Tuesday, June 9, 2026

دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ


ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیالات میں الجھن مدارس و مکاتب کے نصاب تعلیم اور تربیتی نظام کو لے کرمباحثہ کیا جاتا ہے۔ یہ مباحثہ آئے دن اختلاف اور طعن و تشنیع کا موضوع بنا رہتا ہے۔ اور عمومی طور پر کئی قسم کے دعوے کیے جارہے ہیں اور مشورے بھی دیے جا رہے ہیں۔ کئی ادارے اپنی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ مکمل اسکولی تعلیم کو بھی جوڑ چکے ہیں۔ کوئی اس کا مخالف ہے کہ ہم صرف دین پڑھانے کے مکلف ہیں؛ دنیا کمانا میرا شیوہ نہیں ہے۔ کوئی دین کی تعلیم کو مقدم کہتا ہے اور عصری تعلیم کو بعد میں حاصل کرنے کو کہتا ہے۔ کوئی عصری تعلیم کو مقدم ٹھہراتا اور کہتا ہے کہ دین کی تعلیم تو کبھی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ کوئی دین کے بنیادی اصولوں کو پڑھائے جانے کے معاملے میں عمر اور عقل و شعور کو معیار بنا کر اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ وغیرہ۔ 

ان میں سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ مشورے دینے والے وہ لوگ ہیں، جو اِس وقت خالی پھر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر وقت گزار رہے ہیں، اور اپنی علمی بخار کو انڈیل رہے ہیں۔ جنہوں نے زندگی میں زیادہ سے زیادہ چند لوگوں کی رہنمائی کی یا کفالت کی ہوگی۔ سرکاری پوسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد چوں کہ مال کی فروانی رہتی ہے تو ایسے میں اپنے خیالات کو دوسرے پر تھوپنا زیادہ آسان معلوم پڑتا ہے، اور  وہ کر رہے ہیں۔ اسی قسم کی سوچ نے ہمارے معاشر ے کی سوچ کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اور دُنیا کے دوسرے لوگوں کے سامنے ہماری شناخت پیچیدہ نظر آتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی ادارے یا مدارسِ اسلامیہ دینِ اسلام کے مضبوط قلعے ہیں اور دین کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ مجھے اب کہنا پڑ رہا ہے کہ بیشتر اداروں کے تعلیمی نظام و نصاب میں ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں خاطر خواہ اور بہتر نتائج نظر نہیں آ رہے ہیں۔ حالاں کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق دین آسان ہے۔ 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’دین آسان ہے، لیکن جو اس میں سختی برتے گا، دین اُسے پچھاڑ دے گا۔ اس لیے تمھیں چاہیے کہ سیدھی راہ پر چلو، میانہ روی اختیار کرو۔ لوگوں کو انعام کی نوید بھی دو اور صبح وشام اور رات کے خوش گوار وقتوں میں اللہ کی بندگی بجا لایا کرو‘‘ اور فرمان نبوی ’’ان الدین یسرٌ دین آسان ہے۔‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ دین اپنے سب تقاضوں کے ساتھ مشکل نہیں ہے، کیونکہ اس کے تمام تقاضے ہماری فطرت کے مطابق ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ یہ دین انسان کی طاقت سے بڑھ کر کوئی حکم نہیں دیتا۔ لیکن مذہبی پیشواؤں کی مجرمانہ حرکتوں، لوگوں کی بے علمی اوردین میں عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ آسان ترین دین مشکل ترین صورت اختیار کرتا چلاگیا ہےجس طرح  دین میں غلو اور مبالغہ بڑا گناہ ہے اسی طرح اس میں آسانی کے نام پر کمی کرنا بھی جرم عظیم ہے۔

ہمارے ملک ہندوستان میں مدارسِ اسلامیہ کی کثیر تعداد موجود ہے۔ ہم یہ جملہ نہیں لکھ سکتے کہ ’’ہمارے ملک میں مدارسِ اسلامیہ کا جال بچھا ہوا ہے۔‘‘ کیوں کہ اکثر مدارس کا ایک دوسرے سے کوئی تال میل نہیں ہے۔ جال یا نیٹ کا مطلب ہے آج کے دور کا آسان سا لفظ۔

 News and Edutainment Technology 

اگر واقعی نیٹ ہوتا اور مضبوط نیٹ ہوتا تو دہائیوں سے قائم اداروں کا بار بار تعارف کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہاں کے فارغین اُس کا عمدہ پیرائے میں تعارف کراتے۔ پھر بھی ہندوستان کے ہر صوبہ کی راجدھانی میں ایک سے زائد ایسے مثالی ادارے مل جائیں گے جو بنیادی سہولتوں کے ساتھ اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں۔ 

اِسی ہندوستان میں کئی شہر تو ایسے ہیں جسے مدرسوں کا شہر کہتے ہیں، جیسے اترپردیش میں مئو ناتھ بھنجن، دیوبند، سہارن پور، مظفر نگر، کاندھلہ وغیرہ۔ مہاراشٹر میں اکل کوا، ناندیڑ، دھولیہ، گجرات میں ڈابھیل،’’بھج‘‘ وغیرہ

اس کے علاوہ ہندوستان میں سینکڑوں شہر ایسے ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم دیئے جانے کے ایک سے زائد ادارے موجود ہیں۔  جیسے اترپردیش میں بنارس، لکھنؤ، جون پور، کان پور، سرائے میر، اعظم گڑھ، مرزاپور، الٰہ آباد، مظفر نگر، سہارن پور، بریلی، مرادآباد، ہاپوڑ، میرٹھ وغیرہ … کرناٹک میں بنگلور، بھٹکل، ہبلی وغیرہ … مغربی بنگال میں کولکاتہ، مالدہ، چوبیس پرگنہ، دیناج پور وغیرہ … بہار میں پٹنہ، بہار شریف، مظفرپور، دربھنگہ، جہان آباد، گیا، چندن بارہ، آرہ، سہسرام، مونگیر، بھاگل پور وغیرہ … جھارکھنڈ میں رانچی، جمشید پور، گڈا، مدھوپور، دھنباد وغیرہ … راجستھان میں جے پور، جودھپور، جیسلمیر، پوکرن، اجمیر، باڑمیڑ، میل کھیڑا، الور وغیرہ

تعلیم و تربیت کا روایتی نظام

تعلیم و تربیت کا روایتی نظام جو کہ ایک نہایت ہی غلط روش میں رواج پا چکا ہے۔ جس میں قوم کا سرمایہ اور وقت ضائع ہو رہا ہے۔ اور یہ دونوں قسم کے ضیاع کے معاملے میں ہمارے بیشتر علماء کرام اور ذمہ داران کا احساس مر چکا ہے۔ چند لوگ جو بہتر نظام تعلیم و تربیت کے تحت ادارہ چلا رہے ہیں اور وہاں سے بیشتر کامیاب افراد پیدا ہو رہے ہیں، تو اُن کی مخالفت میں تقریریں کی جا رہی ہیں اور مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ کہ یہ حافظوں اور مولویوں کو دین سے بھٹکا کر دنیا داری میں لگا رہے ہیں۔ 

جب کہ ہمارے معاشرے کی بہت بڑی بدنصیبی ہے کہ دین کے نام پر قائم اداروں میں چند سال ابتدائی تعلیم لے کر وہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے مسجدو مدرسہ بنا لیتے ہیں اور دور دراز کے بچوں کو لاکر چندے کا کاروبار کرلیتے ہیں، علاقے کے لوگ ایسے ہی لوگوں کو علماء کرام میں شمار کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ نئی کالونیوں میں یہ اپنی جگہ بنا کر اپنے گزر بسر کا سامان کر لیتے ہیں۔ علاقے کے لوگ بھی اکثر بنیادی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں تو انہیں احساس دلا دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ دین کے معاملے میں بہت بہتر ہو چکے ہیں آپ کے بچے حافظ ہو جائیں گے تو جنت آپ کی ملکیت بن جائے گی، وغیرہ جیسے خیالات کو فروغ دیاجاتا ہے اور اسی کو دین بتایا جاتا ہے۔ جب کہ یہ دوسری قوموں کی نقل میں اس طرح کا کام کرکے عوام کو تسلی دے دی جاتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ بھی  ہے کہ اگر گاؤں میں ایک یا کئی حافظ یا مولوی بن جاتے ہیں، یعنی کسی مستند ادارے سے تعلیم مکمل کرکے آتے ہیں، اُن کے علم کی وہاں کوئی اہمیت نہیں بچتی، اس لئے وہ روزی روٹی اور عزت کے لیے مجبوراً دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔

علم اور عالم کی قدر

علم اور عالم کی قدر زمانۂ قدیم میں بھی نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ زمانۂ قدیم کے علماء و ائمہ کے حالات کا مطالعہ فرمائیں، قدر واضح ہو جائے گی۔ طعن و تشنیع کے شکار گزشتہ زمانے کے علماء کرام بھی ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ چند اہلِ خیر کی برکت ہے کہ حالات کچھ بہتر بنے ہوئے ہیں، ذلت و خواری تو ہر جگہ اور آئے دن دیکھنے اور سننے کو ملتے ہی رہتے ہیں۔ کبھی مؤذن پر حملہ کبھی امام کی خودکشی۔ جو واقعی اللہ والے ہیں، ذلت ان کو نہیں چھو پاتی، بس ظاہری طور پر وہ مالی کسمپرسی کے شکار بے شک دکھائی دیتے ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر و ضبط اور اطمینان کی دولت سے نوازا ہے۔

ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے میں خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔

کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘۔ 

کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔

بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔

ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … 

ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے عربی زبان و ادب، فقہ، حدیث اور تفسیر وغیرہ کی تعلیم حاصل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، ایک اچھے خطیب اور ماہر استاذ بن جاتے ہیں۔ جو عمومی طور بیس سے چوبیس برس کی عمر پہنچنے تک پوری کی جا سکتی ہے۔ کئی اداروں تخصص فی الحدیث، تخصص فی الفقہ، تخصص فی الادب وغیرہ کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ جو ملک و بیرونِ ملک میں آمدنی کا بہتر ذریعہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی کئی اداروں میں میں مختلف قسم کے صنعتی کام بھی سکھائے جاتے ہیں، جس میں ۱۔کمپیوٹر ڈی ٹی پی وغیرہ، ۲۔ الیکٹریشن ۳۔ خراد جس میں لکڑی کے علاوہ دیگر اقسام کی دھاتوں کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ وغیرہ اب یا تو ان کاموں سے اپنا معاشی زندگی شروع کریں یا مزید تعلیم کے لیے وہ عصری کالج یا دیگر اداروں کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اپنے سیکھے ہوئے ہنرسے پیسہ بھی کما سکتے ہیں۔

علم و ہنر کیا ہے

علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب یہ طے کرنا آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔

افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔

آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟

مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔

ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔  اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟

اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی۔ پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نوٹ؛  مصنف آزاد صحافی اور نیچرو پیتھ ہومیوپیتھ ہیلتھ کنسلٹنٹ ہیں۔

ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا    پانے اور ڈائٹ پلان کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں؛

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

9811742537


دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیا...