آٹھ منٹ کا فتنہ
جیسا کہ ہر جمعہ میں دو منٹ سے پانچ منٹ اور بعض دفعہ دس منٹ زائد دیر سے جماعت شروع کیا جاتا ہے، اِس بار بھی رمضان کو رحمت و مغفرت کا مہینہ بتاتے ہوئے آخری جمعہ اپنے وقت مقررہ سے آٹھ منٹ کی دیری سے شروع کیا گیا۔ خطباء کرام جو زیادہ تر مسجد کے متولی، منتظم یا مسجد و مدرسہ کے ناظم اعلیٰ ہوتے ہیں، عمومی طور پر جمعہ کی جماعت دیر سے شروع کرتے ہیں۔ کچھ اعلانات، رحمت و برکت کی باتیں آخرت کی چاشنی دیتے ہوئے دیر کرتے ہیں۔ دیر سے شروع کرنے سے چند ایک رسمی فائدہ تو سمجھ میں آیا لیکن شرعی اور سماجی فائدہ آج تک سمجھ نہیں آیا۔
رسمی فائدہ یہ سمجھ میں آیا کہ کچھ اضافی چندہ اکٹھا ہو جاتا ہے۔ اور لوگ بطورِ تبرک امام صاحب کی تکریم کرتے ہیں، جب کہ اصل میں اپنی کم مائیگی اور کم علمی کی وجہ سے اعتراض نہیں کرتے اور مصلحتاً خاموش ہی رہتے ہیں۔ مصلحتاً اس لئے کہہ رہا ہوں کہ حالات تو ہر جگہ خودغرضانہ ہے۔ ہمیں آپس میں لڑتے دیکھیں گے تو وہ ہماری مجبوری کا فائدہ اٹھائیں گے۔ حالاںکہ کسی بھی قوم سے کوئی بھی حالت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
شرعی اور سماجی فائدہ اِس لئے سمجھ میں نہیں آیا کہ وقت کے سلسلے میں بہت ہی واضح حکم اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما دیا ہے۔
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)
بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔
جب وقت کے سلسلے میں اتنا واضح حکم موجود ہے تو پھر خطبہ کو طول دینا اور وقت مقررہ سے جماعت اور نماز میں تاخیر کرنا کس بات کا پتا دیتا ہے؟
علماء کرام و خطیب عظام اِس تاخیر سے مسلم قوم کو اور دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
کیا یہ بھی مسلمانوں کو تکلیف دینے کے ضمن میں آئے گا؟ یا صرف ایک مسلم کا اپنے دوسرے مسلم بھائی کے اگواڑے یا پچھواڑے میں کوڑا پھینکنا ہی تکلیف پہنچانے کے ضمن میں آئے گا؟ جیسا کہ اِس حدیث میں مسلم قوم کی تعریف بیان کی گئی ہے؟
’’الْمُسْـــــــلِمُ مَنْ سَـــــــلِمَ الْمُسْــــــلِــمُـــونَ مِنْ لِسَــانِـهِ وَيَــدِهِ، وَالْمُـــهَـاجِـــرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ‘‘
’’مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللّٰہ نے منع فرمایا ہے۔‘‘
مسلم و ہ ہے جو اسلام کے احکام و اصول کے مطابق اپنی زندگی گزارے یا مسلم وہ ہے جو اپنی مرضی سے شریعت کو بنا لے؟
احکامِ الٰہی کے دو طریقے بیان کرکے ہم پوچھنا اور جاننا چاہتے ہیں کہ کب سے ہم نے احکامِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی سےزندگی گزارنے والے بنے ہیں۔؟
کچھ علماء کرام اس طرح کی حرکتوں کے بارے میں اکابرین کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، وہ بھی عام مسلم قوم کی طرح کہتے ہیں کہ اکابرین سے چلا آ رہا ہے۔ اگر اکابرین نے کسی موقع پر کسی خاص وجہ سے کچھ وقت لے لیا تو کیا مطلب ہے، دیر کرنا دلیل بن جائے گی؟ بعض عمل اور فتاویٰ وقتی ہوتے ہیں۔ وقت گزر جانے اور حالات بدل جانے کے بعد وہ فتویٰ نا قابل استعمال ہو جاتا ہے۔ اس کی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ جب کہ ہم ہیں کہ ملفوظاتِ فلاں اور عملیاتِ فلاں کا پیغام فاروڈ کرتے ہیں اور عمل کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔
صدی بھر پہلے بہت سارے اعمال انگریزوں کی مخالفت میں کئے گئے تھے اور علماءکرام نے فتویٰ جاری کرکے اُن کے ذریعہ تیار کئے گئے بہت سے پروڈکٹ کے بائیکاٹ کا مشورہ دیا تھا، لیکن وہ فتویٰ وقتی تھا۔ افسوس تو یہ رہا ہے کہ ہماری قوم اُس وقتی فتویٰ پر پوری ایک صدی سے عمل پیرا ہے اور عملی میدان میں دوسری قوموں کے مقابلے میں پوری ایک صدی پیچھے رہ گئی۔ جو قوم نمائندگی اور رہنمائی کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی وہ دوسری قوموں کی پچھ لگو یا دست نگر بنی ہوئی ہے۔ یہ ہے ہماری وقت کی بربادی اور غلط سوچ کا نتیجہ۔ وقت کا غلط استعمال نے ہمیں ان حالات میں پہنچا دیا۔
آئے دن ہر تھوڑی سی بات پر لوگوں کو جذباتی بناکر بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کر دیا جاتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں یا واقعات پر بھیڑ جمع کرنا یا بائیکاٹ کا پیغام فاروڈ کرنا عام بات ہو چکی ہیں جب کہ اگر ہم کسی دوسری قوم کے بنائے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کرنے چلتے ہیں تو ہمیں اپنے گھر سے آدھا سے زیادہ سامان پھینکنا پڑے گا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ جن سامانوں کو ہم نے اپنے گھر کی زینت بنایا اُن میں سے آدھے سے زیادہ سامانوں کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہماری اپنی تباہی اور پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے غیرضروری سامانوں کو بھی اپنے گھر کا حصہ بنا رکھا ہے۔ یہ ہے ہماری قوم کی مالیاتی کمزوری کا سبب۔
دورِ موجودہ میں کلی طور سے بازار کا مالیاتی نظام آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ آپ ہر طرح سے دوسری قوم کے محتاج ہیں، حالاں کہ وہ قوم تعداد میں قلیل ہے اور مینجمنٹ میں آگے ہے۔ پروڈکٹ فراہم کرنے اور سروس پرووائڈ کرنے میں چاق و چوبند ہے۔ اور ہم ہیں کہ مسجد کے دروازے پر چپل جوتے رکھنے کا مینجمنٹ نہیں کر پائے؟ چہ جائیکہ کہ مالیاتی نظام میں ہماری شراکت ہو۔ اِس سال رمضان میں زکوٰۃ و صدقات کا تخمینہ بیالیس ہزار کروڑ روپے کا رہا۔ اور ہماری کل آبادی اندازاً تیس کروڑ نفوس پر مشتمل مانی جاتی ہے۔ اگرہم بیس فیصد آبادی کے بارے میں کہیں کہ زکوٰۃ و صدقات کے مستحق ہیں اور اُن پر یہ رقم تقسیم کر دی جائے تو بتائیں کہ ایک نفس پر کتنی رقم سالانہ مل رہی ہے؟ اور ایک خوددار انسان جو چار پانچ نفوس کا خاندان کی کفالت کرتا ہے اُس سے کتنا کم ہے؟ اگر اندازاً سات کروڑ نفوس کو زکوٰۃ کا مستحق مان لیں اور اس میں یہ رقم تقسیم کیا جائے تو ایک نفس پر ساٹھ ہزار روپے آتے ہیں۔ کیا یہ رقم اُنہیں ایک سال کی کفالت کے لیے کافی نہیں ہے؟ ہے۔ بلکہ وہ اس رقم کا درست استعمال کریں تو اگلے برس وہ خود کفیل بن جائیں گے۔ اگر اُن میں پچیس فیصد بھی خوددار شخص ہوں جن کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ اگر ہمیں مالی مدد مل جائے تو ہم اپنا کاروبار کرکے ضروریاتِ زندگی مہیا کر لیں گے۔ ہر برس اگر اُن زکوٰۃ لینے والوں میں سے پچیس فیصد بھی کم ہو جائیں یعنی ملی ہوئی رقم سے اپنا کاروبار کرکے کمانے لگے تو چند برسوں میں ہی ہمارا پورا معاشرہ خود کفیل بن جائے۔ زیادہ سے زیادہ دس برس درکار ہوں گے۔ چند فیصد اگر ذہنی اور جسمانی طور پر معذور رہ بھی جائیں تو اُن کی کفالت کرنا معاشرہ کے لئے اتنا بڑا بوجھ بھی نہیں ہوگا۔
لیکن گزشتہ ایک صدی کا تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ مالیاتی میدان میں ہم بالکل پھسڈی ہیں۔ گزشہ ایک صدی سے انگریزوں کی مخالفت میں برسوں انگریزی زبان سے عاری رہے۔ چند فیصد لوگ جنہوں نے انگریزی سیکھی اور قوم کو مین اسٹریم میں ڈھالا، ہمیشہ وہ عتاب کے شکار رہے اور اب تک اُن کی محنتوں پر پانی پھیرنے کے لیے ایک طبقہ ہماری قوم میں موجود ہے اور کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ کبھی یہودی اور عیسائی یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی مخالفت میں اپنا وقت، سرمایہ اور دماغ خرچ کرتے رہے۔ کبھی دیگر قوم کے لیے۔ جب کہ ضروریاتِ زندگی کو پوری کرنے اور بہتر بنانے کے لیے اُن ہی کی بنائی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ننانوے فیصد لوگ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے میدان میں آج بھی عیسائی قوم سب سے آگے ہے۔ ناگہانی آفات و بلیات کے موقع پر انسانیت کی رفاہ کے کام میں سب سے آگے سردار جی آتے ہیں۔ پروڈکٹ بنانے اور بازار میں لانے کے میدان میں آج بھی یہودی سب سے آگے ہیں۔ اور ہم یا ہماری قوم کے بیشتر افراد صدقہ و زکوٰۃ کو بانٹنے اور نمٹانے میں سب سے آگے ہیں۔ خطاب جمعہ اور جلسوں میں وقت لگا کر لالی پاپ بانٹنے میں علماء کرام سب سے آگے ہیں۔
بھائی! اللہ کے رسول ﷺ نے عملی طور پر بھی کرنے کو بتایا ہے، صرف دعاء اور تبرک سے دُنیا اور آخرت بہتر نہیں بن سکتی۔ ہم تمام ہی علماء کرام اور خطباء عظام سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ کے واسطے قوم کی درست رہنمائی فرمائیں، چند سو گز جگہ اور زمین میں مہمانانِ رسول کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانا چھوڑیں۔ اُن کی سادگی کا فائدہ اٹھانا چھوڑیں۔ صرف ہمیں ہی اللہ کو جواب نہیں دینا ہے، آپ کو بھی دینا ہے۔ اپنے بارے میں بھی سوچئے کہ کس طرح قوم کو جذباتی بنا کر مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دنیا کو حافظ اور مولوی بنانے کی تلقین کرتے اور اپنے بچوں کو عصری اداروں میں تعلیم دلواکر مین اسٹریم میں جوڑتے ہیں۔ آپ ہی درس دیتے ہیں کہ جو اچھی چیزیں اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو۔ تو یہاں پر معیار بدل کیسے جاتا ہے؟
ہمیں معلوم ہے کہ اِس مضمون کو پڑھنے کے بعد ہمارے ساتھیوں کی رگِ حمیت پھڑک اٹھے گی اور وہ مجھے فون کرکے سورہ توبہ کی آیت کا حوالہ دے کر خاموش کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
[التوبة ۶۰].
ممکن ہے کوئی اور بھی دھمکی دیں گے۔ اور ہم سے یہ سوال کریں گے کہ ابھی تک آپ نے اُمّت مسلمہ کے لیے کیا کیا ہے؟
تو ہم بار بار یہ تو نہیں بتائیں گے کہ ہم نے کس کے لیے کیا کیا ہے؟ کیوں کہ ہم نہ تو کوئی رفاہی ادارہ چلاتے ہیں نہ ہی مدرسہ یا مسجد کے متولی ہیں کہ بتا کر یا جتا کر آگے چندہ کا راہ ہموار کرنا ہے۔ ہم تو صرف کرتے ہیں، جس نے فائدہ اٹھایا وہ کامیاب ہیں، خود کفیل ہیں، وہ ہمارے لیے دعائیں کرتے ہیں، نئے بندوں کو وہ بھی خود کفیل بناتے ہیں اور یہی طریقہ سنّت نبوی سے ثابت ہے۔ اور ہم اِسی کام میں لگے ہوئے ہیں۔
والسلام
فیروزہاشمی
۵؍جون ۲۰۲۴ء
No comments:
Post a Comment