Thursday, March 20, 2025

Integrated System of Medicine

 انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن


آئی ایس ایم یعنی انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن کے ڈاکٹرس سیل کی جانب سے ۲۲؍جنوری ۲۰۲۵ء کوشکشک سدن، سورج مل وہار، دہلی ۹۲ میں انٹی گریشن کے موضوع پر ایک کانفرس کا انعقاد اپنے وقت مقررہ پر ہوا۔ مقررین کے علاوہ دہلی اور قرب و جوار کے دو سو سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

خاص مقررین میں جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے فورمر ڈین اورمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ایم عارف زیدی، فورمر ڈائرکٹر آیوش، میونسپل کارپوریش آف دہلی، چندر کیتو،Fleix گروپ آف ہاسپیٹلس کے چیئرمین اور ایم ڈی ڈاکٹر وائی کے تیاگی سابق صدر دہلی بھارتیہ چکتسا پریشن (ڈی بی سی پی)، ڈاکٹر فرحت عمر سابق رجسٹرار ڈی بی سی پی اور ڈاکٹر دھرمیندر کمار ڈسٹرکٹ A&U آفیسر جی بی نگر، یوپی؛ شامل تھے۔

مقررین نے ڈاکٹروں کے طریقۂ علاج اور قانونی سہولیات اور پیچیدگیوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور بتایا کہ کیسے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت اصل نشانہ ہونا ضروری ہے۔Quack صرف وہ ڈاکٹرس نہیں ہیں جو غیر سند یافتہ اور نیم حکیم جو کسی بھی طریقے سے علاج کرکے پیسے کماتے اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں (مریض صحت یاب ہو یا نہ ہو کوئی مطلب نہیں )بلکہ وہ سند یافتہ ڈاکٹرس بھی ہیں جو مرے ہوئے کو بھی وینڈی لیٹر پر رکھ کر بل بناتے ہیں، اسپتال میں آئے کسی بھی مریض کو نہیں چھوڑتے اور غیرضروری آپریشن کرکے لوگوں کا مال ہڑپ کرتے ہیں۔

انڈین سسٹم آف میڈیسن سیل بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جو بھی ممکنہ طریقہ ہندوستانی رائج ہے، اس کے ذریعہ مریض کو صحت مند بنایا جائے۔ آیوش منترالیہ نے اس بات کی ہمیں اجازت دی ہے۔ مریض صرف دوا سے صحت مند نہیں ہو سکتا۔ ساتھ میں دوسرے طریقہ کار جیسے آیورویدا، یوگا، یونانی، سدھا، ہومیوپیتھی اور نیچروپیتھی وغیرہ کواپنا کر مریض کو صحت مند بنایا جاسکتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ گزشتہ دنوں آئے پینڈمک صورتِ حال کے گزرنے والے سانس کے مریض کی اسپتالوں میں اکثر لوگوں کی موتیں ہوئیں، جب کہ زیادہ تر لوگ آیورویدک کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے۔ یا آیوش منترالیہ کے ذریعہ بتائے گئے طریقے کو اپنا کر صحت مند ہوئے۔

ایلو پیتھ کے ماہر ڈاکٹر چندر کیتونے یہ بھی بتایا کہ COPD, PCOD اور اس طرح کے نازک اعضاء کی تکلیفات میں ہومیوپیتھی اور نیچروں پیتھی میں آسان اور کم خرچ کا علاج موجود ہے، لوگوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ لیکن لوگوں کی سوچ بڑی عجیب ہے کہ ایک خوبصورت کمرہ اے سی میں بیٹھا ایلو پیتھ ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے گھنٹوں انتظار کرتا ہے،  اس کو وہ مہینوں فیس دیتا ہے اور دوا کھاتا رہتا ہے لیکن ایک عام طریقے سے علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتا۔ نتیجتاً وہ دوا کھاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ جب کہ یوگا اور کھان پان پر توجہ دے کر ہمیشہ کے لیے ایسی خطرناک بیماریوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

اس کانفرس میں شروع سے آخر تک میری شرکت رہی۔ جس میں غیراصولی اور لاپرواہی یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ آدھے سے زیادہ لوگ آپسی گفتگو میں مصروف تھے۔ اللہ بہتر جانے یہ لوگ مریضوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے۔ مقررین کی کئی بار درخواست کرنے کے بعد بھی تھوڑی دیر خاموشی رہتی پھر وہی آپسی گفتگو۔

غیراصولی اور لاپرواہی کے دو نمونے اور دیکھنے کو ملے۔ پہلا؛ پچیس سے پچاس برس کی عمر کے بیس فیصد ڈاکٹرس گنجے پن کے شکار پائے گئے۔ دوسرا؛ دس فیصد لوگوں کی نظریں کمزور ہوگئیں، یعنی وہ نظر کا چشمہ استعمال کر رہے ہیں۔ اندازہ تو یہی ہوا کہ یہ تیس فیصد ڈاکٹرس خود لاپرواہی کے مریض ہیں۔

راشٹریہ گان سے کانفرنس کی شروعات ہوئی اور اسی سے اختتام بھی ہوا۔

رپورٹ؛ محمد فیروز عالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

23rd January 2025


No comments:

Post a Comment

عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام

ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ ک...