Tuesday, March 25, 2025

Consumption of Zakat and our Attitude

 ⚽⚽زکوٰۃ کا مصرف اور ہمارا رویّہ⚽⚽

🌻🌻🌻

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 

(سورۃ التوبۃ، آیت ۶۰)

اس صدقہ سے مراد زکوٰۃِ واجبہ ہے۔ نہ کہ عام صدقہ جو سبھی کے لئے مستحب ہے۔ بغیر کسی کے کسی کا خاص نہیں۔ صدقات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اور کسی کے لیے نہیں، کیونکہ اس نے انہیں ان تک محدود کر دیا ہے، اور وہ آٹھ قسم کے ہیں۔

پہلا اور دوسرا غریب اور محتاج، اور وہ اس جگہ پر ہیں، دو مختلف قسم کے ہیں، غریب غریبوں سے زیادہ محتاج ہے، کیونکہ اللہ اُن سے شروع کرتا ہے، اور سب سے اہم کے علاوہ شروع نہیں کرتا، پھر سب سے اہم، لہٰذا غریب کو اس سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو کچھ نہیں ملتا، یا اس کے آدھے کے بغیر اپنی کچھ کفایت پاتا ہے۔

(اس کی تفصیل میں کئی قسم کے اختلافات ہیں) 

۳۔ عاملین، جو زکوٰۃ کو وصولنے یا رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ 

۴۔ تالیف قلب، دوسری ضرورت مند قوموں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے خرچ کرنا۔ 

۵۔ گردن چھڑانا، یعنی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے والے کو قید سے چھڑانا۔  

۶۔ قرض دار (اس کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں)  

۷۔ اللہ کی راہ میں حملہ آور 

۸۔ مسافر اور اجنبی (یہ آیت تفصیل طلب ہے۔)

مذکورہ امور اور اس کی اقسام سے وہ سبھی اہلِ علم واقف ہیں، جو قرآن و حدیث کے عالم و عامل ہیں۔ وضاحتی مضامین و تقاریر کی بھی کمی نہیں ہے۔ عمومی سوال یہ آتا ہے کہ قوم کی غربت اور بے کسی کیوں دور نہیں ہو رہی ہے؟ ہمارے مالیات کا شعبہ اتنا غیر منظم کیوں ہے؟ ہر سال صدقہ وصولنے والے دور دراز کا سفر کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مدارس میں سفراء رکھنے کا رواج اور ضرورت کیوں ہے؟ ہم خود علاقائی طور پر اپنے ادارے چلانے کے اہل کیوں نہیں ہیں؟ اور سب سے اہم کہ ہم اپنی وراثت کی حفاظت کیوں نہیں کر پارہے ہیں؟

کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ یہ ہر ایک کے بعد دوسرے کے پاس مشورہ موجود ہے۔ کرنے کی باری آئے تو آئیں بائیں شائیں۔ اگر چند لو گ تیار بھی ہو جائیں تو اِس میں ہمارا حصّہ کتنا ہوگا؟ یا ہمارا کیا فائدہ؟ 

تنظیمی لائحہ عمل موجود ہے لیکن اُس پر عمل کرے گا کون؟

ایک بہتر لائحہ عمل موجود ہونے کے باوجود ہمارے اندر کچھ کمیاں ہیں، جو ہمیں مالیاتی اور علمی طور پر خود کفیل نہیں ہونے دیتی۔ جس کی وجہ سے ہمارا شمار علمی اور مالی طور سے پسماندگی میں کیا جاتا ہے۔ اگر ہم محلّہ اور گاؤں کے سطح پر بھی اس بہتر بنانے کا ارادہ کر لیں تو کوئی بعید نہیں کہ ہم چند برسوں میں بہتر ادارہ اور اچھے تعلیم یافتہ تیار کرسکیں۔

سب سے پہلے فریضہ کو سمجھیں اور اسے عمل میں لائیں۔

معاشرتی امور کو برتنے میں سنت طریقہ کو عمل میں لائیں۔

نوافل اپنی اپنی مرضی کی ہوتی ہے، اُس پر زور دینا اور ضرورت سے زیادہ ثواب اور جنت کی لالچ دے کر سنن کی خلاف ورزی کرتے ہیں، فرائض سے لاپرواہی برتنا بالکل بند کریں۔ ضعیف، کمزور، غیرمتواتر یا بزرگوں کے اقوال کو بنیاد بنا کر دین کی تبلیغ کرنا بالکل بند کریں۔ فرائض چھوڑ کر فضائل کی رغبت دلانا عقل مندی نہیں ہو سکتی۔ ہاں فرائض اور سنن پر عمل کرتے ہوئے لوگ خود بخود فضائل کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ

عبادات میں سب سے پہلے رواجی طریقۂ کار کو چھوڑیں اور جو رواجی طریقۂ کار پر عمل نہیں کرتے ان کو زبردستی فضائل بیان کرکے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارے یہاں ایک جماعت جو برسوں سے لوگوں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے، ان کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وہ جوڑنا تو چاہتے ہیں لیکن خود جڑنا نہیں چاہتے۔ کوئی بھی ایرا غیرا جس کے دماغ میں فضائل کا جرثومہ پیدا کر دیا گیا ہے، کسی بھی وقت کو کسی کے بھی دروازے پر تبلیغ کے لیے دستک دیتے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی غیرذمہ دارانہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں، جو فرصت میں ہوتے ہیں، یعنی بچوں کی کمائی سے گھر کا گزارا ہوتا ہے، ایسے لوگ مسجدوں کا رُخ اختیار کرتے ہیں، نوجوانوں کو فرائض چھڑوا کر فضائل کا خواب دکھا کر دین سے بے رغبتی پیدا کرنے والے بن چکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے اِس جماعت کا کام اُن لوگوں کے لیے بے حد کارگر ہے جو کلمہ تک نہیں جانتے، الف کتنی لمبی ہوتی ہے یا کس طرح کی آواز پیدا کرتی ہے۔ ان کو انھوں نے جوڑا ہے تو یہ یقیناً اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن جو کسی طرح اپنی کوشش اور محنتوں سے عام روش میں چل رہے ہیں، اُن کو بے راہ رو کرنے میں بھی اُن کا اہم کردار ہے، جو کہ منفی کردار ہے۔

آخر لاکھوں کی تعداد میں مدارس کے قیام سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا سو سے پانچ سو خاندان کا محلّہ یا گاؤں اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ ایک مکتب کا قیام کر سکے اور اس کے اخراجات اٹھا سکے؟ اپنی ساری ضروریات کے لیے ان کے پاس مال ہوتا ہے اور اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانے کے مختصر سی رقم نہیں ہوتی کہ بچے کی ٹیوشن فیس ہی دے سکیں؟ اگر سو خاندان کا ایک گاؤں ہے تو وہاں ایک مسجد تو ہوگی، اُسی مسجد میں باقی وقت میں مکتب آرام سے چلتا ہے اور چلایا بھی جا رہا ہے۔ اپنے ہی گاؤں کے پڑھے لکھے حافظ مولوی کو کیوں نہیں مقرر کیا جاتا؟ کیوں اُس کو وہ معاوضہ اور عزت نہیں دی جاتی کہ وہ دوسرے شہر یا گاؤں کا رُخ کرتے ہیں۔ مکاتب کا قیام ہر محلّہ اور گاؤں میں ضروری ہے، جو عصری تعلیم سے واقف ہیں وہ اپنا وقت اس کی تعلیم دینے میں خرچ کریں، بدلہ میں اُن کو بھی معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی آگے کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اور محلّہ کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکیں۔ ابتدا سے پانچ درجات تک اتنی صلاحیت پیدا کر دیں وہ کسی بھی سرکاری اسکول کے درجہ چھ میں داخل ہو سکے۔

ہر ایک طالب علم سے بطور ٹیوشن فیس تین سو سے پانچ سو روپے لیا جائے۔ اگر سو بچوں سے یہ فیس وصول ہو جائے تو تیس ہزار روپے ماہانہ آ جائے گا جو تین اساتذہ اور دفتری امور کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ تعلیم گاہ کے طور پر فی الحال مسجد کو استعمال کیا جائے۔ اور گاؤں کے لوگ ہی اپنے پیسے پس انداز کرکے ضرورت کے تحت تعلیمی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے عمارت کی تعمیر کریں۔ ان شاء اللہ بہت جلد بہتری آئے گی۔ نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن پڑھانے کے لیے دور دراز علاقوں سے بچّوں کو لانے لے جانے کا سلسلہ بالکل بند کیا جائے۔ ہر چھوٹا سا ادارہ بیرونی طلباکے نام پر صدقہ زکوٰۃ وصول رہا ہے اور غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ غیرمستحقین کو مستحق بتا کر صدقہ خرچ کیا جانا بہت بڑی بددیانتی ہے۔  (لائحہ عمل موجود ہے اور ہر علاقہ میں بنانے والے بھی موجود ہیں)

اب جو مدارس یا ادارے آگے کی تعلیم دیتے ہیں وہاں داخل کرایا جائے۔ تاکہ وہ چھ سے آگے کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان میں ایسے مدارس کی وافر تعداد موجود ہیں، جو یہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے یہاں عصری تعلیم کا پورا بندوبست ہے۔ چھ سے دس تک کراتے ہیں لیکن ایسے بھی کافی ادارے ہیں جو آگے کی تعلیم دینی اور عصری دونوں ہی فراہم کراتے ہیں۔ بچوں کو وہاں بھیجیں، وہ بھی اتنی دور نہیں بھیجیں کہ آمد و رفت مشکل ہو اور کسی ناگہانی میں بچے سے ملاقات کرنی مشکل ہو۔ جو بھی ادارہ کی جانب سے خوراکی اور مختصر انتظامی فیس ہو، اسے ادا کریں۔ یاد رکھیں صدقہ یا زکوٰۃ کی فہرست میں اگر آپ نہیں آتے ہیں، اور آپ استعمال کرتے ہیں تو گویا آپ مستحق کا حق مارتے ہیں۔ یہ استحقاق کو آپ نے سمجھ لیا تو آپ کے گھر میں برکت ہوگی، بچے تعلیم یافتہ اور فرمابردار ہوں گے۔ دنیا و آخرت کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔

اب بات آتی ہے دسویں کے بعد کی تعلیم کیسے کی جائے؟ تو

پہلی صورت تو یہ کہ دینی ادارہ میں تعلیم مکمل کریں جسے عالمیت یا فضیلت کہا جاتا ہے، کئی جگہ تخصص کے بھی شعبے ہیں، اس کے بعد آپ چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ 

اگر ادارہ میں سینئر سیکنڈری کی عصری تعلیم نہیں ہے تو وہیں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں گیارویں اور بارویں علاقائی اسکول سے مکمل کریں۔ اب بھی آپ آگے کی تعلیم مدرسہ سے پوری کر سکتے ہیں، یا اگر آپ دیگر علوم، جیسے وکالت، انجینئرنگ، طب، مینجمنٹ آئی اے ایس، آئی پی ایس، وغیرہ میں جانا چاہتے ہیں تو مدرسہ کی تعلیم چھوڑ سکتے ہیں۔ یہاں پر اصل میں آپ خود سوچنے سمجھنے کے قابل ہو جاتے تو آپ خود سے، ساتھیوں یا اساتذہ کے مشورہ سے اپنی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھیں اور اپنی پسندیدہ موضوع میں قابلیت حاصل کرکے اپنے اور معاشرہ کے لیے بہتری کا ذریعہ بنیں۔ 

دور دراز کا سفر خواہ تعلیم کے لیے یا صدقہ وصولنے کے لیے، یہ دونوں طریقہ غلط رائج ہو چکا ہے۔ ہجرت کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔ اگر علاقائی بنیاد پر ہی صدقہ حاصل کرنا ضروری ہے تو وہاں کے لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پہلے اپنے گاؤں کی ضرورت پوری کی جائے، بعد میں پڑوسی گاؤں کا خیال رکھا جائے۔ مالدار کسی بھی میدان کے ماہر صنعت کار اپنی زکوٰۃ و خیرات پہلے اپنے قریبی علاقہ پر خرچ کریں، وہاں کے لوگوں اور ادارہ کو مستحکم کریں۔ اس کے پڑوسی یا دور دراز کے ضرورت مندوں کی امداد کریں۔

مدارس میں اور زکوٰۃ کے اداروں میں منتظم اور محصل تو ہونا ہی چاہیے لیکن لوگوں میں بھی یہ فرض کی ادائیگی کا احساس ہونا ضروری ہے کہ اُس مال کو ضرورت مند تک پہنچائیں۔ ہماری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم مال کا بندر بانٹ کر رہے ہیں۔ اور ضرورت مندوں کو خود کفیل نہیں بنا پا رہے ہیں۔

اس بات کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں ایک ڈیٹا آیا ہے کہ گزشتہ سال بیس لاکھ کروڑ روپے زکوٰۃ نکالے گئے۔ اتنی رقم کو مستحقین میں تقسیم کیا جائے تو ہم کسی بھی صورت میں اگلے سال کسی بھی مالی تعاون حاصل کرنے کے قابل نہیں بچیں گے۔ پورے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ بیس ہزار کروڑ روپے یا بیس لاکھ کروڑ روپے۔ اگر ہم بیس ہزار کروڑ روپے ہی زکوٰۃ و صدقات کا مان لیں اور اسے دس کروڑ لوگوں میں بھی تقسیم کریں گے توایک فرد کو دو لاکھ روپے ملیں گے۔ اگر پانچ نفوس پر مشتمل خاندان ہے تو ان کی کل سالانہ آمدنی دس لاکھ روپے ہوگئی۔ جب کہ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جس آمدنی دو سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ نہ وہ زکوٰۃ لینے کے قابل ہیں نہ دینے کے قابل۔ لیکن اپنی زندگی بہتر گزار رہے ہیں۔ پھر وہ رقمیں کہاں کھپ گئیں؟ قوم میں ہر برس کتنے لوگ خود کفیل بنتے ہیں؟ کتنے لوگ تعلیم یافتہ بن کے سماج کی بھلائی کاذریعہ بنتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب نہیں دیا گیا تو حالات بد سے بدتر ہوتے رہیں گے۔ مسلم قوم کبھی بھی مالیاتی طور پر خود کفیل نہیں بن سکے گی اور نہ عزت کا مقام حاصل کر سکے گی۔ ’’زکوٰۃ کے ذریعہ مدارس کے طلبہ اور غریبوں کی مدد کریں‘‘ جیسے بیانات اور درخواستیں آتی رہیں گی۔

🌻🌻🌻

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،  ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537   


Sunday, March 23, 2025

Unani Medicine ➖ Effective treatment method

 طب یونانی ➖ کارآمد طریقہ علاج

ایک صحت مند زندگی کے لیے آگ، پانی، ہوا، دھوپ اور مٹی کا اہم کرادار ہے۔ اُن سے پیدا ہونے والی یا بننے والی چیزیں ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر ہم اُن چیزوں سے ہٹ کر کسی بھی مصنوعی طریقے سے اپنے کو صحت مند رکھنا چاہیں تو ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔

دنیا جب سے بنی ہے، مختلف ادوار میں صحت و امراض کا آپس میں تعلق رہا ہے، بنی نوع انسان نے اپنی سوجھ بوجھ اور عقل و خرد سے صحت مند رہنے کے طریقے اپنائے اور اچھی اور بہتر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے نوع انسانی نے دنیا کی سیر کی اور قدرتی انفاس سے سامنا ہوتا گیا ویسے ویسے اُن کو اپنانے یا بچاؤ کرنے کے طریقے ایجاد کئے جاتے رہے اور اپنائے جاتے رہے۔ عام انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جوں جوں انسان نے ترقی کی توںتوں حالات سے نبردآزما ہونے کے طریقے ایجاد کرتے رہے اور اپناتے رہے۔ اور پھر ایک وقت یہ آیا کہ مختلف النوع طور طریقے کے انسان آمنے سامنے ہوئے تو مزید کئی قسم کی نئے طور طریقے اور نئی معلومات سے آگاہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حالات بدلے اور انسانی سوچ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مختلف مقامات پر مختلف طرح کے نباتات و جمادات اور حیوانات وغیرہ سے استفادہ کرنے کا عمل جاری و ساری ہو گیا۔ لیکن قدرتی نظام کے تحت مثبت کے ساتھ منفی کردار بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ 

خودغرضی اور مطلب پرستی کا سلسلہ توآدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی لڑائی کے بعد سے ہی جاری ہوگیا تھا۔ کیوں کہ وہاں خودغرضی ہی قتل کا سبب بنا تھا۔ اور آج بھی ایسا سلسلہ جاری ہے۔ زندگی کو بہتر بنانے کے جتنے بھی طور طریقے بنی نوع انسان کے سامنے آئے، انہوں نے اسے سب کے لیے رائج کرنے کے بجائے علاقہ اور طور طریقے میں بانٹ کر کئی حصے کر دیئے۔ جیسا کہ ہر قسم کے علم و عمل اور صحت و عافیت کے میدان میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ منفی سوچ اور خودغرضی و مطلب پرستی سے صحت و عافیت کا میدان بھی پاک نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف انسان نے مختلف طریقہ کو مختلف ناموں سے تعارف کرایا اور صحت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا، وہیں دوسری طرف خودغرضی نے ایک دوسرے کی برتری اور ابتری کا نزاع بھی رائج کر دیا اور مختلف طریقہ ہائے علاج کو ایک دوسرے سے تولنے کی کوشش کی جانے لگی اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے اور وہ طریقہ تو کچھ بھی نہیں۔ اور ابتری ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کے الفاظ اور جملے سماج میں رائج کئے جا چکے۔ جسے طب کے میدان میں کام کرنے والے اور دلچسپی رکھنے والے اصحاب بولتے اور سنتے رہے ہیں۔ جب کہ حالات کو غور سے دیکھا جائے تو ایسا قدرتی نظام میں ہرگز نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کا ہر وہ طریقہ جسے قدرت نے دیا ہے، وہ سب کے سب نوع انسانی کی بھلائی کے لیے ہی ہے۔ اور اسے انسان کے سوچ و فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کون اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔

ہمیں نہ تو نئے طور طریقے سے پرہیز ہے اور نہ پرانے طریقے سے الرجی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا معاشرہ سست ذہنیت کی طرف رواں دواں ہے، جس کے نتیجے میں بیمار ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو، افاقہ کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایلوپیتھی طریقہ علاج سب سے کارگر ہے۔ حالاں کہ بہت سے ایسے امراض ہیں جس کا علاج اِس پیتھی میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے ریسرچ اسکالرز اور طب کے ماہرین کہنے لگے ہیں کہ علاج کے لیے ہمیں اب integration  یعنی انضمام کی طرف آنا پڑے گا۔ یعنی جس پیتھی میں جس مرض کا درست، بروقت اور بہتر علاج موجود ہے اسے اپنا کر صحت کو بہتر بنایا جائے۔ اگر متعدی مرض یا طاعون لاحق ہو گیا ہے تو آج بھی دیسی علاج کارگر ہے۔ دیسی علاج سے مراد یہاں یونانی پیتھی اور آیورویدا ہے۔ یہاں پر وہ گھریلو نسخے موجود ہیں جسے اپنا کر بھیانک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں سانس کی ہونے والی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ تر یونانی اور آیوروید کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے اور اس سے بھی زیادہ لوگ قدرتی طریقے علاج سے صحت مند ہوئے۔ نیچروپیتھی بھی ایک آسان طریقہ علاج ہے۔ جس کو اپناکر جلدی صحت مند ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا ایک طریقہ ہومیوپیتھی بھی ہے جسے اکثر لوگوں نے درکنار کیا ہوا۔ شاید اِس کی ایک وجہ اس کا سستا اور کم مقدار میں ہونا ہے۔ جب کہ لوگوں کا رُجحان سست روی، زیادہ کھانا پینا کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج کو بھی پیسہ کے بدلے میں پورا پیکیج کا خواہشمند ہونا بھی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

کبھی کبھی منفی رُجحان اور عمل بھی اس میدان کو بے کار و بے اثر بنانے میں معاون بن جاتا ہے، جیسا کہ یونانی پیتھی اور اس کے کارکنان کو نیچا دکھانے کی کوشش کے طور پر کئی میڈیکل کالجز یا اسپتال میں طلباء اور اسٹاف کے درمیان معمولی غلط فہمی یا کمی کو بڑا بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اِس طرح کی حرکت سے جہاں طلباء میں مایوسی اور نامرادی پھیل جاتی ہے۔ کیوں کہ اُن کا سرمایہ اور وقت خرچ ہوا ہے، اگر اس خرچ اور وقت کا درست اور خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آتا تو دنیا تاریک دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض خودغرض اساتذہ اور اسٹاف بھی اصول و ضوابط اور اخلاقی رویّہ کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنا مطلب نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔  اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف ذاتی نقصان ہوتا ہے بلکہ پورا کا پورا وہ طبقہ بدنام ہوتا ہے، جس کا نشانہ اس علم و عمل کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کس طرح سے بزرگوں نے اس علم کو فروغ دینے کے لیے شب و روز محنت کی اور جان و مال قربان کیا۔

دُکھ کا مقام یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی اداروں کو وراثت نے نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ اُن کے وارثین میں تو قابل اور اہل پیدا نہ ہو سکے، مجبوراً وہ اہم عہدوں پر فائز رہ کر ادارہ کو چلا رہے ہیں اور تعلیم یافتہ تجربہ کار اور اہل لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس نے انہیں غیراصولی طریقہ کار اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے اور اہل اپنی دو وقت کی روٹی اور عزت بچانے کے لیے بھی غیراصولی کاموں میں شامل ہوتے رہے اور جب مارکٹ میں پروڈکٹ ناکام ثابت ہوتا ہے تو نہ صرف کمپنی اپنا اعتبار کھوتی ہے بلکہ وہ طریقہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ یونانی پیتھی کے ساتھ بھی ہونے لگا۔ تبھی ہندوستانی بابائے طب حکیم اجمل خاںؒ کے پڑپوتے محترم حکیم مسرور احمد خاں نے ۱۲؍فروری ۲۰۲۵ء بروزِ بدھ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے منعقدہ ورلڈ یونانی میڈیسن ڈے کے موقع پر کہا کہ

 ’’یونانی دوا ساز کمپنیاں ملاوٹ کرنے سے پرہیز کریں‘‘ 

جب کہ دیگر ماہرین نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

 ☆کرونا میں یونانی طریقہ علاج نے مریضوں کو نئی زندگی بخشی، 

ڈاکٹر سیّد فاروق

 ☆حکیم اجمل خاں طبیہ کالج میں حکیم صاحب کے نام پر میوزیم بنایا جائے۔ 

سیّد احمد خان

 ☆یونانی طریقہ علاج میں پی ایچ ڈی کی طرف توجہ ضروری، 

پروفیسر مشتاق احمد

جب کہ میری رائے ہے کہ

بیماری سے بچنے کے لیے خالص غذائیت پر توجہ دیا جائے۔

اور

طب یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لیے خالص ادویہ اور بروقت علاج کی فراہمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر یونانی پیتھی کے دوا ساز ادارے خلوص دل سے اعلیٰ قسم کی ادویہ فراہم کرائیں تو بعید نہیں کہ اِس پیتھی سے لوگ بے رغبت ہوں۔ کہیں نہ کہیں بداخلاقی اور بدانتظامی بھی فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن ہی جاتا ہے۔

میری گزارش اور درخواست ہے کہ جو لوگ بھی اِس فن کو سیکھیں، اس میں بنیادی پہلوؤں اور طریقوں کا دھیان رکھیں۔ خاص طور سے خام مال کی پہچان، فراہمی، موسم، اجزائے ترکیبی کی تعلیم ضرور دیں۔اساتذہ اپنی ذمہ داری کا خیال رکھیں۔ اگر خود غرضی اور لاپرواہی جیسے حالات پیدا ہوتے رہے اور اداروں میں سستی اور لاپروائی بڑھتی رہی تو دن دور نہیں جب حکومت کی توجہ کم ہو جائےاور ادارہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ نئے حالات اور اشیاء پر غور و خوض اور تحقیق کیا جائے اور رائج کیا جائے۔ طب یونانی طریقہ علاج بہت بہتر ہے۔ یقین اور اعتماد کی سخت ضرورت ہے۔ 

17th February 2025

 ☆ ☆ ☆

نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس، 

9811742537


Thursday, March 20, 2025

Integrated System of Medicine

 انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن


آئی ایس ایم یعنی انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن کے ڈاکٹرس سیل کی جانب سے ۲۲؍جنوری ۲۰۲۵ء کوشکشک سدن، سورج مل وہار، دہلی ۹۲ میں انٹی گریشن کے موضوع پر ایک کانفرس کا انعقاد اپنے وقت مقررہ پر ہوا۔ مقررین کے علاوہ دہلی اور قرب و جوار کے دو سو سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

خاص مقررین میں جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے فورمر ڈین اورمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ایم عارف زیدی، فورمر ڈائرکٹر آیوش، میونسپل کارپوریش آف دہلی، چندر کیتو،Fleix گروپ آف ہاسپیٹلس کے چیئرمین اور ایم ڈی ڈاکٹر وائی کے تیاگی سابق صدر دہلی بھارتیہ چکتسا پریشن (ڈی بی سی پی)، ڈاکٹر فرحت عمر سابق رجسٹرار ڈی بی سی پی اور ڈاکٹر دھرمیندر کمار ڈسٹرکٹ A&U آفیسر جی بی نگر، یوپی؛ شامل تھے۔

مقررین نے ڈاکٹروں کے طریقۂ علاج اور قانونی سہولیات اور پیچیدگیوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور بتایا کہ کیسے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت اصل نشانہ ہونا ضروری ہے۔Quack صرف وہ ڈاکٹرس نہیں ہیں جو غیر سند یافتہ اور نیم حکیم جو کسی بھی طریقے سے علاج کرکے پیسے کماتے اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں (مریض صحت یاب ہو یا نہ ہو کوئی مطلب نہیں )بلکہ وہ سند یافتہ ڈاکٹرس بھی ہیں جو مرے ہوئے کو بھی وینڈی لیٹر پر رکھ کر بل بناتے ہیں، اسپتال میں آئے کسی بھی مریض کو نہیں چھوڑتے اور غیرضروری آپریشن کرکے لوگوں کا مال ہڑپ کرتے ہیں۔

انڈین سسٹم آف میڈیسن سیل بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جو بھی ممکنہ طریقہ ہندوستانی رائج ہے، اس کے ذریعہ مریض کو صحت مند بنایا جائے۔ آیوش منترالیہ نے اس بات کی ہمیں اجازت دی ہے۔ مریض صرف دوا سے صحت مند نہیں ہو سکتا۔ ساتھ میں دوسرے طریقہ کار جیسے آیورویدا، یوگا، یونانی، سدھا، ہومیوپیتھی اور نیچروپیتھی وغیرہ کواپنا کر مریض کو صحت مند بنایا جاسکتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ گزشتہ دنوں آئے پینڈمک صورتِ حال کے گزرنے والے سانس کے مریض کی اسپتالوں میں اکثر لوگوں کی موتیں ہوئیں، جب کہ زیادہ تر لوگ آیورویدک کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے۔ یا آیوش منترالیہ کے ذریعہ بتائے گئے طریقے کو اپنا کر صحت مند ہوئے۔

ایلو پیتھ کے ماہر ڈاکٹر چندر کیتونے یہ بھی بتایا کہ COPD, PCOD اور اس طرح کے نازک اعضاء کی تکلیفات میں ہومیوپیتھی اور نیچروں پیتھی میں آسان اور کم خرچ کا علاج موجود ہے، لوگوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ لیکن لوگوں کی سوچ بڑی عجیب ہے کہ ایک خوبصورت کمرہ اے سی میں بیٹھا ایلو پیتھ ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے گھنٹوں انتظار کرتا ہے،  اس کو وہ مہینوں فیس دیتا ہے اور دوا کھاتا رہتا ہے لیکن ایک عام طریقے سے علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتا۔ نتیجتاً وہ دوا کھاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ جب کہ یوگا اور کھان پان پر توجہ دے کر ہمیشہ کے لیے ایسی خطرناک بیماریوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

اس کانفرس میں شروع سے آخر تک میری شرکت رہی۔ جس میں غیراصولی اور لاپرواہی یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ آدھے سے زیادہ لوگ آپسی گفتگو میں مصروف تھے۔ اللہ بہتر جانے یہ لوگ مریضوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے۔ مقررین کی کئی بار درخواست کرنے کے بعد بھی تھوڑی دیر خاموشی رہتی پھر وہی آپسی گفتگو۔

غیراصولی اور لاپرواہی کے دو نمونے اور دیکھنے کو ملے۔ پہلا؛ پچیس سے پچاس برس کی عمر کے بیس فیصد ڈاکٹرس گنجے پن کے شکار پائے گئے۔ دوسرا؛ دس فیصد لوگوں کی نظریں کمزور ہوگئیں، یعنی وہ نظر کا چشمہ استعمال کر رہے ہیں۔ اندازہ تو یہی ہوا کہ یہ تیس فیصد ڈاکٹرس خود لاپرواہی کے مریض ہیں۔

راشٹریہ گان سے کانفرنس کی شروعات ہوئی اور اسی سے اختتام بھی ہوا۔

رپورٹ؛ محمد فیروز عالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

23rd January 2025


🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...