Sunday, April 19, 2026

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری


یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

روز غم دینے لگا مجھ کو مجھی کا لکھا

شاعر؛ ڈاکٹر عطا عابدی، دربھنگہ

تھوڑا ٹھہریے اور غور کیجیے کہ اس جملہ یا مصرع کن حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟  کیوں اس غم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔؟

اس کا بہت ہی واضح اور بیّن ثبوت یہ ہے کہ ہمارے اردو کے رکھوالوں کی ساری کوششیں اور لن ترانی اپنے پیٹ کے جگاڑ تک ہی محدود رہی۔ اسکولوں و کالجوں میں استاذ مقرر ہوئے، اچھے پیسے کمائے، لیکن دوسرے کے بچوں کے لیے اتنے مفید ثابت نہیں ہوئے۔ جتنا کہ معاشرے میں بتائی جاتی ہیں۔ آج جتنے بھی اسکالرس جو اردو کی رکھوالی کا دم بھرتے ہیں، سب کے سب صرف کتابوں کا ڈھیر ڈھو رہے ہیں یا تو چھوڑ کر گئے یا چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ اپنے بچّوں کو وہ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھانے لگے اور عمومی مقامات اور سوشل میڈیا پر اردو کا رونا رونے لگے ہیں اور برسوں روتے رہے ہیں۔ آج اردو کے اداروں میں اردو کے اساتذہ تو موجود ہیں لیکن اُن میں زیادہ تر کے اندر جملہ، املا، معنی و مفہوم کو سمجھنے اور بتانے تک کی بھی کمی ہے۔ کیوں کہ عمومی طور پر اردو صرف افسانے اور شاعری تک ہی کو معاشرے میں تعارف کرایا گیا ہے۔ مذکورہ غم زدہ شعر کی آپ جتنی بھی اور جیسی بھی تشریح کر سکتے ہیں، وہ آپ کے سوچ و فہم پر مبنی ہوگا۔ حالات تو بہرحال یہاں تک ہمارے اردو کے دعویداروں نے پہنچا دیا۔

اردو والوں کے ذریعہ اردو کو نقصان پہنچانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب احمد علوی نے درست فرمایا ہے؛

پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں

اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں

ٹھیک ایسی ہی صورتِ حال دین اسلام کی پائیداری اور استحکام کے نام پر مدارسِ اسلامیہ و دینیہ کے ناظمین و مہتممین جن میں اکثر علماء کرام اورخود ساختہ علماء کرام ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں کہ اگر یہ ادارے بند ہو گئے تو ہماری نسل بے دین اور مرتد ہو جائیں گی۔ خوف کے تعلق سے وسیم بریلوی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔

خوف کے سایے میں بچّہ کو اگر جینا پڑا

بے زباں ہو جائے گا یا بدزباں ہو جائے گا

ہماری روزمرہ کے حالات و معاملات خواہ کسی میدان سے تعلق رکھتا ہو، خوف پیدا کرکے اپنا پیٹ پالنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ دینی اداروں کا بھی حال اتنا بہتر نہیں ہے، جتنا کہ لوگوں میں بتایا جاتا ہے۔ اس بارے میں دہلی کے معروف صحافی مطیع الرحمٰن عزیز کا کہنا ہے کہ

’’مدرسوں میں تنخواہ خفیہ رکھ کر اساتذہ کی مجبوری ناپ تول کر اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہاں قابلیت مدنظر نہیں ہوتی بلکہ مدنظر انسان کی مجبوری۔ کم سے کم تنخواہ پلس استاذ کا جی حضوری ہونا لازم ہوتا ہے۔ قابل اساتذہ کا انتخاب کرکے کون جاہل ناظم اپنے لٸے وبال جان پیدا کریگا۔ قابل اساتذہ خصیہ بردار نہیں ہوتے اور خصیہ بردار کبھی قابل نہیں ہوتے۔‘‘

شریعت محمدیﷺ کو تبرکاتی علماء کرام نے اوراردو تہذیب و تمدن کوتبرکاتی ادیب و شاعر نےزندگی درگور کیا ہے۔ جس کی دو مثالیں آپ نے ملاحظہ فرما لی۔

اب رہی بات کی بہتری کیسے ہو؟؟؟ 

تو شریعت محمدیﷺ سے بہتر کوئی اصول نہیں اور طریقۂ محمدﷺ سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ جسے ہم نے ہر مقام پر اپنے مفاد کی خاطر بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ذلت وخواری ہمارے حصّے میں آ رہی ہے۔

ہر تعلیم و تربیت اور بہتری کی شروعات اپنے گھر سے کریں۔ ورنہ دنیا میں جیسے لوگ کر رہے ہیں وہی آپ کو برداشت کرنا پڑے گا، بہتری کی شروعات کریں ، اپنے بچوں کو پرائمری تک کی تعلیم اپنے گاؤں محلّہ میں دیں۔ یا بندوبست کریں۔ معصومیت کا استحصال بالکل بند کریں۔ نہ دوسروں کے بچّے اپنے یہاں لائیں اور نہ اپنے بچے دوسروں کے حوالے کریں۔ ورنہ آئندہ سو برس نہیں بلکہ قیامت تک آپ اپنی نسل کو بہتر انسان نہیں بنا پائیں گے۔

بقول اسرار جامعی مرحوم

رونا دھونا جاری ہے

سب کچھ کاروباری ہے

 ☆ ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

9th April 2026


No comments:

Post a Comment

میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری

 میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کتابیں میری یہ دُکھ ہے ایک اردو کے بڑے مصنّف، شاعر اور ادیب کی۔ پورا شعر ملاحظہ فرمائیں۔ میرے بچّے نہیں پڑھ سکتے کت...