Friday, July 4, 2025

بیمار جنّتی

کھلی فضا میں رہنے والے بیمار حضرات و خواتین کی شکایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ مضمون تیار کیا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ جنت جیسی سہولت والی جگہ میں رہنے والے لوگ بھی جوڑوں کے درد، شوگر، بی پی، تھائرائیڈ، مائیگرین جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔


ایک صاحب نے مہاراشٹر سے فون کیا کہ ہمیں پیروں کی ورزش بتائیں۔ میں نے چلنے سے متعلق آپ کا مضمون پڑھا ہے۔

حالاں کہ چلنے سے متعلق تفصیلات وہاں موجود ہے، پھر بھی ان کا سوال ہے پیروں کی تکلیف سے متعلق۔ 

سوال تو ان کا بھی ہے جن کی عمر چالیس، پچاس، ساٹھ سال سے زائد ہیں۔

اور 

سوال اُن کا بھی ہے جو قدرتی ماحول میں رہتے ہوئے گھٹنے اور کمر درد میں مبتلا ہیں۔ بہت سے پچاس پلس پر کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ 

یہ تو لوگوں کے حالات ہیں۔

اب وجوہات پر غور کریں۔ پھر اس کا حل بتایا جائے گا۔

سب سے پہلی وجہ مادّی سہولت نے تن آسانی پیدا کی۔ جس کی وجہ سے روزمرہ کے وہ کام جو ہم خود کرتے تھے اب دوسروں پر منحصر ہو گئے۔ یا مشینی ذرائع پر منحصر ہو گئے۔ 

مثلاً مختصر سی مسافت کے لیے بھی بائیک یا کار کا استعمال کرتے ہیں۔ کھانے پینے و دیگر اشیاء کی ہوم ڈیلیوری۔

دوسری وجہ ضرورت سے زیادہ خوراک اور بے وقت کھانا۔

پہلے لوگ ’’دو جون کی روٹی‘‘ کے طلب گار ہوتے تھے اور اسی کے لیے محنت کرتے تھے۔ اب پانچ وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔

بیماری کی شکایت پر کوئی تنبیہ کرے تو کہا جاتا ہے کہ میرے پاس ہے تو کھاتے ہیں۔ میرے پیٹ موٹا ہونے سے تجھے کیا تکلیف ہے؟

ایسے اصول پسندوں کو جو دوقت کا کھانا کھاتے ہیں انہیں کنجوس یا غریب اور پچھڑا گردانا جاتا ہے۔

تیسری اور سب سے بڑی وجہ ’’لاپرواہی‘‘ ہے۔ جس کی فہرست بہت لمبی ہے۔

اب اِس کا حل کیا ہے؟

بازار میں کئی قسم کی سہولتیں دوا، آپریشن، اور بیساکھی یا تکیہ یعنی سہارا کی شکل میں موجود ہیں۔ قیمت دیجیے اور حاصل کیجیے۔

چاہیں تو دوا سے ٹھیک ہو سکتے ہیں یا مسلسل دوا پر جی سکتے ہیں۔

آپ چاہیں تو آپریشن کرا لیں۔ جسم کے کئی حصّے اور ہڈیوں کو بدلنے، بڑا کرنے، جوڑنے وغیرہ جیسی سہولتیں آ چکی ہیں۔ جیسے Hip, knee, spine Replacement وغیرہ، سب کو بدلا جا سکتا ہے اور بدلا جا رہا ہے۔ ہڈی جتنی بھی چور ہو چکی ہو اس کی جگہ نئی ہڈی لگائی جا سکتی ہے یا کسی دھات کی مدد سے ویسی ہی ہڈی بنا کر جوڑ دی جاتی ہے اور لنگڑاپن بھی نہیں آتا۔ آرام سے چل سکتے ہیں، گاڑی ڈرائیو کر سکتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ اپنی ضروری حاجت کے لیے دوسرے کے محتاج نہیں رہیں گے۔

تیسری صورت لاپرواہی کا ایک حصہ ہے، بیساکھی، تکیہ یعنی دوسرے کی مددلینا۔

یعنی یہ مان چکے ہوتے ہیں کہ اب ہمیں پوری زندگی دوا کے سہارے ہی زندگی گزارنا ہے۔ یا بیساکھی کے سہارے ہی چلنا پھرنا، یا یہ کہ اب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ

پہلی اور تیسری قسم کی سوچ والے لوگ زیادہ ہیں۔

پوری زندگی دوا کھاتے، بیساکھی پر چلتے، کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے گزار دیں گے لیکن درست علاج کراکر صحت مند زندگی نہیں گزاریں گے۔

بیمار شخص نہ اپنے لیے مفید ہے اورنہ معاشرہ کے لیے۔ ایک طرح سے یہ منفی سوچ کے لوگ ہیں اور معاشرہ میں منفی اثرات و سوچ پھیلانے کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔

معمولی درد کو بھی بہانہ بنا کر اور عمر عہدہ، مال کا دھونس جما کر بیچ صف میں کرسی لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ معاشرہ میں یہ کیا طریقہ اپنایا گیا ہے؟ 

ایسی حالت میں نہ آپ اللہ کے قریب ہو پارہے ہیں اورنہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔ بلکہ بچوں اور جوانوں کے ذہن کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ 

اگر واقعی معذور ہیں تو کرسی لے کر کنارے بائیں طرف بیٹھیے، کیوں کہ آپ کی بیماری نے آپ کو سطحی طور پر بچوں کی صف میں لا دیاہے۔ اب آپ اپنی سوچ اور جگہ کے اعتبار سے ہی اللہ کے زیادہ قریب ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا ایسے لوگوں سے میری درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے اپنے لیے بہتر بنیں یا نہ بنیں، لوگوں کے لیے بدتری اور برائی کا ذریعہ نہ بنیں۔

اب آئیے سب سے آسان حل پر۔

اللہ تعالیٰ نے جن کو قدرتی ماحول اور سہولیات فراہم کی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس سے استفادہ کریں۔ مادّی سہولتوں کے قدرتی سہولتوں کو ترجیح دیں۔ ہم نے دیکھا ہے اور جانا ہے کہ 

 ☆ …لوگ گاؤں میں بھی اے سی استعمال کرنے لگے ہیں اور پانی کے لیے مشین اور ٹینک استعمال کر رہے ہیں۔

 ☆ …گاؤں کے لوگ کنویں یا ہینڈ پائپ کا پانی استعمال کر سکتے ہیں لیکن نہیں کرتے۔ صاف پانی کہیں سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …رہائشی کمرے میں کھڑکی اور روشندان ضرور بنائیں۔ ضرورتاً ہلکا پنکھا اور ایگزاسٹ فین استعمال کریں۔

 ☆ …کم سے کم دو کلو میٹر روزانہ پیدل چلیں۔

 ☆ …خوراک کا عرصہ دس سے بارہ گھنٹے کا رکھیں۔

 ☆ …مغرب بعد کھانا کھالیں تاکہ کھانے اور سونے میں تین گھٹنے کا فاصلہ رہ سکے۔ دس بجے رات تک سو جائیں۔

 ☆ …موبائیل فون بند کرکے اپنے جسم سے دور رکھ دیں۔

 ☆ …کوشش کریں کہ کوئی بھی الیکٹریکل آلات آپ کے جسم سے قریب نہ ہو، کم سے کم دو فٹ کی دوری کا خیال رکھیں۔

 ☆ …اس سہولت کے لیے زیرو وولٹ میٹ اور تھریپی کا طریقہ رائج ہے، استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …فجر پڑھ کے پندرہ تا تیس منٹ چہل قدمی کریں۔ اگر گھاس دستیاب ہو تو اس پر ننگے پاؤں چلیں۔

 ☆ …ناشتہ میں پہلے پھل کھائیں، بعد میں گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …بھوکے پیٹ کبھی چائے نہ پئیں۔ خواہ بسکٹ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔

 ☆ …صبح سات بجے سے پہلے کچھ بھی نہ کھائیں۔ چائے تو بالکل نہ پئیں۔ پانی پی سکتے ہیں۔

 ☆ …جن کو اسموکنگ کی عادت ہے وہ بھی چھوڑیں۔ یہ بیماری کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 ☆ …دوپہر کے کھانا میں پہلے سلاد کھائیں۔ اس کے بعد گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …کھانے سے پہلے تھوڑا پانی پی لیں اور کھانے کے بعد بھی تھوڑا ہی پانی پئیں۔

 ☆ …باقی پانی کی ضرورت بیس منٹ سے چالیس منٹ کے دوران محسوس ہوگی۔ اب جی بھر کر پانی پئیں۔

 ☆ …رات کا کھانا مغرب بعد کھالیں۔ سات بجے کے بعد پانی تو پئیں لیکن کھانا نہ کھائیں اور نہ ہی چائے یا کافی پئیں۔


اب رہی بات ’’بیمار جنتی‘‘ کی تو یہ اللہ والے لوگ جن کو ہرا بھرا کھیت، میدان، کھلیان، پارک دستیاب ہیں وہ بھی اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ٹانگوں، گھٹنوں، کمر اور بدن کے دوسرے حصّوں کے درد میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ گنہگار ہی کا جنت میں داخلہ منع ہے، بلکہ بوڑھے اور بیمار بھی جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔

 ☆ …لہٰذا وہ لوگ جو باقاعدہ نماز ادا کرتے ہیں اگر کہیں غلطی کر رہے ہیں تو میری اُن سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے سنت طریقے کے مطابق نماز کی ادائیگی کریں تاکہ جوڑوں کے درد اوربیماری سے بچ سکیں۔ 

 ☆ …جن کو سانس کی تکلیف ہو وہ لمبا سجدہ کریں۔ نماز میں وہ ساری ورزشیں موجود ہیں، جسے کرنے کے لیے لوگ جم جایا کرتے ہیں اور پیسہ دیتے ہیں۔ 

 ☆ …مسجد جائیں،درست طریقے سے نماز کی ادائیگی کریں۔ 

 ☆ …ممکن ہو تو نوافل کی بھی ادائیگی کریں۔ نوافل میں قیام، رکوع، سجدہ کو اپنی سہولت کی اعتبار سے طول دیں یعنی لمبا، قیام، رکوع اور سجدہ کریں تاکہ تندرستی برقرار رہے۔ 

 ☆ …جم والی رقم سے ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ ضرورت مند کو خودکفیل بنائیں۔ اپنے ہر کام میں معیانہ روی اختیار کریں، زندگی بہتر ہو جائے گی۔ جنت صرف وہی نہیں جس کا وعدہ اللہ نے کیاہے۔ 


اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جنت جیسی سہولتیں اِسی روئے زمین پر بھی فراہم کی ہیں اس کا فائدہ اٹھائیں، صحت مند زندگی گزاریں۔ دنیا و آخرت دونوں سنور جائے گی۔ ان شاء اللہ

 ☆ ☆ ☆

 محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس 

9811742537

نوئیڈا، اترپردیش، ہندوستان

No comments:

Post a Comment

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...