Saturday, July 13, 2024

مظلوم، مقبول، مطلوب، مولوی

 مظلوم، مقبول، مطلوب، مولوی 


تو مجھ پر مہربانی کردیں۔ مجھے گائیڈ کردیں۔ کیسے کنٹرول کروں ڈائبٹیز کو۔ 

اپنا تھواڑا بیک گراؤنڈ بتا دوں۔ 

میرا نام حافظ محمد  … … … ہے۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر عالمیت تک مدرسہ میں رہا۔ مدرسہ کی روکھی سوکھی خوراک لےتا رہا۔ ابھی کسی طرح کی کوئی عادت نہیں ہے نہ چائے،پان،بیڑی،سیگریٹ اور نا ہی کسی طرح کا باہری کھانا کھانے کی عادت رہی ہے۔ امامت بھی کیا تو بہت کم پیسے میں ۳۰۰۰  میں لیکن ابھی امامت چھوڑ دیا ہے گھر نہیں چلا پا رہا تھا۔ ابھی بچوں کو پڑھا رہا ہوں ٹیوشن وغیرہ قرآن دینیات اسلامیات اردو وغیرہ۔ 

مجھے اس وقت شوگر ہوا ہے جس وقت تین سے چار کیلومیٹر پیدل چل کر گھر گھر جاکر ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ شوگر ہوئے ۵ سے چھ سال ہوچکا ہے۔ انگریزی دوا شروع سے نہیں کھایا ہے۔ لیکن۲۰۲۳ میں کچھ ماہ کھایا ہے اور ابھی ایک ماہ سے لے رہا ہوں انگریزی دوا۔ آیوروید پوڈر سے ہی کنٹرول کرتا تھا۔ 

آپ سے مؤدبانہ التماس ہے کہ ڈائٹ پلان کچھ بتا دیں۔ بتانے کے عوض میں دو چار سو روپئے آپ کو فیس دے سکتا ہوں۔ آپ پہلے مسلمان ڈابٹیز ایجوکیٹر ملے ہیں۔

اس وقت عمر ۳۹ برس اور وزن ۸۰ کلو گرام ہے۔

اس وقت آم کا موسم ہے۔ ملک کے بیشتر حصے میں بارش ہو چکی ہے۔ میں نے آم کی افادیت کے تعلق سے ایک مختصر تجربہ واٹس ایپ پر مختلف گروپ میں پیش کیا تھا۔ دس سے زائد مشکوک سوالات آئے۔ کئی لوگ اچنبھے میں رہے۔ کچھ لوگوں نے کھانے میں دلچسپی دکھائی اور خوش ہوئے کہ کئی برس کے بعد انہوں نے آم کھایا ہے۔ بڑا لطف آیا۔ لیکن بیشتر لوگ ابھی بھی شک میں ہیں کہ کھائیں گے تو شوگر بڑھ جائے گا۔ اس ڈر سے نہیں کھا رہے ہیں۔ انہیں ڈرے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب یہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے حالات بتائے۔ 

ایک اور ساتھی جو اس وقت بحیثیت پرنسپل و میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور صدر شعبہ اناٹومی (تشریح البدن) ارم یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ارم گروپ آف انسٹیٹیوشن لکھنؤ) میں مصروفِ کار ہیں۔ انہوں نے کال کرکے پوچھا کہ کس بنیاد پر آپ آم کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ جب کہ ہم نے بی یو ایم ایس پڑھنے میں ایک چیپٹر اس موضوع پر بھی پڑھا ہے جس میں ہے کہ میٹھے پھل نہیں کھا سکتے۔

میں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ جنرل ڈاکٹر تو بتاتے ہی ہیں لیکن یونانی والے بھی یہی پڑھا رہے ہیں، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کہ کس بنیاد پر یونانی والے ایسا بتاتے ہیں؟ لیکن آپ اتنے تجربہ کار ڈاکٹر اور پروفیسر ہو کر بھی مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو میں آپ کو ایک لائیو ایکسپریمنٹ کا طریقہ بتا دیتا ہوں۔ آپ کر کے دیکھیے۔ ان شاء اللہ آپ کا شک دور ہو جائے گا۔ اور اللہ کی جس ایک نعمت سے کئی برس سے محروم تھے، اب محرومیت سے بچ جائیں اور لطف لے کر کھائیں گے۔ 

اب کچھ موضوع کے بارے میں۔ 

افسوس ہے کہ ہمارے مکتب اور ہم پیشہ لوگ اپنا تعارف اس طرح کراتے ہیں تو مجھے مجبور ہو کر یہ ایسا عنوان رکھنا پڑا۔ اکثر پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ ایک سوچ یہ ہے کہ وہ طے کر چکے ہوتے ہیں کہ اب میں عالمِ دین بن کر مدرسہ سے نکلا ہوں۔ نائب رسول ہوں، تو دنیا اب میرے پیچھے چلے گی۔ یہ بہت بڑی غلطی اور خوش فہمی والی سوچ ہے۔ ہزاروں میں سے ایک مولوی ایسا بن پاتا ہے، جس کے پیچھے دنیا چلتی ہے۔ اور ایسا بننے کے لیے کسی دینی ادارہ میں آٹھ دس برس پڑھائی کرنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اُسی دوران ادارہ کی لائبریری میں بھری کتابوں کی ورق گردانی بھی کرنی پڑتی ہے۔ درسی کتابوں کے علاوہ کم و بیش سو صفحات روزانہ کے مطالعہ میں شامل کرنا پڑتا ہے۔ بیرونی مطالعہ، زندگی کے دیگر میدان اورحالات کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ رٹی رٹائی تقریر سے جمعہ پڑھا دینے اور جلسہ میں واہ واہی لوٹ لینے سے آپ اتنے بڑے عالم دین نہیں ہو سکتے، جس کے پیچھے دنیا چلے۔ آپ کو بہت کچھ کرنا اور سیکھنا پڑے گا۔ مدرسہ کے لوگوں نے علم دین کا معیار اتنا گرا دیا ہے کہ مجھے خود اپنے آپ کو مولوی کہنے پر شرم آتی ہے۔ کیوں کہ عام انداز میں مولویوں نے دین کے طور طریقے اپنے پیٹ بھرنے کی خاطر بدل دیے ہیں، اور جب ہم اپنے آپ کو مولوی کہیں گے تو زیادہ امکان ہے کہ عام انسان مجھے بھی اسی میں شمار کر لے۔ ہمیں یہ طے کرنا پڑے گا کہ مولویوں کی کس قسم میں سے ہیں۔ مظلوم مولوی، مقبول مولوی، یا مطلوب مولوی۔؟

مظلوم مولوی کا تعارف شروع میں گزر چکا۔ مقبول مولوی کا بھی تعارف کرا دیا۔ اب تیسرا ہے کہ دنیا کے لوگوں کے لیے کون سا مولوی مطلوب ہے؟ رہنمائی کرنے والا؟ دین سکھانے والا؟ اللہ اور رسول کا فرمان بتانے والا؟ دنیا اور آخرت دونوں سنوارنے والا؟ یا جذباتی تقریر کرکے اپنا اُلّو سیدھا کرنے والا؟ نائب رسول کی ذمہ داری نبھانے والا؟ یا مسلک کی تعلیم کو فروغ دینے والا؟  مسلک کی حفاظت کرنے والا یا دین کی حفاظت کرنے والا؟  اپنے مزاج کے مخالف مولویوں کو مختلف تعبیر دینے والا؟ یا حق گوئی کرنے والا؟

پہلا قسم کا مولوی نسل در نسل ایسے ہی منفی اور کمزور ذہنیت کی پیداوار ہے، جسے اپنے پیٹ بھرنے تک کا انتظام کہیں نہ کہیں سے کرنا ہے اور پھر وہی وہی اگلی نسل کو منتقل کر کے گزر جاتا ہے۔ اور یہ نسل وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔

دوسرے قسم کے وہ مولوی ہیں جو تعلیم پر خوب توجہ دیتے ہیں، مختلف اداروں میں کئی قسم کے کورسز کرتے ہیں، وغیرہ۔  وہ اس لئے کہ انہیں اچھی ملازمت حاصل کرنی ہے۔ اور وہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ آمدنی کا مستقل ذریعہ مل جانے کے بعد بھی وہ تعلیم یا سیکھنے کا عمل جاری رکھتے ہیں، لہٰذا ایسے لوگ دنیا والوں کے لیے بہتر ثابت ہوتے ہیں اور اپنے وہ اپنے اہل عیال کے لئے بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی مالی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ وہ ایک بہتر لائف اسٹائل کا لطف لیتے ہیں۔ اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص یا خاندان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ ہیں مقبول مولوی۔

اب رہی بات مطلوب مولوی کی۔ اس میں اکثر وہ ہوتے ہیں جو تعلیم یافتہ کے ساتھ اضافی علم بھی سیکھتے ہیں اور اُن کا ایک نشانہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کوئی ایسا کام کر جائیں جو رہتی دنیا تک یا کم از کم کچھ نسلوں تک اُن کے ذریعہ کئے گئے کام لوگوں کے لئے فائدہ کا سبب بنے۔ یا کم از کم موجودہ نسل کی حالت تو بہتر بنا ہی دیتے ہیں۔ اس میں بھی بہت سارے لوگوں کے نام شمار کرائے جا سکتے ہیں، لیکن سب اہم ایک نام میرے ذہن میں نمبر ایک پر ہے وہ ہے پچیس برس کا ’’ولی رحمانی‘‘ جسے موجودہ نسل کے ساتھ ساتھ بعد کی نسل بھی یاد رکھے گی۔ یہ اِس دور کا ’’مولانا ابوالکلام آزاد‘‘ ہے۔ جس نے سماج کے بہت ہی اہم موضوع کو نشانہ بنا کر کام شروع کیا اور کامیاب بھی ہے۔ اتنی کم عمری میں اتنا بڑا کام، بہت کم لوگوں کے حصّہ میں آتا ہے۔

اب رہی بات میرے بارے میں۔ کیوں کہ آپ پھر سوال کریں گے کہ دوسروں کے بارے میں بڑی لن ترانی کر رہے ہو۔ خود بھی کچھ کیا ہے؟ یا یوں ہی دوسری کی ناپ تول کر رہے ہو؟ جاننے والے جانتے ہیں، لیکن مختصر یہ کہ 

الحمد للہ میں فاضل حدیث و فقہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک خوشنویس کی حیثیت سے اپنی معاشی زندگی شروع کی۔ پھر صحافیانہ صفت بھی آگئی، ’’نئی شناخت‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ سوا سات برس تک ایڈٹ کیا اور شائع کیا۔ دائیں سے بائیں جانب لکھی جانے والی زبانوں کے لیے فونٹ بناتا ہوں یعنی فونٹو گرافر ہوں، حالات نے علم الابدان سیکھنے پر مجبور کیا، لہٰذا سیکھا اور اب معالج بھی ہوں اور یہ علوم مجھے سوئے سوئے خواب میں نہیں آئے۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ مشاقی بھی کی ہے۔ مولانا، مفتی، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی کا سابقہ لگانے سے بہتر ہے کہ لوگ مجھے وہی پرانے قلمی نام سے جانیں اور میرے کام سے پہچانیں۔ 

والسلام

نوٹ جس کسی کوبھی پھیپھڑا، کلیجی، دل، گردہ، پت، پنکریاز کی کوئی بھی پریشانی ہو جو ٹھیک نہیں ہو رہی ہو تو مجھ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ گھر بیٹھے آپ کی بیماری ٹھیک ہوئی جائے گی۔ شرط یہ کہ میرے بتائے ہوئے نسخے کو عمل میں لائیں گے۔  مزید معلومات کے لیے میرے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

9811742537

 ☆ ☆ ☆

13th July 2024


No comments:

Post a Comment

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘

صوم برائے’’تزکیۂ نفس وجسم ‘‘ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَا...