مذکورہ سرخی کو پڑھنے کے بعد اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ خوشخطی اور کتابت سیکھنا اور قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟ آج کے کمپیوٹری زمانے میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اکثر یہ رائے اُن اساتذہ اور معلّمین کا ہوتا ہے جو سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور اُن میں اکثر وہ ہیں جو اپنی ذمہ داری کو وہیں تک نبھاتے ہیں جہاں تک اسباق پورے ہو جائیں اور طلبہ اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں۔ کچھ وہ ہوتے ہیں جو صرف اسباق پورے کراتے ہیں، طلبہ کو سمجھ میں آئے یا نہ آئے، وہ اپنی ذمہ داری یہیں تک سمجھتے ہیں۔ اور کچھ وہ ہوتے ہیں کہ طلبہ پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس طرح پڑھاتے اور سمجھاتے ہیں طلبہ پوری زندگی سبق کو نہیں بھولتے۔ اور وہ پوری زندگی اپنے استاذ کے شکرگزار ہوتے ہیں۔ ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ ہر میدان میں یہ تین چار طرح کے افراد پائے جاتے ہیں۔
مطالعہ ہر میدان کی پہلی ضرورت ہے۔ عمومی طور پر پڑھا لکھا انسان سمجھتا ہے کہ مطالعہ صرف کتابوں کا ہی کیا جاتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جب کہ اساتذہ میں بھی اب اکثر ایسے ہوتے ہیں جو نہ خود مطالعہ کرتے ہیں اور نہ طلبہ کو مطالعہ کی رغبت دلاتے ہیں۔ کلاس میں بھی موبائل پر لگے رہتے ہیں۔ زیادہ تر اسباق موبائل پر ڈھونڈ کر نقل کرنے کو دے دیتے ہیں۔ ان میں نہ ان کی کوئی اپنی کوشش، توجہ اور زمانے سے مطابقت ہوتی ہے اور نہ حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے۔
موجودہ تعلیمی میدان میں ہمارے اداروں میں جو کمی محسوس کی جارہی ہے۔ وہ ہے تحریر، کتابت، خوشنویسی یعنی اچھی لکھائی۔ مدارسِ دینیہ میں تو ڈرائننگ نام کا کوئی فن تو ہوتا نہیں، اور اگر ہے بھی تو ایسے ادارے انگلیوں پر شمار کیے جا سکتے ہیں۔ تب ہی تو کہا جا رہا ہے کہ ’’آج کے کمپیوٹری زمانے میں خوشنویسی یعنی اچھی لکھائی چنداں ضرورت نہیں ہے۔‘‘ تو میرا صرف یہ کہنا ہے کہ *’’اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو لکھنے کے قابل بچائے رکھیں ورنہ بینک میں دستخط مماثل نہیں ہوگا۔‘‘* جنہیں لگتا ہے کہ لکھنے کا فن یا اچھی تحریر غیر ضروری ہے تو میرا کہنا ہے کہ جائیے بازار میں دیکھیے کہ کتنی ہی بحالی میں اچھی تحریر نہ ہونے کی وجہ سے ردّ ہوئی ہے۔ تحریر اور طرز تحریر کسی بھی زبان میں کی جائے، ہر دور میں ضرورت رہی ہے، اور رہے گی۔ یہ گھر بیٹھے یعنی بغیر پونجی لگائے بھی کمائی کا ذریعہ ہے۔ باقی دوسرے فنون ہیں جس کی اکیسویں صدی میں ضرورت ہے، اسے بھی حاصل کیجیے۔
لیکن یہ کہنا اور سوچنا کہ AI کی آمد نے خطاطی یا ہینڈ رائٹنگ کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے، ٹیکنالوجی کو تھوڑا اور قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلےتو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI خود ایک ٹول ہے، فنکار نہیں ہے۔ اگر آپ کو تحریر، طرزِ تحریر، جمالیات، توازن اور ترتیب کی مضبوط سمجھ ہے تو آپ AI سے بہتر ڈیزائن یا خوشنویسی ٹائپ بنا سکتے ہیں۔ اور یہ سمجھ خطاطی سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک غیر ہنر مند شخص صرف AI سے خراب پیداوار تیار کرے گا۔
دوسرا، خطاطی آج صرف کاغذ تک محدود نہیں ہے۔ حسب ضرورت فونٹس، لگژری برانڈنگ، ڈیجیٹل آرٹ، اور گیمنگ یوزر انٹرفیس میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اور نیورو سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ لکھاوٹ بچوں کی ذہنی توجہ اور تخئیل صلاحیت کو بہتر بناتی ہے، جو آج کی سکرین پر منحصر جنرل الفا نسل کے لیے اہم ہیں۔
مارکیٹ کا سادہ اصول ہے جب AI ڈیزائن مفت میں دستیاب کرتا ہے، تو ہاتھ سے بنے اور مستند آرٹ کی قدر میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ AI قلم کو ختم نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ، یہ مضبوط بصری احساس رکھنے والوں کی قدر میں اضافہ کر رہا ہے۔
دیکھیے، یہ کوئی "خطاطی بمقابلہ AI" کی جنگ نہیں ہے جہاں ایک کو دوسرے کو منتخب کرنے کے لیے برخاست کرنا پڑتا ہے۔ AI سکھانا بالکل ضروری ہے، لیکن AI میں مہارت کہاں سے آتی ہے؟ AI ایک ٹول ہے، اور اس سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لیے، انسانوں کے پاس بنیادی ڈومین علم اور جمالیات کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی بچے میں ٹائپوگرافی، خلائی توازن اور بصری فن کی سمجھ نہیں ہے، تو وہ کیسے AI کو اشارہ دے سکتا ہے؟ انسانی بصری احساس کے بغیر AI صرف عام اور بے روح ڈیزائن تیار کرے گا۔
آپ جنرل الفا کے بارے میں بات کر رہے ہیںجب کہ آج نیورو سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اسکرین پر منحصر بچوں کی توجہ کا دورانیہ اور عمدہ موٹر مہارتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔ کی بورڈ اور ٹچ اسکرین دماغ کے ان حصوں کو چالو نہیں کرتے ہیں جو قلم پکڑنے اور اپنے ہاتھوں سے ڈرائنگ کرتے ہیں۔
جہاں تک اکیسویں صدی کی ضروریات کا تعلق ہے،تو جاننا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی روایتی مہارتوں کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انہیں بااختیار بناتی ہے۔ آج، ٹیک انڈسٹری، UX/UI، اور فونٹ ڈیزائن کے سب سے اوپر وہ لوگ ہیں جو روایتی آرٹ اور AI ٹیکنالوجی دونوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ جنرل الفا کو صرف "AI آپریٹرز" نہ بنائیں، انہیں ایسے تخلیق کار بنائیں جو ٹولز کو چلانے میں اہل اور مہارت دونوں کے حامل ہوں۔
اگر ہم ہر چیز کو صرف اور صرف عام آدمی یا مالی فائدے کے پیمانے پر تولنا شروع کر دیں تو کل ہم تمام عجائب گھر بند کر دیں گے، صدیوں پرانی زبانوں اور تاریخ کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے اور اعلان کریں گے کہ اب کمپیوٹر سب کچھ کر دے گا۔ کیا کسی قوم کی رونق اور تشخص کی کوئی قدر نہیں؟
خطاطی عام لکھاوٹ نہیں ہے۔ یہ ہماری صدیوں پرانی چمک، ہمارے ورثے اور ہماری بصری شناخت کی علامت ہے۔ AI ایک مشین ہے؛ یہ لاکھوں ڈیزائن بنا سکتا ہے، لیکن یہ اس دستکاری پنکھے کے پیچھے چھپے جذبات، گہرائی اور انسانی چشم کبھی نہیں بنا سکتا۔
جاپان اور چین جیسی ترقی یافتہ قوموں کا مشاہدہ کرنے والوں کو معلوم ہوگا کہ وہ اپنے قدیم دستکاری اور روایتی فنون کو کتنے فخر سے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہ اپنی شناخت چھوڑ کر آگے نہیں بڑھے ہیں۔ اس کے بجائے، انہوں نے اپنے ورثے کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ جنرل الفاس کو مکمل طور پر AI اسکرینوں پر منحصر کرنا اور انہیں ان کے اپنے ورثے سے الگ کرنا غیر دانشمندانہ ہے۔ انہیں AI کو چلانے کا طریقہ سکھائیں، بالکل سکھائیں، لیکن اپنی شناخت اور ثقافت کو "وقت کا ضیاع" سمجھ کر مسترد نہ کریں۔ اپنے فن اور ثقافت کا تحفظ پسماندگی نہیں ہے۔ یہ آپ کی شناخت کو زندہ رکھنے کے بارے میں ہے۔
آج ہم اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ دوسری قومیں اپنی زبان و تحریر میں کیلی گرافی سیکھنے سکھانے کے عمل میں مشغول ہیں، کمپنیوں نے مختلف قسم کے قلم اور برش بنانا بند نہیں کیا ہے، کیوں کہ اُن کے خریدار ابھی زندہ ہیں اور وہ قومیں اپنی شناخت کو زندہ کرنے کے لیے روزانہ جدو جہد میں مصروف ہیں۔ وہ امیر ترین قومیں اپنا وقت اور سرمایہ صرف ذہنی عیاشی میں خرچ نہیں کرتی، بلکہ کلبوں میں جاکر مختلف قسم کے ذہنی اور جسمانی کھیل، ہنر اور لکھنے پڑھنے میں بھی خرچ کرتی ہیں۔
اتنی گفتگو کے بعد ہماری صرف اتنی درخواست ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی تحریر اور شناخت کو محفوظ رکھنے میں پوری دلچسپی لیجیے۔ اپنی نسل کو اہلِ قلم بنائیے، تاکہ آپ کی پہچان زندہ اور باقی رہے۔
*محمدفیروزعالم*
مصنف، ایک ماہر خطاط، فونٹوگرافر، ڈیزائنر، صحافی اور طبیب ہیں۔