Tuesday, March 24, 2026

فکری غربت کے شکار

 ☘️☘️فکری غربت کے شکار☘️☘️



دورِ موجودہ میں جس طرح علمی اور دانشورانہ پیغام کی بہتات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں، اتنے کسی بھی زمانہ نہیں تھے۔ آج ہر کوئی سوشل میڈیا پر علمی پیغام کے ڈرم انڈیل رہا ہے۔ پہلے یہی کام اخبارات و رسائل اور کتابوں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے تھے۔ حالاں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو گزشتہ ایک صدی میں جس طرح کتابوں کے بنڈل تیار کرنے والے دانشور پیدا ہوئے، وہ پہلے کی صدی میں دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا ہمارے معاشرے میں اتنی زیادہ علمی اور دانشورانہ بہتات ہونے کے باوجود بہتری آئی ہے؟؟؟ …یا ہم سوچنے سمجھنے کے معاملے میں آج بھی ویسے ہیں، جیسا کہ کئی صدی سے چلے آ رہے ہیں؟ …کیا درجاتی تعلیم اور کتابوں کی بھرمار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے؟؟ … اگر بہتری آئی ہوتی تو سب کے سب بہتر حالت اور عیش و آرام کے ساتھ ساتھ عزت و احترام کی زندگی گزار رہے ہوتے اور شکر گزار ہوتے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ساری سہولتیں، مادی آسائشیں ہونے اور ملنے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے شاکی ہیں … … … اس پر دانشورانِ قوم کا کیا خیال ہے؟ … …اور کیوں ظاہر نہیں کرتے؟ …ساری نیکیاں، عبادات تک ہی کیوں محدود ہیں؟ …آج ہر پچاس گھر میں سے ایک دو حاجی اور عمری ضرور مل جائیں گے۔ لیکن اُن ہی میں ایک اصول پسند انسان ملنا مشکل ہو رہا ہے۔

آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جس بنا پر ہمارے معاشرتی معاملات نہایت پسماندہ ہیں؟؟؟ …یہ بات کہنے یا عذر پیش کرنے کی جرأت اس لیے کر پا رہا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مالکان کو عملہ ناکارہ، نادہندہ اور کام چور ملتا ہے۔ جب کہ ملازمین کی رائے ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے؟ …  ہماری محنت کے مطابق ہمیں معاوضہ نہیں دیا جاتا؟ …

اس طرح کا رُجحان عموماً دینی اداروں اور ملّت کے نام پر قائم اداروں میں دیکھا اور برتا جاتا ہے۔ ایک بار اس پر بھی غور کیجیے گا۔

اگر ہمارےدانشورانِ قوم اور ادارہ کے ذمہ داران حقوق العباد پر صدفیصد نہیں تو پچاس فیصد ہی سہی عمل پیرا ہو جاتے تو دنیا کے لوگ کم از کم شکایت کرنے والے تو بہت کم ہو جاتے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی اِس معاشرتی خرابی کی؟

سماج میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کی سوچ و فکر پر منحصر ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔

وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى

سورۃ النجم؛ آیت ۳۹

اگر سورہ نجم کو پڑھا اور سمجھا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ یہ حالات ہماری اپنی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم خدائی اصول کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے اصول اور مفاد پر عمل پیرا ہوں گے تو معاشرہ سے غربت و استحصال کبھی بھی کم نہیں ہو سکتا۔ یہ سب سے پہلی اور بنیادی وجہ ہے۔ اب بات کرتے ہیں دوسری وجہ پر۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".

صحیح بخاری؛ کتاب الایمان

مذکورہ دونوں بنیادی اصولوں کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہمارا رویّہ بے ایمانی والی ہو تو تو ہم اسے علمی غربت اور ذہنی مفلسی سے ہی تعبیر کریں گے۔

اب ان دو بنیادی غلطیوں کو اپنانے کے بعد یقیناً ہمارے اندر خودغرضی پیدا ہوگی۔  اور ہماری خودغرضی اور مطلب پرستی نے ہمیں علمی طور پر مسئلے مسائل کو اپنے مطلب میں نکال لینے کا جواز پیدا کر لیا۔ جیسا کہ صدقات کے آٹھ مستحقین میں یتیموں اور غریبوں کے نام پر ابتدائی درجہ کا مدرسہ چلانے والوں نے کر رکھا ہے۔ پورے ملک میں مدرسہ زکوٰۃ کو ہڑپ کرنے کی ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ ہماری مالی غربت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن اور حفظ پڑھانے کے نام پر تو نہ صرف زکوٰۃ کا غلط استعمال ہو رہا ہے بلکہ غریب اور معصوم بچوں کے حال اور مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے بچّوں کو ذہنی طور پر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لڑکے ناظرہ یا حفظ کرکے معاشرے کے مفید ہونے کے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور ان کو بھی یہی سوجھتا ہے کہ کہیں ایک مدرسہ قائم کر لیا جائے اور دور دراز سے بچوں کو لاکر اُن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے اپنا پیٹ پالا جائے۔  اب تو لڑکیوں کے نام پر بھی یہ کام شروع ہو گیا ہے، جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ معاشرے کے لیے معاون نہیں بن رہا ہے۔ معاف کیجیے گا۔ یہ بہت ہی تلخ جملہ ہے، لیکن سنجیدگی سے غور کیجیے گا تو آپ کو ایسے حالات پر شرم آگے گی۔ کہ آخر ہمارے لوگوں نے صدیوں سے یہ کون سا طریقہ اپنا رکھا ہے؟ کیا یہ طریقۂ محمدیﷺ ہے؟؟؟  

تعلیم باہر سے لی جا رہی ہے۔ خواہ مستقل ادارہ جاتی تعلیم یافتہ ہوں یا چِلّہ پہ چِلّہ لگا کر تعلیم لی جار ہی ہو۔ پھر بھی حالات جوں کے توں بنے ہیں، بلکہ اندر سے خاندانی ماحول بگڑ رہا ہے۔ مرد اپنی قابلیت جتا رہے ہیں، اور خواتین خود سر ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی علماء کرام ابتدائی ضروری تعلیم کے لیے نصاب تیار کر رکھی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سہولت کے اعتبار سے ابتدائی طور پر اپنے محلّہ میں ادارہ قائم کریں اور اس نصاب پر عمل کرکے معاشرہ کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔ 

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ …بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اب گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چار سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں، اور علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ۔ … پیسہ تو ہنر سے کمایا جاتا ہے۔ …افسوس تب ہوتا جب کہ اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔  جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروزہاشمی

10th March 2026


Saturday, March 21, 2026

معصومیت کا استحصال بند کیا جائے

 ☘️☘️معصومیت کا استحصال بند کیا جائے ☘️☘️


قوم کے رہنما و ذمہ داران سے گزارش ہے کہ معصوم بچّوں اور اُن کے غریب والدین کی معصومیت کا استحصال بند کیا جائے۔ اُنہیں وہ حقوق ادا کئے جائیں جن کا شریعت نے حصّہ مقرر کیا ہے۔ بات تھوڑی کڑوی ہے غور کیا جائے تو ایسے مسائل کا حل نکلنا آسان ہے۔

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مسجد اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مدرسہ اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک لائبریری اپنے دم پر قائم کر سکیں؟

کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک پرائمری تک کاادارہ اپنے دم پر تعمیر کر سکیں؟

ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘ 

کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔

بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں۔ 

علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب طے کرنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔

افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔

فیروز ہاشمی

9th March 2026


Friday, March 20, 2026

عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام


ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اصول چھوڑ کر عصبیت کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، تو اس کا وقتی فائدہ تو ممکن ہے، لیکن معاشرہ کی بہتری یا دیرپا فوائد یا بہتر نتائج کا ملنا ناممکن ہے۔ یہ بات اصول سے ثابت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید سورۃ البقرہ کی آیت ۳۰ سے ۳۷ تک میں وحدانیت سے لے معاشرتی زندگی اورمخلوق کی اہمیت کے بارے میں واضح پیغام موجود ہے۔ جس میں انسانی زندگی کے بنیادی اصول کرنا کیا ہے؟ اور کیا نہیں کرنا ہے؟ بتا دیا گیا ہے۔ 

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ 

انسانیت کی بھلائی کے لیے اس آیت پر غور کریں۔

اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاؤ گے۔

اس آیت میں ’’ولا تقربا‘‘ تثنیہ کا صیغہ استعمال کرکے آدم اور حوا دونوں کو خطاب کیا گیا ہے اور دونوں کو ہی متنبہ کیا گیا ہے۔ یہ اس اصول کا ثبوت ہے کہ دونوں پر ذمہ داری برابر کی عاید ہوتی ہے۔ جب کہ آئے دِن ہم اپنے معاشرے میں مختلف قسم کے غیرمساواتی حالات اور نزاع ہوتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے تعلق سے۔ دنیا کے بننے سے لے کر تا قیامت اصول قرآن حکیم میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اور دوسری جگہ سورۃ الاعراف آیت ۱۹ میں ایسا ہی حکم موجود ہے۔

 وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ

جیسا کہ اکثر کو پتا ہے کہ ہر برس 8مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس موقع پر مختلف افراد و خواتین نے عورتوں کے تعلق سے مختلف پہلوئوں پر جائزہ پیش کیا کرتے ہیں۔ ہر برس متعدد مضامین میری نظر سے بھی گزرتے ہیں لیکن اُن کے حقوق اور اہمیت کے بارے میں کوئی خاص ذکر نہیں کیا جاتا۔ جب کہ تعلیمی اعتبار سے ہمارے یہاںکے لوگ زیادہ تعلیم یافتہ بنے ہیں۔ اَب سے پہلے ہمارے ملک میں اتنے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ تعلیمی اداروں کی بھرمارہے۔ اخبارات و رسائل، ڈرامے، فلمیں غرض کہ ہر ایک ذریعہ سے خواتین کو مظلوم اور بے یارومددگار پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے ہمارے ذہنوں کو مزید پراگندہ کر دیا ہے۔ اور اِن حالات میں جو مضامین اور تبصرے لکھے جارہے ہیں وہ سب یاتو سستی شہرت کے لئے یا پھرخانہ پری کرنے کے لئے۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ ہندوستان پروش پردھان دیش ہے۔ جس نظریہ سے ’’ہندوستان کو پروش پردھان دیش‘‘ کہا جارہا ہے، اُس نظریہ کے مطابق پوری دنیا میں مردوں کو ہی غلبہ حاصل ہے۔ ’’پدر سری نظام‘‘  کہہ کر خود اپنے آپ کو کمزور کرنے والی سوچ رکھ کر خواتین اپنی بھی ذمہ داری بخیر و خوبی انجام نہیں دے پائیں گی۔ خواتین کے حق میں آواز بلند کرنے والے افراد و خواتین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جب سے دُنیا بنی ہے، اللہ تعالیٰ نے دونوں صنف کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھی ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر برتری حاصل نہیں ہے۔ بلکہ دونوں یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ دونوں کی ذمہ داریوں اور ساخت کو بلاوجہ کچھ لوگ موازنہ اور مقابلہ کرکے دونوں میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ معاشرتی زندگی میں بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ غلط موازنہ اور مقابلہ ہی ہے۔ جس صنف کی ذمہ داری نبھانے کے لئے جہاں ضرورت ہو نبھانا چاہیے۔ تاکہ دنیا بہتری کی جانب گامزن ہو اور سماج میں بہتری آئے۔ انسان انسانیت کے طریقے پر زندگی گزارے۔

ہم معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ اکثر بیوائیں اور طلاق شدہ مالی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اکابرین و مفکرین اگر طلاق شدہ عورتوں کے مقابلے بیوائوں کو زیادہ ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں یا دونوں کو ہی ہمدردی کا مستحق سمجھتے ہیں تو وہ خود بتائیں کہ اُن کے لئے یا اُن کے حق میں کیا بہتر کر سکتے ہیں؟ شریعت بھی کہتی ہے اور بڑے بزرگ یہ مشورہ دیتے ہیں ’’یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھو‘‘ اِس کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں؟ جو احکام قرآن میں دیئے گئے ہیں یا احادیث میں ثبوت موجود ہیں وہ طریقے آج ہمارے معاشرے میں گالی کی طرح استعمال ہو رہے ہیں۔ اور وہ ہے  لفظ ’’سوتیلا‘‘ اگر آپ کسی یتیم لڑکا یا لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہتے ہیں تو غور کیجیے کہ آپ کے ذہن میں کتنے قسم کے خیالات آتے ہیں۔ آپ کے رشتہ دار کیا کہیں گے یا سوچیں گے؟ آپ کے پڑوسی کس طرح کا سلوک کریں گے؟ دوست و احباب کا رویّہ کیسا رہے گا؟ وغیرہ۔  کیا آپ اِن حالات سے نبرد آزما ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کتنے افراد و خواتین ہیں جو یتیم کو باپ کا اور ماں کا پیار دے سکتے ہیں؟ کتنی خواتین ہیں جو سوکن کو قبول کرنے کی ہمت رکھتی ہیں؟ 

معاف کیجیے گا یتیموں اور بیوائوں کے لئے جو بھی ادارے مالی تعاون دینے میں سرگرم ہیں وہ اصل میں اُن کے بہانے سے اپنے پیٹ کا بندوبست کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جو جہیز طلب کرنے کی لعنت موجود ہے، اِس میں تقریباً ننانوے فیصد خواتین کا کردار رہتا ہے۔ طلب کرنے میں بھی اور بعد کی زندگی کے معاملے میں بھی۔ لالچ میں کسی حد تک گِر سکتے ہیں۔اِس کا مشاہدہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ ہم یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کہا جاتا ہے کہ عورت کے چار روپ ہیں اور چاروں قابل عزت و احترام ہیں۔ ماں، بیٹی، بہن اور بیوی۔ لیکن اِن کے علاوہ جو روپ ہیں وہ اِس لئے نہیں بیان کئے جاتے کہ شاید وہ سماج میں ہیرو اور ویلن دونوں کا کردار نبھاتے ہیں۔ جس گھر میں عورتیں یہ مثالی کردار نبھاتی ہیں وہ گھر یقیناً بہتر اور سلیقہ شعار گھرانہ کہلاتا ہے لیکن جس گھر میں یہ عورتیں ویلن(منفی) کا کردار نبھاتی ہیں وہ گھر -گھر نہیں بن پاتا۔ وہ کردار ہے ساس، بہو، نند، بھابھی۔

مردوں کے بگاڑ اور بے رُخی کے تعلق سے کئی قسم کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جس میں خرچ پورا نہ کرنا، نشہ کرنا، یا غیر اخلاقی حرکت میں مبتلا ہونا شامل ہے۔ ان تینوں میں سب سے بُرا اثرنشہ کی لت کی وجہ سے پڑتا ہے۔ خاندان بکھرتا ہے، بچے بےپرواہ ہو جاتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک بڑی سماجی برائی ہے، جو محلّہ اور سماج تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن برائی میں مبتلا ہونے یا کرنے میں اہم کردار بیوی کا ہی ہے۔ گرچہ ایسی حرکت کرنے والے صرف دو فیصد ہی ہیں لیکن یہ سماج کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

اگر مرد نشہ کی لت میں مبتلا ہو کر باہر اور گھر میں اُدھم بازی مچانے کی بات تو معاشرے میں ایسا صرف دو فیصد ہی ہے۔ اس میں بھی مرد کو نشہ میں مبتلا کرنے کی وجہ بننے والی اٹھاسی فیصد خواتین کا کردار ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق نشہ میں مبتلا ہونے والے تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جس میں عورت کی بے رخی والے نوے فیصد ہیں، ایکسٹرا پوکٹ منی والے دو فیصد اور باقی آٹھ فیصد تجارتی بنیادوں کو قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔

نوے فیصد والے میں اٹھاسی فیصد بیوی کا کردار ہوتا ہے، جو اپنے شوہر کو نشہ کا عادی بنانے میں معاون بننے کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بگاڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نشہ کی لت میں مبتلا ہونے کی وجوہات

۱۔ مالداروں کی ساتھ دوستی جو کسی بھی طرح کا نشہ کرنے والے ہوں۔ خاص طور سے بزنس یا تجارتی تعلقات کی بنیادں پر

۲۔بچپنے میں مالدار وں کے بچوں کی ایکسٹرا پوکٹ منی یا اچھے تجارتی تعلقات والے خاندان کے بچے۔ جو بڑے ہو کر یعنی والد بننے کے بعد بھی بچوں اور خاندان کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔

۳۔ عورت یا بیوی کی بے رُخی کی وجہ سے نشہ کا عادی بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ آمدنی ہو یا نہ ہو وہ کہیں سے بندوبست کر ہی لیتے ہیں۔ 

خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہر دَور میں یہ کوششیں جاری رہی ہیں۔ لیکن موجودہ معاشرے کا جب مطالعہ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر خواتین نے درجات (کلاسیں) گزاری ہیں۔ اور اِسی بنا پر وہ اپنے معاشرے میں خاندانوں کو جوڑنے کا سبب بنی ہیں، لیکن شعوری اعتبار سے بہت پچھڑی ہوئی ہیں۔ اُنہیں اپنے معاملات، ذمہ داری اور حقوق کا علم نہیں ہوتا۔ یہی اہم وجہ اُن کے ساتھ معاشرتی زیادتی کا ہے۔ خواہ وہ زیادتی کریں یا خود زیادتی کا شکار ہوں۔ اگر اُن کے اندر معاملہ فہمی، ذمہ داری اور حقوق کا علم ہو جائے اور وہ اچھی طرح سمجھ کر نبھائیں تو کوئی بعید نہیں کہ وہ ظلم و زیادتی کا شکار ہوں یا معاشرہ اُنہیں غیر اہم سمجھے۔ شادی کے بعد جب خاتون نئے گھر میں جاتی ہیں تو اکثر خواتین اپنے آپ کو اُس گھر کی ضرورت سمجھتی ہیں۔ جب کہ وہ اُس کا گھر کا حصہ ہوتی ہیں اور اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھتی۔ ہم اسے عورتوں کی شعوری فقدان کہہ سکتے ہیں۔

خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم اور غیرمساواتی عمل میں ساری وجوہات جو معاشرے میں رائج ہیں۔ اُن میں عام طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 

’’صنفی تشدد محض کسی فرد کے غصے یا مزاج کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے صدیوں پر محیط سماجی ڈھانچہ کارفرما ہے جسے پدر سری نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام نے طاقت اور اختیار کو مردانگی سے جوڑ دیا اور عورت کو تابع اور کمزور تصور کیا۔ جہاں طاقت کو حق سمجھ لیا جائے، وہاں تشدد آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔‘‘

گویا ہمیں جس دین کی دعویداری سکھائی جاتی ہے، وہ دین اور اصول نہیں سکھایا جاتا اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں اُن اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے، جو قرآن و سنت سے ثابت شدہ ہے؟ تو ایسی صورت میں ہم کس طرح معاشرہ کو بہتر بنا سکتے ہیں؟

حقوق و ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اِس کی تفصیل کی ضرورت یہاں بالکل نہیں ہے۔ جو بھی معاشرہ کو بہتر بنانے اور اچھی زندگی جینے کا خواہشمند ہے اور دنیا و آخرت کی بہتری چاہتا ہے، اسے اُن تفصیلات کا مطالعہ کرنا چاہیے اور عمل میں لاناچاہیے۔ معاشرہ بہتر بنے گا۔ ان شاء اللہ

🌹🌹

فیروزہاشمی

ری فورمسٹ، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537


 

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔ میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کت...