Sunday, March 23, 2025

Unani Medicine ➖ Effective treatment method

 طب یونانی ➖ کارآمد طریقہ علاج

ایک صحت مند زندگی کے لیے آگ، پانی، ہوا، دھوپ اور مٹی کا اہم کرادار ہے۔ اُن سے پیدا ہونے والی یا بننے والی چیزیں ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر ہم اُن چیزوں سے ہٹ کر کسی بھی مصنوعی طریقے سے اپنے کو صحت مند رکھنا چاہیں تو ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔

دنیا جب سے بنی ہے، مختلف ادوار میں صحت و امراض کا آپس میں تعلق رہا ہے، بنی نوع انسان نے اپنی سوجھ بوجھ اور عقل و خرد سے صحت مند رہنے کے طریقے اپنائے اور اچھی اور بہتر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے نوع انسانی نے دنیا کی سیر کی اور قدرتی انفاس سے سامنا ہوتا گیا ویسے ویسے اُن کو اپنانے یا بچاؤ کرنے کے طریقے ایجاد کئے جاتے رہے اور اپنائے جاتے رہے۔ عام انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جوں جوں انسان نے ترقی کی توںتوں حالات سے نبردآزما ہونے کے طریقے ایجاد کرتے رہے اور اپناتے رہے۔ اور پھر ایک وقت یہ آیا کہ مختلف النوع طور طریقے کے انسان آمنے سامنے ہوئے تو مزید کئی قسم کی نئے طور طریقے اور نئی معلومات سے آگاہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حالات بدلے اور انسانی سوچ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مختلف مقامات پر مختلف طرح کے نباتات و جمادات اور حیوانات وغیرہ سے استفادہ کرنے کا عمل جاری و ساری ہو گیا۔ لیکن قدرتی نظام کے تحت مثبت کے ساتھ منفی کردار بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ 

خودغرضی اور مطلب پرستی کا سلسلہ توآدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی لڑائی کے بعد سے ہی جاری ہوگیا تھا۔ کیوں کہ وہاں خودغرضی ہی قتل کا سبب بنا تھا۔ اور آج بھی ایسا سلسلہ جاری ہے۔ زندگی کو بہتر بنانے کے جتنے بھی طور طریقے بنی نوع انسان کے سامنے آئے، انہوں نے اسے سب کے لیے رائج کرنے کے بجائے علاقہ اور طور طریقے میں بانٹ کر کئی حصے کر دیئے۔ جیسا کہ ہر قسم کے علم و عمل اور صحت و عافیت کے میدان میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ منفی سوچ اور خودغرضی و مطلب پرستی سے صحت و عافیت کا میدان بھی پاک نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف انسان نے مختلف طریقہ کو مختلف ناموں سے تعارف کرایا اور صحت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا، وہیں دوسری طرف خودغرضی نے ایک دوسرے کی برتری اور ابتری کا نزاع بھی رائج کر دیا اور مختلف طریقہ ہائے علاج کو ایک دوسرے سے تولنے کی کوشش کی جانے لگی اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے اور وہ طریقہ تو کچھ بھی نہیں۔ اور ابتری ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کے الفاظ اور جملے سماج میں رائج کئے جا چکے۔ جسے طب کے میدان میں کام کرنے والے اور دلچسپی رکھنے والے اصحاب بولتے اور سنتے رہے ہیں۔ جب کہ حالات کو غور سے دیکھا جائے تو ایسا قدرتی نظام میں ہرگز نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کا ہر وہ طریقہ جسے قدرت نے دیا ہے، وہ سب کے سب نوع انسانی کی بھلائی کے لیے ہی ہے۔ اور اسے انسان کے سوچ و فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کون اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔

ہمیں نہ تو نئے طور طریقے سے پرہیز ہے اور نہ پرانے طریقے سے الرجی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا معاشرہ سست ذہنیت کی طرف رواں دواں ہے، جس کے نتیجے میں بیمار ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو، افاقہ کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایلوپیتھی طریقہ علاج سب سے کارگر ہے۔ حالاں کہ بہت سے ایسے امراض ہیں جس کا علاج اِس پیتھی میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے ریسرچ اسکالرز اور طب کے ماہرین کہنے لگے ہیں کہ علاج کے لیے ہمیں اب integration  یعنی انضمام کی طرف آنا پڑے گا۔ یعنی جس پیتھی میں جس مرض کا درست، بروقت اور بہتر علاج موجود ہے اسے اپنا کر صحت کو بہتر بنایا جائے۔ اگر متعدی مرض یا طاعون لاحق ہو گیا ہے تو آج بھی دیسی علاج کارگر ہے۔ دیسی علاج سے مراد یہاں یونانی پیتھی اور آیورویدا ہے۔ یہاں پر وہ گھریلو نسخے موجود ہیں جسے اپنا کر بھیانک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں سانس کی ہونے والی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ تر یونانی اور آیوروید کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے اور اس سے بھی زیادہ لوگ قدرتی طریقے علاج سے صحت مند ہوئے۔ نیچروپیتھی بھی ایک آسان طریقہ علاج ہے۔ جس کو اپناکر جلدی صحت مند ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا ایک طریقہ ہومیوپیتھی بھی ہے جسے اکثر لوگوں نے درکنار کیا ہوا۔ شاید اِس کی ایک وجہ اس کا سستا اور کم مقدار میں ہونا ہے۔ جب کہ لوگوں کا رُجحان سست روی، زیادہ کھانا پینا کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج کو بھی پیسہ کے بدلے میں پورا پیکیج کا خواہشمند ہونا بھی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

کبھی کبھی منفی رُجحان اور عمل بھی اس میدان کو بے کار و بے اثر بنانے میں معاون بن جاتا ہے، جیسا کہ یونانی پیتھی اور اس کے کارکنان کو نیچا دکھانے کی کوشش کے طور پر کئی میڈیکل کالجز یا اسپتال میں طلباء اور اسٹاف کے درمیان معمولی غلط فہمی یا کمی کو بڑا بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اِس طرح کی حرکت سے جہاں طلباء میں مایوسی اور نامرادی پھیل جاتی ہے۔ کیوں کہ اُن کا سرمایہ اور وقت خرچ ہوا ہے، اگر اس خرچ اور وقت کا درست اور خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آتا تو دنیا تاریک دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض خودغرض اساتذہ اور اسٹاف بھی اصول و ضوابط اور اخلاقی رویّہ کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنا مطلب نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔  اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف ذاتی نقصان ہوتا ہے بلکہ پورا کا پورا وہ طبقہ بدنام ہوتا ہے، جس کا نشانہ اس علم و عمل کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کس طرح سے بزرگوں نے اس علم کو فروغ دینے کے لیے شب و روز محنت کی اور جان و مال قربان کیا۔

دُکھ کا مقام یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی اداروں کو وراثت نے نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ اُن کے وارثین میں تو قابل اور اہل پیدا نہ ہو سکے، مجبوراً وہ اہم عہدوں پر فائز رہ کر ادارہ کو چلا رہے ہیں اور تعلیم یافتہ تجربہ کار اور اہل لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس نے انہیں غیراصولی طریقہ کار اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے اور اہل اپنی دو وقت کی روٹی اور عزت بچانے کے لیے بھی غیراصولی کاموں میں شامل ہوتے رہے اور جب مارکٹ میں پروڈکٹ ناکام ثابت ہوتا ہے تو نہ صرف کمپنی اپنا اعتبار کھوتی ہے بلکہ وہ طریقہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ یونانی پیتھی کے ساتھ بھی ہونے لگا۔ تبھی ہندوستانی بابائے طب حکیم اجمل خاںؒ کے پڑپوتے محترم حکیم مسرور احمد خاں نے ۱۲؍فروری ۲۰۲۵ء بروزِ بدھ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے منعقدہ ورلڈ یونانی میڈیسن ڈے کے موقع پر کہا کہ

 ’’یونانی دوا ساز کمپنیاں ملاوٹ کرنے سے پرہیز کریں‘‘ 

جب کہ دیگر ماہرین نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

 ☆کرونا میں یونانی طریقہ علاج نے مریضوں کو نئی زندگی بخشی، 

ڈاکٹر سیّد فاروق

 ☆حکیم اجمل خاں طبیہ کالج میں حکیم صاحب کے نام پر میوزیم بنایا جائے۔ 

سیّد احمد خان

 ☆یونانی طریقہ علاج میں پی ایچ ڈی کی طرف توجہ ضروری، 

پروفیسر مشتاق احمد

جب کہ میری رائے ہے کہ

بیماری سے بچنے کے لیے خالص غذائیت پر توجہ دیا جائے۔

اور

طب یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لیے خالص ادویہ اور بروقت علاج کی فراہمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر یونانی پیتھی کے دوا ساز ادارے خلوص دل سے اعلیٰ قسم کی ادویہ فراہم کرائیں تو بعید نہیں کہ اِس پیتھی سے لوگ بے رغبت ہوں۔ کہیں نہ کہیں بداخلاقی اور بدانتظامی بھی فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن ہی جاتا ہے۔

میری گزارش اور درخواست ہے کہ جو لوگ بھی اِس فن کو سیکھیں، اس میں بنیادی پہلوؤں اور طریقوں کا دھیان رکھیں۔ خاص طور سے خام مال کی پہچان، فراہمی، موسم، اجزائے ترکیبی کی تعلیم ضرور دیں۔اساتذہ اپنی ذمہ داری کا خیال رکھیں۔ اگر خود غرضی اور لاپرواہی جیسے حالات پیدا ہوتے رہے اور اداروں میں سستی اور لاپروائی بڑھتی رہی تو دن دور نہیں جب حکومت کی توجہ کم ہو جائےاور ادارہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ نئے حالات اور اشیاء پر غور و خوض اور تحقیق کیا جائے اور رائج کیا جائے۔ طب یونانی طریقہ علاج بہت بہتر ہے۔ یقین اور اعتماد کی سخت ضرورت ہے۔ 

17th February 2025

 ☆ ☆ ☆

نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس، 

9811742537


No comments:

Post a Comment

عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام

ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ ک...