Friday, April 17, 2026

شرم ہم کو مگر نہیں آتی

شرم ہم کو مگر نہیں آتی



جب ہی تو ہم دِل کھول کر چندہ دیتے ہیں، یہ سمجھے بوجھے بغیر کہ وہ مال کہاں جا رہا ہے۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرتے ہیں اور چندہ کی اپیلیں کرتے ہیں، اور ہم جنّت کی امید میں اپنی کمائی لگا دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن کی تقریروں نے صرف ہمیں خرچ کرنا بتایا اور ثواب کی امید دکھائی ہے لیکن 

’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ 

کے مصداق مسائل بڑھ ہی رہے ہیں۔ 

چندے بھی بڑھ رہے ہیں۔ چندے مانگنے والے بھی بڑھ رہے ہیں۔ مساجد اور مدارس و مکاتب کی تعداد بھی بڑھ رہے ہیں۔ 

لیکن اِس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔

نہ ہم عالم با عمل بن پا رہے ہیں۔ نہ ہم ڈھنگ کے عابد ہی بن پائے۔ نہ ڈھنگ والدین بن پائے۔ نہ ڈھنگ کے پڑوسی۔ 

چلیں اُدھر ہی۔ ہوا ہو جدھر کی؛ بہے جا رہے ہیں۔

کیوں

کیوں کہ ہم نے طریقۂ نبوی کو چھوڑ کر طریقۂ تبرکاتی منتخب کر لیا ہے۔

سب سے پہلے تو اس پر غور و خوض کرنا ضروری ہے کہ 

کیا ہم اپنے طریقے اور رویے میں مخلص ہیں؟ 

اور غلط طریقہ اور رویّہ سے شرمندہ ہیں؟

جواب یہی آئے گا کہ نہ ہم مخلص ہیں اور نہ شرمندہ۔  کمی تو ہے اِس میں۔

ہم ایک بے غیرت قوم بن چکے ہیں۔ 

کیسے ؟؟؟ آئیے غور کرتے ہیں اور احساس کرتے ہیں۔

شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کا ضمیر جاگ جائے اور پھر سنّت نبوی کو اپنا کر دنیا و آخرت کو بہتر کر سکیں۔

ہم اپنے گاؤں، محلّہ اور شہر میں دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ سو برس میں ایک فریضہ حج کے علاوہ کئی بار حج اور کئی بار عمرہ کرنے کے قابل تو بن گئے۔ الحمدللہ

لیکن

اس قابل نہ بن سکے کہ اپنے محلّے کی مسجد اور پرائمری تک کے دینیات پڑھانے کا بندوبست خود کر سکیں۔ 

ہم دور دراز سے چندہ اکٹھا کرتے ہیں، سفر و اسفار کرتے ہیں۔ اور اب تو حجرے میں بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعہ چندہ وصول کر لیتے ہیں۔ کون پوچھنے آئے گا کہ آپ کی ضرورت کیا ہے اور آپ درست جگہ پر اس کا استعمال کر رہے ہیں کہ نہیں۔ علماء کرام تو نائب رسول ہیں، اُن پر شک کرنا یا تہمت لگانا اور حساب طلب کرنا، گویا اپنی عاقبت خراب کرنا ہے۔ یہی سوچ کر ہم ڈر جاتے ہیں، کیوں کہ ہمیں ڈرایا بھی تو گیا ہے۔ اور مسلسل ڈرایا جاتا ہے کہ خبردار لب کشائی کی تو جہنم تمہارا ٹھکانا ہوگا۔

چندہ طلب کرنے کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں؛

۱۔ چار سو سے زائدہ مصلّیوں کی مسجد کے لیے کارپٹ صف کی ضرورت ہے جس کی لاگت تقریباً اڑسٹھ ہزار روپے ہیں۔ صدقۂ جاریہ کے طور پر تعاون فرمائیں۔ … … …

۲۔مصلّیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مسجد کی دوسری منزل کے لیے چھت بنانا ضروری ہے۔ جس سے جو بن سکے، سیمنٹ، سریا، ریت، روڑی، بجری، یا نقد کی صورت میں تعاون فرمائیں، اپنی طرف سے یا اپنے مرحومین کی طرف سے … … …

۳۔ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں بہت مشکل سے ہم ایک مدرسہ شروع کر پائے ہیں، جس میں گاؤں کے علاوہ بیرونی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدرسہ میں ناظرہ حفظ اور قرأت کی تعلیم ماہر حافظ و قاری اساتذہ کی نگرانی میں دی جاتی ہے۔ مہمانانِ رسول کی کفالت مدرسہ کے ذمہ ہے۔ آپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیجیے اور ثوابِ دارین حاصل کیجیے۔ … … … … …

۴۔ ہم فلاں جگہ سے مدرسہ کا چندہ کے لیے آئے ہیں، جہاں یتیم و نادار طلبہ دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ علاقہ بہت پچھڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم خاطر خواہ طریقے سے مدرسہ کو نہیں چلا پاتے ہیں۔ مال کی بے حد کمی ہے۔ آپ لوگوں سے تعاون کی درخواست ہے۔ اللہ کے واسطے اُن یتیم و نادار بچوں کی کفالت میں اپنا حصہ ڈال کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔ …  … … …

اب آئیے عمومی چندہ کرنے والے یا کہیے بھیک مانگنے والے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ خاص علاقے کا پچھڑا پن کا حوالہ دے کر اور بیماری کا بہانہ بنا کر چند سکّوں کے بجائے کم سے کم سو پچاس روپے طلب کرکے ایک دن میں ایک شخص کی آمدنی ڈیڑھ ہزار سے تین ہزار روپے تک یا اُس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ( اس طرح کی کئی سروے رپورٹ سوشل میڈیا پر موجود ہے) جن کی اجتماعی آمدنی پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک فی کس ہو جاتی ہے۔ جو کہ موجودہ دور میں پڑھے لکھے اساتذہ کو بھی شاذ و نادر ہی کوئی تعلیمی ادارہ تیس ہزار روپے ماہانہ ادا کرتا ہوگا۔ 

بھیک مانگنے میں کیا حرج ہے؟ تھوڑا بے غیرت بننا پڑتا ہے۔ عاقبت کی فکر کیوں کریں؟ دنیا کی زندگی ہی اتنی خراب چل رہی ہے۔ چندہ کرنے اور بھیک مانگنے سے متعلق کئی ویڈیو رپورٹ میرے پاس موجود ہیں جس میں اس پیشہ میں لگے ہوئے لوگوں کی ماہانہ آمدنی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں بھی ہے۔

اپاہج پن کا بہانہ بنا کر یا بیٹی کی شادی کا بہانہ بنا کر تو ہر جمعہ آپ مانگنے والے کو دیکھ اور برت رہے ہوں گے۔ تو ایسے لوگوں کا مالی تعاون دے کر آپ کس کا بھلا کر رہے ہیں؟؟؟

مذکورہ بیان کردہ چندہ نمونوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے خود معاشرے میں ہاتھ پھیلانے والوں کی تعداد بڑھائی نہ کہ خود کفیل بنانے میں معاون بنے ہیں۔

میری درخواست ہے کہ اب معصوموں کا امپورٹ ایکسپورٹ بالکل بند کیا جائے۔ مسجد اور اسی میں پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست اپنی ہمت و طاقت اور مال سے کیا جائے۔  اگر ایک سو خاندان پر مشتمل گاؤں ہے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اپنے بوتے پر مسجد اور پرائمری تک کی تعلیم کا بندوبست نہ کر سکیں۔ مشوروں اور طریقوں کی بھرمار ہے۔ کرنے کی تیاری کریں۔ ہو جائے گا۔

کیا کرنا ضروری ہے۔

۱۔ اپنے علاقہ ایک کمیٹی اور بیت المال بنایا جائے اور اپنے مال سے ادارہ اور مسجد قائم کیا جائے اور اپنے ہی یہاں کے مولوی اور ماسٹر کو پارٹ یا فل ٹائم بطورِ استاذ مقرر کیا جائے۔

۲۔کوئی بھی خاندان خواہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو، ایک نکاح کی سنت ادا کرنے کے لیے پچاس ہزار روپے سے زیادہ مال خرچ نہ کیا جائے۔ مہمانوں کی تعداد رشتہ دار سمیت چار سے گیارہ تک کے درمیان محدود رکھا جائے۔ ظہر سے قبل تشریف لائیں، صلوٰۃ ظہر مسجد میں ادا کریں، وہیں نکاح کیا جائے اور شربت پی کر رخصتی کر دی جائے۔

۳۔خواہ آپ کتنے ہی مالدار ہوں زندگی میں صرف ایک بار آپ پر حج فرض ہے، صرف اُسی کو ادا کریں۔ اور صرف ایک ہی بار عمرہ کریں۔ بقیہ مالوں کا بہت استعمال ہے، جس کا اجر اتنا ہی ملے گا جتنا آپ نفلی حج سے امید کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے کہیں زیادہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ (ہاں نمائش نہیں ہو پائے گی، جس سے آپ کو تسلی ملتی ہے اور شیطان خوش ہوتا ہے۔ کیوں فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں۔)

۴۔مالدار لوگ جو نمائشی کام کرتے ہیں، اس پر لگام لگائیں، اُن پیسوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں پر خرچ کرکے گاؤں کی تعلیم میں اضافہ کریں۔

۵۔ تعلیم اور صحت کی افادیت پر ہر ماہ ایک نشست مسجد میں ہی رکھا جائے اور ماہرین کے ذریعہ لوگوں میں بیداری پیدا کیا جائے۔ ماہرین کے اخراجات کمیٹی میں جمع بیت المال سے ادا کیا جائے۔ سال میں بارہ نشستیں مختلف موضوعات پر رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ پھر ناقابل ہضم ہو جائے گا۔

۶۔مغلظاتِ کام و دہن کو بالکل ترک کریں۔ اپنی صاف ستھری پہچان بنائیں، دوسری قومیں جانیں کہ ہماری پہچان اُن سے بہت الگ ہے۔ مغلظات حرام تو ہے ہی، فضول خرچی کے بھی ضمن میں آتا ہے اور فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ گویا شیطان کو خوش کرنے والا عمل کو بالکل ترک کیا جائے۔

۷۔ جو مولوی خود مغلظات کام و دہن میں مصروف ہوں ایسے کو نہ مسجد کا امام مقرر کیا جائے اور نہ ادارہ میں استاذ مقرر کیا جائے۔ یہ شکم پرور مولوی ہیں، یہ صرف اپنا پیٹ پالنے والے ہیں اور سماج کو گمراہی میں مبتلا کرنے والے تبرکاتی مولوی ہیں۔

۸۔ وقت اور صحت اللہ کی دی ہوئی بڑی نعمت ہے، اس کا خیال رکھیں اور درست استعمال کریں، آپ سے جب مال کا حساب لیا جائے گا، تب وقت اور صحت کا بھی حساب طلب کیا جائے گا۔ 

بہت ہی افسوس سے مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی پچاس برس کی آمدنی عمر کے آخری پانچ برسوں میں بہتر زندگی جینے کی خواہش میں خرچ کرکے دُنیا سے رخصت ہو جائے جاتے ہیں۔ اس پر بھی دھیان رکھنا ضروری ہے کہ آخر کیوں ہم اتنے زیادہ بیمار ہونے لگے ہیں۔ ذہنی اور سماجی بیماری کی تو ساری باتیں کی جا چکی۔ اس میں کتنی بہتری ہو سکتی ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن جسمانی بیماری کے ساتھ بھی ہم اکثر لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر بھی غور کر لینا ضروری ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گھرانہ موجود ہو جس کا کوئی فرد بیمار نہ ہو یا اُس کے روزمرہ میں کسی قسم کی دوا شامل نہ ہو۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم زندہ ہیں کھانے کے لیے۔ جب کہ صحت کا تقاضا ہے کہ کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے۔ وقت پر جاگیں، وقت پر سوئیں، وقت پر صلوٰۃ ادا کریں اور وقت پر کھانا کھائیں۔ اور ایسا کرنے کے لیے سنت نبویﷺ سب سے بہتر عمل اور نمونہ ہے۔

 ☆ ☆ ☆


از؛ فیروزہاشمی، نئی دہلی

9811742537

(مضمون نگار نئی شناخت، نئی دہلی کے ایڈیٹر اور نیچرو ہیلتھ کنسلٹینٹ ہیں)

5th April 2026 

No comments:

Post a Comment

شرم ہم کو مگر نہیں آتی

شرم ہم کو مگر نہیں آتی جب ہی تو ہم دِل کھول کر چندہ دیتے ہیں، یہ سمجھے بوجھے بغیر کہ وہ مال کہاں جا رہا ہے۔ وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر تقریریں کرت...