Thursday, June 6, 2024

ارتداد، اسباب اور تدارک

’’اسلام ایک ایسا نظامِ حیات ہے، جس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی اور تمام مراحل کے لیے دستورالعمل تیار کیا ہے۔ بہتر زندگی گزارنے اور فطرت کے مطابق عمر بسر کرنے کے لیے واضح ہدایات دیں اور سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس میں ہر گوشہ حیات کے لیے روشن طریق، واضح اور معتدل احکام موجود ہیں۔ مذہبِ اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں تمام چیزوں کی اور ہر پریشانی کے لیے احکام اور راہِ نجات موجود ہے۔‘‘

عمومی طورپر اسلام کا یہ تعارف ہر کسی کو پتا ہے۔ بہت کم لوگ اِس سے ناواقف ہیں۔ 

ارتداد کی پہلی وجہ دینی تعلیم سے دوری اور اسلامی تربیت سے عاری زندگی۔ ارتداد کی دوسری وجہ مخلوط تعلیم نے جس قدر معاشرے میں تباہی و بربادی پھیلائی ہے۔ ارتداد کی تیسری وجہ فلمیں، ڈرامے اور سیریلز نے سماج میں جس قدر گندگی پھیلائی ہے، وہ کسی صاحبِ بصیرت سے ڈھکی، چھپی نہیں ہے۔ 

ارتداد کی یہ تین بنیادی وجہیں قرار دی جا رہی ہیں اور لکھ کر اور بیان دے کر اپنا پلّا جھاڑ لیا جا رہا ہے۔ یا کسی ادارہ یا تنظیم کے لیٹر ہیڈ پر پریس ریلیز جاری کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھا دی۔ جب کہ ارتدار کی اصل وجہ اخلاقی طور پر عملی فقدان ہے۔ اسلام کا اخلاقی نظام وہی قابلِ عمل ہے جو اللہ کے رسول مُحمَّد سے ثابت ہے۔

ہمارے یہاں دینی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے، اور دین داری کے دعویدار کی بھی کمی نہیں، پھر دین سے دوری وجہ کیوں کر قرار دی جاسکتی ہے؟ کئی علاقے تو ایسے جسے مدرسوں کا شہر کہتے ہیں، کئی علاقے ایسے ہیں جسے مولویوں اور حافظوں کا شہر کہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو تعارف کرانے میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی وہ جگہ تو پورا … …ہے گویا ایک طرح سے یہ سب باتیں کہنے اور جتانے تک ہی محدود ہے۔ یا کرتا پائجامہ ٹوپی تک محدود ہے۔ یا مسجد و مدرسہ تک محدود ہے۔ عملی اور عقلی طور پر کسی بھی طرح سے ہمارے اندر دینی اصول نہیں ہے یا برائے نام ہے؟ ہماری کوئی ایسی پہچان نہیں ہے جو دیگر ہندوستانیوں سے امتیاز ظاہر کرتی ہو؟ جیسے دیگر لوگوں کی عبادتیں اور معاشرتی معاملات ہیں، ویسے ہی ہمارے بھی ہیں۔ ہماری کون سی امتیازی شناخت ہے جسے دیکھ کر یا پرکھ ہے دوسری قومیں ہم سے معاملہ کریں اور بھروسہ رکھیں؟ کیا ہم معاشرہ میں متأثر کن شخصیت کے مالک ہیں؟

مخلوط تعلیمی ادارے اور رہن سہن کئی صدی سے رائج ہے، جسے ایک وقت میں آپ ہی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہتے رہے ہیں اور تھوڑے ہی وقت کے فاصلہ پر علیحدہ معاشرہ اور تعلیم گاہ کی تشکیل کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور جو آپ تیسری وجہ قرار دیتے ہیں، وہ نہایت ہی لچر اور گھٹیا سوچ کی پیداوار ہے۔ یعنی فلمیں اور سیریلز وغیرہ۔ اخلاقی بگاڑ کی سب سے اہم وجہ ٹی وی، فلمیں اور اب موبائل کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کہ اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب آپ کا انتخاب ہے۔ آپ نے اپنی ضروریات، تفریحات، تعلیمات وغیرہ کے لئے کس کا انتخاب کیا ہے؟ آخر مادّی سہولیات کو اخلاقی بگاڑ کا سبب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ اِس طرح کی اخلاقی بگاڑ کے سامان کیا پہلے کی تین صدیوں میں نہیں ہوا کرتے تھے؟ کیا اُس وقت اخلاقی بگاڑ نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج جس رفتار اور جس نہج پر تعلیم کے دوران اور تعلیم کے بعد بھی، تعلیم گاہیں مختلف ہونے کے باوجود بھی ارتداد کے واقعات پیش آئے ہیں اور آ رہے ہیں۔ وہ ایسی وجہ اور لمحۂ فکریہ ہے کہ اُس کو اکثر تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں نے گفت و شنید کرنا غیر مناسب سمجھا ہے۔

۱۔ارتداد کی پہلی اہم وجہ غیر سنت نکاح کا چلن 

یعنی معاشرے میں غیرمتوازن نکاح کی تقریبات کا انعقاد۔ بچّے وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرتے دیکھتے ہیں، نہ کہ وہ کرتے ہیں جو ہم کہتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے کرکے دِکھایا۔ اور ہم نے اُن کے کئے کام کو تاویل کرکےاپنی مرضی کے مطابق کیا۔ جیسے

یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ 

یہ سب ہم لوگ نہیں مانتے۔ 

یہ طریقہ اُس طرف کا ہے۔ 

وہ زمانہ اور تھا۔ 

ایسا کہاں کوئی کرتا ہے۔ 

باپ دادا کے زمانے سے چلتا آ رہا ہے۔ 

ہمارے باپ دادا نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

وغیرہ۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے

’’شادی ایسی ہونی چاہئے کہ دو لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے لیکن 500 لوگ اپنا پیٹ اپنی خوشیوں کیلئے بھر لیتے ہیں!‘‘

سنت نبوی کے مطابق نکاح مسجد میں ہونی چاہیے اور مختصر و سادہ ولیمہ۔ جن علاقوں میں یہ طریقہ رائج ہوا ہے، اُن علاقوں کے لوگ معاشرے میں خودکفیل اور باعزت ہو چکے ہیں۔

جب کہ دولت کی نمائش یا دوسروں کی برابری کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ دل و دماغ میں ہے ’’کیا کہیں گے لوگ‘‘ اور یہی ہے سب سے بڑا روگ، معاشرتی پستی کا۔

۲۔ ارتداد کی دوسری بنیادی اور اہم وجہ اخلاقی پستی ہے۔ 

جس پر ہم نے آنکھیں بند رکھی ہوئی ہیں۔ اہلِ علم واضح طور پر سمجھائیں کہ 

قُوْٓااَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ 

(پوری آیت سورہ التحریم آیت ۶ میں ملاحظہ فرمائیں)

سے کیا مراد ہے؟ کس کو حکم دیا گیا ہے؟ کس کو ذمہ داری دی گئی ہے؟ کیا بطورِ گارجین یا والد و والدہ ہم اٹھ کر نماز پڑھ لیں، یا زندگی کے اپنے کام سنت کے مطابق کرلیں اور بچوں پر نظر نہ رکھیں تو ہم گارجین کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں کیا؟

معاشرہ میں دیکھیں پچاس سے زائدہ عمر کے لوگ اب مسجدوں کا رُخ کرنے لگے ہیں، اور مسلم علاقہ میں گھر منتقل کرنے کا من بنا چکے ہیں یا منتقل کر چکے ہیں۔ اُن کو معلوم ہو چکا ہے کہ کبھی بھی اللہ کے یہاں سے بلاوا آ سکتا ہے۔ جس طرح مقولہ مشہور ہے کہ ’’جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے‘‘  ویسے ہی لگتا ہے مسلمان کی موت جب قریب آنے لگتی ہے تو وہ مسلم علاقہ کا رُخ کر لیتا ہے۔ تاکہ کوئی تو ہو جو میّت کو کاندھا دے سکے اور قبرستان میں جگہ مل سکے۔

معاشرے میں مادّی سہولیات کی فروانی ہے۔ اور ہم نے مادّی سہولیات کو غلط طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جوانی میں غفلت اور جسمانی آسائش کی طلب۔ کمزوری میں عبادت کی چاہت۔ اولاد یا بچّوں کے تئیں بے رُخی، ہر شئے کو پیسے سے خریدنے کی عادت و رغبت نے ہمارے بچوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ فضول کی تقریبات منعقد کرنا اور شرکت کرنا ہمارے بچوں کو دین سے دور کرنے کا اہم سبب ہے۔ مثلاً نکاح، سنّت کو خیرباد کرکے معاشرتی رسم و رواج کے ساتھ انجام دینے نے ہی ہمارے بچوں میں بھی یہ چاہت پیدا کر دی۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ’’یہ تو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے ہوتا آیا ہے‘‘ جب اللہ کے رسول ﷺ نے دین کا پیغام دیا تھا تو قریش مکّہ نے بھی یہی جملہ کہا تھا۔ قریش باپ دادا کے طریقہ کو نہ چھوڑ سکے اور وہ کفر پر رہے، جبکہ ہم طریقۂ رسول کو چھوڑ کر پکّے مسلمان ہیں۔ 

اگر معاشرتی بگاڑ کا اہم سبب ٹیلی ویزن، فلمیں اور سیریلز ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا ان لوگوں نے اس کا استعمال آپ پر تھوپا ہے یا آپ نے خود اسے اپنایا ہے؟ بازار میں بیچنا اُن کی ضرورت تھی اور ہے۔ استعمال کرنا آپ کی ضرورت ہے یا نہیں، اس پر غور کرنا آپ کا کام ہے۔ آپ خود غور کریں کہ اِن تینوں اسباب کو اپنے گھر میں لانے کے لئے کیا کیا بہانے گڑھے ہیں؟ اور بچوں کی خوشی کی خاطر کتنے سنت کو پامال کیا ہے؟

تیسری وجہ والدین کو دوست نہ سمجھنا اور اپنے فیصلے خود کرنا۔

کون سے بچّے اپنے والدین کو اپنا دوست نہیں سمجھتے؟ یہ خاص سوال ہر ایک کے ذہن میں ضرور آئے گا۔ کیوں کہ جو والدین اپنا تربیتی کردار نہیں نبھاتے تو اکثر ایسا نتیجہ نکلتا ہے اور بچے اپنا فیصلہ خود کرنے لگتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ننانوے فیصد پچھتاوا ہی ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شوہر ملازمت پر اور بیگم بچپن سے ہی بچے کو ٹیوشن میں بھیج کر آرام فرماتی ہیں۔ بلکہ اکثر بیگمیں ٹیوشن ٹیچر سے کہتی ہیں کہ میڈم اسے ایک گھنٹہ اور پڑھائیے، میں اتنے روپے زیادہ دوں گی۔ جب تک میں نہ آؤں اسے چھٹی نہ دیجیے گا۔

اسی طرح کے معاشرتی بگاڑ میں ایک وجہ اپنے لوگوں کے ذریعہ بھروسہ کا ٹوٹنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔

حل سب سے پہلے سب سے اہم معاشرتی ذمہ داری ’’نکاح‘‘ کو مسجد میں سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔ جمعہ یا ظہر بعد نکاح کیا جائے، حاضرین کو شربت پلا کر رخصت کیا جائے، اتنا ہی کافی ہے۔ ولیمہ آپ اپنی حیثیت کے مطابق سادہ کریں۔ لیکن نمائش نہ کریں۔ وقت بھی بچے گا اور سرمایہ بھی، سنت کے مطابق سنت کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔

سنت کے مطابق توحید کو اپنے دل و دماغ سے قبول کریں اور عمل میں لائیں۔ ہم ایک مشترکہ سماج میں رہنے والے ہیں۔ دوسری قوموں کا تو ایک بہانہ ہے، خود دیکھیں کہ ذات برادری اور علاقائیت کے نام پر ہم نے کتنے خرافات و خلفشار مچا رکھا ہے۔

مادّی سہولیات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں، اسے اپنے گھر اور اپنے سر پر لازم قرار نہ دیں۔ 

صحت مند زندگی کے لیے صحت مند سماج کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

4th June 2024

 

No comments:

Post a Comment

عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام

ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ ک...