Tuesday, June 25, 2024

زندہ بزرگ کس کام کے؟

 زندہ بزرگ کس کام کے؟

ایک بات میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ کسی تنظیم، ادارہ، جماعت، میں اگر کوئی اہلِ علم، قابل اور قابل اقتداء یا قابلِ استفادہ شخصیت سے ملاقات چاہیے تو سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی طرح اُن کے پرسنل اسسٹنٹ ملاقات نہیں کرنے دیتے، یہاں تک کہ بعض دفعہ عرضی گزار کی عرضی تک نہیں پہنچاتے۔

بعد مرنے کے میرے قبر پہ بونا آلو

لوگ سمجھیں کہ کوئی چاٹ کا شوقین مرا

یہ ایک مزاحیہ شعر ہے جس میں شاعر نے اپنا شوق بتاتے ہوئے اپنی پہچان بتائی ہے۔ عموماً اداروں میں ایسا ہو رہا ہے، اس لیے یہ شعر یاد آ گیا۔

کیوں کہ مرنے کے بعد اُن کی پہچان ایسے کرائی جاتی ہے کہ بس۔ اُن کے مرنے سے معاشرہ میںایسا خلا پیدا ہو چکا ہے کہ اب کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔ 

ایک جماعت کے پندرہ روزہ آرگن میں چھ صفحات، تقریباً پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل اُس شخص کی پہچان کرائی گئی جو کبھی اسی جریدہ کے مدیر ہوا کرتے تھے۔ بہت ہی عمدہ اداریہ لکھا کرتے تھے۔ جب تک وہ لکھتے رہے، میں پڑھتا رہا۔ میرا چوں کہ صحافت سیکھنے کا ابتدائی دور تھا، مجھے پڑھنے سیکھنے اور ملاقات کا شوق زوروں پر تھا۔ لیکن میں اُن سے ملاقات کرنے سے محروم رہا۔ ملاقات نہ ہونے کی وجہ وہی جو میں نے پہلے پیراگراف میں بیان کر دیا۔

آج یکم جون تا ۱۵جون ۲۰۲۴ء کے شمارہ میں اُن کی شخصیت پر اداریہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جو کہ کچھ اس طرح کی سرخی سے شروع ہوا۔

آہ  

مدیر جریدہ …

ایسا کہاں سے لائیں کے تجھ سا کہیں جسے

دو صفحات پڑھنے پر بھی اندازہ نہیں ہوا کہ آخر یہ کس شخص کے بارے میں اتنی صفات بیان کی جا رہی ہیں۔ جب سمجھ میں آیا تو مجھے افسوس ہوا کہ اتنی بڑی علمی شخصیت سے میری ملاقات نہ ہو سکی۔ اب شاید صحافت کا تعارف بھی اسی طرح لکھنے اور زمین و آسمان کی قلابیں ملانے کو کہتے ہیں۔ 

آج سے چونتیس برس پہلے کا ایک واقعہ ہے کہ جب میں ایک ہفت روزہ اخبار میں خوشنویسی کیا کرتا تھا۔ کچھ صحافی اس طرح کی رپورٹس تیار کرتے تھے کہ الامان و الحفیظ۔ بالکل آج کے ٹی وی چینل میں پیش کرنے والے کے انداز میں۔ جیسے ایک چوہا مرنے کی رپورٹ کی آپ نے ٹی وی پر دیکھا اور سنا ہوگا، ایسے تمہید باندھی گئی تھی کہ پانچ منٹ بعد پتا چلا کہ چوہا مرا ہے۔ دیکھنے اور سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ پانچ منٹ سے مجھے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ویسے ہی اُس زمانے میں لکھنے والے ایسے لکھتے کہ ایک صفحہ یا تقریباً ایک ہزار الفاظ پڑھنے کے بعد پتا چلتا کہ اس حادثہ میں دو افراد زخمی ہوئے۔ اس کو کہتے ہیں ، صحافت، خبر بنانا یا تل کو تاڑ بنانا۔ 

ایسے ہی تعارف ادارہ اور شخصیات کا کرایا جاتا ہے۔ جھانک کر دیکھا جائے تو کھوکھلا۔ کسی کام کا نہ ادارہ ہے اور نہ شخصیت۔ جھوٹ کا پلندہ بتا کر ادارہ قائم کر لیا جاتا ہے۔ چند ایکسپرٹ طالب علم کو دوسرے ادارہ سے کرایہ پر یا بہلا پھسلا کر لایا جاتا اور سال کے پورا ہونے پر بڑا جلسہ کرکے دستاربندی کر دی جاتی ہے۔ نمائش یہ کی جاتی ہے کہ ہمارے ادارہ  کی کارکردگی ہے۔ اور چندہ وصول کر لیا جاتا ہے۔ بلڈنگ پر بلڈنگ تیار کی جاتی ہے سال بھر میں چند بچے کسی طرح حافظ یا قاری بنا دیا بس۔ محلے کے بچے ویسے ہی اَن پڑھ اور جاہل رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ مدرسہ میں بچے وہاں سے لائے جاتے ہیں جس علاقے کے مولوی، حافظ یا قاری صاحب نے ادارہ قائم کیا ہے۔ 

اتنے تعلیمی ادارے اور مکاتب و مدارس سے فارغ پڑھے لکھے حضرات اپنے علاقے میں ادارہ کیوں نہیں قائم کرتے؟ کیا اُن کے علاقے میں دین پھیلانے اور دین پر قائم رہنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اداروں یا تنظیموں کے پاس قدرتی آفات کے نام پر چندہ کرنے اور کچھ رفاہی کام کی نمائش کرنے کے علاوہ کیا کام ہے؟  کوئی بھی ادارہ یعنی این جی او کسی کو خود کفیل یا اہلِ علم عمل بنانے کا کتنا بڑا ریکارڈ ہے؟ صدقہ و زکوٰۃ کے مثبت استعمال کا کتنا بڑا ریکارڈ ہے؟ آٹے میں نمک کی طرح یا آٹے کی طرح۔ استقبالیہ دینا، پریس ریلیز جاری کرنا تو عام عمل ہو چکا ہے۔ اب صحافت کا معراج بھی اِسی کو کہا جانے لگا ہے۔ پریس ریلیز چھپوانا اور اُس کی نمائش کرنا۔

اب گاؤں دیہات سے بھی دین کا چلن اٹھتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ جہالت اور اناپرستی ابھی تک ہمارے یا آپ کے ذہنوں سے نہیں اُترا ہے۔ ایسا ہی ہم نے اپنے گاؤں میں دیکھا۔اڑتیس برس پہلے اور آج کے گاؤں کی حالت کا تجزیہ ایک مضمون ’’اماموں کی قدر کریں‘‘ میں پیش کیا تھا۔ اس طرح کے حالات بدلنے کے پیچھے ایک اہم سبب مادیت پرستی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں پیسوں کی بارش ہوئی ہے۔ لوگ آرام طلب ہو گئے ہیں۔ کھانا کھا کر سوتے ہیں اور جب بھوک لگتی ہے تو جاگ جاتے ہیں۔ مدارس و مساجد اب نمائش اور تبرک کے لیے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ نہ لوگوں کی سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی معاملہ فہمی اور آپسی تعلقات میں بہتری۔ گاؤں کے مجبور خاندان کے بچوں کو دینی تعلیم سے زبردستی آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آٹھ دس برس مدرسہ میں لگانے کے بعد اب اکثر بچے دبّو، شکم پرور، پست ذہنیت، خودغرض اور چند لڑاکا قسم کے آدمی تیار ہو رہے ہیں۔ پچاس سو گز زمین پر مدرسہ چلا رہے ہیں۔ چندہ کی رقم سے اپنا اور اہلِ خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں۔ کئی ناظم اور مہتمم نے چندہ کرنے والے رکھے ہوئے ہیں۔ جو اپنے روٹین کے مطابق اپنے منتخبہ علاقوں میں دورہ کرکے چندہ اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے کس کس کونے میں ایسا ہو رہا ہے اس کو پیش کرنا ایک کارِ مشکل ہے، لیکن ہم نے جن علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کی حالت کی بنیاد پر میں یہ کہہ رہا ہے۔ دہلی کے کچھ علاقے اور غازی آباد کے کچھ علاقوں میں حافظ اور قاری بنانے کے نام پر تو ہر دو تین سو میٹر پر یا ہر گلی میں ایک مدرسہ مل جائے گا۔ اس سے سماج میں کتنی بھلائی ہو رہی ہے، یہ تو دکھائی نہیں دے رہا، لیکن چند لوگوں کا پیٹ کا معاملہ حل ہو جا رہا ہے۔ اور اس کام کے لئے ان کے پاس سورہ توبہ کی آیت دلیل ہے، جو کہ مستحکم ہے۔ بلکہ علماء کرام اس آیت پر زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے، ہم کوئی غلط نہیں کر رہے ہیں۔ میں بھی یہی مانتا ہوں کہ آپ چندہ یا صدقہ جمع کرنے کے اہل ہیں، لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج کیوں برآمد نہیں ہو رہے ہیں؟ یہ غور و خوض کا پہلو یا لمحۂ فکریہ ہے کہ نہیں؟

ہمارے اپنے ہی لوگ دین کا مذاق بنائے ہوئے ہیں۔ تو دیگر کو کیسے دین کی طرف رغبت پیدا ہوگی؟ کتنے ملّی اور مسلکی ادارے اخلاقی طور پر دین کو پیش کرتے ہیں، یا کرنے والے ہیں؟ کیوں کہ دین کا فروغ اور معاشی بہتری اُسی وقت آ سکتی ہے جب صدقہ و زکوٰۃ کا صحیح مصرف ہو۔ اور یہ کام برائے نام ہو رہا ہے۔ 

جب ہمارے اکابرین کا تعارف بعد الموت لق و دق انداز میں کرایا جا رہا ہے تو غور طلب پہلو یہ ہے کہ ہم بھی ایک طرح سے مردہ پرست قوم ہیں؟

 ☆ ☆ ☆

فیروز ہاشمی، ری فورمسٹ، نئی دہلی

8th June 2024


Monday, June 17, 2024

آٹھ منٹ کا فتنہ

آٹھ منٹ کا فتنہ

جیسا کہ ہر جمعہ میں دو منٹ سے پانچ منٹ اور بعض دفعہ دس منٹ زائد دیر سے جماعت شروع کیا جاتا ہے، اِس بار بھی رمضان کو رحمت و مغفرت کا مہینہ بتاتے ہوئے آخری جمعہ اپنے وقت مقررہ سے آٹھ منٹ کی دیری سے شروع کیا گیا۔ خطباء کرام جو زیادہ تر مسجد کے متولی، منتظم یا مسجد و مدرسہ کے ناظم اعلیٰ ہوتے ہیں، عمومی طور پر جمعہ کی جماعت دیر سے شروع کرتے ہیں۔ کچھ اعلانات، رحمت و برکت کی باتیں آخرت کی چاشنی دیتے ہوئے دیر کرتے ہیں۔ دیر سے شروع کرنے سے چند ایک رسمی فائدہ تو سمجھ میں آیا لیکن شرعی اور سماجی فائدہ آج تک سمجھ نہیں آیا۔

رسمی فائدہ یہ سمجھ میں آیا کہ کچھ اضافی چندہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔ اور لوگ بطورِ تبرک امام صاحب کی تکریم کرتے ہیں، جب کہ اصل میں اپنی کم مائیگی اور کم علمی کی وجہ سے اعتراض نہیں کرتے اور مصلحتاً خاموش ہی رہتے ہیں۔ مصلحتاً اس لئے کہہ رہا ہوں کہ حالات تو ہر جگہ خودغرضانہ ہے۔ ہمیں آپس میں لڑتے دیکھیں گے تو وہ ہماری مجبوری کا فائدہ اٹھائیں گے۔ حالاںکہ کسی بھی قوم سے کوئی بھی حالت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

شرعی اور سماجی فائدہ اِس لئے سمجھ میں نہیں آیا کہ وقت کے سلسلے میں بہت ہی واضح حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما دیا ہے۔

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)

بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔

جب وقت کے سلسلے میں اتنا واضح حکم موجود ہے تو پھر خطبہ کو طول دینا اور وقت مقررہ سے جماعت اور نماز میں تاخیر کرنا کس بات کا پتا دیتا ہے؟ 

علماء کرام و خطیب عظام اِس تاخیر سے مسلم قوم کو اور دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ 

کیا یہ بھی مسلمانوں کو تکلیف دینے کے ضمن میں آئے گا؟ یا صرف ایک مسلم کا اپنے دوسرے مسلم بھائی کے اگواڑے یا پچھواڑے میں کوڑا پھینکنا ہی تکلیف پہنچانے کے ضمن میں آئے گا؟ جیسا کہ اِس حدیث میں مسلم قوم کی تعریف بیان کی گئی ہے؟

’’الْمُسْـــــــلِمُ مَنْ سَـــــــلِمَ الْمُسْــــــلِــمُـــونَ مِنْ لِسَــانِـهِ وَيَــدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُـــهَـاجِـــرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ‘‘

’’مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللّٰہ نے منع فرمایا ہے۔‘‘

مسلم و ہ ہے جو اسلام کے احکام و اصول کے مطابق اپنی زندگی گزارے یا مسلم وہ ہے جو اپنی مرضی سے شریعت کو بنا لے؟

احکامِ الٰہی کے دو طریقے بیان کرکے ہم پوچھنا اور جاننا چاہتے ہیں کہ کب سے ہم نے احکامِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی سےزندگی گزارنے والے بنے ہیں۔؟

کچھ علماء کرام اس طرح کی حرکتوں کے بارے میں اکابرین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، وہ بھی عام مسلم قوم کی طرح کہتے ہیں کہ اکابرین سے چلا آ رہا ہے۔ اگر اکابرین نے کسی موقع پر کسی خاص وجہ سے کچھ وقت لے لیا تو کیا مطلب ہے، دیر کرنا دلیل بن جائے گی؟ بعض عمل اور فتاویٰ وقتی ہوتے ہیں۔ وقت گزر جانے اور حالات بدل جانے کے بعد وہ فتویٰ نا قابل استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ جب کہ ہم ہیں کہ ملفوظاتِ فلاں اور عملیاتِ فلاں کا پیغام فاروڈ کرتے ہیں اور عمل کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔

صدی بھر پہلے بہت سارے اعمال انگریزوں کی مخالفت میں کئے گئے تھے اور علماءکرام نے فتویٰ جاری کرکے اُن کے ذریعہ تیار کئے گئے بہت سے پروڈکٹ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیا تھا، لیکن وہ فتویٰ وقتی تھا۔ افسوس تو یہ رہا ہے کہ ہماری قوم اُس وقتی فتویٰ پر پوری ایک صدی سے عمل پیرا ہے اور عملی میدان میں دوسری قوموں کے مقابلے میں پوری ایک صدی پیچھے رہ گئی۔ جو قوم نمائندگی اور رہنمائی کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی وہ دوسری قوموں کی پچھ لگو یا دست نگر بنی ہوئی ہے۔ یہ ہے ہماری وقت کی بربادی اور غلط سوچ کا نتیجہ۔ وقت کا غلط استعمال نے ہمیں ان حالات میں پہنچا دیا۔

آئے دن ہر تھوڑی سی بات پر لوگوں کو جذباتی بناکر بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کر دیا جاتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں یا واقعات پر بھیڑ جمع کرنا یا بائیکاٹ کا پیغام فاروڈ کرنا عام بات ہو چکی ہیں جب کہ اگر ہم کسی دوسری قوم کے بنائے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرنے چلتے ہیں تو ہمیں اپنے گھر سے آدھا سے زیادہ سامان پھینکنا پڑے گا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ جن سامانوں کو ہم نے اپنے گھر کی زینت بنایا اُن میں سے آدھے سے زیادہ سامانوں کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہماری اپنی تباہی اور پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے غیرضروری سامانوں کو بھی اپنے گھر کا حصہ بنا رکھا ہے۔ یہ ہے ہماری قوم کی مالیاتی کمزوری کا سبب۔

دورِ موجودہ میں کلی طور سے بازار کا مالیاتی نظام آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ آپ ہر طرح سے دوسری قوم کے محتاج ہیں، حالاں کہ وہ قوم تعداد میں قلیل ہے اور مینجمنٹ میں آگے ہے۔ پروڈکٹ فراہم کرنے اور سروس پرووائڈ کرنے میں چاق و چوبند ہے۔ اور ہم ہیں کہ مسجد کے دروازے پر چپل جوتے رکھنے کا مینجمنٹ نہیں کر پائے؟ چہ جائیکہ کہ مالیاتی نظام میں ہماری شراکت ہو۔ اِس سال رمضان میں زکوٰۃ و صدقات کا تخمینہ بیالیس ہزار کروڑ روپے کا رہا۔ اور ہماری کل آبادی اندازاً تیس کروڑ نفوس پر مشتمل مانی جاتی ہے۔ اگرہم بیس فیصد آبادی کے بارے میں کہیں کہ زکوٰۃ و صدقات کے مستحق ہیں اور اُن پر یہ رقم تقسیم کر دی جائے تو بتائیں کہ ایک نفس پر کتنی رقم سالانہ مل رہی ہے؟ اور ایک خوددار انسان جو چار پانچ نفوس کا خاندان کی کفالت کرتا ہے اُس سے کتنا کم ہے؟  اگر اندازاً سات کروڑ نفوس کو زکوٰۃ کا مستحق مان لیں اور اس میں یہ رقم تقسیم کیا جائے تو ایک نفس پر ساٹھ ہزار روپے آتے ہیں۔ کیا یہ رقم اُنہیں ایک سال کی کفالت کے لیے کافی نہیں ہے؟  ہے۔  بلکہ وہ اس رقم کا درست استعمال کریں تو اگلے برس وہ خود کفیل بن جائیں گے۔ اگر اُن میں پچیس فیصد بھی خوددار شخص ہوں جن کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں مالی مدد مل جائے تو ہم اپنا کاروبار کرکے ضروریاتِ زندگی مہیا کر لیں گے۔ ہر برس اگر اُن زکوٰۃ لینے والوں میں سے پچیس فیصد بھی کم ہو جائیں یعنی ملی ہوئی رقم سے اپنا کاروبار کرکے کمانے لگے تو چند برسوں میں ہی ہمارا پورا معاشرہ خود کفیل بن جائے۔ زیادہ سے زیادہ دس برس درکار ہوں گے۔ چند فیصد اگر ذہنی اور جسمانی طور پر معذور رہ بھی جائیں تو اُن کی کفالت کرنا معاشرہ کے لئے اتنا بڑا بوجھ بھی نہیں ہوگا۔

لیکن گزشتہ ایک صدی کا تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ مالیاتی میدان میں ہم بالکل پھسڈی ہیں۔ گزشہ ایک صدی سے انگریزوں کی مخالفت میں برسوں انگریزی زبان سے عاری رہے۔ چند فیصد لوگ جنہوں نے انگریزی سیکھی اور قوم کو مین اسٹریم میں ڈھالا، ہمیشہ وہ عتاب کے شکار رہے اور اب تک اُن کی محنتوں پر پانی پھیرنے کے لیے ایک طبقہ ہماری قوم میں موجود ہے اور کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ کبھی یہودی اور عیسائی یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی مخالفت میں اپنا وقت، سرمایہ اور دماغ خرچ کرتے رہے۔ کبھی دیگر قوم کے لیے۔ جب کہ ضروریاتِ زندگی کو پوری کرنے اور بہتر بنانے کے لیے اُن ہی کی بنائی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ننانوے فیصد لوگ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے میدان میں آج بھی عیسائی قوم سب سے آگے ہے۔ ناگہانی آفات و بلیات کے موقع پر انسانیت کی رفاہ کے کام میں سب سے آگے سردار جی آتے ہیں۔ پروڈکٹ بنانے اور بازار میں لانے کے میدان میں آج بھی یہودی سب سے آگے ہیں۔ اور ہم یا ہماری قوم کے بیشتر افراد صدقہ و زکوٰۃ کو بانٹنے اور نمٹانے میں سب سے آگے ہیں۔ خطاب جمعہ اور جلسوں میں وقت لگا کر لالی پاپ بانٹنے میں علماء کرام سب سے آگے ہیں۔ 

بھائی! اللہ کے رسول ﷺ نے عملی طور پر بھی کرنے کو بتایا ہے، صرف دعاء اور تبرک سے دُنیا اور آخرت بہتر نہیں بن سکتی۔ ہم تمام ہی علماء کرام اور خطباء عظام سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ کے واسطے قوم کی درست رہنمائی فرمائیں، چند سو گز جگہ اور زمین میں مہمانانِ رسول کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانا چھوڑیں۔ اُن کی سادگی کا فائدہ اٹھانا چھوڑیں۔ صرف ہمیں ہی اللہ کو جواب نہیں دینا ہے، آپ کو بھی دینا ہے۔ اپنے بارے میں بھی سوچئے کہ کس طرح قوم کو جذباتی بنا کر مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دنیا کو حافظ اور مولوی بنانے کی تلقین کرتے اور اپنے بچوں کو عصری اداروں میں تعلیم دلواکر مین اسٹریم میں جوڑتے ہیں۔ آپ ہی درس دیتے ہیں کہ جو اچھی چیزیں اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو۔ تو یہاں پر معیار بدل کیسے جاتا ہے؟

ہمیں معلوم ہے کہ اِس مضمون کو پڑھنے کے بعد ہمارے ساتھیوں کی رگِ حمیت پھڑک اٹھے گی اور وہ مجھے فون کرکے سورہ توبہ کی آیت کا حوالہ دے کر خاموش کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ 

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 

[التوبة ۶۰].

ممکن ہے کوئی اور بھی دھمکی دیں گے۔ اور ہم سے یہ سوال کریں گے کہ ابھی تک آپ نے اُمّت مسلمہ کے لیے کیا کیا ہے؟

تو ہم بار بار یہ تو نہیں بتائیں گے کہ ہم نے کس کے لیے کیا کیا ہے؟ کیوں کہ ہم نہ تو کوئی رفاہی ادارہ چلاتے ہیں نہ ہی مدرسہ یا مسجد کے متولی ہیں کہ بتا کر یا جتا کر آگے چندہ کا راہ ہموار کرنا ہے۔ ہم تو صرف کرتے ہیں، جس نے فائدہ اٹھایا وہ کامیاب ہیں، خود کفیل ہیں، وہ ہمارے لیے دعائیں کرتے ہیں، نئے بندوں کو وہ بھی خود کفیل بناتے ہیں اور یہی طریقہ سنّت نبوی سے ثابت ہے۔ اور ہم اِسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔

والسلام

فیروزہاشمی

۵؍جون ۲۰۲۴ء


 

Thursday, June 6, 2024

ارتداد، اسباب اور تدارک

’’اسلام ایک ایسا نظامِ حیات ہے، جس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی اور تمام مراحل کے لیے دستورالعمل تیار کیا ہے۔ بہتر زندگی گزارنے اور فطرت کے مطابق عمر بسر کرنے کے لیے واضح ہدایات دیں اور سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس میں ہر گوشہ حیات کے لیے روشن طریق، واضح اور معتدل احکام موجود ہیں۔ مذہبِ اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں تمام چیزوں کی اور ہر پریشانی کے لیے احکام اور راہِ نجات موجود ہے۔‘‘

عمومی طورپر اسلام کا یہ تعارف ہر کسی کو پتا ہے۔ بہت کم لوگ اِس سے ناواقف ہیں۔ 

ارتداد کی پہلی وجہ دینی تعلیم سے دوری اور اسلامی تربیت سے عاری زندگی۔ ارتداد کی دوسری وجہ مخلوط تعلیم نے جس قدر معاشرے میں تباہی و بربادی پھیلائی ہے۔ ارتداد کی تیسری وجہ فلمیں، ڈرامے اور سیریلز نے سماج میں جس قدر گندگی پھیلائی ہے، وہ کسی صاحبِ بصیرت سے ڈھکی، چھپی نہیں ہے۔ 

ارتداد کی یہ تین بنیادی وجہیں قرار دی جا رہی ہیں اور لکھ کر اور بیان دے کر اپنا پلّا جھاڑ لیا جا رہا ہے۔ یا کسی ادارہ یا تنظیم کے لیٹر ہیڈ پر پریس ریلیز جاری کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھا دی۔ جب کہ ارتدار کی اصل وجہ اخلاقی طور پر عملی فقدان ہے۔ اسلام کا اخلاقی نظام وہی قابلِ عمل ہے جو اللہ کے رسول مُحمَّد سے ثابت ہے۔

ہمارے یہاں دینی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے، اور دین داری کے دعویدار کی بھی کمی نہیں، پھر دین سے دوری وجہ کیوں کر قرار دی جاسکتی ہے؟ کئی علاقے تو ایسے جسے مدرسوں کا شہر کہتے ہیں، کئی علاقے ایسے ہیں جسے مولویوں اور حافظوں کا شہر کہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو تعارف کرانے میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی وہ جگہ تو پورا … …ہے گویا ایک طرح سے یہ سب باتیں کہنے اور جتانے تک ہی محدود ہے۔ یا کرتا پائجامہ ٹوپی تک محدود ہے۔ یا مسجد و مدرسہ تک محدود ہے۔ عملی اور عقلی طور پر کسی بھی طرح سے ہمارے اندر دینی اصول نہیں ہے یا برائے نام ہے؟ ہماری کوئی ایسی پہچان نہیں ہے جو دیگر ہندوستانیوں سے امتیاز ظاہر کرتی ہو؟ جیسے دیگر لوگوں کی عبادتیں اور معاشرتی معاملات ہیں، ویسے ہی ہمارے بھی ہیں۔ ہماری کون سی امتیازی شناخت ہے جسے دیکھ کر یا پرکھ ہے دوسری قومیں ہم سے معاملہ کریں اور بھروسہ رکھیں؟ کیا ہم معاشرہ میں متأثر کن شخصیت کے مالک ہیں؟

مخلوط تعلیمی ادارے اور رہن سہن کئی صدی سے رائج ہے، جسے ایک وقت میں آپ ہی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہتے رہے ہیں اور تھوڑے ہی وقت کے فاصلہ پر علیحدہ معاشرہ اور تعلیم گاہ کی تشکیل کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور جو آپ تیسری وجہ قرار دیتے ہیں، وہ نہایت ہی لچر اور گھٹیا سوچ کی پیداوار ہے۔ یعنی فلمیں اور سیریلز وغیرہ۔ اخلاقی بگاڑ کی سب سے اہم وجہ ٹی وی، فلمیں اور اب موبائل کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کہ اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب آپ کا انتخاب ہے۔ آپ نے اپنی ضروریات، تفریحات، تعلیمات وغیرہ کے لئے کس کا انتخاب کیا ہے؟ آخر مادّی سہولیات کو اخلاقی بگاڑ کا سبب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ اِس طرح کی اخلاقی بگاڑ کے سامان کیا پہلے کی تین صدیوں میں نہیں ہوا کرتے تھے؟ کیا اُس وقت اخلاقی بگاڑ نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج جس رفتار اور جس نہج پر تعلیم کے دوران اور تعلیم کے بعد بھی، تعلیم گاہیں مختلف ہونے کے باوجود بھی ارتداد کے واقعات پیش آئے ہیں اور آ رہے ہیں۔ وہ ایسی وجہ اور لمحۂ فکریہ ہے کہ اُس کو اکثر تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں نے گفت و شنید کرنا غیر مناسب سمجھا ہے۔

۱۔ارتداد کی پہلی اہم وجہ غیر سنت نکاح کا چلن 

یعنی معاشرے میں غیرمتوازن نکاح کی تقریبات کا انعقاد۔ بچّے وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرتے دیکھتے ہیں، نہ کہ وہ کرتے ہیں جو ہم کہتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے کرکے دِکھایا۔ اور ہم نے اُن کے کئے کام کو تاویل کرکےاپنی مرضی کے مطابق کیا۔ جیسے

یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ 

یہ سب ہم لوگ نہیں مانتے۔ 

یہ طریقہ اُس طرف کا ہے۔ 

وہ زمانہ اور تھا۔ 

ایسا کہاں کوئی کرتا ہے۔ 

باپ دادا کے زمانے سے چلتا آ رہا ہے۔ 

ہمارے باپ دادا نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

وغیرہ۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے

’’شادی ایسی ہونی چاہئے کہ دو لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے لیکن 500 لوگ اپنا پیٹ اپنی خوشیوں کیلئے بھر لیتے ہیں!‘‘

سنت نبوی کے مطابق نکاح مسجد میں ہونی چاہیے اور مختصر و سادہ ولیمہ۔ جن علاقوں میں یہ طریقہ رائج ہوا ہے، اُن علاقوں کے لوگ معاشرے میں خودکفیل اور باعزت ہو چکے ہیں۔

جب کہ دولت کی نمائش یا دوسروں کی برابری کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ دل و دماغ میں ہے ’’کیا کہیں گے لوگ‘‘ اور یہی ہے سب سے بڑا روگ، معاشرتی پستی کا۔

۲۔ ارتداد کی دوسری بنیادی اور اہم وجہ اخلاقی پستی ہے۔ 

جس پر ہم نے آنکھیں بند رکھی ہوئی ہیں۔ اہلِ علم واضح طور پر سمجھائیں کہ 

قُوْٓااَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ 

(پوری آیت سورہ التحریم آیت ۶ میں ملاحظہ فرمائیں)

سے کیا مراد ہے؟ کس کو حکم دیا گیا ہے؟ کس کو ذمہ داری دی گئی ہے؟ کیا بطورِ گارجین یا والد و والدہ ہم اٹھ کر نماز پڑھ لیں، یا زندگی کے اپنے کام سنت کے مطابق کرلیں اور بچوں پر نظر نہ رکھیں تو ہم گارجین کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں کیا؟

معاشرہ میں دیکھیں پچاس سے زائدہ عمر کے لوگ اب مسجدوں کا رُخ کرنے لگے ہیں، اور مسلم علاقہ میں گھر منتقل کرنے کا من بنا چکے ہیں یا منتقل کر چکے ہیں۔ اُن کو معلوم ہو چکا ہے کہ کبھی بھی اللہ کے یہاں سے بلاوا آ سکتا ہے۔ جس طرح مقولہ مشہور ہے کہ ’’جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے‘‘  ویسے ہی لگتا ہے مسلمان کی موت جب قریب آنے لگتی ہے تو وہ مسلم علاقہ کا رُخ کر لیتا ہے۔ تاکہ کوئی تو ہو جو میّت کو کاندھا دے سکے اور قبرستان میں جگہ مل سکے۔

معاشرے میں مادّی سہولیات کی فروانی ہے۔ اور ہم نے مادّی سہولیات کو غلط طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جوانی میں غفلت اور جسمانی آسائش کی طلب۔ کمزوری میں عبادت کی چاہت۔ اولاد یا بچّوں کے تئیں بے رُخی، ہر شئے کو پیسے سے خریدنے کی عادت و رغبت نے ہمارے بچوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ فضول کی تقریبات منعقد کرنا اور شرکت کرنا ہمارے بچوں کو دین سے دور کرنے کا اہم سبب ہے۔ مثلاً نکاح، سنّت کو خیرباد کرکے معاشرتی رسم و رواج کے ساتھ انجام دینے نے ہی ہمارے بچوں میں بھی یہ چاہت پیدا کر دی۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ’’یہ تو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے ہوتا آیا ہے‘‘ جب اللہ کے رسول ﷺ نے دین کا پیغام دیا تھا تو قریش مکّہ نے بھی یہی جملہ کہا تھا۔ قریش باپ دادا کے طریقہ کو نہ چھوڑ سکے اور وہ کفر پر رہے، جبکہ ہم طریقۂ رسول کو چھوڑ کر پکّے مسلمان ہیں۔ 

اگر معاشرتی بگاڑ کا اہم سبب ٹیلی ویزن، فلمیں اور سیریلز ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا ان لوگوں نے اس کا استعمال آپ پر تھوپا ہے یا آپ نے خود اسے اپنایا ہے؟ بازار میں بیچنا اُن کی ضرورت تھی اور ہے۔ استعمال کرنا آپ کی ضرورت ہے یا نہیں، اس پر غور کرنا آپ کا کام ہے۔ آپ خود غور کریں کہ اِن تینوں اسباب کو اپنے گھر میں لانے کے لئے کیا کیا بہانے گڑھے ہیں؟ اور بچوں کی خوشی کی خاطر کتنے سنت کو پامال کیا ہے؟

تیسری وجہ والدین کو دوست نہ سمجھنا اور اپنے فیصلے خود کرنا۔

کون سے بچّے اپنے والدین کو اپنا دوست نہیں سمجھتے؟ یہ خاص سوال ہر ایک کے ذہن میں ضرور آئے گا۔ کیوں کہ جو والدین اپنا تربیتی کردار نہیں نبھاتے تو اکثر ایسا نتیجہ نکلتا ہے اور بچے اپنا فیصلہ خود کرنے لگتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ننانوے فیصد پچھتاوا ہی ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شوہر ملازمت پر اور بیگم بچپن سے ہی بچے کو ٹیوشن میں بھیج کر آرام فرماتی ہیں۔ بلکہ اکثر بیگمیں ٹیوشن ٹیچر سے کہتی ہیں کہ میڈم اسے ایک گھنٹہ اور پڑھائیے، میں اتنے روپے زیادہ دوں گی۔ جب تک میں نہ آؤں اسے چھٹی نہ دیجیے گا۔

اسی طرح کے معاشرتی بگاڑ میں ایک وجہ اپنے لوگوں کے ذریعہ بھروسہ کا ٹوٹنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔

حل سب سے پہلے سب سے اہم معاشرتی ذمہ داری ’’نکاح‘‘ کو مسجد میں سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔ جمعہ یا ظہر بعد نکاح کیا جائے، حاضرین کو شربت پلا کر رخصت کیا جائے، اتنا ہی کافی ہے۔ ولیمہ آپ اپنی حیثیت کے مطابق سادہ کریں۔ لیکن نمائش نہ کریں۔ وقت بھی بچے گا اور سرمایہ بھی، سنت کے مطابق سنت کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔

سنت کے مطابق توحید کو اپنے دل و دماغ سے قبول کریں اور عمل میں لائیں۔ ہم ایک مشترکہ سماج میں رہنے والے ہیں۔ دوسری قوموں کا تو ایک بہانہ ہے، خود دیکھیں کہ ذات برادری اور علاقائیت کے نام پر ہم نے کتنے خرافات و خلفشار مچا رکھا ہے۔

مادّی سہولیات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں، اسے اپنے گھر اور اپنے سر پر لازم قرار نہ دیں۔ 

صحت مند زندگی کے لیے صحت مند سماج کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

4th June 2024

 

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹

🌹 مفت میں کیا ملتا ہے؟ 🌹  از فیروز ہاشمی مفت میں کیا کیا ملتا ہے؟ مفت بانٹنے اور لینے کا چلن کب سے ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیا یہ چلن قابل تعریف ہ...