☘️☘️فکری غربت کے شکار☘️☘️
دورِ موجودہ میں جس طرح علمی اور دانشورانہ پیغام کی بہتات پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں، اتنے کسی بھی زمانہ نہیں تھے۔ آج ہر کوئی سوشل میڈیا پر علمی پیغام کے ڈرم انڈیل رہا ہے۔ پہلے یہی کام اخبارات و رسائل اور کتابوں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے تھے۔ حالاں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو گزشتہ ایک صدی میں جس طرح کتابوں کے بنڈل تیار کرنے والے دانشور پیدا ہوئے، وہ پہلے کی صدی میں دکھائی نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا ہمارے معاشرے میں اتنی زیادہ علمی اور دانشورانہ بہتات ہونے کے باوجود بہتری آئی ہے؟؟؟ …یا ہم سوچنے سمجھنے کے معاملے میں آج بھی ویسے ہیں، جیسا کہ کئی صدی سے چلے آ رہے ہیں؟ …کیا درجاتی تعلیم اور کتابوں کی بھرمار سے معاشرے میں بہتری آئی ہے؟؟ … اگر بہتری آئی ہوتی تو سب کے سب بہتر حالت اور عیش و آرام کے ساتھ ساتھ عزت و احترام کی زندگی گزار رہے ہوتے اور شکر گزار ہوتے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ساری سہولتیں، مادی آسائشیں ہونے اور ملنے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے شاکی ہیں … … … اس پر دانشورانِ قوم کا کیا خیال ہے؟ … …اور کیوں ظاہر نہیں کرتے؟ …ساری نیکیاں، عبادات تک ہی کیوں محدود ہیں؟ …آج ہر پچاس گھر میں سے ایک دو حاجی اور عمری ضرور مل جائیں گے۔ لیکن اُن ہی میں ایک اصول پسند انسان ملنا مشکل ہو رہا ہے۔
آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جس بنا پر ہمارے معاشرتی معاملات نہایت پسماندہ ہیں؟؟؟ …یہ بات کہنے یا عذر پیش کرنے کی جرأت اس لیے کر پا رہا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مالکان کو عملہ ناکارہ، نادہندہ اور کام چور ملتا ہے۔ جب کہ ملازمین کی رائے ہوتی ہے کہ اُن کے ساتھ استحصال کیا جا رہا ہے؟ … ہماری محنت کے مطابق ہمیں معاوضہ نہیں دیا جاتا؟ …
اس طرح کا رُجحان عموماً دینی اداروں اور ملّت کے نام پر قائم اداروں میں دیکھا اور برتا جاتا ہے۔ ایک بار اس پر بھی غور کیجیے گا۔
اگر ہمارےدانشورانِ قوم اور ادارہ کے ذمہ داران حقوق العباد پر صدفیصد نہیں تو پچاس فیصد ہی سہی عمل پیرا ہو جاتے تو دنیا کے لوگ کم از کم شکایت کرنے والے تو بہت کم ہو جاتے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی اِس معاشرتی خرابی کی؟
سماج میں آپ کیا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کی سوچ و فکر پر منحصر ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے۔
وَأَن لَّيْسَ لِلإِنسَانِ إِلاَّ مَا سَعَى
سورۃ النجم؛ آیت ۳۹
اگر سورہ نجم کو پڑھا اور سمجھا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ یہ حالات ہماری اپنی سوچ و فکر کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم خدائی اصول کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے اصول اور مفاد پر عمل پیرا ہوں گے تو معاشرہ سے غربت و استحصال کبھی بھی کم نہیں ہو سکتا۔ یہ سب سے پہلی اور بنیادی وجہ ہے۔ اب بات کرتے ہیں دوسری وجہ پر۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے۔
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
صحیح بخاری؛ کتاب الایمان
مذکورہ دونوں بنیادی اصولوں کو جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہمارا رویّہ بے ایمانی والی ہو تو تو ہم اسے علمی غربت اور ذہنی مفلسی سے ہی تعبیر کریں گے۔
اب ان دو بنیادی غلطیوں کو اپنانے کے بعد یقیناً ہمارے اندر خودغرضی پیدا ہوگی۔ اور ہماری خودغرضی اور مطلب پرستی نے ہمیں علمی طور پر مسئلے مسائل کو اپنے مطلب میں نکال لینے کا جواز پیدا کر لیا۔ جیسا کہ صدقات کے آٹھ مستحقین میں یتیموں اور غریبوں کے نام پر ابتدائی درجہ کا مدرسہ چلانے والوں نے کر رکھا ہے۔ پورے ملک میں مدرسہ زکوٰۃ کو ہڑپ کرنے کی ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ یہ ہماری مالی غربت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن اور حفظ پڑھانے کے نام پر تو نہ صرف زکوٰۃ کا غلط استعمال ہو رہا ہے بلکہ غریب اور معصوم بچوں کے حال اور مستقبل سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرح سے بچّوں کو ذہنی طور پر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لڑکے ناظرہ یا حفظ کرکے معاشرے کے مفید ہونے کے بجائے بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور ان کو بھی یہی سوجھتا ہے کہ کہیں ایک مدرسہ قائم کر لیا جائے اور دور دراز سے بچوں کو لاکر اُن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے اپنا پیٹ پالا جائے۔ اب تو لڑکیوں کے نام پر بھی یہ کام شروع ہو گیا ہے، جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ معاشرے کے لیے معاون نہیں بن رہا ہے۔ معاف کیجیے گا۔ یہ بہت ہی تلخ جملہ ہے، لیکن سنجیدگی سے غور کیجیے گا تو آپ کو ایسے حالات پر شرم آگے گی۔ کہ آخر ہمارے لوگوں نے صدیوں سے یہ کون سا طریقہ اپنا رکھا ہے؟ کیا یہ طریقۂ محمدیﷺ ہے؟؟؟
تعلیم باہر سے لی جا رہی ہے۔ خواہ مستقل ادارہ جاتی تعلیم یافتہ ہوں یا چِلّہ پہ چِلّہ لگا کر تعلیم لی جار ہی ہو۔ پھر بھی حالات جوں کے توں بنے ہیں، بلکہ اندر سے خاندانی ماحول بگڑ رہا ہے۔ مرد اپنی قابلیت جتا رہے ہیں، اور خواتین خود سر ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی علماء کرام ابتدائی ضروری تعلیم کے لیے نصاب تیار کر رکھی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ سہولت کے اعتبار سے ابتدائی طور پر اپنے محلّہ میں ادارہ قائم کریں اور اس نصاب پر عمل کرکے معاشرہ کے لیے بہتری کا سبب بنیں۔
ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ …بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اب گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چار سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں، اور علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ۔ … پیسہ تو ہنر سے کمایا جاتا ہے۔ …افسوس تب ہوتا جب کہ اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔
آخر یہ کون سی سوچ خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟
مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔
ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔ اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟
اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔
۔۔۔۔۔
فیروزہاشمی
10th March 2026
No comments:
Post a Comment