Thursday, February 12, 2026

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘



صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ  

(سورۃ البقرۃ آیت ۱۸۵)

ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اور روزہ رکھنا چاہے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں وہ چاہتا ہے تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس طرح کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

ترجمہ  محمد جونا گڑھی

﴿ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ﴾" رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔‘‘ یعنی جو روزے تم پر فرض کیے ہیں وہ رمضان کے روزے ہیں، یہ ایک ایسا عظمت والا مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل حاصل ہوا، یعنی قرآن کریم جو تمہارے دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف رہنمائی پر مشتمل ہے۔ جو حق کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے اور جو حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی اور خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ وہ مہینہ جس کی یہ فضیلت ہو جس میں تمام پر اللہ تعالیٰ کا اس قدر احسان اور فضل ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ وہ بندوں کے لیے نیکیوں کا مہینہ بنے اور اس کے اندر روزے فرض کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کردیا اور اس نے اس کی فضیلت اور روزوں کے لیے اس کو مختص کرنے کی حکمت کو واضح کردیا، تو فرمایا  ﴿ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ۭ﴾" پس جو تم میں سے اس مہینے کو پا لے، تو وہ اس کے روزے رکھے" اس آیت کریمہ میں یہ بات متعین کردی گئی کہ ہر صحت مند شخص جو سفر میں نہ ہو اور روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو وہ رمضان کے روزے رکھے۔

چونکہ نسخ کا تعلق اس اختیار سے ہے جو خاص طور پر روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان دیا گیا تھا، اس لیے مریض اور مسافر کے لیے رخصت کو دوبارہ بیان کردیا گیا، تاکہ اس وہم کا ازالہ ہوجائے کہ مریض اور مسافر کے لیے بھی رخصت منسوخ ہوگئی ہے۔ پس فرمایا  ﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ﴾ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا" یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تم پر اپنی رضا کے راستے حد درجہ آسان کر دے۔ اس لیے ان تمام امور کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے، اصل میں حد درجہ آسان بنایا ہے اور جب کوئی ایسا عارضہ پیش آجائے جو ان کی ادائیگی کو مشکل اور بوجھل بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور طرح سے آسان کردیا۔ یا تو سرے سے اس فرض ہی کو ساقط کردیا یا ان میں مختلف قسم کی تحقیقات سے نواز دیا۔ یہ اس (آسانی) کا اجمالاً ذکر ہے۔ یہاں تفاصیل بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کی تفاصیل تمام شرعیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان شرعیات میں تمام رخصتیں اور تحقیقات شامل ہیں۔

﴿ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔" اس آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے۔ واللہ اعلم کہ کوئی شخص اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ رمضان کے چند روزے رکھنے سے مقصود و مطلوب حاصل ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں روزوں کی تکمیل کے حکم کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا، نیز حکم دیا گیا کہ روزوں کے مکمل ہونے پر بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق، سہولت اور تبیین کا شکر ادا کیا جائے۔ رمضان کے اختتام اور روزوں کے پورے ہونے پر تکبیریں کہی جائیں۔ اس حکم میں وہ تمام تکبیریں شامل ہیں جو شوال کا چاند دیکھ کر خطبہ عید سے فراغت تک کہی جاتی ہیں۔

تفسیر عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

یہ تو میں نے بطورِ تمہید پیش کیا۔تاکہ قرآن کے احکام کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔ اب معاشرے میں ہونے والے واقعات اور طور طریقے ملاحظہ فرمائیں۔ عنوان کے تحت تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہر شخص کے لیے نہ صرف نیکی میں سبقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ جسم اور روح  کے تزکیہ کا بھی وسیلہ ہے۔ 

لیکن افسوسناک صورتِ حال دکھائی دے رہا ہے، اسے خرافاتِ رمضانی ہی کہا جا سکتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

عمومی خرافات۔۱

نوجوان لڑکے جسے کچھ علاقوں میں لونڈے بھی کہے جاتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں ٹوپی لگاکر اپنی دکانوں پر بیٹھیں گے یا خالی خولی گھومتے پھرتے رہیں گے، ساتھ میں دھواں بازی یا تھوک بازی بھی کرتے رہیں گے۔ یعنی نہ تو وہ سگریٹ نوشی ترک کریں گے اور نہ ہی گٹکا خوری۔ کئی اور بگڑے خاندان یا پیسہ والے خاندان کے ہوں گے تو وہ ساتھ میں کتّا لیے پھریں گے، اسی سے پیار محبت بھی جتائیں گے۔ 

بھائی یا تو جیسے پہلے نہیں ظاہر کئے تھے کہ مسلمان ہیں، اب بھی مت بتائیے۔ 

یا تو اپنا طریقہ بدلیے، اور سچ مچ کے مسلمان بنئے۔ 

یا پھر طریقہ نہیں بدل رہے تو قوم کی پہچان خراب مت کیجیے۔

عمومی خرافات۔۲

اِس ماہ مبارک میں بائیکوں پر ایسے زنّاٹے پھریں گے جیسے دوسری قوم کے کچھ لوگ کچھ خاص مواقع پر شور شرابہ والی حرکت کرتے ہیں۔ شاید مسلم قوم کے لونڈے اس کے جواب میں بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ایک مہینہ ہوتا ہے، جس میں راتوں میں ہم اُدھم بازی کرتے ہیں۔ ابھی پندرہویں شعبان گزرا ہے، اس شب قدر کو بھی ایسے مناتے ہیں۔

عمومی خرافات۔۳

ماہِ مبارک شروع ہونے سے کچھ روز پہلے اور کچھ روز بعد اکثریت بیماری کا بہانہ بنا کر روزہ چھوڑتے ہیں۔ اور کئی لوگوں نے تو پیشہ ایسا اختیار کیا ہوا ہے، کہ پیشہ کی خرافات کی وجہ سے روزہ احتراماً چھوڑتے ہیں۔ حالاں کہ ایسے لوگ حج اور عمرہ کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔

عمومی خرافات۔۴

کچھ لوگوں کی عادت تو یہاں تک بگڑی ہوئی ہے کہ بڑی مشکل سے روزہ رکھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے، تراویح بھی پڑھتے ہیں لیکن وہ فضولیاتِ لب و دہن نہیں چھوڑ پاتے۔ اب ہمیں تشویش ہونے لگتی ہے کہ آخر اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ  کا اثر معاشرہ پر کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ ’’یعنی نماز فحش اور منکرات سے روکتی ہے۔‘‘ نہیں پایا جا رہا ہے۔

ایک ایسی عمومی غلطی جو پورے معاشرے کے نظام کو بگاڑ کے رکھا ہوا ہے، وہ برکت اور اصلاح کے نام پر وقت اور سرمایہ کی بربادی اور ساتھ میں عمومی بدنظمی۔ وہ ہے جمعہ کا خطبہ اور جماعت میں دیر کرنا۔ اکثر جگہوں پر ذرا سی دیر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جس کا احساس اِس قوم کے خطیبوں کو بالکل نہیں ہے۔ جلسے جلوس میں لاکھوں روپے اور وقت برباد کر وا ہی رہے ہیں۔ نکاح جیسی سادہ سنت کو نمائش کا ذریعہ بنا لیا گیا تو پھر …

ایک اور عمومی غلطی کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کرنے والے افراد کرتے ہیں۔ اس ماہِ مقدس میں روزہ افطاری اور تراویح کے لیے مہلت یا چھٹی طلب کرتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے لیے مہلت طلب کرتے ہیں، تو اکثر کارپوریٹ سیکٹروں میں انکار کر دیا جاتا ہے۔ تو مسلمان یا تو اپنی نوکری بچا لیتے ہیں اور عبادتیں چھوڑتے ہوئے اپنے آپ کو مظلوم کہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ جذباتی ہوکر ملازمت چھوڑ دیتے ہیں۔ رمضان تو جوش و خروش سے گزار لیتے ہیں لیکن بعد میں روزگار کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں بعض لوگ اپنے آپ کو مسلمان کے ساتھ ساتھ مظلوم بھی کہتے ہیں۔ جب کہ اگر ہم پہلے دن سے ہی نماز ادا کرنے والے بنے رہتے تو ہمیں کسی بھی کارپوریٹ سیکٹر میں روکا نہیں جاتا۔ کیوں کہ پرائیوٹ کمپنیاں شروع کے چھ ماہ میں بندے کے طور طریقے اور کارگزاری کو اچھی طرح پرکھ لیتی ہیں، پھر کمپنی کو ان کے طور طریقے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ گویا ہماری پہچان ہی غلط ہے۔ ہم اپنی شناخت معلّمِ اخلاق (رسولِ اکرم ﷺ) کے طور طریقے پر کیوں نہیں کرانا چاہتے؟

عمومی رسمیں اور فتاوے بھی کئی قسم کی رائج ہیں۔ اس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے کس کس اور کتنے کا فائدہ ہوتا ہے؟ مثلاً اگر آپ فلاں فلاں مرض میں مبتلا ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے اور بہتر ہے کہ مسلم ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے کہ کس طرح دوا کھانا ہے اور کس طرح رمضان کے احکام بھی بجا لانا ہے۔

جب کہ ان امراض میں سارا دار و مدار ٹیسٹ پر مبنی ہوتا ہے تو ڈاکٹر صاحبان مشین کے سہارے اور مشین پر اعتبار کرکے ہی نسخہ تجویز کرتے ہیں۔ 

جب کہ بہت سی بیماریاں تو دوا بنانے والی کمپنیوں نے رائج کیا ہے۔ تو کیا اُن کی بنائی ہوئی مشینوں سے چیک کرائیں اور اُن کی بنائی ہوئی دوائیں استعمال کریں؟ اور روزہ بھی رکھیں؟ 

کتنی بڑی بیماری ہے یہ کہنا اور پتا لگانا آسان ہے لیکن یقین دلانا مشکل ہے۔

چوں کہ اکثر ڈاکٹروں نے اُسے رمضان سے جوڑ دیا، اس لئے جاننا اور سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی، یہ سب بیماریاں ہیں؟ یا بیمار بنا کر ہمیں مالی طور پر کمزور اور جسمانی و روحانی طور پر ناکارہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے؟

میری گزارش ہے کہ 

یا تو قوم کو بیمار رہنے دیجیے۔  روزہ چھڑوائیے۔

یا پھر قوم کو صحت مند بنائے رکھنے کا نسخہ بتائیے۔ دوا چھڑوائیے۔ اور روزہ رکھوائیے۔

کیوں کہ روزہ کا اصل مقصد  ’’تزکیۂ نفس اور تزکیۂ جسم‘‘ ہے۔ 

اور یہ صفات دوا کھا کے پیدا نہیں ہو سکتی۔

مفتیوں نے بھی فتنہ پیدا کیا ہوا ہے کہ

انجکشن لگانا جائز ہے۔ (اس کی تشہیر کی کیا ضرورت پڑی؟)

اور اس کی بھی تشریح اسی طرح کر رہے ہیں جس طرح امراض کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ ہمارے یہاں تو عبادات بھی خرافات کے ساتھ کی جانے لگی ہے۔ جس کی کئی مثالیں ابھی حال ہی میں سامنے آ چکی ہیں اور آئے دن آتی ہی رہتی ہیں۔ جیسے کہ مسجد کے علاوہ اضافی زمین پر مسجد کی توسیع۔ خواہ وضوخانہ کی شکل میں ہو یا بیت الخلاء و استنجا خانہ کے طور پراور  غلط طریقے سے بجلی کا استعمال۔ وغیرہ۔

اماموں اور پیشواؤں کا غلط طریقے سے چندہ کرنا اور اپنے مصرف میں استعمال کرنا۔ 

کیا اس طرح سے ہماری عبادتیں قابل قبول ہوں گی؟

کیا ایسے پیشواؤں کی پیروی کرتے ہوئے ہم ایک اچھے اور با اخلاق مسلمان ہو سکتے ہیں؟ جو دین کے نام پر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔

(محمد فیروزعالم) 

ری فورمسٹ،  ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537   

?🌹


 

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَا...