازہ کھائیں تاکہ صحت مند رہ سکیں اور فضول خرچی سے بچ سکیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری قوم نے سہولتیں حاصل کرنے کے نام پر بہت کچھ زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔ اور زیادہ خرچ کرنے کے بعد بھی نہ تو وہ عزت کی زندگی حاصل کر پاتے ہیں اور ہی صحت مند زندگی۔ آئے دن ایسے گھروں اورخاندانوں میں لڑائی، جھگڑے، ایک دوسرے کے تئیں نفرت، چغلی، غیبت جیسی ذہنی بیماری عام ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد شروع ہو جاتی ہے جسمانی بیماری۔ اور پھر اس کا سرسری علاج۔ بالکل ایسے کہ گاڑی کی پوری صفائی اور سروسنگ تو نہ کرائی جائے صرف کاربیٹر صاف کرکے ہی گاڑی چلائی جاتی رہے۔ تو کب تک گاڑی چلتی رہے گی۔ یہ اب عام لوگوں کو بھی سمجھ میں آ رہا ہے۔ یعنی گاڑی کے جانکار بتاتے ہیں کہ کبھی بھی اُن کے ساتھ دھوکہ ہو سکتا ہے، اس لیے گاڑی کی سروسنگ اپنے وقت پر کراتے رہیں۔
لیکن اپنی صحت کے بارے میں ابھی بھی اکثر لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی صحت کے ساتھ وہی طریقے اپناتے ہیں جیسا کہ گاڑی کے کاربیٹر کے ساتھ۔ تو سوال بنتا ہے کہ کیسے؟ روزمرہ ہونے والی تکالیف اور بیماریوں کے بارے میں جانیں اور سمجھیں۔ ہماری ہونے والی اکثر تکالیف آرام کرنے، نہانے، صاف صفائی رکھنے سے دور ہوجاتی ہیں۔ لیکن جو لوگ روزانہ اِن امور کا خیال نہیں رکھتے اور وقتی بخار، سردی، کھانسی، سردرد یا بدن درد کی دوا کھا کر سوچتے ہیں کہ اب ہم صحت مند ہو چکے ہیں، تو یہ اُن کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آپ معاشرے میں دیکھ رہے ہوں گے کہ اکثر لوگ وائرل فیور، ٹائی فائڈ، ملیریا، ڈینگو وغیرہ کے شکار ہو کر کئی کئی ہفتے بیمار رہے ہیں اور اِن ایام میں اُن کی امیونی ٹی روزانہ کم ہوتی جاتی ہے۔ اِن حالات میں بھی وہ آرام کرنے اور فضولیات سے پرہیز کرنے کے بجائے موبائیل کی گندگی سے اپنے دماغ اور جسم کو پراگندہ کرتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں میں جگر، پھیپھڑا، دل، گردہ اور آنتوں کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ برین ہیمریج تک کے بگاڑ عام ہو چکے ہیں۔ اب ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد موجود ہے جو گنی پگ کی طرح زندگی گزار رہا ہے۔ ہر شخص کی گھریلو حالت اور بجٹ میں اچھا خاصا حصّہ بیماریوں کے علاج کے لیے دواؤں پر خرچ کیا جاتا ہے، جب کہ اگر اس کا آدھا خرچ صحت کی دیکھ بھال پر خرچ کر لیا جائے تو گھر میں بیماری اور ذہنی طور پر بیماری کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ جو کہ زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔ جس کام کو کرنے کا طریقہ اور اصول ہمیں پہلے سے معلوم ہے اس پر تو ہم عمل کر ہی سکتے ہیں۔ لیکن معاشرے میں رائج ہے کہ جب ڈاکٹر کہے گا تو ہم ایسا کریں گے۔ عشاء سے پہلے اپنی ضروریات مکمل کرلینا ہمارے بس میں ہے، لیکن ہم دیر میں ڈنر کرتے ہیں اور آدھی رات گزرنے کے بعد سوتے ہیں، جس کے اثرات ہماری جسمانی اور دماغی صحت پر غلط اثر ڈالتے ہیں۔ اور جب بیمار ہو جاتے ہیں تو اپنی بیماری کا علاج مروّجہ نالی کی صفائی کی طرح کرتے ہیں۔ جیسے روزانہ صفائی کرنے والا آتا ہے اور اوپر اوپر سے کچرا نکال کر باہر رکھ دیتا ہے، اٹھا کر لے گیا تو ٹھیک ورنہ دوبارہ وہی کچرا پھر نالی میں۔ جب کہ نالی گہرائی ڈھائی فٹ سے پانچ فٹ تک تو ضرور ہی رہتی ہے اور اس میں مٹی اور فضلات بھرے ہوتے ہیں، جس کی گندگی اور تعفن ہماری صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ لیکن ہم ایسے معاشرے میں رہنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ اِس گندگی کو پھیلانے میں ہمارا خود کا بھی کردار شامل رہتا ہے۔
ایسا ہی کچھ ہم اپنے پیٹ کے سسٹم کے ساتھ بھی کرتے ہیں، یعنی چھوٹی لمبی آنت جس میں کھانا جاتا ہے اور ہضم ہوتا ہے اور دوسری بڑی اور موٹی آنت جس میں فضلا سے جسم کو صاف کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ ننانوے فیصد لوگوں میں پیٹ کی بیماری عام ہو چکی ہے۔ پیٹ کی گندگی صاف نہ ہونے کی وجہ سے لیور کی سوجن اور انفیکشن، اور اس کے بعد گال بلاڈر یعنی پتّے کی سوجن اور انفیکشن۔ اخراج میں بڑی آنت کی بیماری بواسیر، پھر دورانِ خون کی کمی اور خون میں گندگی جیسی بیماری عام ہو چکی ہے۔ گردے اور پتّے میں پتھری کی شکایت بھی عام ہو رہی ہے اور اِن سب بیماریوں میں مسلسل دوا کھانا یا کڈنی اور گول بلاڈر میں پتھری بتا کر اس کا آپریشن کرنا اور کرانا عام رواج ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ جسمانی طور پر ادھورے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہارٹ کے معاملے میں بائی پاس سرجری خواہ لیزر سے کریں یا اسٹنٹ لگوائیں، وہ بھی چند ماہ کے لیے۔ نہ پوری صفائی ہوگی، نہ دوا سے چھٹکارا ملے گا اور نہ صحت مند زندگی ہوگی۔ مسلسل دوا کھاتے ہوئے زندگی گزرے گی۔ صحت برقرار رکھنے کے لیے بہترین غذائیں قدرت نے فراہم کی ہیں، اُن قدرتی غذاؤں سے فائدہ اٹھائیں اور صحت مند زندگی گزاریں۔
فیروز ہاشمی
3rd Oct. 2026
9811742537