Why is the medicine sold?
موجودہ دور میں لوگوں کے پاس پیسے آئے۔ آرام دہ زندگی ہوگئی۔ لوگ آرام طلب ہو گئے۔ ہر ضرورت کی چیز اب گھر بیٹھے منگائیے اور لطف اٹھائیے۔ دوائیاں بھی آپ کو رعایتی قیمت پر گھر پہنچا دی جا رہی ہیں۔ اپنی پسند کا کھانا گھر بیٹھے منگائیے اور کھائیے۔ اپنی ہر ضرورت کی چیز آپ کو اب دروازے پر مہیا کرا دی جاتی ہیں۔
آرام طلب زندگی ہو جانے کی وجہ سے لوگوں نے گھومنا پھرنا، چلنا چلانا، آپس میں ہنسنا، بولنا بہت کم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ باہمی اور اجتماعی گفتگو چوپال وغیرہ کا طور طریقہ اب ختم سا ہو تا جا رہا ہے۔
لو گ اپنے موبائیل میں مست ہیں۔ اور روز بروز نئی نئی بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں، اس لئے اب دوائیاں زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔
اور ایک سب سے بڑی وجہ بھی ہے کہ ’’اکثر لوگ اپنی صحت کی حفاظت کرنا نہیں جانتے۔‘‘
آج کے دور میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ
’’لوگ بیمار ہوکر کیوں مرتے ہیں؟‘‘
تو اس کا بالکل صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ
’’اکثر لوگ دوا میں اپنی عافیت تلاش کرتے ہیں۔‘‘
اور دوائیاں کھاتے کھاتے مزید کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کی قوت دفاع زائل ہو جاتی ہے۔ اُن کی امیون پاور کم ہو جاتی ہے۔ یہ عام علم ہے کہ ایک مضبوط مدافعتی نظام وائرس اور بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جب کہ کمزور نظام آپ کو زکام یا اس سے بھی بدتر ہونے کا زیادہ شکار بناتا ہے۔
عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہم کیسے جانیں گے کہ ہماری مدافعتی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے؟
تو سب سے پہلے ہم خود اپنی کارکردگی کو جانچیں گے۔
جیسے کہ چلنے پھرنے میں کمزوری محسوس کرنا،
تھکا تھکا سا رہنا،
نیند ضرورت سے زیادہ آئے۔
تھوڑا کام کرکے تھک جائیں،
وزن اٹھانے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے،
کسی سے بولنے بات کرنے کی طبیعت نہ کرے یا پڑھنے لکھنے یا سننے کی طبیعت نہ کرے۔
تو یہ سب علامتیں امیون پاور کم ہونے کی علامت ہے۔
دوسرا رواجی طریقہ ہے، ڈاکٹر سے مشورہ کرنا۔
وہ سب سے پہلے آپ کا بی پی چیک کرے گا اور خون ٹیسٹ کرنے کو کہے گا۔
خون کے ٹیسٹ سے اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے خون میں انفیکشن سے لڑنے والے پروٹین (امیونوگلوبلینز) کی عام سطح کیا ہے؟ اور خون کے خلیات اور مدافعتی نظام کے خلیوں کی سطح کی پیمائش کی جاتی ہے۔ آپ کے خون میں مخصوص خلیوں کی تعداد جو معیاری حد سے باہر ہیں مدافعتی نظام کی خرابی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
پھر اِس بنیاد پر آپ کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔
☆ ☆ ☆
محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ
ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس
نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان
9811742537
No comments:
Post a Comment