ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اصول چھوڑ کر عصبیت کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، تو اس کا وقتی فائدہ تو ممکن ہے، لیکن معاشرہ کی بہتری یا دیرپا فوائد یا بہتر نتائج کا ملنا ناممکن ہے۔ یہ بات اصول سے ثابت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید سورۃ البقرہ کی آیت ۳۰ سے ۳۷ تک میں وحدانیت سے لے معاشرتی زندگی اورمخلوق کی اہمیت کے بارے میں واضح پیغام موجود ہے۔ جس میں انسانی زندگی کے بنیادی اصول کرنا کیا ہے؟ اور کیا نہیں کرنا ہے؟ بتا دیا گیا ہے۔
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
انسانیت کی بھلائی کے لیے اس آیت پر غور کریں۔
اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاؤ گے۔
اس آیت میں ’’ولا تقربا‘‘ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرکے آدم اور حوا دونوں کو خطاب کیا گیا ہے اور دونوں کو ہی متنبہ کیا گیا ہے۔ یہ اس اصول کا ثبوت ہے کہ دونوں پر ذمہ داری برابر کی عاید ہوتی ہے۔ جب کہ آئے دِن ہم اپنے معاشرے میں مختلف قسم کے غیرمساواتی حالات اور نزاع ہوتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے تعلق سے۔ دنیا کے بننے سے لے کر تا قیامت اصول قرآن حکیم میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اور دوسری جگہ سورۃ الاعراف آیت ۱۹ میں ایسا ہی حکم موجود ہے۔
وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
جیسا کہ اکثر کو پتا ہے کہ ہر برس 8مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس موقع پر مختلف افراد و خواتین نے عورتوں کے تعلق سے مختلف پہلوئوں پر جائزہ پیش کیا کرتے ہیں۔ ہر برس متعدد مضامین میری نظر سے بھی گزرتے ہیں لیکن اُن کے حقوق اور اہمیت کے بارے میں کوئی خاص ذکر نہیں کیا جاتا۔ جب کہ تعلیمی اعتبار سے ہمارے یہاںکے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ بنے ہیں۔ اَب سے پہلے ہمارے ملک میں اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ تعلیمی اداروں کی بھرمارہے۔ اخبارات و رسائل، ڈرامے، فلمیں غرض کہ ہر ایک ذریعہ سے خواتین کو مظلوم اور بے یارومددگار پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے ہمارے ذہنوں کو مزید پراگندہ کر دیا ہے۔ اور اِن حالات میں جو مضامین اور تبصرے لکھے جارہے ہیں وہ سب یاتو سستی شہرت کے لئے یا پھرخانہ پری کرنے کے لئے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ ہندوستان پروش پردھان دیش ہے۔ جس نظریہ سے ’’ہندوستان کو پروش پردھان دیش‘‘ کہا جارہا ہے، اُس نظریہ کے مطابق پوری دنیا میں مردوں کو ہی غلبہ حاصل ہے۔ ’’پدر سری نظام‘‘ کہہ کر خود اپنے آپ کو کمزور کرنے والی سوچ رکھ کر خواتین اپنی بھی ذمہ داری بخیر و خوبی انجام نہیں دے پائیں گی۔ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنے والے افراد و خواتین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جب سے دُنیا بنی ہے، اللہ تعالیٰ نے دونوں صنف کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھی ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر برتری حاصل نہیں ہے۔ بلکہ دونوں یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریوں اور ساخت کو بلاوجہ کچھ لوگ موازنہ اور مقابلہ کرکے دونوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ غلط موازنہ اور مقابلہ ہی ہے۔ جس صنف کی ذمہ داری نبھانے کے لئے جہاں ضرورت ہو نبھانا چاہیے۔ تاکہ دنیا بہتری کی جانب گامزن ہو اور سماج میں بہتری آئے۔ انسان انسانیت کے طریقے پر زندگی گزارے۔
ہم معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ اکثر بیوائیں اور طلاق شدہ مالی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اکابرین و مفکرین اگر طلاق شدہ عورتوں کے مقابلے بیوائوں کو زیادہ ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں یا دونوں کو ہی ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں تو وہ خود بتائیں کہ اُن کے لئے یا اُن کے حق میں کیا بہتر کر سکتے ہیں؟ شریعت بھی کہتی ہے اور بڑے بزرگ یہ مشورہ دیتے ہیں ’’یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھو‘‘ اِس کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟ جو احکام قرآن میں دیئے گئے ہیں یا احادیث میں ثبوت موجود ہیں وہ طریقے آج ہمارے معاشرے میں گالی کی طرح استعمال ہو رہے ہیں۔ اور وہ ہے لفظ ’’سوتیلا‘‘ اگر آپ کسی یتیم لڑکا یا لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہتے ہیں تو غور کیجیے کہ آپ کے ذہن میں کتنے قسم کے خیالات آتے ہیں۔ آپ کے رشتہ دار کیا کہیں گے یا سوچیں گے؟ آپ کے پڑوسی کس طرح کا سلوک کریں گے؟ دوست و احباب کا رویّہ کیسا رہے گا؟ وغیرہ۔ کیا آپ اِن حالات سے نبرد آزما ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کتنے افراد و خواتین ہیں جو یتیم کو باپ کا اور ماں کا پیار دے سکتے ہیں؟ کتنی خواتین ہیں جو سوکن کو قبول کرنے کی ہمت رکھتی ہیں؟
معاف کیجیے گا یتیموں اور بیوائوں کے لئے جو بھی ادارے مالی تعاون دینے میں سرگرم ہیں وہ اصل میں اُن کے بہانے سے اپنے پیٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جو جہیز طلب کرنے کی لعنت موجود ہے، اِس میں تقریباً ننانوے فیصد خواتین کا کردار رہتا ہے۔ طلب کرنے میں بھی اور بعد کی زندگی کے معاملے میں بھی۔ لالچ میں کسی حد تک گِر سکتے ہیں۔اِس کا مشاہدہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ ہم یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کے چار روپ ہیں اور چاروں قابل عزت و احترام ہیں۔ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی۔ لیکن اِن کے علاوہ جو روپ ہیں وہ اِس لئے نہیں بیان کئے جاتے کہ شاید وہ سماج میں ہیرو اور ویلن دونوں کا کردار نبھاتے ہیں۔ جس گھر میں عورتیں یہ مثالی کردار نبھاتی ہیں وہ گھر یقیناً بہتر اور سلیقہ شعار گھرانہ کہلاتا ہے لیکن جس گھر میں یہ عورتیں ویلن(منفی) کا کردار نبھاتی ہیں وہ گھر -گھر نہیں بن پاتا۔ وہ کردار ہے ساس، بہو، نند، بھابھی۔
مردوں کے بگاڑ اور بے رُخی کے تعلق سے کئی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جس میں خرچ پورا نہ کرنا، نشہ کرنا، یا غیر اخلاقی حرکت میں مبتلا ہونا شامل ہے۔ ان تینوں میں سب سے بُرا اثرنشہ کی لت کی وجہ سے پڑتا ہے۔ خاندان بکھرتا ہے، بچے بےپرواہ ہو جاتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک بڑی سماجی برائی ہے، جو محلّہ اور سماج تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن برائی میں مبتلا ہونے یا کرنے میں اہم کردار بیوی کا ہی ہے۔ گرچہ ایسی حرکت کرنے والے صرف دو فیصد ہی ہیں لیکن یہ سماج کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
اگر مرد نشہ کی لت میں مبتلا ہو کر باہر اور گھر میں اُدھم بازی مچانے کی بات تو معاشرے میں ایسا صرف دو فیصد ہی ہے۔ اس میں بھی مرد کو نشہ میں مبتلا کرنے کی وجہ بننے والی اٹھاسی فیصد خواتین کا کردار ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق نشہ میں مبتلا ہونے والے تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جس میں عورت کی بے رخی والے نوے فیصد ہیں، ایکسٹرا پوکٹ منی والے دو فیصد اور باقی آٹھ فیصد تجارتی بنیادوں کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔
نوے فیصد والے میں اٹھاسی فیصد بیوی کا کردار ہوتا ہے، جو اپنے شوہر کو نشہ کا عادی بنانے میں معاون بننے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بگاڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نشہ کی لت میں مبتلا ہونے کی وجوہات
۱۔ مالداروں کی ساتھ دوستی جو کسی بھی طرح کا نشہ کرنے والے ہوں۔ خاص طور سے بزنس یا تجارتی تعلقات کی بنیادں پر
۲۔بچپنے میں مالدار وں کے بچوں کی ایکسٹرا پوکٹ منی یا اچھے تجارتی تعلقات والے خاندان کے بچے۔ جو بڑے ہو کر یعنی والد بننے کے بعد بھی بچوں اور خاندان کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔
۳۔ عورت یا بیوی کی بے رُخی کی وجہ سے نشہ کا عادی بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ آمدنی ہو یا نہ ہو وہ کہیں سے بندوبست کر ہی لیتے ہیں۔
خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہر دَور میں یہ کوششیں جاری رہی ہیں۔ لیکن موجودہ معاشرے کا جب مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر خواتین نے درجات (کلاسیں) گزاری ہیں۔ اور اِسی بنا پر وہ اپنے معاشرے میں خاندانوں کو جوڑنے کا سبب بنی ہیں، لیکن شعوری اعتبار سے بہت پچھڑی ہوئی ہیں۔ اُنہیں اپنے معاملات، ذمہ داری اور حقوق کا علم نہیں ہوتا۔ یہی اہم وجہ اُن کے ساتھ معاشرتی زیادتی کا ہے۔ خواہ وہ زیادتی کریں یا خود زیادتی کا شکار ہوں۔ اگر اُن کے اندر معاملہ فہمی، ذمہ داری اور حقوق کا علم ہو جائے اور وہ اچھی طرح سمجھ کر نبھائیں تو کوئی بعید نہیں کہ وہ ظلم و زیادتی کا شکار ہوں یا معاشرہ اُنہیں غیر اہم سمجھے۔ شادی کے بعد جب خاتون نئے گھر میں جاتی ہیں تو اکثر خواتین اپنے آپ کو اُس گھر کی ضرورت سمجھتی ہیں۔ جب کہ وہ اُس کا گھر کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھتی۔ ہم اسے عورتوں کی شعوری فقدان کہہ سکتے ہیں۔
خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم اور غیرمساواتی عمل میں ساری وجوہات جو معاشرے میں رائج ہیں۔ اُن میں عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ
’’صنفی تشدد محض کسی فرد کے غصے یا مزاج کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پر محیط سماجی ڈھانچہ کارفرما ہے جسے پدر سری نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام نے طاقت اور اختیار کو مردانگی سے جوڑ دیا اور عورت کو تابع اور کمزور تصور کیا۔ جہاں طاقت کو حق سمجھ لیا جائے، وہاں تشدد آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔‘‘
گویا ہمیں جس دین کی دعویداری سکھائی جاتی ہے، وہ دین اور اصول نہیں سکھایا جاتا اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں اُن اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے، جو قرآن و سنت سے ثابت شدہ ہے؟ تو ایسی صورت میں ہم کس طرح معاشرہ کو بہتر بنا سکتے ہیں؟
حقوق و ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اِس کی تفصیل کی ضرورت یہاں بالکل نہیں ہے۔ جو بھی معاشرہ کو بہتر بنانے اور اچھی زندگی جینے کا خواہشمند ہے اور دنیا و آخرت کی بہتری چاہتا ہے، اسے اُن تفصیلات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور عمل میں لاناچاہیے۔ معاشرہ بہتر بنے گا۔ ان شاء اللہ
🌹🌹
فیروزہاشمی
ری فورمسٹ، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس
9811742537