Saturday, October 11, 2025

ہماری ذلت و رسوائی کے اسباب و تدارک

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(136) النساء

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ) ایمان رکھو اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا۔

اِس آیت کی روشنی میں غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ہم جب تک مکمل طریقے سے اللہ اور رسول کے فرمان اور سنت کو نہ اپنائیں گے تب تک عزت کی زندگی نہیں جی سکتے۔

{اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ اللہ اور اس کے رسول پرایمان رکھو۔} یہاں اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اٰمِنُوْا‘‘ ’’ایمان لاؤ‘‘ اگر یہ خطاب حقیقی مسلمانوں کو ہے تو اس کا معنیٰ ہوگا کہ ایمان پر ثابت قدم رہو۔ اور اگر یہ خطاب یہود و نصاریٰ سے ہو تو معنیٰ یہ ہوں گے کہ اے بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لانے والو! تم مکمل ایمان لاؤ یعنی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر جن میں قرآن اور مُحمَّدبھی داخل ہیں۔ اور اگر یہ خطاب منافقین سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اے ایمان کا ظاہری دعویٰ کرنے والو! اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ۔ یہاں جو فرمایا گیا کہ رسول اور کتاب پر ایمان لاؤ تو رسول سے سیدالانبیاء ﷺ اور کتاب سے قرآنِ پاک مراد ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ اہلِ ایمان کا لفظ حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے موجودہ زمانے میں صرف مسلمانوں پر بولا جاسکتا ہے، کسی اور مذہب والے پر خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی اس لفظ کو نہیں بول سکتے۔ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اور اس کے رسول، مُحمَّدپر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب اور رسول پر ایمان لاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے مگر عمل صرف قرآن شریف پر ہی ہوگا۔ ان کتابوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ وحدہٗ لاشریک کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں۔

یہاں واضح طور پر حکم دیا گیا کہ اے ایمان کے دعویداروں! اپنی دعویداری میں اگر سچے ہو تو احکامِ الٰہی پر عمل پیرا ہو جاؤ۔ اب خود اپنا محاسبہ کریں؛

کیا دعویداری کے مطابق ہمارا عمل ہے؟

کیا ہم وقت پر صلوٰۃ ادا کرتے ہیں؟ جیسا حکم دیا گیا ہے اورجیسے سکھایا گیا ہے؟

کیا ہم صوم کا اہتمام ویسے ہی کرتے ہیں؟ جس سے اُس کے مقاصد پورے ہوں؟

کیا ہم وقت پر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؟ اور اُس کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں؟

کیا ہم حج ویسے ہی ادا کرتے ہیں؟ جیسا حکم دیا گیا ہے اور جو اُس کے مقاصد ہیں؟ 

نوے فیصد سے زائد اسلام کے دعویداروں کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوگا۔

تو پھر ہم عالمی پیمانے پر جو گفتگو گلی محلے کے تیراہے ، چوراہے پر کرتے رہتے ہیں، اُس سے کس کا فائدہ ہوگا؟ یا کس کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اِس پر کسے غور کرنا چاہیے؟

کیا ’’آئی لو محمدﷺ‘‘ کا ٹیگ سینے پر لگا کر یا ہاتھوں میں بینر اٹھا کر محبت رسول ﷺ کا حق ادا ہو جائے گا؟ بالکل نہیں۔ یہ صرف دکھاوا ہے۔ نمائش ہے۔ اظہارِ دل و دماغ بھی نہیں ہے۔ ہم صرف نعرے اور احتجاج محبت رسول ﷺ کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو حضور ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں، اپنے اخلاق کو سنواریں اور اپنے اعمال کو سنت کے مطابق کریں۔

کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اِس میں ’’غلط‘‘ کیا ہے؟

میرا پوچھنا ہے کہ اِس میں ’’صحیح‘‘ کیا ہے؟

اگر واقعی مُحمَّد سے محبت ہے تومصیبت کی گھڑی میں ویسے ہی آپ بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں جیسا کہ نبوت کےساتویں برس سے دسویں برس تقریباً دس برس تک ابی طالب کے گھاٹی میں گزارا کیا۔ تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ فرمائیے۔

اگر آپ واقعی محبت رسولﷺ کے دعویدار ہیں تو اپنے دعویٰ کو اُن کے اخلاق سے مزین کرکے دنیا کے سامنے دکھائیں کہ ہاں مُحمَّد کے ماننے والے اصول پسند ہوتے ہیں۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرتے جس سے انسانیت کو تکلیف پہنچے۔ 

"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده"

وہ سچ مچ اِس حدیث رسول کے مصداق پر قائم ہیں۔

لیکن نہیں   … …

اگر ہم وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اُس کا استعمال کیا ہوتا تو ہمارا شمار ایک محترم اور معظم قوم میں ہوتا؛ ہم ایک صحت مند معاشرہ کے فرد ہوتے۔ ہم ایک باوقار انسان کی حیثیت سے معاشرہ میں زندگی گزارتے۔ ہم باوقار طریقے سے مساجد میں صلوٰۃ کے لیے جمع ہوتے۔  لیکن نہیں، جوانی جیسے تیسے۔ بڑھاپے میں مسجد کی دوڑ اور نوجوانوں پر بلا وجہ اپنی نصیحتیں تھوپتے اور اُکساتے اور جذباتے بناتے نظر آتے ہیں۔

اگر ہم درست طریقے سے صوم کا اہتمام کرتے تو ہم میں ہر دسواں فرد اسپتال کے چکر لگانے والے نہ بنتے۔ بہت سے لوگ تو ایک کے ساتھ دو فری جا رہے ہیں؛ اور انہیں احساس تک نہیں ہو رہا ہے کہ انہوں نے جو کمایا تھا وہ اب کہاں جا رہا ہے؟ کس کے لیے کمایا تھا؟ اور جا کہاں رہا ہے؟ صوم کا درست اہتمام کرنے والے افراد صحت، دل، دماغ اور معاشرہ سب کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ہم نے فریضہ زکوٰۃ ادا کیا ہوتا اور مستحقین تک پہنچا دیا ہوتا تو ہماری قوم میں کوئی بھی زکوٰۃ لینے والا موجود نہیں ہوتا۔ لیکن ہماری شہرت در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے اور ہاتھ پھیلانے والے میں ہو رہی ہے۔ جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مساجد و عیدگاہ کے باہر بھیک مانگنے والے نوے فیصد غیرمسلم ہی ہوتے ہیں۔  اور ہمارے لوگ بیٹیوں کی شادی کے لیے چندہ مانگتے ہوئے ملتے ہیں یا مسجد و مدرسہ کی عمارت کے لیے چندہ کرنے والے ملتے ہیں۔ آخر کیوں؟؟؟ 

ترک سنت، غلط رواج اور نمائش نے اِس قوم کا مالی نظام درہم برہم کر چکا ہے۔ بیٹیوں کی شادی کے لیے چندہ چاہیے، بیٹے قرض چکاتے ہوئے ناکارہ یا بوڑھے ہو رہے ہیں۔ اور جن بیٹیوں والوں نے چندہ کرکے داماد حاصل کیے تھے، اُن کی بھی زندگی میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دکھائی دیتی۔ مسجد و مدرسہ کی عمارت کے لیے دور دراز سے چندہ اکٹھا کرنا کون سا سنت طریقہ ہے؟ جب آپ کو گھر کی تنگی پڑتی ہے تو اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بناتے ہیں تو پھر محلّہ یا گاؤں کی مسجد اپنی وسعت اور ضرورت کے مطابق کیوں نہیں بنا سکتے؟

اب رہی بات ’’حج‘‘ کی تو یہ پیسے والوں کی روحانی پکنک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کیوں کہ یہ تو زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے، باقی تو سب نمائش ہے۔ کیوں کہ بقیہ مال سے آپ اپنے ضرورت مند رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی معاشی حالت تو بہتر بنا ہی سکتے ہیں اور اُتنا ہی اجر پا سکتے ہیں۔ اگر حاجی کہلانے کا شوق ہے تو وہ تو ایک بار ہی میں پورا ہو جاتا ہے۔ ویسے ہمارے یہاں ہی حاجی کہلانے کا شوق پایا جاتا ہے۔ اور احساس ہوتا ہے کہ اب معاشرہ میں ہماری بھی کوئی حیثیت ہو چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل پیرا فرمائے۔ نمائش سے بچائے۔ آمین


🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...