Thursday, February 10, 2022

ماں کے دودھ میں کمی کا مؤثر علاج

اب اکثر ایسا ہو رہا ہے کہ پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد ماں کے دودھ میں کمی آ جاتی ہے۔ بچہ کو خاطر خواہ خوراک نہیں مل پاتا اور بچہ بھوکا رہ جاتا ہے۔ توکیا کریں؟

ایسی حالت میں عمومی طور پر لوگ ڈبہ بند دودھ، جانوروں سے ملنے والے دودھ پر آ جاتے ہیں۔ والدین مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب بچے کا پیٹ بھر جاتا ہے۔ لیکن چند ہفتے بعد ہی بچوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پنپنے لگتی ہیں، جن میں پیٹ پھولنا، قبض، اُلٹی، کمزوری یہاں تک کہ پیلیا کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ بچہ بے ہوش ہو جاتا ہے، کمزوری کی وجہ سے ہاتھ پیر اکڑ جاتا ہے۔ وغیرہ۔    اب والدین بچے کو لے کر ڈاکٹر یا اسپتال کا چکر کاٹنے لگ جاتے ہیں۔ یہ ہونے والے واقعات یقیناً والدین یا ذمہ داران کے لئے پریشان کن ہوتا ہے۔ 

تو اب ایسی نوبت نہ آئے، ہمیں کیا کرنا چاہیے۔؟

ولادت کے بعد چند احتیاطی چیزوںکا ہونا بہت ضروری ہے۔

۱۔شہد ایک دو ماہ بعد یا پیدائش کے بعد دودھ کی کمی ہو تو شہد کے ذریعہ بچہ کو خوراک دیں۔ اس کی ماں کی غذائیت کا پورا خیال رکھیں تاکہ دودھ کی کمی نہ پڑے اوربچہ کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔اگر اِس عرصہ میں مذکورہ کسی بھی قسم کی بیماری کا شکار ہونے پر شہد کا ہی استعمال کریں۔ 

۲۔نونہال اور شہد نہ ملے تو ہمدرد کا نونہال بہت ہی مناسب ہے بچہ کے پیٹ کی جملہ تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے۔ 

۳۔ کیلکیریا فوس بایوکیمک سالٹ میں ایک بہتر سالٹ کیلکیریا فوس بہت ہی مناسب ہے۔ یہ عمومی طور پر ہومیوپیتھی اسٹور پر مل جاتا ہے۔

دودھ وافر مقدار میں ہو اس کے لئے ماں کو چاہیے کہ درج ذیل بایوکیمک سالٹ استعمال کریں۔

Calc Flr. 3x

Calc Phos 3x

Nat Mur 3x

Silicea 12 x

ان چاروں میں سےایک میں سے چار ٹیبلٹ روزانہ ایک بار چوسنا ہے، اس کے بعد گنگنا پانی پی لیں۔ ہر ایک کو لینے کے مابین چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔

مثال کے طور سب سے پہلے کلکریا فلوریکا صبح سات بجے چوس لیں۔

اس کے بعد کلکریا فوس گیارہ بجے

اس کے بعد نیٹرم میور سہ پہر تین بجے

اس کے بعد سلیشیا شام سابجے۔

چند دنوں میں معقول مقدار میں دودھ آ جائے گا جس سے بچے کو بھرپیٹ خوراک مل جائے گا۔ ماں بھی صحت مند رہے گی۔

ماں کو چاہیے کہ اپنی قوتِ دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے ہلدی اور ہلدی سے بنا ہوا حلوہ کا استعمال ضرور کریں۔ اس طرح کے رکھ رکھاؤ کے طور طریقے بہشتی زیور میں بھی موجود ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اس کا مطالعہ کریں اور اپنی صحت کی دیکھ بھال کریں۔

’’بہشتی زیور‘‘ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بہت ہی عمدہ تصنیف ہے۔ قوم کی بچیوں کو اس کی تعلیم ضروری دینی چاہیے۔ میرا اپنا تجزیہ ہے کہ اگر ہماری بیٹیاں اس کتاب کو سمجھ لیں تو آج کی گریجویٹ ہیں۔ اس میں حالات کے تحت وہ سارے طور طریقے بتا دیئے گئے ہیں جس آپ اپنے خاندان کی صحت و عافیت کا خیال کرسکتے ہیں۔ سرمایہ کی بچت کرسکتے ہیں اور بھاگ دوڑ سے بچ سکتے ہیں۔

اس بارے میں مزید معلومات اور رہنمائی کے لئے رابطہ کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیروزعالم

بایوکیمسٹ

9891079585 

3 PM to 9 PM



Sunday, September 19, 2021

شیرخوار بچوں میں ہونے والی تکلیفیں اوراُس کا علاج

برسات کا موسم ختم ہونے والا ہے اور سردی جلدی ہی ہمارے ماحول پر اپنا اثر دکھانے والی ہے۔ عمومی طور پر یہ آنے جانے والے موسم ہماری صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اکثر مرد و خواتین اور خاص طور سے بچے اور بزرگ موسم کی چپیٹ میں آ ہی جاتے ہیں۔

احتیاط اور علاج بتانے سے پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ جو بھی بیماری سے متأثر ہوتے ہیں، اُن میں پہلی وجہ قوت دفاع یا قوت مدافعت کی کمی سب سے اہم ہے، جسے آج زیادہ تر لوگ امیونی ٹی (Immunity) کی کمی کے طور جاننے لگے ہیں۔ اس کی بھرپائی کے لئے اکثر لوگ کسی بھی سنی سنائی یا مشہور برانڈ کے مشروبات، معجون، پاوڈر وغیرہ کا استعمال کرتےہیں یا ڈاکٹروں کی مشورے سے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کی اشیاء کے استعمال کے باوجود کئی کئی مہینے بیماری میں گزرجاتے ہیں۔ یا ایمرجنسی میں بھرتی ہوکر علاج کرانا پڑتا ہے۔ اکثر ایک کے ساتھ ایک یا بعض دو کو ساتھ میں جانا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر کئی مہینوں میں طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ 

پھر چند ہفتے ٹھیک رہتے ہیں جب تک دوسرا موسم آ جاتا ہے اور پھر دوسری بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو گویا سال میں کئی بار بیمار پڑنا اور کئی بار علاج کرانا۔ 

اگر یہی سلسلہ پیدائش کے وقت سے ہی شروع ہو جائے تو اُس خاندان یا اُس جوڑے کی حالت کیا ہوگی؟ کیا کچھ نہیں گزرتا ہوگا بچے کے والدین پر۔ اللہ کی عنایت کردہ ایک نعمت اور آئے دن ڈاکٹر یا اسپتال کا دورہ۔ یہ حال نہ آپ کے لئے بہتر ہے اور آپ کے بچے کے لئے۔ شیرخوار بچوں میں ہونے والی پہلی بیماری وہ ہوتی ہے جو اُس کے والدین کی طرف سے یا اُن کی لاپرواہی کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ

بچے کو قبض ہونا  اگر ماں کا دودھ پیتے بچے کو قبض ہو جائے تو یقیناً اُس کی ماں کو قبض ہے یا اُس نے قبض تیار کرنے والا کھانا کھایا ہے۔ اس ایسی ماؤں کو سادہ اور غذائیت سے پُر کھانا کھانا چاہیے۔ تاکہ بچے کو پوری مقدار میں دودھ مل سکے اور غذائیت کی کمی کا شکار نہ ہو۔

بچے کو ٹھنڈ لگ جانا  اس کی ایک وجہ تو کپڑے کی لاپرواہی ہے کہ بچہ کو آپ نے کھلا چھوڑ دیا یا مناسب پوشاک میں نہیں رکھا، یا ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا، یابچہ اپنے پیشاب پر کئی گھنٹے پڑا رہا۔ وغیرہ دوسری سب سے اہم وجہ جس میں اکثر خواتین لاپرواہی کرتی ہیں وہ ہے ٹھنڈا کام (کپڑا دھونا، برتن دھونا یا کافی دیر سے بارش میں بھیگنا) کرنے کے فوراً بعد بچہ کو دودھ پلا دیا تو اس بچہ کو سانس لینے میں دقت آئے گی۔ پسلی چلنے لگے گی۔ نیمونیا بھی ہو سکتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماں کو ایامِ حیض میں ہونے والی دقتوں کی وجہ سے بچہ میں کئی طرح کی دقت ہو سکتی ہے ۔ جس میں کمزوری، خون کی کمی، قبض وغیرہ یا اسی سے ملتی جلتی بیماری بچہ کو بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ ماں تو بالکل صحت مند ہے لیکن بچہ کمزور ہو گیا ہے اور سانس کی بیماری بھی لاحق ہو گئی ہے تو اس میں لاپرواہی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تو اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اب اس کا علاج کیسے کریں؟ 

۱۔ گھریلو طور پر ’’شہد‘‘ کا استعمال ضرور کریں۔ شہد ہر عمر و جنس کے لئے یکساں طور پر مفید غذا ہے۔

اگر بچہ کو قبض ہو تو اسے روزانہ کم سے کم دس ملی لیٹر یا چائے کے چھوٹے چمچہ سے ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام کو ضرور چٹانا چاہیے۔ دو تین دنوں میں اچھا خاصا افاقہ ہو جائے گا اور غذائیت بھی بھرپور ملے گی۔ اس سے بچہ تندرست ہو جائے گا۔ اگر دو چمچہ سے زیادہ شہد کھانے میں بچہ دلچسپی لے تو ضرور دیجیے۔

۲۔ ہمدرد کا بنا نونہال گرائپ سیرپ استعمال کریں۔ استعمال کے لئے عمر اور مقدار اس کے پیکٹ میں دستیاب پرچی پر لکھا ہوتا ہے۔ اسی پر عمل کریں۔

۳۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو ٹھنڈ کے موسم میں اجوائن کو ابال کر ضرورپینا چاہیے۔ میٹھا کرنے کے لئے گڑ کا استعمال کریں۔ چینی کا نہیں۔ دو چار بوند بچہ کو پلایا جا سکتا ہے۔

۴۔ Calcarea Phosphorica 6x آسانی سے ہومیوپیتھی اسٹور پر مل جاتا ہے ۔ ایک ایک ٹیبلٹ بارہ گھنٹے کے اندر چار بار بچہ کو دینا ہے۔ بہت ہی چھوٹا بچہ ہو تو اسے اس کے منہ سائز کے چمچہ میں دو چار قطرہ پانی سے گھول کر پلائیں۔ 

انتباہ  یاد رہے لیٹے ہوئے حالت میں بچہ کو کچھ بھی نہ کھلائیں نہ پلائیں۔ اپنے گود میں بٹھا کے سر اونچا کر کے شہد چٹائیں یا نونہال چٹائیں یا ٹیبلٹ چوسائیں۔ دودھ پلانے والی مائیں بھی بچے کو گود میں لے ہی دودھ پلائیں۔ سوئے ہوئے حالت میں دودھ پلانے سے کئی زچہ بچہ دونوں کو نیند آ جاتی ہے، عموماً زچہ بے پردگی میں سوتی ہیں۔ یہ غیر مناسب ہے۔ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ اگر زچہ کو دودھ زیادہ آ رہا ہے اور بچہ دودھ پیتے ہوئے سو جاتا ہے تو دودھ بہہ کر بچہ کے ناک، کان اور گردن تک پہنچ جاتا ہے، جس سے انفیکشن کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ کچھ دنوں میں بچہ کے کان سے بدبودار مواد خارج ہونے لگتا ہے جسے کام بہنا کہتے ہیں۔ اگر اس پر فوراً دھیان نہ دیا گیا تو مسلسل کان میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے بچہ بہرا بھی ہو سکتا ہے۔ آنکھ کے انفیکشن سے کئی بار روشنی سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔ یا گردن اور سر کا زخم بھی عموماً تجربہ میں آیا ہے۔ اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔

اسی ضمن میں ایک بات اور آتی ہے کہ اگر عورت کو اتنی مقدار میں دودھ نہ ہو کہ بچہ کے لئے کافی ہو تو اکثر والدین بازار سے ملنے والے دودھ بچے کو پلاتے ہیں، جس سے بچے کو پیٹ کی کئی قسم کی دقتیں آنے لگتی ہیں۔ ایسی حالت سے نمٹنے کے لئے چند بہتر بایوکیمک سالٹ ہیں جو عورتوں میں دودھ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے نام اور طریقۂ استعمال یہ ہیں۔

  صبح خالی پیٹ چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Calcarea Fluorica 6x

  گیارہ بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Calcarea Phosphorica 6x

دن میں تین بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Natrum Muriaticum 6x

شام میں سات بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Silicea 12x

ان کے استعمال سے چند دنوں کے اندر ہی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔

مزید معلومات کے لئے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ 

9891079585

ڈاکٹر محمد فیروزعالم، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر 

صحت کے بارے میں ہمارے تجرباتی مضامین درج ذیل بلاگ پر بھی ملاحظہ فرمائیں۔

https://careyourselfbc.blogspot.com/

 

Tuesday, July 27, 2021

برسات کے دوران ہونے والی بیماریوں کا سدّباب


جن لوگوں کی امیونی ٹی کمزور ہوتی ہے، انہیں عموماً موسم کے بدلنے یا بارش گرمی ہونے کے دوران بخار، سردرد، الٹی، دست وغیرہ ہونے کی شکایت عام ہے۔

اس قسم کی شکایت کسی کو ہو تو سب سے پہلے گھبرائیں نا، گھبراہٹ میں اِدھر اُدھر کے میڈیکل اسٹور یا ڈاکٹروں سے دوائی لے کر اپنے آپ کو مزید پریشانی میں نہ ڈالیں۔ اپنے آپ کو سنبھالیں۔اور غور کریں کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کا آپ کا عمل کیا رہا ہے۔ اس دوران اگر غذائیت میں کچھ لاپرواہی ہوئی ہے تو پرہیز کریں۔ صرف ناریل پانی اور تازہ پھلوں کا جوس باری باری سے پئیں۔ پھل جو آسانی سے ملے، وہ کھائیں۔ پھل کھانے کے بعد پیاس نہیں لگتی۔ لیکن اگر پیاس محسوس ہو تو چالیس منٹ انتظار کے بعد ہی پانی پئیں۔ اس دوران ناریل پانی یا موسمی سنترا کا جوس پی سکتے ہیں۔

اگر ٹھنڈ کے ساتھ بخار اور کھانسی ہو تو ہنزا چائے پئیں۔ اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے

How to prepare Hunza Tea (serves four):

Ingredients:

1. 12 Mint Leaves (Pudina)

2. 8 Basil Leaves (Tulsi)

3. 4 Green Cardamom (Elaichi)

4. 2 Grams Cinnamon (Dalchini)

5. 20Grams Ginger (Adrak)

6. 20Grams Jaggery (Gur)

Instructions:

Take 4 cups of water in a tea pan

Add all ingredients, simmer it for 10 minutes

Add a dash of lemon juice and serve hot or cold

آپ چاہیں تو مذکورہ اشیاء کو سکھا کرچھوٹے ٹکڑے کی شکل میں یا پاؤڈر بنا کر رکھ لیں اور ضرورت کے تحت استعمال کر یں ۔

اگر کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت ہو تو آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں یا فون کر سکتے ہیں۔

 محمد فیروز عالم  ۲۷؍جولائی ۲۰۲۱ء

سرٹیفائیڈ ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ NICEایکسپرٹ

9891079595, 9811742537 WA

Saturday, May 8, 2021

انجانا خوف اور ہماری صحت

ازفیروزہاشمی

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید کر رکھا ہے۔ اس حالت نے جہاں ایک طرف ہماری آزمائش کو بڑھا رکھا ہے، وہیں دوسری طرف ہمیں احتساب کرنے اور سدھارنے کا بھی موقع عنایت کیا ہے۔ ہمیشہ سے ہی اصول و ضوابط کی پاسداری ہمارے لئے بہتری کا سبب ہوتا ہے اور خلاف ورزی پریشانی، بیماری، مفلوک الحالی کا سبب بن جاتا ہے۔

اس وقت جو طاعون ہمارا ملک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا، خبروں کے مطابق بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس کی خبر لمحہ بہ لمحہ ملتی رہتی ہیں۔ کیوں کہ آج کے مواصلاتی دور میں بذریعہ انٹرنیٹ اور بذریعہ موبائیل ہر خبر آسانی سے پہنچ جاتی ہے۔ اس مہاماری سے نبردآزما ہونے کے جو بھی رہنما اصول مرتب کئے گئے ہیں، اسے اپنا کر ہی اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی گھر میں قید ہونے کی وجہ سے ہمیں کچھ اضافی وقت دستیاب ہوا ہے۔ ہم اگر اس وقت کا بہتر استعمال کرتے ہیں تو مستقبل کے لئے بہتر لائحہ عمل مرتب کر سکتے ہیں اور بہت سے کام اس خالی وقت میں بھی کر سکتے ہیں۔ پڑھنے لکھنے کا سلسلہ اکثر انہیں ایام میں کئے جاتے رہے ہیں۔ تاریخ میں بہت ساری شخصیتوں کے نام آتے ہیں جنہوں نے قید و بند کی حالت میں مختلف قسم کے ایجادات اور معرکۃ الآراء تصنیفی کام انجام دیئے۔ ریسرچ کئےگئے۔ اور لوگوں کے لئے بہتری کا ذریعہ بنے۔ 

اس وقت سب سے پہلا کام اپنا خود کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے جیسے کہ انہوں نے کون کون سے ایسے کام کئے جسے نہ کرتے تو زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔ یا کون کون سے ایسے کام کئےجس کی وجہ سے مالی تنگی میں مبتلا ہوئے۔ روزارنہ کے رہن سہن میں کس قسم کی غلطیاں کی جس کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہوا اوروہ بیماری اُن کی موت کا سبب بنا۔ اگر ہم ان باتوں پر غور کرتے ہیںتو پتا چلتا ہے کہ بہت ساری خامیوں اور کمیوں میں ایک سب سے بُری بیماری کا نام ہے ’’لاپروائی‘‘۔ اگر ہم نے معاشرتی لاپرواہیوں کو چھوڑ دیا تو ہم صحت مند اور خودکفیل زندگی گزار سکتے ہیں۔

وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ البقرہ آیت ۱۹۵) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہپڑو۔ اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ  احسان کرنے والے کو دوست رکھتا ہے۔

اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا کیا کہلاتا ہے۔  احسان کا مطلب یعنی اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھے کام کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ کام ہی احسان کہلاتا ہے۔

لیکن جب محاسبہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہماری بیماری کی وجہ ہماری خود کی لاپروائی ہے۔ نہ وقت پر کھانا پینا، نہ وقت پر کام کرنا، نہ وقت پر سونا۔ نہ اور دیگر کاموں کو اُس کے اپنے وقت پر انجام دینا ہماری پریشانی اور مفلوک الحالی کے اسباب ہیں۔ ہم اسے درست کرکے اپنی صحت اور مالیت دونوں کا صحیح استعمال کرسکتے ہیں۔ 

حالات چاہے جو بھی ہوں، ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (سورہ آل عمران، آیت ۱۳۹)

تم نہ سستی کرو، نہ غمگین ہو۔ تم ہی غالب رہوگے اگر ایمان دار ہو۔

اگر ہم ایمانداری سے کام نہیں کریں گے اور ہماری زندگی میں جھوٹ شامل ہوگا توہم کبھی بھی غالب نہیں ہو سکیں گے۔ کسی بھی طرح کی پریشانی پر ہمارا غلبہ نہیں ہو سکے گا۔ 

اس وقت جو ہمارے اندر خامیاں ہیں اور غلط قسم کے سطحی رائے اور مشوروں کی بدولت ہم اپنی مالیت اور صحت دونوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے گئے بہت سے قسم کے اقوال و آراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی تاریخ، اصلیت اور کہنے یا لکھنے والے کے نام و پتا کے بغیر فارورڈ کر دینا نقصان کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو رہنما اصول کے تحت ہی کامیابی نصیب ہوگی ورنہ آج جو حالت ہو رہی ہےوہ شاید نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے بندے کو آزماتا ہے۔ غور یہاں کرنا ہے کہ کیا ہم اُس آزمائش میں پورے اُترے؟ اگر نہیں تو  کیوں؟ کیا آئندہ ہمارے حالات بہتر ہو سکتے۔ ؟ خیر کی امید اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے۔ اور یہ دعا کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏  صحيح   (الألباني)

 "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےبرص، دیوانگی، کوڑھ  اور  تمام بری بیماریو ں سے پناہ طلب کرنے کے لئے یہ دعا بتائی ہے۔  اتنی عمدہ رہنمائی کے باوجود آخر کس وجہ سے اکثر اموات کی خبر میں ’’طویل علالت‘‘ یا ’’عرصہ سے صاحبِ فراش تھے‘‘  کا لفظ شامل رہتا ہے؟ یا اکثرمیّت میں شرکت کرنے والےافراد سوال کرتے ہیں کہ ’’کیسے موت ہوئی‘‘ یا ’’کس بیماری کی وجہ سے موت ہوئی‘‘۔  تو میّت کے اقرباء اور دوست احباب کے ذریعہ دسیوں اسباب شمار کرا دیئے جاتے ہیں۔ ڈائی بی ٹیز، بی پی، ہارٹ، ٹی بی، کینسر، برین ٹیومر وغیرہ اسباب کو تو بڑے طمطراق سے بیان کئےجاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے تمغہ جیتا ہے۔ !!!  کیا مرنے کے لئےبیمار ہونا ضروری ہے؟!!!  نہیں !!!  ہرگز نہیں۔  تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے ساتھ صحت مند اموات ہوتی رہی ہیں۔ بہت ہی پرسکون انداز میں لوگ فوت ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ 

’’آج انسان اپنے پچاس سال کی بچت کو زندگی کے آخری پچاس دنوں میں ہی خود کو موت سے بچانے میں خرچ کر دیتا ہے۔‘‘

کیا کبھی ہم نے اِس پر غور کیا ہے؟ کتنے فیصد لوگ اِس پر غور کرتے ہیں؟ ۔ 

اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی؟ ہم کھاتے پیتے گھر کے لوگ ہیں۔ اللہ نے فراوانی میسّر کی ہے۔ ہم ٹھیک ٹھاک تو ہیں۔

بالکل درست کہا آپ نے۔آپ کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں۔ 

لیکن غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔  

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (سورۃ النساء آیت ۸۲)

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟  اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

غور فرمائیں۔ قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و تدبر کی تاکید کی جارہی ہے اور اس کی صداقت جانچنے کے لئے ایک معیار بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہوتا  تو اس کے مضامین اور بیان کردہ واقعات میں تعارض و تناقض ہوتا۔ کیوں کہ ایک تو یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے۔ ایک ضخیم اور مفصل کتاب ہے، جس کا ہر حصہ اعجاز و بلاغت میں ممتاز ہے۔ حالاں کہ انسان کی بنائی ہوئی بڑی تصنیف میں زبان کا معیار اور اس کی فصاحت و بلاغت قائم نہیں رہتی۔ دوسرے اِس میں پچھلی قوموں کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں اللہ علام الغیوب کے سوا کوئی اور بیان نہیں کر سکتا۔ تیسرے اِن حکایات و قصص میں نہ باہمی تعارض و تضاد ہے اور نہ اُن کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی جزئیہ قرآن کی کسی اصل سے ٹکراتا ہے۔ حالاں کہ ایک انسان گزشتہ واقعات بیان کرکے توتسلسل کی کڑیاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہیں اور اُن کی تفصیلات میں تعارض و تضاد واقع ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کے اُن تمام انسانی کوتاہیوں سے مبرا ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ یقیناً کلامِ الٰہی ہے جو اُس نے فرشتے کے ذریعہ سے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ 

دوسری جگہ ارشاد فرمایا

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَآ (سورۃ محمد آیت ۲۴)

کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا اُن کے دلوں پر اُن کے تالے لگ گئے ہیں۔

جس کی وجہ سے قرآ ن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔

کب ہم قرآن میں غور و فکر اور تدبر کریں گے؟ جب کہ زندگی کے سارے احکام و مسائل طور طریقے بیان کئے جا چکے ہیں۔ کیا صحت و عافیت کی زندگی گزارنے کے طریقے قرآن میں بیان نہیں کئے گئے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے اور اب تک آپ نے صرف تلاوت کی، یہ سوچ کر پڑھا ہے کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، تو ان شاء اللہ وہ تو ملیں گی ہی  لیکن اصل جو یہ کتابِ زندگی و آخرت ہے، اس میں غور و تدبر کریں معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔  بہتیرے ترجمہ و تفسیر دستیاب ہیں۔  روزانہ آدھا گھنٹہ کا معمول بنایا جائے کہ اِس وقت میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور اپنی زندگی میں اُتارنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر آپ خود نہیں کر سکتے تو کئی افراد مختلف ذرائع سے قرآن کو سکھانے اور سمجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اُن سے سیکھیں۔ مختصر مدت کے کئی اسباق ترتیب دیئے جا چکے ہیں۔ اس سے استفادہ کریں اور دیگر  ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ہی صحت و عافیت کے بارے میں بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔  اور وقت پر کھانا، پینا، سونا اور دیگر امور زندگی انجام دیں گے تو ان شاء اللہ کبھی بیمار نہ ہوں گے۔ عمر بھر کی کمائی ہوئی دولت آخری ایام میں صحت کو بچانے کی خواہش یا چندایام مزید دُنیا کی لذتوں میں جینے کی خواہش لئے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ اِس بات کی پہچان ہے کہ پوری زندگی قرآن کی صرف تلاوت تو کی گئی ، اُس کو سمجھ کر زندگی میں اُتارنے کی کوشش نہیں کی گئی ورنہ دنیا کی لذتوں کی خواہش کیوں؟ اگر ہم صحت مند رہ کر اپنی زندگی گزاریں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں تو دنیاوی لذتوں کی خواہشیںکہاں رہ جائیں گی؟ بہت ساری ہستیاں گزری ہیں، جن کی کارکردگی اتنی ہے کہ ہم میں سے بہتیرے سوچ نہیں پاتے کہ ہماری طرح دکھائی دینے والے انسان اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ جی ہاں! اِسی روئے زمین پر ایسے لوگ گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن کی کارکردگی ہزاروں افراد کے لئے صحت و عافیت کا ذریعہ ہیں۔ مثالوں کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اے پی جے عبدالکلام، عبدالعظیم پریم جی، یوسف حمید، حکیم عبدالحمید، ویر عبدالحمید وغیرہ ۔ جن کی زندگی اپنے علاوہ دوسروں کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

 فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا * إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا  (سورۃ الشرح، آیت ۵ و ۶)

پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

پوری سورت کو سمجھیں، بہت ہی بہتر رہنمائی کی گئی ہے۔ ہم اپنے ہیلتھ اور ویلتھ کو مینج کرنا سیکھیں اور اپنائیں۔ ان شاء اللہ زندگی بہت آسان ہوجائے گی۔بیمار ہونے کے بعد علاج و معالجہ ضروری ہے۔ لیکن بہتر یہ ہوگا کہ ہم وہ طریقہ اپنا لیں کہ بیمار ہی نہ ہوں  اور ہم اپنی روزانہ کے طریقۂ کار کو سنت کے مطابق بہتر بنا ئیں ۔ اپنی کمائی ہوئی دولت کو طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی سے بچیں۔ ایک طرف جہاں کنجوسی اللہ کو ناپسند ہے تو دوسری طرف فضول خرچی حرام ہے۔ اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (سورۃ الإسرا۔ آیت ۲۷)

بے شک فضول خرچ کرنے والےشیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، صحت و عافیت کی زندگی عطا فرمائے۔ اور متعدی امراض و دیگر پریشانیوں سے حفاظت فرمائے۔ آمین

۔۔۔

ازفیروزہاشمی

صحت کے بارے میں مشورہ کے لئے اپنا تعارف اور اپنی رپورٹ اس نمبر پر واٹس ایپ کریں۔

9811742537 

Friday, April 23, 2021

سانس کی بیماری۔ کیسے چھٹکارا پائیں؟

سانس کی بیماری سے چھٹکارا پانے کے لئے 

تین دن سے تین ہفتہ کا پروٹوکول 

آپ کا ڈائٹ پلان۔ Food As Medicine

تین دن تک  صبح سے لے کر شام تک  (صرف بارہ گھنٹے کے درمیان)

صرف ناریل پانی، پانچ گلاس (ایک گلاس چار سو ایم ایل کا)

سٹرس جوس پانچ گلاس

سنترا، موسمی، انناس، کنو وغیرہ کا جوس


اس کے بعد تھری اسٹیپ ڈائٹ پلان کو اپنائیں جو نیچے بیان کئے گئے ہیں۔


 صبح سب سے پہلے جی بھر کے گنگناپانی پئیں۔

صبح سات بجے سے دوپہر بارہ بجے تک صرف پھل کھانا ہےچار قسم کا پھل، کم سے کم چھسو گرام،  زیادہ کھا سکتے ہیں۔ 

پپیتا، آم، انگور، چیکو، سیب، انناس، کیلا، کیوی،وغیرہ 

اگر پانی پینے کاجی کرے تو پھل کھانے کے کم سے کم چالیس منٹ بعد پئیں۔

 دوپہر میں  سلاد  کھانا ہے  کم سے کم تین سو گرام،  زیادہ کھا سکتے ہیں 

اپنے من کے مطابق کھیرا، ٹماٹر، مولی، گاجر، ککری، چقندر، تربوز، خربوز، وغیرہ ۔ اس کے بعد ہی گھر کا کھانا کھائیں اگر کھانا چاہیںتو

 شام میں اسپراوٹس اینڈ نٹس ڈیڑھ سو گرام تک 

انکورت مونگ، چنا، وغیرہ اور میوہ جیسے بادام، کاجو، آخروٹ، پستہ، وغیرہ اس کے بعد ہی گھر کا کھانا کھائیں اگر بھوک ہو تو

شام سات بجے تک کھانا پورا کر لیں۔ 

دیر رات تک کھانا صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

پرہیزکریں

ٹھنڈا پانی، فرج کا کوئی بھی سامان، اینیمل فوڈ، اور پیکڈ فوڈ نہیں لینا ہے۔ کوئی دوائی نہیں لینا ہے

اس دوران تین دن کے عرصہ میں آپ کی صحت نارمل ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشکش۔ محمد فیروزعالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر

9811742537

24th April 2021

غذا بطورِ دوا

روزہ دار فلو کے مریض کے لئے

تین دن سے تین ہفتہ کا پروٹوکول

آپ کا ڈائٹ پلان۔ Food As Medicine

افطار

 کم سے کم چار قسم کا پھل،(تربوز، خربوز، پپیتا، کیلا، انار، چیکو، سیب وغیرہ)  ۱۰گرام پکوڑی اور اور ۱۰ گرام ابلاچنا ، سادہ پانی

کھجور سے افطار کریں۔ اس کے بعد کم سے کم چار قسم کا پھل کھائیں (جی بھر کے یا پیٹ بھر کے)

اس کے بعد گھر کا بنا پکوڑی، چنا وغیرہ کل بیس گرام کھا سکتے ہیں۔

دو گھونٹ پانی پئیں۔

صلوٰۃ مغرب ادا کریں

 اس کے بعد چہل قدمی کریں، پانی کی حاجت ہو تو جی بھر کے پانی پئیں۔

پھر چہل قدمی کریں۔

صلوٰۃ عشاء  ادا کریں۔ اس کے بعد ہمدرد کا جوشاندا پئیں، تھوڑی دیر چہل قدمی کرکے سو جائیں۔

سحری

سب سے پہلے ایک گلاس (تقریباً چار سو ایم ایل) گنگنا یا سادہ پانی پئیں۔

اس کے بعد پھل کھائیں جتنا جی کرے۔

اس کے بعد گھر کا بنا تھوڑا سا کھانا کھائیں، 

سحری کا وقفہ ختم ہونے سے پانچ منٹ پہلے ضرورت کے مطابق جتنا جی کرے پانی پئیں۔ سحری مکمل

پرہیز کریں

ٹھنڈا پانی، فرج کا کوئی بھی سامان، اینیمل فوڈ، اور پیکڈ فوڈ نہیں لینا ہے۔ کوئی دوائی نہیں لینا ہے

اس دوران تین دن کے عرصہ میں آپ کی صحت نارمل ہو جائے گی۔

مرتب۔ محمد فیروزعالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر

9811742537

24th April 2021

Thursday, April 8, 2021

لاک ڈاؤن اور ہماری صحت

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن نے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید کر رکھا ہے۔ اس حالت نے جہاں ایک طرف ہماری آزمائش کو بڑھا رکھا ہے، وہیں دوسری طرف ہمیں احتساب کرنے اور سدھارنے کا بھی موقع عنایت کیا ہے۔ ہمیشہ سے ہی اصول و ضوابط کی پاسداری ہمارے لئے بہتری کا سبب ہوتا ہے اور خلاف ورزی پریشانی، بیماری، مفلوک الحالی کا سبب بن جاتا ہے۔

اس وقت جو طاعون ہمارا ملک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلا ہوا، خبروں کے مطابق بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جس کی خبر لمحہ بہ لمحہ ملتی رہتی ہیں۔ کیوں کہ آج کے مواصلاتی دور میں بذریعہ انٹرنیٹ ہر خبر بذریعہ موبائیل آسانی سے پہنچ جاتی ہے۔ اس مہاماری سے نبردآزما ہونے کے جو بھی رہنما اصول مرتب کئے گئے ہیں، اسے اپنا کر ہی اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی گھر میں قید ہونے کی وجہ سے ہمیں کچھ اضافی وقت دستیاب ہوا ہے۔ ہم اگر اس وقت کا بہتر استعمال کرتے ہیں تو مستقبل کے لئے بہتر لائحہ عمل مرتب کر سکتے ہیں اور بہت سے کام اس خالی وقت میں بھی کر سکتے ہیں۔ پڑھنے لکھنے کا سلسلہ اکثر انہیں ایام میں کئے جاتے رہے ہیں۔ تاریخ میں بہت ساری شخصیتوں کے نام آتے ہیں جنہوں نے قید و بند کی حالت میں مختلف قسم کے ایجادات اور معرکۃ الآراء تصنیفی کام انجام دیئے۔ ریسرچ کئےگئے۔ اور لوگوں کے لئے بہتری کا ذریعہ بنے۔ 

اس وقت سب سے پہلا کام اپنا خود کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے جیسے کہ انہوں نے کون کون سے ایسے کام کئے جسے نہ کرتے تو زیادہ بہتر حالت میں ہوتے۔ یا کون کون سے ایسے کام کئےجس کی وجہ سے مالی تنگی میں مبتلا ہوئے۔ روزارنہ کے رہن سہن میں کس قسم کی غلطیاں کی جس کی وجہ سے بیماری میں اضافہ ہوا اوروہ بیماری اُن کی موت کا سبب بنا۔ اگر ہم ان باتوں پر غور کرتے ہیںتو پتا چلتا ہے کہ بہت ساری خامیوں اور کمیوں میں ایک سب سے بُری بیماری کا نام ہے ’’لاپروائی‘‘۔ اگر ہم نے معاشرتی لاپرواہیوں کو چھوڑ دیا تو ہم صحت مند اور خودکفیل زندگی گزار سکتے ہیں۔

وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ البقرہ آیت ۱۹۵) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہپڑو۔ اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ  احسان کرنے والے کو دوست رکھتا ہے۔

اس آیت کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا کیا کہلاتا ہے۔  احسان کا مطلب یعنی اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھے کام کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ کام ہی احسان کہلاتا ہے۔

لیکن جب محاسبہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہماری بیماری کی وجہ ہماری خود کی لاپروائی ہے۔ نہ وقت پر کھانا پینا، نہ وقت پر کام کرنا، نہ وقت پر سونا۔ نہ اور دیگر کاموں کو اُس کے اپنے وقت پر انجام دینا ہماری پریشانی اور مفلوک الحالی کے اسباب ہیں۔ ہم اسے درست کرکے اپنی صحت اور مالیت دونوں کا صحیح استعمال کرسکتے ہیں۔ 

حالات چاہے جو بھی ہوں، ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (سورہ آل عمران، آیت ۱۳۹)

تم نہ سستی کرو، نہ غمگین ہو۔ تم ہی غالب رہوگے اگر ایمان دار ہو۔

اگر ہم ایمانداری سے کام نہیں کریں گے اور ہماری زندگی میں جھوٹ شامل ہوگا توہم کبھی بھی غالب نہیں ہو سکیں گے۔ کسی بھی طرح کی پریشانی پر ہمارا غلبہ نہیں ہو سکے گا۔ 

اس وقت جو ہمارے اندر خامیاں ہیں اور غلط قسم کے سطحی رائے اور مشوروں کی بدولت ہم اپنی مالیت اور صحت دونوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے گئے بہت سے قسم کے اقوال و آراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی تاریخ، اصلیت اور کہنے یا لکھنے والے کے نام و پتا کے بغیر فارورڈ کر دینا نقصان کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو رہنما اصول کے تحت ہی کامیابی نصیب ہوگی ورنہ آج جو حالت ہو رہی ہےوہ شاید نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہر دور میں اپنے بندے کو آزماتا ہے۔ غور یہاں کرنا ہے کہ کیا ہم اُس آزمائش میں پورے اُترے؟ اگر نہیں تو  کیوں؟ کیا آئندہ ہمارے حالات بہتر ہو سکتے۔ ؟ خیر کی امید اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے۔ اور یہ دعا کرنی چاہیے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏  صحيح   (الألباني)

 "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ ‏"‏ ‏.‏

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےبرص، دیوانگی، کوڑھ اور  تمام بری بیماریو ں سے پناہ طلب کرنے کے لئے یہ دعا بتائی ہے۔  اتنی عمدہ رہنمائی کے باوجود آخر کس وجہ سے اکثر اموات کی خبر میں ’’طویل علالت‘‘ یا ’’عرصہ سے صاحبِ فراش تھے‘‘  کا لفظ شامل رہتا ہے؟ یا اکثرمیّت میں شرکت کرنے والےافراد سوال کرتے ہیں کہ ’’کیسے موت ہوئی‘‘ یا ’’کس بیماری کی وجہ سے موت ہوئی‘‘۔  تو میّت کے اقرباء اور دوست احباب کے ذریعہ دسیوں اسباب شمار کرا دیئے جاتے ہیں۔ ڈائی بی ٹیز، بی پی، ہارٹ، ٹی بی، کینسر، برین ٹیومر وغیرہ اسباب کو تو بڑے طمطراق سے بیان کئےجاتے ہیں جیسے کہ انہوں نے تمغہ جیتا ہے۔ !!!  کیا مرنے کے لئےبیمار ہونا ضروری ہے؟!!! نہیں !!! ہرگز نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وقت کے ساتھ صحت مند اموات ہوتی رہی ہیں۔ بہت ہی پرسکون انداز میں لوگ فوت ہوئے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ 

’’آج انسان اپنے پچاس سال کی بچت کو زندگی کے آخری پچاس دنوں میں ہی خود کو موت سے بچانے میں خرچ کر دیتا ہے۔‘‘

کیا کبھی ہم نے اِس پر غور کیا ہے؟ کتنے فیصد لوگ اِس پر غور کرتے ہیں؟ ۔ 

اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی؟ ہم کھاتے پیتے گھر کے لوگ ہیں۔ اللہ نے فراوانی میسّر کی ہے۔ ہم ٹھیک ٹھاک تو ہیں۔

بالکل درست کہا آپ نے۔آپ کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں۔ 

لیکن غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔  

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (سورۃ النساء آیت ۸۲)

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

غور فرمائیں۔ قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و تدبر کی تاکید کی جارہی ہے اور اس کی صداقت جانچنے کے لئے ایک معیار بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہوتا  تو اس کے مضامین اور بیان کردہ واقعات میں تعارض و تناقض ہوتا۔ کیوں کہ ایک تو یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے۔ ایک ضخیم اور مفصل کتا ہے، جس کا ہر حصہ اعجاز و بلاغت میں ممتاز ہے۔ حالاں کہ انسان کی بنائی ہوئی بڑی تصنیف میں زبان کا معیار اور اس کی فصاحت و بلاغت قائم نہیں رہتی۔ دوسرے اِس میں پچھلی قوموں کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں اللہ  علام الغیوب کے سوا کوئی اور بیان نہیں کر سکتا۔ تیسرے اِن حکایات و قصص میں نہ باہمی تعارض و تضاد ہے اور نہ اُن کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی جزئیہ قرآن کی کسی اصل سے ٹکراتا ہے۔ حالاں کہ ایک انسان گزشتہ واقعات بیان کرکے توتسلسل کی کڑیاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہیں اور اُن کی تفصیلات میں تعارض و تضاد واقع ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کے اُن تمام انسانی کوتاہیوں سے مبرا ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ یقیناً کلامِ الٰہی ہے جو اُس نے فرشتے کے ذریعہ سے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ 

دوسری جگہ ارشاد فرمایا

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَآ (سورۃ محمد آیت ۲۴)

کیا یہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا اُن کے دلوں پر اُن کے تالے لگ گئے ہیں۔

جس کی وجہ سے قرآ ن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔

کب ہم قرآن میں غور و فکر اور تدبر کریں گے؟ جب کہ زندگی کے سارے احکام و مسائل طور طریقے بیان کئے جا چکے ہیں۔ کیا صحت و عافیت کی زندگی گزارنے کے طریقے قرآن میں بیان نہیں کئے گئے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے اور اب تک آپ نے صرف تلاوت کی یہ سوچ کر پڑھا ہے کے ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں، تو ان شاء اللہ وہ تو ملیں گی ہیں لیکن اصل جو یہ کتابِ زندگی و آخرت ہے، اس میں غور و تدبر کریں معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بہتیرے ترجمہ و تفسیر دستیاب ہیں۔ روزانہ آدھا گھنٹہ کا معمول بنایا جائے کہ اِس وقت میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اور اپنی زندگی میں اُتارنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر آپ خود نہیں کر سکتے تو کئی افراد مختلف ذرائع سے قرآن کو سکھانے اور سمجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، اُن سے سیکھیں۔ مختصر مدت کے کئی اسباق ترتیب دیئے جا چکے ہیں۔ اس سے استفادہ کریں اور دیگر  ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ہی صحت و عافیت کے بارے میں بھی اچھی طرح سمجھ لیں۔  اور وقت پر کھانا، پینا، سونا اور دیگر امور زندگی انجام دیں گے تو ان شاء اللہ کبھی بیمار نہ ہوں گے۔ عمر بھر کی کمائی ہوئی دولت آخری ایام میں صحت کو بچانے کی خواہش یا چندایام مزید دُنیا کی لذتوں میں جینے کی خواہش لئے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ اِس بات کی پہچان ہے کہ پوری زندگی قرآن کی صرف تلاوت تو کی گئی ، اُس کو سمجھ کر زندگی میں اُتارنے کی کوشش نہیں کی گئی ورنہ دنیا کی لذتوں کی خواہش کیوں؟ اگر ہم صحت مند رہ کر اپنی زندگی گزاریں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں تو دنیاوی لذتوں کی خواہشیںکہاں رہ جائیں گی؟ بہت ساری ہستیاں گزری ہیں، جن کی کارکردگی اتنی ہے کہ ہم میں سے بہتیرے سوچ نہیں پاتے کہ ہماری طرح دکھائی دینے والے انسان اتنا کچھ کر سکتے ہیں۔ جی ہاں! اِسی روئے زمین پر ایسے لوگ گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن کی کارکردگی ہزاروں افراد کے لئے صحت و عافیت کا ذریعہ ہیں۔ مثالوں کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اے پی جے عبدالکلام، عبدالعظیم پریم جی، یوسف حمید، حکیم عبدالحمید، ویر عبدالحمید وغیرہ ۔ جن کی زندگی اپنے علاوہ دوسروں کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

 فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا * إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا  (سورۃ الشرح، آیت ۵ و ۶)

پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

پوری سورت کو سمجھیں، بہت ہی بہتر رہنمائی کی گئی ہے۔ ہم اپنے ہیلتھ اور ویلتھ کو مینج کرنا سیکھیں اور اپنائیں۔ ان شاء اللہ زندگی بہت آسان ہوجائے گی۔بیمار ہونے کے بعد علاج و معالجہ ضروری ہے۔ لیکن بہتر یہ ہوگا کہ ہم وہ طریقہ اپنا لیں کہ بیمار ہی نہ ہوں  اور ہم اپنی روزانہ کے طریقۂ کار کو سنت کے مطابق بہتر بنا ئیں ۔ اپنی کمائی ہوئی دولت کو طریقے سے خرچ کریں اور فضول خرچی سے بچیں۔ ایک طرف جہاں کنجوسی اللہ کو ناپسند ہے تو دوسری طرف فضول خرچی حرام ہے۔ اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (سورۃ الإسرا۔ آیت ۲۷)

بے شک فضول خرچ کرنے والےشیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، صحت و عافیت کی زندگی عطا فرمائے۔ اور متعدی امراض و دیگر پریشانیوں سے حفاظت فرمائے۔ آمین

۔۔۔

ازفیروزہاشمی

(مضمون نگار نئی شناخت، نئی دہلی کے ایڈیٹر اور ہیلتھ کنسلٹینٹ ہیں)

دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیا...