Effects and treatment of Heatstroke
ہیٹ اسٹروک یا سن اسٹروک جسے ہندوستانی زبان میں لو کہتے ہیں یہ جانداروں پر براہِ راست دھوپ کی شدید گرمی اور ہوا میں نمی کی کمی اور مناسب مقدار کے ساتھ ہوا نہ چلنے، یعنی حبس سے پیدا ہوتی ہے۔ پسینہ زیادہ آنے سے جسم میں مائعات اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ جسم میں درجۂ حرارت کا کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے اور حرارت جسم میں جمع ہوجاتی ہے اور لُو لگنے کا باعث بنتی ہے۔ کسی بھی انتہائی گرم سال، ہندوستان میں ہزاروں افراد شدید گرمی یا لُو لگ جانے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
لُو سے متاثر ہو جانے کی کچھ اہم علامات،جیسے چکر آنا، سر میں ہلکا پن محسوس ہونا اور ٹانگوں میں اکڑن ہونا ہیں۔ مسلسل بہنے والا پسینہ، سر درد، متلی اور شدید تھکاوٹ بھی لُو کی وابستہ علامات ہیں۔ تاہم، لوگوں کی صحت کی حالت مختلف ہو سکتی ہے اور کچھ لوگ کھڑے ہونے میں مشکل، سانس رکنے، ہاتھ پاؤں سُن ہو جانے، دل کی تیز دھڑکن، پٹھوں میں درد اور اسہال کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
بچّے ہیٹ اسٹروک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ جسم کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے کی ان کی صلاحیت پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی۔ ایک اور عنصر یہ ہے کہ ان کا قد بالغوں کی طرح بلند نہیں ہوتا، اس لیے وہ زمین سے منعکس ہونے والی گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی بالغ کے سر کے ارد گرد کا درجۂ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، تو یہ بچے کے قد پر 35 ڈگری ہوگا۔ بچہ چہل قدمی کر رہا ہو تو یہ اور بھی زیادہ ہوگا۔ اس کی حفاظت کے لیے ایسے دنوں میں بچوں کو ٹوپیاں پہننی چاہیے، اپنے ساتھ قدرتی ٹھنڈے مشروبات رکھنے چاہیےاور زیادہ دیر تک باہر کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے۔
نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ معمر افراد بھی اَن جانے میں پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں، کیوں کہ وہ نوجوانوں کی طرح گرمی یا پیاس محسوس نہیں کرتے اور وقت پر مناسب مقدار میں پانی یا کوئی مشروب نہیں پیتے۔ آہستہ آہستہ انہیں پسینہ آنا بند ہو جائے گا، اور وہ اپنے جسم کے درجۂ حرارت سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو دیں گے اور انہیں لُو لگ جائے گی۔ اکثر لوگوں کو بار بار پیشاب خارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس خوف سے پانی کم پیتے ہیں یا دیگر قدرتی ٹھنڈے مشروبات سے بچتے ہیں، یہ اُن کے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ بزرگوں اور بچوں کو گھر میں یا کسی ایک کمرہ میں اکیلا نہ چھوڑیں۔ اگر آپ گھریلو کام میں مصروف ہو تو بھی اپنے ساتھ کسی کو بطور معاون ضرور رکھیں۔ دفاتر یا کام کی جگہ میں بھی گروپ میں کام کریں۔ اگر آپ کا کام اکیلے کیبن میں بیٹھ کرنے والا ہو تو اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کسی بھی طرح کی ہونے والی دقتوں اور پریشانیوں کے بارے میں منتظمہ کو آگاہی میں رکھیں۔ بزرگوں کے آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ وہ اکیلے رہنے والے بزرگ شہریوں یا ان معمر افراد کا خیال رکھیں جو اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں لیکن دن کے وقت تنہاء ہوتے ہیں۔ اچانک حدّت بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر لوگ کمزوری کا شکار ہو کر بے ہوش رہے ہیں۔ چکرا کر گر رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی دقت پیدا ہو رہی ہے۔ ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہونا پڑ رہا ہے۔ گلوکوز کی بوتلیں چڑھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ سب صورتِ حال آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں۔ تو ایسی حالت میں ری کوری کی کیا صورت ہوگی؟ یہ اہم سوال ہر ایک کے دل و دماغ میں پیدا ہونا یقینی ہے۔
اپریل کے تیسرے ہفتہ سے گرمی کی بڑھنے لگی ہے۔ ٹمپریچر چھتیس ڈگری سے اوپر پہنچنے لگی ہے۔ اتنی گرمی میں بغیر حفاظتی اقدام کے باہر نکل جانا، اچانک پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں پانی تو اپنے ساتھ رکھیں ہی اور ضرورتاً استعمال کریں۔ لیکن اگر کمزوری زیادہ محسوس ہو تو ناریل پانی یا نیمبو پانی ضرور پئیں۔ یہ بہت ہی عمدہ غذا اور علاج ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی صحت بحال رہے گی بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوگی۔ ایسے حالات میں باہر کا کھانابطورِ غذا استعمال کرنا چھوڑ دیجیے۔ باہر سے صرف ناریل پانی، کھیرا، ککری، تربوز، خربوز، سنترہ اور نیمبو پانی لے سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جلدی میں سنترا کھانے کے بجائے سنترے کا جوس پینا پسند کرتے ہیں۔ جوس بہت ہی مجبوری کی حالت میں پینے کا مشروب ہے۔ یا صحت مند حالت میں شوقیہ پینے کا مشروب ہے۔ لیکن جو لوگ بھی صحت مند حالت میں شوقیہ جوس پیتے ہیں، ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، ہاضمہ کی دقت ہونے لگتی ہے، اور لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم پھلوں اور جوس استعمال کرنے کے باوجود کمزور ہیں اور ہماری صحت میں سدھار نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ ہے غلط طریقے سے غذا لینا یا غلط وقت پر کھانا پینا صحت کو بحال نہیں کرپاتا۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے روز مرہ کے معمول کو بہتر بنائیں۔ سفر کی حالت میں نیمبوپانی، ناریل پانی، سنترہ پر گزارا کریں۔ بھاری بھرکم کھانا سے پرہیز کریں۔ گھر پہنچ کر کھانا کھائیں اور کھلی جگہ میں چہل قدمی کریں۔ بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں کئی طرح کے گھریلو نسخے جیسے لہسن، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، الائچی وغیرہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔
گرمی سے ہونے والی تکالیف سے بچنے اور اچانک ہونے والی دقتوں سے آزادی حاصل کرنا آسان ہے۔ عمومی طور پر احتیاط برتنا ضروری ہے۔
سفر سے آکر ٹھنڈا پانی کا استعمال نہ کریں۔
ہمیشہ اپنی طبیعت کے مطابق سادہ پانی یا گنگنا پانی پئیں۔
ریفریجریٹر سے کھانے پینے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں۔
زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس سے بھوک مر جاتی ہے۔
کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری اور قبض کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔
صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے کے درمیان صرف پھلوں کا استعمال کریں۔
دوپہر کے کھانا سے پہلے سلاد ضرور کھائیں۔ اس کے بعد ہی کھانا کھائیں۔
شام کا کھانا مغرب کے فوراً بعد کھا لیں۔
اگر دیر سے کھانا کھائیں گے تو بدہضمی اور نیند کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہے۔
رات کے وقت میں کوئی بھی ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔
لو سے بچنے کا ایک آسان اور گھریلو علاج کچے آم کو پانی میں ابال کر یا آگ میں پکا کر اس کے گودے کا شربت بنایا جائے میٹھا یا نمکین۔ اسے پیا جائے۔ بچے بڑے اور بزرگ سب کے لیے یکساں مفید ہے۔
اللہ شافی، اللہ کافی
نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے اور ڈائٹ پلان کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں
محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ،
ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس
نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان
۱۷؍اپریل ۲۰۲۵ء