بدلتے موسم کے اثرات اور ہماری صحت
ابھی چند دنوں میں اچانک گرمی بڑھنے کی وجہ سے کئی طرح کی صحت سے متعلق پیچیدگیاں اور پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ سردی اچھی طرح آہستہ آہستہ ختم ہونے کے بجائے ایک طرح سے ختم ہوگئی اور اچانک ہی حدّت بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر لوگ اچانک کمزوری کا شکار ہو کر بے ہوش رہے ہیں۔ چکرا کر گر رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی دقت پیدا ہو رہی ہے۔ ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہونا پڑ رہا ہے۔ گلوکوز کی بوتلیں چڑھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ سب صورتِ حال آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ لوگوں کی صحت اور قوّت مدافعت نئے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اب کمزوری کی وجہ سے انسان کئی کئی دنوں تک کام کرنے کے قابل نہیں ہو پا رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ری کوری کی کیا صورت ہوگی؟ یہ اہم سوال ہر ایک دل و دماغ میں پیدا ہونا یقینی ہے۔
ابھی جو مارچ کے خاتمہ تک سردی تھی اور اپریل کے پہلے ہفتہ تک میں ہی گرمی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ ٹمپریچر تیس سے چونتیس چھتیس ڈگری تک پہنچ جا رہی ہے۔ دن کے وقت میں رات کے ٹمپریچر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بغیر حفظ ما تقدم کے باہر نکل جانا، اچانک بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں پانی تو اپنے ساتھ رکھیں ہی اور ضرورتاً استعمال کریں۔ لیکن اگر کمزوری زیادہ محسوس ہو تو ناریل پانی یا نیمبو پانی ضرور پئیں۔ یہ بہت ہی عمدہ غذا اور علاج ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی صحت بحال رہے گی بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوگی۔ ٹمپریچر اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب سے ہی باہر کا کھانا بطورِ غذا کھانا چھوڑ دیجیے۔ باہر سے صرف ناریل پانی، کھیرا، ککری، سنترہ اور نیمبو پانی لے سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جلدی میں سنترہ کھانے کے بجائے سنترے کا جوس پینا پسند کرتے ہیں۔ جوس بہت ہی مجبوری کی حالت میں پینے کا مشروب ہے۔ یا صحت مند حالت میں شوقیہ پینے کا مشروب ہے۔ لیکن جو لوگ بھی صحت مند حالت میں شوقیہ جوس پیتے ہیں، ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، ہاضمہ کی دقت ہونے لگتی ہے، اور لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم پھلوں اور جوس استعمال کرنے کے باوجود کمزور ہیں اور ہماری صحت میں سدھار نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ ہے غلط طریقے سے غذا لینا یا غلط وقت پر کھانا پینا صحت کو بحال نہیں کرپاتا۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال سے نبردآزما ہونے کے لیے روز مرہ کے معمول کو بہتر بنائیں۔ سفر کی حالت میں نیمبوپانی، ناریل پانی، سنترہ پر گزارا کریں۔ بھاری بھرکم کھانا سے پرہیز کریں۔ گھر پہنچ کر کھانا کھائیں اور کھلی جگہ میں چہل قدمی کریں۔ بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں کئی طرح کے گھریلو نسخے جیسے لہسن، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، الائچی وغیرہ موجود ہیں۔ اسے جانیں، سمجھیں اور عمل میں لائیں، تاکہ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ ابھی ابھی ہم لوگ رمضان سے فارغ ہوئے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ ہم ابھی بھی کم کم کھانا کھائیں تاکہ بدہضمی کا شکار نہ ہوں۔ اور قوت مدافعت قابو میں رہے۔
بدلتے موسم کے ساتھ دہلی این سی آر میں ہوا کا معیار (Airi Quality) بدتری کی طرف رواں ہے۔ اس دوران لوگ کئی قسم کی غلطیاں اور لاپرواہیاں بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پھیپھڑے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ بعض کا گلا سوکھتا ہے۔ کھانسی ہونے لگتی ہے۔ آلودگی کی انفیکشن سے بخار بھی ہو جاتا ہے۔ خون کی گرمی کم پڑ جاتی ہے یعنی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ گٹھیا کے مریضوں کا درد بڑھ جاتا ہے۔ جلد کی بیماری یعنی چرم روگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قبض بھی ہو جاتا ہے۔ ہارٹ کی رفتار سست ہو جانے یا اٹیک پڑ جانے جیسی صورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے۔
ان تکالیف سے بچنے اور اچانک ہونے والی دقتوں سے آزادی حاصل کرنا آسان ہے۔ ہر اُس شخص کے لیے جو احتیاط کرنا چاہیں۔
سفر سے آکر ٹھنڈا پانی کا استعمال نہ کریں۔
ہمیشہ اپنی طبیعت کے مطابق سادہ پانی یا گنگنا پانی پئیں۔
ریفریجریٹر سے کھانے پینے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں۔
زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس سے بھوک مر جاتی ہے۔
کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری اور قبض کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔
صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے کے درمیان صرف پھلوں کا استعمال کریں۔
دوپہر کے کھانا سے پہلے سلاد ضرور کھائیں۔ اس کے بعد ہی کھانا کھائیں۔
شام کا کھانا مغرب کے فوراً بعد کھا لیں۔
اگر دیر سے کھانا کھائیں گے تو بدہضمی اور نیند کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہے۔
رات کے وقت میں کوئی بھی ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔
اکثر دل، پھیپھڑا سے متعلقہ تکالیف رات گیارہ بجے سے دو بجے کی درمیان پیش آتی ہیں۔ اور دوبجے سے پانچ بجے کے درمیان گردے سے متعلق تکالیف شروع ہو جاتی ہے، اس لئے دن کے اوقات میں مناسب انداز میں پانی پیا کریں۔ عصر کے بعد سے پانی پینے کی مقدار کم کردیں۔ پیاس محسوس ہونے پر ہی پانی پئیں۔ زبردستی نہیں۔
عمومی چائے پینے کے بجائے قدرتی چائے پئیں۔ تلسی یا سجنا کے پتے کو اُبال کرپئیں۔
قدرتی ہنزا چائے تیار کریں (چار فرد کے لیے)
اشیاء ۱۔پودینہ بارہ پتی ۲۔تلسی آٹھ پتی ۳۔ہری الائچی چار عدد۴۔دارچینی، دو گرام ۵۔ادرک بیس گرام ۶۔گڑ بیس گرام
چار کپ پانی ایک پتیلی میں لیجیے۔ مذکورہ سارے اشیاء کو اس میں ڈال کر دس منٹ پکائیں۔ اتارنے کے بعد اس میں لیمن جوس ملا کر لطف لیجیے۔ گرم یا ٹھنڈا دونوں صورتوں میں مفید ہے۔
گھریلو اشیاء کا استعمال کریں۔ صحت مند رہیں، فضول ڈاکٹروں کے یہاں جانے سے بچیں، اپنی صحت بچائیں اور پیسہ بچائیں۔
اللہ شافی، اللہ کافی
محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ،
ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس
نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان
۶؍اپریل ۲۰۲۵ء
9811742537
No comments:
Post a Comment