Wednesday, July 31, 2024

کتابت کی حمایت

انجمن خطاطانِ ہند، نئی دہلی؛ واٹس ایپ گروپ میں ایک صاحب نے رضا لائبریری رامپور کے تختۂ نشان کے ساتھ فوٹو کھنچوا کر پوسٹ کر دیا۔ جس سے کئی ساتھیوں کو ان کی حماقت محسوس ہوئی۔ گروپ میں دستی کتابت اور خوشنویسی کی تخلیق ہی پیش کیے جانے کی اجازت ہے نہ کہ بذریعہ کمپیوٹر بنے ہوئے نشانات و پوسٹر وغیرہ کی۔ اس تعلق سے یہ مضمون وجود میں آیا۔

کتابت کی حماقت، کتابت میں حماقت، کتابت اور حماقت۔ یا کتابت کی حمایت۔ یہ سلسلہ اُس وقت سے جاری ہے جب سے کتابت کو بطورِ پیشہ اپنایا۔ حالاں کہ سیکھنے کے لیے ہم نے تین اساتذہ کرام سے اصلاح لی۔ اور غائبانہ طور پر دسیوں آرٹسٹ اور خطاطوں سے استفادہ کیا اور آج بھی کر رہے ہیں۔الحمدللہ ابھی تینوں اساتذہ حیات ہیں۔ کچھ ایسی ہی حالت صحافت کی بھی ہے۔ صحافت کی حماقت، صحافت میں حماقت، صحافت اور حماقت۔ کتابت کی حماقت کے بجائے آپ اسے خوش فہمی پڑھیں تو پڑھنے میں ذہنی کوفت نہیں ہوگی۔ 

ہر فن کو سیکھنے اور سکھانے کے کچھ نہ کچھ طریقے اور اصول رائج ہیں۔ یہ اصول اور طریقے سب آسمان سے نازل نہیں ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طرف مائل کیا، تاکہ وہ اپنے عقل و شعور کے ذریعہ دنیا کی ضرورتوں کو پوری کر سکے۔ اسی میں سے ایک فن خوش نویسی بھی ہے۔ جسے کتابت بھی کہہ سکتے ہیں۔ یا کہا جاتا ہے۔ بعد کے اساتذہ نے تھوڑا فرق کیا۔ وہ یہ کہ کتابت عام لکھائی اور کاتب عام لکھنے والے کو کہا جانے لگا۔ اور خوش نویس یا خطاط عمدہ اور مختلف خطوط کے ماہرین کو کہا اور سمجھا جانے لگا۔ چالیس برس پہلے تک زمین جائداد کے رجسٹریشن کے دستاویزات لکھنے والے کو بھی کاتب کہا جاتا تھا۔ اب یہ سارا کام آن لائن اور بذریعہ کمپیوٹر ہونے لگا۔

پرائمری کی دوسری جماعت میں جب سلیٹ پر لکھا کرتا تھا تو تحریر کی سطر آخر کی طرف نیچے ہوجاتی تھی، جو کہ عموماً نئے لکھنا سیکھنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ آج بھی اگر کسی کو بغیر لائن والے کاغذ پر درخواست لکھنے کو کہاجائے تو عموماً ایسا ہوتا ہے۔ بہت کم لوگ سیدھی سطر لکھ پاتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا، استاذ جو کہ خود میرےوالد محترم تھے، بار بار کہتے کہ سیدھا لکھو۔ 

کیسے لکھیں؟ 

سطر ٹیڑھی کیوں ہو جاتی ہے؟

دیکھو کتاب میں جیسے لکھا ہے ویسے ہی لکھو۔

کتاب میں نشان نہیں ہے پھر سیدھی سطر۔ میں لکھتا ہوں تو ٹیڑھی کیوں ہو جاتی ہے؟

اس کا جواب نہیں تھا، ان کے پاس۔

جب پرائمری پاس کرکے مدرسہ میں عربی اوّل میں پہنچا تو وہاں دیکھا کہ عربی سوم سے کتابت سکھائی جاتی ہے۔ مجھے سیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ حالاں کہ مجھے سیدھی سطر لکھنے کا جنون سوار تھا۔ لکیر والی کاپی پر تو لکھنا آ گیا لیکن بغیر لکیر والی کاپی پر سیدھا لکھنا اس وقت بھی مشکل تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ کتاب سیکھنے والے پنسل سے ہلکی سی لکیر کھینچتے ہیں تب سیدھا لکھتے ہیں۔ اس وقت سمجھ میں آیا کہ سیدھا لکھنے کا طریقہ اور راز کیا ہے۔ اُس دوران اضافی مطالعہ کرتے ہوئے ہمارے سامنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بات سامنے آئی جو کچھ اِس طرح تھی۔

قال الإمام علي بن أبي طالب كرم الله وجه

امام علی ابن ابی طالب کرمہ اللہ وجہ نے کہا

((عليـــكم بحسن الخط فإنه من مفاتيح الرزق))

آپ کو اچھی لکھاوٹ کی مشق کرنی چاہیے کیوں کہ یہ معاش کی کنجیوں میں سے ایک ہے

و قال أيضاً

اور یہ بھی کہا

((أكــرموا أولادكم بالكتابة فإن الكتابة من أهم الأمور وأعظم السرور)) 

اپنے بچوں کو لکھ کر عزت دیں کیوں کہ لکھنا سب سے اہم چیز اور سب سے بڑی خوشی ہے۔

وأيضاً ((الخــط الحسـن يزيد الحق وضوحاً)).

اور یہ بھی کہا ’’عمدہ لکھاوٹ حقیقت کو واضح کرتا ہے‘‘

اِس روئے زمین پر دین اسلام کو تسلیم کرلینے کے بعد جو سب سے اہم ذمہ داری بنتی ہے وہ انسانیت کی درست تربیت ہے۔ خود ہمارے پیغمبر محمد ﷺ نے اپنی ذمہ داری  بتاتے ہوئے فرمایا

إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ اَلْأَخْلاَقِ.

مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اخلاقیات میں وہ ساری باتیں اور امور شامل ہو جاتی ہیں، جو انسانیت کی فلاح و کامرانی کے لیے کیا جائے۔ 

اب بات کر لیتے ہیں دورِ موجودہ میں خوشنویسی اور کمپیوٹر کے تعلق سے۔

تقریباً پچیس برس پہلے جب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر محترم حمیداللہ بھٹ نے کونسل کے ذریعہ اردو اور خوشنویسی کو کمپیوٹر تکنیک سے جوڑنے کا پلان بنایا تو پچیس سے زائد خطاطوں کی ایک میٹنگ بلائی گئی تھی۔ جس میں بدلتے حالات کے پیشِ نظر کمپیوٹر تکنیک کو سکھانے، اپنانے اور فروغ دینے کے لیے درخواست کی۔ ملک کے کئی گوشے سے شریک ہوئے خطاطوں نے خوش نویسی کے تعلق سے کئی اعتراضات کیے۔ جس میں یہ بھی کہا گیا کہ خوش نویسی جیسی خوبصورتی کمپیوٹر سے نہیں آ سکتی۔۔

 اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ’’خوش نویسی جیسی خوبصورتی کمپیوٹر سے نہیں آ سکتی‘‘ لیکن بہت حد تک خوبصورتی اور بہتری کے قریب آ سکتی ہے۔ اگر آپ کرنا چاہیں تو اور سیکھنا چاہیں تو 

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کتابت اور خوش نویسی کے تعلق سے جو بھی سوالات ہیں؛ آپ ایک ایک کر کے رکھیں آپ کو نہ صرف تسلی بخش جواب دیا جائے گا بلکہ کر کے دکھایا جائے گا۔  یہ ’’فیروزہاشمی‘‘ جو کہ خطاط بھی ہیں وہی آپ کو اِن پیج اردو کے ذریعہ خطاطی سکھائیں گے۔ اُس وقت جو بھی اشکالات تھے، اُن کے تسلی بخش جواب دیے گئے۔ کرکے دکھایا گیا۔ جن لوگوں نے سیکھا وہ آج کوئی تربیتی ادارہ چلا رہے ہیں، ماہر خطاط ہیں، پبلشنگ ادارہ چلا رہے ہیں، کئی تو لیڈر بھی بن گئے۔ یہ سب ممکن ہوا توجہ دینے سے۔ نہ کہ بلاوجہ کے اعتراضات اور قیل قال کرنے سے۔

کونسل کے ذریعہ قائم کمپیوٹر تربیتی اداروں میں ’’اِن پیج اُردو‘‘  سکھانے کے لیے مختلف اداروں اور شہروں کا دورہ کیا۔تین سے زائد بار دہلی میں مراکز کے فیکلٹی ممبران کو اجتماعی طور پر ورک شاپ کے ذریعہ تربیت دیا۔ جو کہ اب میری طرح پچاس برس سے زائدہ عمر کے ہو چکے۔ کئی تو پہلے ہی سے بہت عمر کے تھے جو یا تو ریٹائر ہو چکے یا ناپید ہو چکے۔ اب کمپیوٹر سیکھنے سکھانے کے معاملے میں دوسری اور تیسری نسل آ چکی ہے۔ وہ ’’فیروزہاشمی‘‘ کو قطعی نہیں جانتی۔ جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے۔

بعض ماہرین اور اہلِ ہنر کی عادت رہی ہے کہ وہ اپنے آگے کسی کے فن کو اہمیت نہیں دیتے۔ اُن کے کام کو ردّی سمجھتے ہیں۔ جب کہ اصلی استاذ وہ ہوتا ہے جو فن کی باریکی کو سمجھائے، جہاں غلطی ہو اُس کی نشاندہی کرے۔ پورے کے پورے کو ردّ نہ کرے۔ اس طرح سیکھنے والے جلدی سیکھتے ہیں اور استاذ کا احترام بھی کرتے ہیں۔ پورے کا پورا ردّ کرنے کا مطلب ہے کہ کرنے والا بالکل کورا یا نابلد ہے، یا پھر اُس کا کام اتنا بہتر ہے کہ آپ کو کمتری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا تنقیص کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ہر ایک کے کام کو تنقیص کا نشانہ بنانا اچھا عمل نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی کسی کے کام کو کسی کے دوسرے کام سے موازنہ کیا جا سکتا۔ طالب علمی کے زمانے سے دیکھ رہا ہوں کہ اگر کسی فن میں ماہر استاذ کو کوئی کتاب پڑھانے کو دی گئی تو دوسرے استاذ تنقیص کا نشانہ بناتے ہیں۔ تعلیم اور ذریعہ تعلیم اکثر ایک سی ہی ہوتی ہیں، لیکن مہارت اکثر افراد کو اپنے دلچسپی کے میدان میں ہی ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ ’’وہ کیا پڑھائیں گے!! یہ پڑھا کے دکھائیں تو جانیں‘‘ 

یہ کون سا موازنہ یا مقابلہ ہے؟   

حدیث میں دلچسپی اور ماہر کو فقہ کی کتابیں دی جائیں۔ فقہ میں ماہر اساتذہ کو منطق دے جائے، و علی القیاس۔ اس قسم کے تبادلہ اور موازنہ و مقابلہ سے نہ فن ترقی کرتی ہے اور نہ ہی علم اور طالب علم ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے۔ ایسا ہی کچھ خوشنویسی کے میدان میں بھی میں نے دیکھا۔ مثلاً ’’فارسی نستعلیق اور دہلوی نستعلیق کا موازنہ اس طرح کرنا کہ اِس میں کون بہتر ہے؟‘‘ نہایت ہی احمقانہ سوال اور غلط موازنہ ہے۔ کوئی یہ بھی سوال لے کر آئے گا کہ آپ نے تین اساتذہ سے سیکھا، اُن میں سے کس کو بہتر پایا؟ …نہایت بے وقوفی والا سوال ہے۔ اِس طرح کے سوالات اُن لوگوں کے ذہن میں زیادہ آتا ہے جو صرف اپنے لیے جینا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے ہم یہاں مولانا وحیدالدین خانؒ کا یہ قول نقل کر رہے ہیں۔

’’ذاتی مفاد کے لیے ہر انسان عقل مند ہوتا ہے۔ وسیع تر انسانی مفاد کے لیے عقل مند بننا صرف اُس شخص کے حصے میں آتا ہے جو ذاتی مفاد سے اوپر اُٹھ جائے۔‘‘

اس کو غور سے پڑھیں اور سمجھیں پھر فیصلہ کریں کہ ہم کون سے عقل مند ہیں؟

تحریر اور طرزِ تحریر دونوں کو سیکھنا اور فروغ دینا ضروری ہے، دوسری زبانوں میں کیلی گرافی سیکھنے کا عمل بہت تیزی سے رائج ہو رہا ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں کسی چیز کو کمتر یا بے کار ثابت کرنے کے لیے بہت ہی مختصر سا جملہ رائج ہے۔

’’یہ سیکھ کر کیا کریں گے؟‘‘

جب میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ

’’ اب تک جو سیکھا اُس سے کیا کیا؟ (کیا فائدہ اٹھایا؟ اور کتنا کمایا؟‘‘)

تو ایک محاوہ رائج ہے۔ ’’بغلیں جھانکنا‘‘ اصلی نمونہ دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

سیکھ کر کیا کریں گے؟ ہمیں نوکری تو ملتی نہیں۔

اس سوچ نے بھی ہماری قوم کو علمی اور عملی میدان میں بہت پیچھے کر دیا ہے۔

جس طرح انسان لباس سے اپنی شخصیت کو پروقار بنانا چاہتاہے۔ اور ہر کوئی بناتا ہے، لیکن اگر اسے گفتگو کا سلیقہ معلوم نہ ہو، لکھنے کا سلیقہ معلوم نہ ہو تو وہ کیسا انسان شمار کیا جائے گا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

لہٰذا اِس تحریر کے ذریعہ اپنے سبھی دوستوں ساتھیوں اور عمومی افراد سے درخواست ہے کہ لکھنا سیکھیں اور سکھائیں، مشاقی کا عمل جاری رکھیں، خالی بیٹھیں تو کچھ نہ کچھ لکھیں، جس طرح کتابیں پڑھتے ہیں، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، دیگر فنون کے لیے وقت دیتے ہیں، ویسے ایک گھنٹہ تحریر کے لیے بھی دیجیے۔ تاکہ تحریر اور شخصیت میں نکھار پیدا ہوا۔ اور ہماری پہچان ایک باسلیقہ قوم میں ہو۔

محاورہ رائج ہے کہ ’’عقل بادام کھانے سے نہیں، دھوکے کھانے سے آتی ہے‘‘  بلکہ عمل کو سیکھنے کے لیے منفی اثرات کا ہونا ضروری ہے۔

مجھے خوش نویسی کے میدان میں تنقیص کا نشانہ بنایا گیا، وہ میرے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوا۔  (ورک شاپ کے لیے تیار ہوں) مجھے صحافت کے میدان میں تنقیص کا نشانہ بنایا گیا، وہ میرے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوا۔ (نئی شناخت کا شمارہ اور اردو ڈی ٹی پی دیکھیں) مجھے طب کے میدان میں تنقیص کا نشانہ بنایا گیا، وہ بھی میرے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوا۔  (علاج کرا کے آزمائیں)

سماج میں دیکھا یہ گیا ہے کہ ہر وہ شخص کامیاب ہوا جس کو وسیلہ کی کمی رہی، لہٰذا وہ خوب محنت کرتا رہا۔ کامیاب تاجر بنا۔ کامیاب اتنا ہوا کے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے فائدہ کا سبب بنا۔ اور جن کو سہولتیں ملیں وہ نوکری کر رہے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے سیکھنے کے بعد صرف اپنے لیے سوچا۔

اپنے لیے جیے تو کیاجیے ➖اپنے لیے جیے تو کیاجیے

تو جی اے دل زمانے کے لیے

آپ چاہیں تو یہ پورا نغمہ یو ٹیوب پر سنیں۔ 

اس کے بعد تجزیہ کریں۔ اپنا یا دوسرے کا

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

9811742537


Saturday, July 13, 2024

مظلوم، مقبول، مطلوب، مولوی

 مظلوم، مقبول، مطلوب، مولوی 


تو مجھ پر مہربانی کردیں۔ مجھے گائیڈ کردیں۔ کیسے کنٹرول کروں ڈائبٹیز کو۔ 

اپنا تھواڑا بیک گراؤنڈ بتا دوں۔ 

میرا نام حافظ محمد  … … … ہے۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر عالمیت تک مدرسہ میں رہا۔ مدرسہ کی روکھی سوکھی خوراک لےتا رہا۔ ابھی کسی طرح کی کوئی عادت نہیں ہے نہ چائے،پان،بیڑی،سیگریٹ اور نا ہی کسی طرح کا باہری کھانا کھانے کی عادت رہی ہے۔ امامت بھی کیا تو بہت کم پیسے میں ۳۰۰۰  میں لیکن ابھی امامت چھوڑ دیا ہے گھر نہیں چلا پا رہا تھا۔ ابھی بچوں کو پڑھا رہا ہوں ٹیوشن وغیرہ قرآن دینیات اسلامیات اردو وغیرہ۔ 

مجھے اس وقت شوگر ہوا ہے جس وقت تین سے چار کیلومیٹر پیدل چل کر گھر گھر جاکر ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ شوگر ہوئے ۵ سے چھ سال ہوچکا ہے۔ انگریزی دوا شروع سے نہیں کھایا ہے۔ لیکن۲۰۲۳ میں کچھ ماہ کھایا ہے اور ابھی ایک ماہ سے لے رہا ہوں انگریزی دوا۔ آیوروید پوڈر سے ہی کنٹرول کرتا تھا۔ 

آپ سے مؤدبانہ التماس ہے کہ ڈائٹ پلان کچھ بتا دیں۔ بتانے کے عوض میں دو چار سو روپئے آپ کو فیس دے سکتا ہوں۔ آپ پہلے مسلمان ڈابٹیز ایجوکیٹر ملے ہیں۔

اس وقت عمر ۳۹ برس اور وزن ۸۰ کلو گرام ہے۔

اس وقت آم کا موسم ہے۔ ملک کے بیشتر حصے میں بارش ہو چکی ہے۔ میں نے آم کی افادیت کے تعلق سے ایک مختصر تجربہ واٹس ایپ پر مختلف گروپ میں پیش کیا تھا۔ دس سے زائد مشکوک سوالات آئے۔ کئی لوگ اچنبھے میں رہے۔ کچھ لوگوں نے کھانے میں دلچسپی دکھائی اور خوش ہوئے کہ کئی برس کے بعد انہوں نے آم کھایا ہے۔ بڑا لطف آیا۔ لیکن بیشتر لوگ ابھی بھی شک میں ہیں کہ کھائیں گے تو شوگر بڑھ جائے گا۔ اس ڈر سے نہیں کھا رہے ہیں۔ انہیں ڈرے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب یہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے حالات بتائے۔ 

ایک اور ساتھی جو اس وقت بحیثیت پرنسپل و میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور صدر شعبہ اناٹومی (تشریح البدن) ارم یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ارم گروپ آف انسٹیٹیوشن لکھنؤ) میں مصروفِ کار ہیں۔ انہوں نے کال کرکے پوچھا کہ کس بنیاد پر آپ آم کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ جب کہ ہم نے بی یو ایم ایس پڑھنے میں ایک چیپٹر اس موضوع پر بھی پڑھا ہے جس میں ہے کہ میٹھے پھل نہیں کھا سکتے۔

میں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ جنرل ڈاکٹر تو بتاتے ہی ہیں لیکن یونانی والے بھی یہی پڑھا رہے ہیں، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کہ کس بنیاد پر یونانی والے ایسا بتاتے ہیں؟ لیکن آپ اتنے تجربہ کار ڈاکٹر اور پروفیسر ہو کر بھی مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو میں آپ کو ایک لائیو ایکسپریمنٹ کا طریقہ بتا دیتا ہوں۔ آپ کر کے دیکھیے۔ ان شاء اللہ آپ کا شک دور ہو جائے گا۔ اور اللہ کی جس ایک نعمت سے کئی برس سے محروم تھے، اب محرومیت سے بچ جائیں اور لطف لے کر کھائیں گے۔ 

اب کچھ موضوع کے بارے میں۔ 

افسوس ہے کہ ہمارے مکتب اور ہم پیشہ لوگ اپنا تعارف اس طرح کراتے ہیں تو مجھے مجبور ہو کر یہ ایسا عنوان رکھنا پڑا۔ اکثر پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ایک سوچ یہ ہے کہ وہ طے کر چکے ہوتے ہیں کہ اب میں عالمِ دین بن کر مدرسہ سے نکلا ہوں۔ نائب رسول ہوں، تو دنیا اب میرے پیچھے چلے گی۔ یہ بہت بڑی غلطی اور خوش فہمی والی سوچ ہے۔ ہزاروں میں سے ایک مولوی ایسا بن پاتا ہے، جس کے پیچھے دنیا چلتی ہے۔ اور ایسا بننے کے لیے کسی دینی ادارہ میں آٹھ دس برس پڑھائی کرنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اُسی دوران ادارہ کی لائبریری میں بھری کتابوں کی ورق گردانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ درسی کتابوں کے علاوہ کم و بیش سو صفحات روزانہ کے مطالعہ میں شامل کرنا پڑتا ہے۔ بیرونی مطالعہ، زندگی کے دیگر میدان اورحالات کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ رٹی رٹائی تقریر سے جمعہ پڑھا دینے اور جلسہ میں واہ واہی لوٹ لینے سے آپ اتنے بڑے عالم دین نہیں ہو سکتے، جس کے پیچھے دنیا چلے۔ آپ کو بہت کچھ کرنا اور سیکھنا پڑے گا۔ مدرسہ کے لوگوں نے علم دین کا معیار اتنا گرا دیا ہے کہ مجھے خود اپنے آپ کو مولوی کہنے پر شرم آتی ہے۔ کیوں کہ عام انداز میں مولویوں نے دین کے طور طریقے اپنے پیٹ بھرنے کی خاطر بدل دیے ہیں، اور جب ہم اپنے آپ کو مولوی کہیں گے تو زیادہ امکان ہے کہ عام انسان مجھے بھی اسی میں شمار کر لے۔ ہمیں یہ طے کرنا پڑے گا کہ مولویوں کی کس قسم میں سے ہیں۔ مظلوم مولوی، مقبول مولوی، یا مطلوب مولوی۔؟

مظلوم مولوی کا تعارف شروع میں گزر چکا۔ مقبول مولوی کا بھی تعارف کرا دیا۔ اب تیسرا ہے کہ دنیا کے لوگوں کے لیے کون سا مولوی مطلوب ہے؟ رہنمائی کرنے والا؟ دین سکھانے والا؟ اللہ اور رسول کا فرمان بتانے والا؟ دنیا اور آخرت دونوں سنوارنے والا؟ یا جذباتی تقریر کرکے اپنا اُلّو سیدھا کرنے والا؟ نائب رسول کی ذمہ داری نبھانے والا؟ یا مسلک کی تعلیم کو فروغ دینے والا؟  مسلک کی حفاظت کرنے والا یا دین کی حفاظت کرنے والا؟  اپنے مزاج کے مخالف مولویوں کو مختلف تعبیر دینے والا؟ یا حق گوئی کرنے والا؟

پہلا قسم کا مولوی نسل در نسل ایسے ہی منفی اور کمزور ذہنیت کی پیداوار ہے، جسے اپنے پیٹ بھرنے تک کا انتظام کہیں نہ کہیں سے کرنا ہے اور پھر وہی وہی اگلی نسل کو منتقل کر کے گزر جاتا ہے۔ اور یہ نسل وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔

دوسرے قسم کے وہ مولوی ہیں جو تعلیم پر خوب توجہ دیتے ہیں، مختلف اداروں میں کئی قسم کے کورسز کرتے ہیں، وغیرہ۔  وہ اس لئے کہ انہیں اچھی ملازمت حاصل کرنی ہے۔ اور وہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ آمدنی کا مستقل ذریعہ مل جانے کے بعد بھی وہ تعلیم یا سیکھنے کا عمل جاری رکھتے ہیں، لہٰذا ایسے لوگ دنیا والوں کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں اور اپنے وہ اپنے اہل عیال کے لئے بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی مالی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ وہ ایک بہتر لائف اسٹائل کا لطف لیتے ہیں۔ اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص یا خاندان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ہیں مقبول مولوی۔

اب رہی بات مطلوب مولوی کی۔ اس میں اکثر وہ ہوتے ہیں جو تعلیم یافتہ کے ساتھ اضافی علم بھی سیکھتے ہیں اور اُن کا ایک نشانہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کوئی ایسا کام کر جائیں جو رہتی دنیا تک یا کم از کم کچھ نسلوں تک اُن کے ذریعہ کئے گئے کام لوگوں کے لئے فائدہ کا سبب بنے۔ یا کم از کم موجودہ نسل کی حالت تو بہتر بنا ہی دیتے ہیں۔ اس میں بھی بہت سارے لوگوں کے نام شمار کرائے جا سکتے ہیں، لیکن سب اہم ایک نام میرے ذہن میں نمبر ایک پر ہے وہ ہے پچیس برس کا ’’ولی رحمانی‘‘ جسے موجودہ نسل کے ساتھ ساتھ بعد کی نسل بھی یاد رکھے گی۔ یہ اِس دور کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد‘‘ ہے۔ جس نے سماج کے بہت ہی اہم موضوع کو نشانہ بنا کر کام شروع کیا اور کامیاب بھی ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنا بڑا کام، بہت کم لوگوں کے حصّہ میں آتا ہے۔

اب رہی بات میرے بارے میں۔ کیوں کہ آپ پھر سوال کریں گے کہ دوسروں کے بارے میں بڑی لن ترانی کر رہے ہو۔ خود بھی کچھ کیا ہے؟ یا یوں ہی دوسری کی ناپ تول کر رہے ہو؟ جاننے والے جانتے ہیں، لیکن مختصر یہ کہ 

الحمد للہ میں فاضل حدیث و فقہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک خوشنویس کی حیثیت سے اپنی معاشی زندگی شروع کی۔ پھر صحافیانہ صفت بھی آگئی، ’’نئی شناخت‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ سوا سات برس تک ایڈٹ کیا اور شائع کیا۔ دائیں سے بائیں جانب لکھی جانے والی زبانوں کے لیے فونٹ بناتا ہوں یعنی فونٹو گرافر ہوں، حالات نے علم الابدان سیکھنے پر مجبور کیا، لہٰذا سیکھا اور اب معالج بھی ہوں اور یہ علوم مجھے سوئے سوئے خواب میں نہیں آئے۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ مشاقی بھی کی ہے۔ مولانا، مفتی، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی کا سابقہ لگانے سے بہتر ہے کہ لوگ مجھے وہی پرانے قلمی نام سے جانیں اور میرے کام سے پہچانیں۔ 

والسلام

نوٹ جس کسی کوبھی پھیپھڑا، کلیجی، دل، گردہ، پت، پنکریاز کی کوئی بھی پریشانی ہو جو ٹھیک نہیں ہو رہی ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ گھر بیٹھے آپ کی بیماری ٹھیک ہوئی جائے گی۔ شرط یہ کہ میرے بتائے ہوئے نسخے کو عمل میں لائیں گے۔  مزید معلومات کے لیے میرے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

9811742537

 ☆ ☆ ☆

13th July 2024


عالمی یومِ خواتین اور پدر سری نظام

ہمارے معاشرے میں آئے دن کوئی نہ کوئی پارٹی، جماعت، تنظیم، ادارہ وغیرہ وجود میں آتے ہی رہتے ہیں، جو کسی نہ کسی ذات، برادی، علاقائیت وغیرہ ک...