زندہ بزرگ کس کام کے؟
ایک بات میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ کسی تنظیم، ادارہ، جماعت، میں اگر کوئی اہلِ علم، قابل اور قابل اقتداء یا قابلِ استفادہ شخصیت سے ملاقات چاہیے تو سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی طرح اُن کے پرسنل اسسٹنٹ ملاقات نہیں کرنے دیتے، یہاں تک کہ بعض دفعہ عرضی گزار کی عرضی تک نہیں پہنچاتے۔
بعد مرنے کے میرے قبر پہ بونا آلو
لوگ سمجھیں کہ کوئی چاٹ کا شوقین مرا
یہ ایک مزاحیہ شعر ہے جس میں شاعر نے اپنا شوق بتاتے ہوئے اپنی پہچان بتائی ہے۔ عموماً اداروں میں ایسا ہو رہا ہے، اس لیے یہ شعر یاد آ گیا۔
کیوں کہ مرنے کے بعد اُن کی پہچان ایسے کرائی جاتی ہے کہ بس۔ اُن کے مرنے سے معاشرہ میںایسا خلا پیدا ہو چکا ہے کہ اب کبھی بھرا نہیں جا سکتا۔
ایک جماعت کے پندرہ روزہ آرگن میں چھ صفحات، تقریباً پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل اُس شخص کی پہچان کرائی گئی جو کبھی اسی جریدہ کے مدیر ہوا کرتے تھے۔ بہت ہی عمدہ اداریہ لکھا کرتے تھے۔ جب تک وہ لکھتے رہے، میں پڑھتا رہا۔ میرا چوں کہ صحافت سیکھنے کا ابتدائی دور تھا، مجھے پڑھنے سیکھنے اور ملاقات کا شوق زوروں پر تھا۔ لیکن میں اُن سے ملاقات کرنے سے محروم رہا۔ ملاقات نہ ہونے کی وجہ وہی جو میں نے پہلے پیراگراف میں بیان کر دیا۔
آج یکم جون تا ۱۵جون ۲۰۲۴ء کے شمارہ میں اُن کی شخصیت پر اداریہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جو کہ کچھ اس طرح کی سرخی سے شروع ہوا۔
آہ
مدیر جریدہ …
ایسا کہاں سے لائیں کے تجھ سا کہیں جسے
دو صفحات پڑھنے پر بھی اندازہ نہیں ہوا کہ آخر یہ کس شخص کے بارے میں اتنی صفات بیان کی جا رہی ہیں۔ جب سمجھ میں آیا تو مجھے افسوس ہوا کہ اتنی بڑی علمی شخصیت سے میری ملاقات نہ ہو سکی۔ اب شاید صحافت کا تعارف بھی اسی طرح لکھنے اور زمین و آسمان کی قلابیں ملانے کو کہتے ہیں۔
آج سے چونتیس برس پہلے کا ایک واقعہ ہے کہ جب میں ایک ہفت روزہ اخبار میں خوشنویسی کیا کرتا تھا۔ کچھ صحافی اس طرح کی رپورٹس تیار کرتے تھے کہ الامان و الحفیظ۔ بالکل آج کے ٹی وی چینل میں پیش کرنے والے کے انداز میں۔ جیسے ایک چوہا مرنے کی رپورٹ کی آپ نے ٹی وی پر دیکھا اور سنا ہوگا، ایسے تمہید باندھی گئی تھی کہ پانچ منٹ بعد پتا چلا کہ چوہا مرا ہے۔ دیکھنے اور سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ پانچ منٹ سے مجھے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ویسے ہی اُس زمانے میں لکھنے والے ایسے لکھتے کہ ایک صفحہ یا تقریباً ایک ہزار الفاظ پڑھنے کے بعد پتا چلتا کہ اس حادثہ میں دو افراد زخمی ہوئے۔ اس کو کہتے ہیں ، صحافت، خبر بنانا یا تل کو تاڑ بنانا۔
ایسے ہی تعارف ادارہ اور شخصیات کا کرایا جاتا ہے۔ جھانک کر دیکھا جائے تو کھوکھلا۔ کسی کام کا نہ ادارہ ہے اور نہ شخصیت۔ جھوٹ کا پلندہ بتا کر ادارہ قائم کر لیا جاتا ہے۔ چند ایکسپرٹ طالب علم کو دوسرے ادارہ سے کرایہ پر یا بہلا پھسلا کر لایا جاتا اور سال کے پورا ہونے پر بڑا جلسہ کرکے دستاربندی کر دی جاتی ہے۔ نمائش یہ کی جاتی ہے کہ ہمارے ادارہ کی کارکردگی ہے۔ اور چندہ وصول کر لیا جاتا ہے۔ بلڈنگ پر بلڈنگ تیار کی جاتی ہے سال بھر میں چند بچے کسی طرح حافظ یا قاری بنا دیا بس۔ محلے کے بچے ویسے ہی اَن پڑھ اور جاہل رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ مدرسہ میں بچے وہاں سے لائے جاتے ہیں جس علاقے کے مولوی، حافظ یا قاری صاحب نے ادارہ قائم کیا ہے۔
اتنے تعلیمی ادارے اور مکاتب و مدارس سے فارغ پڑھے لکھے حضرات اپنے علاقے میں ادارہ کیوں نہیں قائم کرتے؟ کیا اُن کے علاقے میں دین پھیلانے اور دین پر قائم رہنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اداروں یا تنظیموں کے پاس قدرتی آفات کے نام پر چندہ کرنے اور کچھ رفاہی کام کی نمائش کرنے کے علاوہ کیا کام ہے؟ کوئی بھی ادارہ یعنی این جی او کسی کو خود کفیل یا اہلِ علم عمل بنانے کا کتنا بڑا ریکارڈ ہے؟ صدقہ و زکوٰۃ کے مثبت استعمال کا کتنا بڑا ریکارڈ ہے؟ آٹے میں نمک کی طرح یا آٹے کی طرح۔ استقبالیہ دینا، پریس ریلیز جاری کرنا تو عام عمل ہو چکا ہے۔ اب صحافت کا معراج بھی اِسی کو کہا جانے لگا ہے۔ پریس ریلیز چھپوانا اور اُس کی نمائش کرنا۔
اب گاؤں دیہات سے بھی دین کا چلن اٹھتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ جہالت اور اناپرستی ابھی تک ہمارے یا آپ کے ذہنوں سے نہیں اُترا ہے۔ ایسا ہی ہم نے اپنے گاؤں میں دیکھا۔اڑتیس برس پہلے اور آج کے گاؤں کی حالت کا تجزیہ ایک مضمون ’’اماموں کی قدر کریں‘‘ میں پیش کیا تھا۔ اس طرح کے حالات بدلنے کے پیچھے ایک اہم سبب مادیت پرستی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں پیسوں کی بارش ہوئی ہے۔ لوگ آرام طلب ہو گئے ہیں۔ کھانا کھا کر سوتے ہیں اور جب بھوک لگتی ہے تو جاگ جاتے ہیں۔ مدارس و مساجد اب نمائش اور تبرک کے لیے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ نہ لوگوں کی سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی معاملہ فہمی اور آپسی تعلقات میں بہتری۔ گاؤں کے مجبور خاندان کے بچوں کو دینی تعلیم سے زبردستی آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آٹھ دس برس مدرسہ میں لگانے کے بعد اب اکثر بچے دبّو، شکم پرور، پست ذہنیت، خودغرض اور چند لڑاکا قسم کے آدمی تیار ہو رہے ہیں۔ پچاس سو گز زمین پر مدرسہ چلا رہے ہیں۔ چندہ کی رقم سے اپنا اور اہلِ خاندان کا پیٹ پال رہے ہیں۔ کئی ناظم اور مہتمم نے چندہ کرنے والے رکھے ہوئے ہیں۔ جو اپنے روٹین کے مطابق اپنے منتخبہ علاقوں میں دورہ کرکے چندہ اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے کس کس کونے میں ایسا ہو رہا ہے اس کو پیش کرنا ایک کارِ مشکل ہے، لیکن ہم نے جن علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کی حالت کی بنیاد پر میں یہ کہہ رہا ہے۔ دہلی کے کچھ علاقے اور غازی آباد کے کچھ علاقوں میں حافظ اور قاری بنانے کے نام پر تو ہر دو تین سو میٹر پر یا ہر گلی میں ایک مدرسہ مل جائے گا۔ اس سے سماج میں کتنی بھلائی ہو رہی ہے، یہ تو دکھائی نہیں دے رہا، لیکن چند لوگوں کا پیٹ کا معاملہ حل ہو جا رہا ہے۔ اور اس کام کے لئے ان کے پاس سورہ توبہ کی آیت دلیل ہے، جو کہ مستحکم ہے۔ بلکہ علماء کرام اس آیت پر زور دے کر کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے، ہم کوئی غلط نہیں کر رہے ہیں۔ میں بھی یہی مانتا ہوں کہ آپ چندہ یا صدقہ جمع کرنے کے اہل ہیں، لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج کیوں برآمد نہیں ہو رہے ہیں؟ یہ غور و خوض کا پہلو یا لمحۂ فکریہ ہے کہ نہیں؟
ہمارے اپنے ہی لوگ دین کا مذاق بنائے ہوئے ہیں۔ تو دیگر کو کیسے دین کی طرف رغبت پیدا ہوگی؟ کتنے ملّی اور مسلکی ادارے اخلاقی طور پر دین کو پیش کرتے ہیں، یا کرنے والے ہیں؟ کیوں کہ دین کا فروغ اور معاشی بہتری اُسی وقت آ سکتی ہے جب صدقہ و زکوٰۃ کا صحیح مصرف ہو۔ اور یہ کام برائے نام ہو رہا ہے۔
جب ہمارے اکابرین کا تعارف بعد الموت لق و دق انداز میں کرایا جا رہا ہے تو غور طلب پہلو یہ ہے کہ ہم بھی ایک طرح سے مردہ پرست قوم ہیں؟
☆ ☆ ☆
فیروز ہاشمی، ری فورمسٹ، نئی دہلی
8th June 2024