Saturday, October 14, 2023

🌼🌼مسلم قوم، ذہنی پسماندگی کا شکار🌼🌼


اِس جملہ میں کتنی سچائی ہے، اِس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے معاشرہ پر بغور نظر ڈالنا ہوگا۔ اخبارات و دیگر وسائل خبر اور معلومات پر بھروسہ کرنا بھی پڑے گا۔ ساری خبریں سوشل میڈیا پر غلط نہیں ہوتیں۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگوں نے خبروں کی بھرمار کر دی ہے۔ اکثر خبرکو جو بمشکل تِل کے برابر ہوتا ہے اُسے تاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خبروں کا تجزیہ کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا جیسا کہ عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے۔ خبروں کی چھنٹائی کرنا بھی ایک کام ہے۔ پھر بھی اس سے جو نتیجہ سامنے آنے والا ہے، وہ سب کو چونکا جائے گا۔ لیکن اکثر لوگ اِس نتیجہ کو بالکل لاپروائی سے جھٹک دیتے ہیں۔ حالاں کہ ساری باتیں ، خبریں اور حالات جھوٹے نہیں ہوتے۔ بیٹھے بٹھائے قصہ گڑھنے والوں کی بھرمار ہے، لیکن اگر حقیقت سامنے آ جائے حالات و واقعات مدلل ہوں، روز روشن کی طرح عیاں ہو، تو پھر حقیقت سے روگردانی اپنی عقل پر بھروسہ نہ کرنے کے مترادف ہوگا۔

اکثر فیس بک پر اور واٹس ایپ گروپ میں وہ لوگ ہی زیادہ سر گرم معلوم پڑتے ہیں جوصرف وقت گزاری کرتے ہیں۔ دقّت وہاں آتی ہے، جہاں ساٹھ برس سے زائدہ عمر کے لوگ جو یا تو بزنس مین ہیں، یا پنشن پر جی رہے ہیں، یا بال بچوں سے بے فکر ہیں۔ یا اُن کی آمدنی سے گزارا ہو رہا ہو اور سب کچھ ٹھیک ہے۔ تو ایسے لوگ دنیا کے لوگوں کو مشورے دیتے رہتے ہیں، اُن کا وقت گزر جاتا ہے۔ یہ وہ سکسٹی پلس لوگ ہیں جواپنا قیمتی وقت دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں استعمال کرنے کے بجائے، اُلجھن میں ڈالنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ خودبھی اُلجھن میں ہیں اور دوسروں کو بھی اُلجھن میں ڈالتے ہیں۔ کیوں کہ اکثر لوگ اُن کی بزرگی کا خیال کرتے ہوئے اُن کے مشورے پر عمل کرتے ہیں۔ حالاں کہ اُن کو اپنے میدان کے علاوہ کسی دیگر میدان کا علم اور تجربہ نہیں ہوتا۔

ساٹھ کی عمر کو پہنچنے والے یا ہو چکے لوگ عموماً اُن علاقوں کو پسند کرتے ہیں، جہاں قریب میں مسجد ہو، کیوں کہ وقت گزاری کہاں کریں گے۔ چالیس پلس جن کا روزگار درست ہے اُن کے اندر اب نیا شوق چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی نئے علاقے میں جا کر بستے ہیں اور اُس جگہ کو تلاش کرتے ہیں جہاں مسجد قریب ہو۔ یا اُس نئے علاقے کو تلاش کیاجاتا ہے جہاں مسجد اور مدرسہ بنانا آسان ہو کیوں کہ اِس کے نام پر چندہ بڑی آسانی مل جاتا ہے۔  یا اُس جگہ کو ڈھونڈا جاتا ہے جہاں پرانا قبرستان ہو، اُس کے نام پر بھی چندہ کرنا آسان ہوتا ہے۔ حالاں کہ یہ سب بھی نیکی کا ہی ایک حصہ ہے۔ ایسے لوگوں کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، لیکن تجربہ کچھ اور ہی بتاتا ہے۔ ہمارے یہاں عموماً روایت چلی آ رہی ہے کہ معاملات کی خرابی کو عبادات سے ڈھکنے یا بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب کہ یومِ حساب کے پرچہ میں کوئی ایسا سوال یا جواب نہیں ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں لوگوں کے ساتھ معاملات کو بہتر نہیں رکھا اورآخری عمر میں عبادات پر توجہ دے کر اِس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ➖تو روزِ قیامت ایسا معاملہ غیر درست ہوگا۔ ➖یہ بہت غلط سوچ ہے۔ ➖ملازمین و مزدور کے حقوق تلف کر کے، رشتہ داروں کے حق مار کے عمرہ اور حج ادا کرنا کیا معنی رکھتا ➖؟  زبردستی لوگوں سے مسجد اور مدرسہ کے نام پر چندہ وصول کرنا اور محلہ میں ہیکڑی دکھانا ➖کون سی عبادت کا حصہ ہے ➖؟ مسجد اور مدرسہ کے نام پر کئے گئے چندہ کی رقم سے اپنی پروپرٹی بنانا یہ کون سی عبادت کا حصہ ہے ➖؟  

اِس وقت سوشل میڈیا پر جینوسائڈ کی خبریں خوب وائرل ہو رہی ہیں۔ حالاں کہ صدیوں پہلے ہمارا ذہنی جینو سائڈ کیا جا چکا ہے ➖اور اب جسمانی جینوسائڈ ہو رہا ہے۔ ➖کیوں کہ ذہنی جینوسائڈ کے نتیجہ میں ہی ہمارے اندر یہ تبدیلی آئی ہے کہ معاملات کی خرابی کو عبادات سے بدلنے کا طریقہ بتا دیا گیا ہے۔ اور فرائض و واجبات اور معاملات کو درست طریقے سے نہیں سمجھایا گیا۔ اب جسمانی جینوسائڈ کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ برسوں سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہو، اپنے علاقے میں رہو۔ بہت کم لوگ ایسے ملے جنہوں نے یہ کہا ہو کہ اپنے سطح کے لوگوں کے ساتھ رہو یا انسانوں کے ساتھ رہنا سیکھو چاہے وہ مذہب کے اعتبار سے خواہ کوئی ہو۔ جہاں انسانیت کا خیال رکھا جاتا ہو، جہاں انسانیت کے طور طریقے کو برتا جاتا ہو، وہاں ترقی ہوگی۔ ➖لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے ’’انسانیت‘‘ میں سے  سین ہٹا کر کے ’’انانیت‘‘ کا درس دیا۔ نتیجہ کئی جگہوں اور علاقوں میں سامنے آ چکا ہے۔

ساٹھ برس سے کم عمر کے پڑھے لکھے بیشتر لوگ بھی اکثر موضوعات کے تحت سنجیدہ قطعی نہیں ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی بات پر بضد رہتے ہیں۔ ➖ اگر ابھی اُن سے سماجی معاملات کے بارے میں گفتگو کی جائے تو آمنے سامنے جوتم پیزار کی نوبت آ جائے ، لیکن گروپ میں دشنام طرازی تو ہو ہی سکتی ہے۔ 

میں نے کئی بار سوال کیا کہ ’’مسلم قوم کی سب سے بڑی دقت کیا ہے‘‘ کوئی معقول جواب اب تک نہیں مل سکا۔

جب کہ گروپ کی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’مسلم قوم ذہنی پسماندگی کی شکار ہے‘‘  اور اُس میں سب سے پہلے نمبر پر یہ سوچ ہے کہ ’’کیا کہیں گے لوگ‘‘  خواہ آپ طرزِ زندگی کے بارے میں مشورہ کریں، تعلیم کے میدان کے بارے میں گفتگو کریں، کیرئیر و روزگار کے بارے میں گفتگو کریں۔ بیٹا یا بیٹی کے نکاح کامعاملہ ہو یا جنازہ و میّت اور میراث کا معاملہ سامنے آ جائے، ہر جگہ شریعت کی کھلے عام دھجّیاں اُڑائی جاتی ہیں، اور رسمی طور طریقے پر ہی عمل کیا جاتا ہے۔ 

عذر 

یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ 

یہ سب ہم لوگ نہیں مانتے۔ 

یہ طریقہ اُس طرف کا ہے۔ 

وہ زمانہ اور تھا۔ 

ایسا کہاں کوئی کرتا ہے۔ 

باپ دادا کے زمانے سے چلتا آ رہا ہے۔ 

ہمارے باپ دادا نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

جب اجتماعی کام یا معاملہ کی بات آئے توعذر کیسے ہوتے ہیں؟

ہماری کہاں اتنی اوقات ہے۔

ہم اتنا نہیں دے سکتے۔

ہم اِس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔

اور بھی کئی قسم کے جملے آپ نے سنے ہوں گے، جس میں زیادہ تر منفی رویّہ ہوتا ہے، اُسے ہم یہاں لکھ نہیں سکتے۔ آپ کے ذہن میں جتنا بھی آ جائے، وہ کم ہی ہوگا۔ وہ سارے منفی خیالات و جملے ہماری قوم میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ یہ سکھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

آخر یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں؟ کیا مسلم قوم مالی اعتبار سے کمزور ہے؟ یا تعلیمی اعتبار سے کمزور ہے؟ یہ دونوں عذر بیان کرکے کچھ لوگ اپنی روزمرہ کا خرچہ نکالتے رہتے ہیں، وہ بھی اُن لوگوں سے جو جذباتی بن کے اللہ کی راہ میں مال خرچ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مال کی کوئی کمی نہیں ہے، ورنہ جس طرح شادیوں میں وقت اور مال کا ضیاع ہوتا ہے۔  وہ بھی آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔

کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ قوم مالی طور پر غریب ہے۔ 

یہ تو ذہنی طور پر غریب ہے۔

سنجیدہ موضوع پر گفتگو کرنی ہو تو  

’’وقت نہیں ہے۔ ’’ابھی ذرا مصروفیت ہے، بعد میں بات کیجیے گا‘‘۔ 

معاملات کی خرابی کو عبادات سےپُر کرنے والی قوم، لات کھائے گی، گالیاں سنے گی۔ اور کیا اُس کا مقدر ہو سکتا ہے۔؟ ➖جائیے،  ➖معاشرے میں گھومیے، ➖دیکھیے کہ کس طرح مساجد اور مدارس پر جاہلوں اور جاہل حاجیوں کا قبضہ ہے۔ کام نہ کرنے کے کتنے بہانے اُن کے پاس ہے۔

ایک رَٹا لگایا ہوا ہے، آپ مجھے مالی تعاون کیجیے، ہمیں آپ کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

کیا کوئی بتائے گا کہ سالانہ کتنے علماء اور فضلاء اور مفتیانِ کرام مدارس سے نکلتے ہیں اور اُس میں کتنے فیصد معاشرے کے لئے کارگر اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اُن پر کئے جانے والے خرچ اور نکلنے والے نتائج پر غور کریں، موازنہ کریں کہ کس طرح زکوٰۃ و صدقات کو غریبوں اور یتیموں کے نام پر اڑائے جاتے ہیں۔

دورِ موجودہ میں مسجد بنانا اور حج کرنا ہی ایک نیک کام رہ گیا ہے۔ مسجد کے نام پر چندہ کیجیے، ہر ایک دو سال میں نئی کمیٹی بدلیے، خزانچی بنئے، اپنا کام ہو جائے، نکل لیجیے۔ 

روزانہ تین گھنٹے استعمال کئے جانے والی مساجدکی عمارت پر غور کیجیے۔ کہ کس طرح اسراف کیا جاتا ہے۔ 

تعلیمی سرگرمی اگر کوئی شروع کرنا چاہے تو روکا جاتا ہے۔

غربت اتنی کہ دال روٹی بھی نہیں کھا سکتے۔

اور مال اتنا کہ پیر کو بکرا دے آتے ہیں۔

کیا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ قوم ذہنی پسماندگی کی شکار نہیں ہے؟

مال کی نمائش کا ایک طریقہ اور رائج ہونے لگا ہے۔ وہ ہے بے وقت عقیقہ کا رواج۔ بچے کی ولادت سے پہلے اور بعد کئی قسم کے مفروضے تیار کر لئے جاتے ہیں۔ مثلاً زچہ کمزور ہے، ابھی تو بہت روپیہ خرچ ہوگیا۔ بہت تنگی آ گئی ہے۔ 

’’بعد میں دھوم دھام سے کریں گے۔ ‘‘

حالاں کہ عقیقہ ساتویں دن کرنا سنت ہے۔ باقی جو بھی ہے وہ ڈھکوسلا یا رواج ہے، اسے آپ اپنی من مرضی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یا مولویوں کی شکم پروری۔ ➖بہت سے معاملات اور عبادات میں ہمارے طریقے اصحاب السبت کی طرح ہے۔ ہمیں خوف آتا ہے ہم یقیناً اصحاب السبت کے طریقے پر چلتے ہوئے اللہ کی پکڑ میں آئیں گے، یا آئے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پہلے کی قوموں کی طرح اُمّت محمدیہ(ﷺ) پر ناگہانی آفت تو آئے گی نہیں، لیکن آزمائش تو آتی رہے گی۔ جس کا حل ہمیں سنت کے مطابق ہی کرنا پڑے گا۔

حدیث شریف میں ہے کہ

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ  فَاَبَوَاہُ  یُہَوِّدَانِهٖ اَوْ یُنَصِّرَانِهٖ اَو یُمَجِّسَانِهٖ (بخاری ومسلم)

ہر بچہ فطرتِ پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی و عیسائی اور مجوسی بنا دیتے ہیں۔

اب ہم اپنی اولاد کو کیا بنا رہے ہیں، اُس پر ہمیں خود ہی غور کرنا ہوگا۔ دوسروں کو ہماری اولاد کے بننے یا بگڑنے سے کوئی زیادہ واسطہ تو نہیں ہے۔ ہاں ہماری اولاد کے بگڑنے سے معاشرے میں ہمارے ساتھ ساتھ ہماری قوم کو بھی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ’’ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے‘‘ حالاں کہ عقل مند انسان اپنے آپ کو گندگیوں سے بچاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ تقویٰ کا یہی اصول ہے اور متقی کی یہی پہچان ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین


فیروزہاشمی،ہیلتھ کنسلٹنٹ، نوئیڈا

10th Oct. 2023


Wednesday, September 6, 2023

⚽⚽⚽مسجد تو بنا دی شب بھر میں⚽⚽⚽


آج واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ سے تبلیغ سلسلہ زوروں پر ہے۔ ایسا ہی ایک گروپ ’’اہلِ علم و قلم‘‘ کا لنک میرے ایک بزرگ کے معرفت موصول ہوا۔ گروپ کے تعارف سے لگا کہ ہمیں اِس میں شامل ہو جانا چاہیے، اور میں شامل ہو گیا۔ ابھی چوبیس گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اِس دوران پتا چلا کہ بڑے بڑے اہلِ علم و ہنر اس گروپ میں شامل ہیں۔ جو کہ کسی گروپ کی ترقی اور بہتری کےلئے ایک مثبت پہلو ہوتا ہے۔

لیکن جس طرح کام کا مثبت یا منفی پہلو ہوتا ہے، اسی طرح یہاں بھی دونوں پہلو موجود ہیں۔ مثبت پہلو کے بہت سی خصوصیات عمومی طور پر لوگ بیان کر دیتے ہیں اور اکثر لوگ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے مل جائیں گے۔ لیکن ایسے معاملات میں منفی پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو کہ کسی بھی اچھے اعمال کو فروغ دینے میں مضر اور نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں منفی پہلو پر بھی نظر ڈال لینا مناسب معلوم پڑتا ہے۔

جو بھی ہمارے فیس بک پر دوست بنے یا پھر تعارف کے بعد واٹس ایپ پر دوست ہوئے، اُن نظریات و خیالات بہت ہی محدود ثابت ہوئے۔ جسے ہم برسوں سے محسوس کر رہے ہیں اور برت رہے ہیں۔ اگر اُن سے ملاقات کے لئے کہا جائے یا فون پر گفتگو کے لئے وقت مانگا جائے تو نہ ہی اُنہیں ملنے کے لئے وقت ہے اور نہ فون پر گفتگو کے لئے وقت ہے۔ تو اِس بنا پر ہم نے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ یہ وہ اہلِ علم ہیں جو یا تو ریٹائرڈ پرسن ہیں، جنہیں اپنا وقت گزاری کے لئے کچھ تو کرنا ہے،  لہٰذا اپنی قابلیت تھوپی جائے۔ کیوں کہ اب یہ گروپ میں بیٹھ کر تاش، لوڈو یا کیرم تو کھیل نہیں سکتے!!!

آپ اپنے علاقے میں بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ کچھ لوگوں کو مسجد یا مدرسہ بنانے کا دُھن سوار ہو جاتا ہے۔ کوئی قبرستان کا ٹھیکیدار بن جاتا ہے۔ کوئی خیراتی ادارہ قائم کر لیتا ہے۔ اس طرح کے کاموں سے عمومی نتیجہ آٹے میں نمک کے برابر آتا ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کرکے سینکڑوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ کیوں کہ ’’خلوص‘‘ ناپید ہوتا ہے۔

ہمارے محلّے میں بھی مکمل ایمان والے لوگ آ گئے ہیں، جن کے اندر انسانی ہمدردی تو نام کی نہیں ہے لیکن مسجد بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جن کا طریقہ عائلی اصول میں تو کچھ بھی غلط کریں، چلے گا، بلکہ درست ہے، ایسا ہی سب کر رہے ہیں  اور شاید اُن کو یہ امید ہے کہ مسجد بنالیں گے یا نمازیں ادا کر لیں گے تو وہ گناہوں سے پاک ہو جائیں گے۔ انہیں عبادات اور معاملات کا فرق نہیں سمجھ آیا اور نہ ہی کسی خطیب نے جمعہ کے خطبہ میں ہی سمجھایا ہو، اصل بات یہ بھی ہے کہ ’’وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے‘‘ ۔ 

دس بارہ سال سے مسجد کے لئے یا اجتماعیت سے بیٹھنے کی کوشش کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اجتماعی طور پر ایک مسجد بننے کے بعد یہ بے شرمی کی حد سامنے آتی ہے کہ ’’گھوشت کرو کہ یہ مسجد کس کی ہے‘‘ یعنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بن کے تیار ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بات چندہ کے لین دین پر آتی ہے، اور مال کے زعم میں کہا جاتا ہے کہ ’’تو نے کتنا چندہ دیا ہے؟  اور اگر کوئی کہہ دے کہ اتنا۔۔۔۔۔ تو کہا گیا کہ یہ پکڑ اپنے پیسے اور اِس مسجد میں مت آئیو‘‘  ۔ ۔ یہ میری مسجد ہے۔ ۔ ۔ ’’بے غیرتی کی انتہا‘‘

یہ سوچ کہاں سے آئی؟؟؟

ایک بڑی بے بنیادی سوچ بھی ہمارے طبقہ میں رائج ہے کہ میاں ’’اپنے علاقے میں رہو‘‘۔ یہ کیا ہے؟ آج تک مجھے سمجھ میں نہیں آیا۔ کیوں کہ مشاہدہ کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔ ہم جسے اپنا علاقہ کہتے ہیں، کیا وہاں علاقائی عصبیت نہیں پائی جاتی؟ کیا وہاں مسلکی عصبیت نہیں پائی جاتی؟ کیا وہاں ذات برادری پر مبنی عصبیت نہیں پائی جاتی؟ کیا وہاں تیری مسجد اور میری مسجد والی ذہنیت نہیں پائی جاتی؟ کیا وہاں ہمارے لوگوں کے قبرستان اور دوسرے لوگوں کے قبرستان والی بات نہیں پائی جاتی؟ کیا وہاں ’’ہم لوگ‘‘ اور ’’وہ لوگ‘‘ والی سوچ نہیں پائی جاتی ؟    اگر پائی جاتی ہے تو یہ سوچ کہاں سے آئی؟؟؟ کیا ہمارے دین میں ایسی سوچ کی گنجائش ہے؟؟؟

اور تازہ واقعہ کی مثال لیجیے۔ آپ کے اکثریتی علاقہ میں جو ہوا، آپ کیا کر پائے؟ اور ابھی تک کیا کر پانے کی حیثیت میں ہیں؟ جب کہ تین ہفتہ سے زیادہ اس واقعہ کو ہو چکا۔ آئے دن جو واقعات اقلیتی اور ذات برادری کی عصبیت کی بنیاد پر پیش آ رہے ہیں اور جو غیر انسانی حرکتیں ہو رہی ہیں، اس سے آپ کس طرح نبردآزما ہونے کی حیثیت میں ہیں؟

رفاہی کام کرنے کے لئے پوری گنجائش ہے۔ لیکن اس کا اصول ہے۔ بغیر اصول کو عمل میں لائے اِس طرح کے کاموں کی بنیاد ڈالنا ریت کا محل تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔ اگر واقعی انسانیت سے ہمدردی ہے تو انفرادی طور پر کیجیے۔ اور اگر کوئی بڑا کام ارادہ کر لیا ہے تو اِس طرح کے رفاہی کام کے لئے  پہلے سوسائٹی بنائیں، رجسٹرڈ کرائیں پھر کام کریں۔ جلدی کامیابی ملے گی اور پائیداری بھی۔ ویسے تیرہ  سال کے بعد اب کچھ لوگوں کو سمجھ آیا ہے تو سوسائٹی کی بھاگ دوڑ میں لگے ہیں۔ لیکن ہما ہمی ابھی بھی باقی ہے۔ علاقائی عصبیت، ذاتی اونچ نیچ ذہنوں گھر کر چکا ہے۔ اِس طرح کی اخلاقی بیماری اور سوچ کو ختم کیے بغیر مسجد تعمیر کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا کیا ممکن ہو پائے گا؟؟؟

پتا نہیں کس طرح لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ سماجی، معاشرتی معاملات کی غلطی کو دھونے کے لئے نماز، روزہ، عمرہ وغیرہ کام آ جائے گا، یا اُس کا بدل بن جائے گا۔ ہم نے کئی ایسے اداروں میں کام کیا ہے جن کے مالکان اپنے ورکروں کے ساتھ کی گئی زیادتی کے بدلے حج کرکے اپنے کو پاک سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اور کئی تو اتنے بے ایمان ہیں کہ پولیس ڈھونڈ تی ہے تو یہ اجتماع میں چلے جاتے ہیںاور سی بی آئی ڈھونڈتی ہے تو عمرہ کے لئے نکل جاتے ہیں۔ یہاں تک اُن کا معاملہ طے رہتا ہے کہ ’’فلائی‘‘ کے بعد ہی سی بی آئی اُن کے گھر پہنچتی ہے کہ وہ گھر پر نہ ملیں۔

لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ گروپ کو موضوع کے لحاظ سے مدلل اور معلوماتی مضامین ہی پوسٹ کئے جائیں، خواہ وہ خود کے لکھے ہوئے ہوں یا کسی دیگر کے۔ اگر کسی کو حوالہ کی ضرورت ہو تو اُسے حوالہ فراہم کیا جائے۔ جو باتیں عمومی نا ہوں اُسے گروپ میں نہ لایا جائے، کیوں کہ بلاوجہ طول فضول باتیں ہوتی ہیں جس سے مطالعہ کے ذوق میں کمی آتی ہے یا پھر ہر ایک کو دیکھنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ حوالہ جات وغیرہ تعارف کے بعد انفرادی طور پر فراہم کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔

فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش

Friday, July 21, 2023

🌹🌹🌹’’اماموں کی قدر کریں‘‘🌹🌹🌹



ابھی گزشتہ چند برسوں میں مختلف طرق سے ’’اماموں کی قدر کریں‘‘ یا ’’علماء کرام کی قدر کریں‘‘ جیسے عنوانات سے مختلف لوگوں کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اور اکثر علماء کرام، حافظ قرآن یا امام و مؤذن اس بات کا رونا رو رہے ہیں۔ جس میں اکثر تنخواہ یا معاوضہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ائمہ کرام اور علماء کرام کو خاطر خواہ اجرت، معاوضہ یا وظیفہ نہیں دیا جاتا۔

اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہمیں پورا یقین اور بھروسہ ہے۔ کئی ویب سائٹ اور فتاویٰ پورٹل پر اماموں کے حقوق سے متعلق فتویٰ اور احادیث کا حوالہ موجود ہے۔ مثلاً

’’ امامِ مسجد کے ہم پر کیا حقوق ہیں؟

مسجد کے امام اور علماء کرام کے ہم پر کیا حقوق ہیں اور انکے گھر والوں کے ہمارے گھر والوں پر کیا حقوق ہیں؟‘‘

جواب میں بتایا یہ گیا کہ 

  اسلام اور مسلم معاشرے میں امامت ایک معزز منصب رہا ہے اوراس پر فائز رہنے والے لوگوں کوعام و خاص ہر طبقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے، کیونکہ امام ملازم نہیں، بلکہ قوم کا قائد ورہبر ہے، ائمہ کرام کا احترام اور ان کی خبر گیری کرنا تمام مسلمانوں کی انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔

امامت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک حدیث  نقل کی ہے کہ

"اَنّ رَجُلًا اَتَی النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فَقَالَ مُرْنِیْ بِعَمَلٍ اَعْمَلُہُ، قَالَ  کُنْ اِمَامَ قَوْمِکَ، قَالَ  فَاِنْ لَمْ اَقْدِرْ، قَالَ کُنْ مِنْ مُؤذِنِھِمْ"۔

ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی  خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول! مجھے کوئی کام بتائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  اپنی قوم کے امام بن جاؤ تو انھوں نے کہا، اگر یہ ممکن نہ ہو تو؟  توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھرموٴذن بن جاوٴ“۔

(شرح عمدة الفقہ ج3، ص139، ط  شبکة مشکاة الاسلامیہ )

اس حدیثِ پاک سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں امامت اور مؤذنی ایک اعلیٰ اور شرف والاعمل تھا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اس کی تلقین فرمائی، اس لئے اہل محلہ کی ذمہ داری ہے کہ امام کی ضروریات کا خیال رکھیں، اُسے اتنی تنخواہ دی جائے، جو اُس کی ضروریات کے لئے کافی ہو اور اُس علاقے کے متوسط فرد کی تنخواہ کے برابر ہو اور اس کی غلطیوں کے پیچھے نہ پڑیں، کیونکہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں، فرشتے نہیں ہے۔

’’افسوس کی بات ہے کہ آج ائمہ کرام اور علماء کرام کی ناقدری ایک عام وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے، ایک شخص کو امام بھی بنایا جارہا ہے اور اس کی ناقدری بھی ہو رہی، امام کی عزت وعظمت ایک مسلمان کا وطیرہ ہونا چاہیے۔‘‘

اس آخری جملہ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جس حدیث کے حوالہ سے علماء کرام کی قدر ثابت ہوتی ہے،  اُسی کی تشریح میں افسوس کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ آخر جس صحابی کا حدیث میں ذکر کیا گیا؛ وہ یقیناً پڑھے لکھے اور ہوشیار بھی ہوں گے۔ سماجی ضرورتوں کو شرعی اعتبار سے سمجھتے ہوں گے۔

(پڑھے لکھے سے مراد آج کے کتابی اور آٹھ دس برس مدرسے میں گزارنے والے مولوی اور عالم قطعی نہیں ہیں۔ یہ صحابی وہ ہیں جنہیں معاشرہ کی ضروریات کا علم بھی ہے اور وہ دور اندیش بھی ہیں)

اب آگے کی حدیث ملاحظہ فرمائیں

نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ "اکرموا حملة القرآن فمن اکرمھم فقد اکرمنی"

ترجمہ حاملین قرآن (حفاظ و علماء کرام ) کا اکرام کرو، جس نے ان کا اکرام کیا، اس نے میرا اکرام کیا۔

(الجامع الصغیر للسیوطی ج 1، ص145)

ایک اور حدیث میں ہے کہ "حامل القرآن رایة الاسلام فمن اکرمہ فقد اکرم اللہ و من اھانہ فعلیہ لعنة اللہ"

ترجمہ حاملین قرآن اسلام کا جھنڈا اٹھانے والے ہیں، جس نے ان کی تعظیم کی، اس نے اللہ کی تعظیم کی اور جس نے ان کی تذلیل کی،اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔

(کنزالعمال ج 3، ص139، ط موسسة الرسالة، بیروت)

مذکورہ احکام کے علاوہ بھی مختلف احادیث میں امامت صلوٰۃ کرنے والے اور مؤذن کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور ہمیں بھی یقین ہے کہ یہ قابل قدر عمل ہے۔

لیکن میرا سوال یہاں پر یہ ہے کہ ’’علماء کرام کو یہ درخواست کیوں کرنی پڑ رہی ہے؟‘‘ یہاں تک کہ فتویٰ کے ایک حصہ (پیرا گراف) میں عوام کے رویّہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

مذکورہ احادیث اور دیگر علماء کرام کے خیالات کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ امام و مؤذن کے لئے متقی، صاحب ورع ہونا ضروری ہے۔ یہاں تک وہ لوگ جو دینی ادارے چلاتے ہیں، یعنی مہتمم یا متولی ہیں؛ اُن کے اندر بھی مذکورہ صفات ہونا بہت ضروری  اور لازمی ہے۔

حضرت کعب الاحبار ؓسے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے پوچھا ! مجھے بتائیے تقویٰ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ کیا آپ کبھی خار دار دشوار راستے سے گزرے ہیں؟ آپ نے فرمایا !ہاں تو حضرت کعب الاحبار ؓ نے پوچھا، بتاؤ خاردار جھاڑیوں والے راستے سے گزرتے ہوئے تمہارا طریقہ کار کیا ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا ،ڈرتا ہوں۔ دامن بچا کر چلتا ہوں یعنی نہایت احتیاط سے دامن سمیٹ سمیٹ کر قدم بچا بچا کر گزر تا ہوں، اس خدشے کے پیش نظر کہیں دامن چاک نہ ہو جائے ، کہیں پاؤں زخمی نہ ہو جائے ،جسم چھلنی نہ ہو جائے۔حضرت کعب الاحبارؓ نے فرمایا، بس یہی تقویٰ ہے کہ گویا یہ دنیا ایک خاردار جنگل ہے، دنیاوی لذات اور خواہشات نفسانی اس کی خاردار جھاڑیاں ہیں جو ان خواہشات و لذات کے پیچھے چلا گیا ،اس نے اپنا دامن تار تار کر لیا اور جو بچ گیا ،وہ صاحب تقویٰ ہوا۔

تقویٰ کا اصل مرکز دل ہے، البتہ اس کا اظہار مختلف اعمال کے ذریعے ہوتا ہے۔ جیساکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقویٰ یہاں ہے۔ (صحیح مسلم)غرض تقویٰ اصل میں اللہ تعالیٰ سے خوف ورجاء کے ساتھ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقے کے مطابق ممنوعات سے بچنے اور اوامر پر عمل کرنے کا نام ہے۔ 

حضرت علی ؓ کا ارشاد گرامی ہے معصیت پر اصرار نہ کرنا اور اپنی عبادت پر ناز و اعتماد نہ کرنا تقویٰ ہے۔‘‘ حضرت ابو دردا ءؓ نے فرمایا  ’’تقویٰ ہر قسم کی بھلائی کا جامع ہے یہ وہ چیز ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اولین و آخرین کو حکم دیا ہے۔‘‘

اب جو علماء کرام بھی علماء کی ضرورت کا خیال رکھنے سے متعلق بات کرتے ہیں وہ عموماً مالی تعاون کی درخواست لگتی ہے۔ یہ ہونا بھی چاہیے کہ اگر عالم با عمل، صاحبِ ورع و تقویٰ اس طرح کی خدمات انجام دے رہا ہے تو اُس کی ضرورتیں پوری کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ اور جہاں تک میںنے دیکھا ہے کہ عالم با عمل حضرات کو اس طرح کی درخواست کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

ہاں وہ لوگ ضرور اِس طرح کی درخواستیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے آپ ضرورت سے زیادہ ہوشیار، قابل، اہلِ علم اور صاحب ورع وغیرہ سمجھ لیا ہے۔ اُن میں اکثر وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے چند ابتدائی کتابیں پڑھ کے یا چند علماء کرام کی صحبت میں رہ کر کچھ سیکھ لیا ہے اور اپنے لئے گاؤں یا محلہ میں مسجد یا مدرسہ پر قابض ہوئے بیٹھے ہیں، تو ایسے لوگوں کو شکایت رہے گی۔ اور ہمیشہ رہے گی۔ میرے نزدیک ایسے لوگ علماء سو میں شمار ہوتے ہیں۔ یعنی شکم پرور مولوی۔ آپ بھی جائیے سروے کیجیے، دیکھیے، یہ جو منہ میں غلاظت بھرنے میں مال خرچ کرتے ہیں؛ وہ کہاں سے آتا ہے؟ اور بیڑی، سگریٹ، تمباکو، گٹکھا کے عادی کیوں اور کیسے بنے؟  آج سے پندرہ سال قبل اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کسی کام سے دہلی جانا ہوا تو انہوں نے کہا کہ میرا ایک ساتھی یہاں رہتا چلیے، ذرا اُن سے بھی ملاقات کر لیتے ہیں۔ ہم اُن کے ساتھ چلے گئے؛ معلوم ہوا کہ وہ بہت ’’جگاڑو‘‘ مولوی ہیں۔ دہلی کی کچی کالونیوں میں کئی مدرسہ کے مہتمم ہیں۔ باقی باتیں وہ خود کرتے رہے۔ اور چالیس منٹ کے عرصہ میں انہوں نے تقریباً پانچ سگریٹ پھونک دیا۔ مزید کیا کیا اخلاقی برائیاں اُن میں رہی ہوں گی؛ مجھے نہیں پتا۔

ہمارے علاقے میں کئی مسجدیں قائم ہو چکی ہیں؛ اور اکثر میں یہی دو ٹکے کے شکم پرور مولویوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ کیوں کے علاقہ کے عوام کا مزاج اُن کے مزاج سے ملتا جلتا ہے۔ نہ ہماری قوم کو حق کی رہنمائی کرنے والا مل رہا؛ یا دوسری صورت میں حق کی رہنمائی کرنے والے یا بولنے والے کی ایسی جگہوں میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لہٰذا وہ قابل اور حق پرست مولوی اپنی عزت بچانے کے خاطر دیگر علاقوں اور میدانِ کار کا رُ خ کرتے ہیں۔ چوں کہ ایسی رہنمائی احادیث میں بھی موجود ہیں۔ تو وہ قابل اور اہل مولوی اور عالم ایسے علاقوں میں اپنی خدمات دے کر لوگوں کے طعنے کیوں سنیں؟

جب معاشرے کی بگاڑ پر بحث چھڑتی ہے تو ایک رائے یہ بھی آتی ہے کہ ’’کیا کیا جائے؟ یہاں تو پورے کا پورا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بس جیسے لوگ چل رہے ویسے ہی چلئے‘‘۔  یہ خیالات اُن کے ہیں جو سماج میں کوئی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ لیکن چوں کہ اُن کی باتوں یا اُن کی کارکردگی کو اکثر لوگ ناکار دیتے ہیں، اِس لئے وہ محلہ میں ہونے کے باوجود محلہ کے لئے نہ ہونے کی حیثیت میں ہوتے ہیں۔

مذکورہ بگاڑ میں جو سب سے اہم پہلو سامنے آتا ہے وہ ہے اناپرستی (egoism)۔  اس کا شکار ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بھی ہے اور اَن پڑھ طبقہ بھی۔ اور جو جاہل ہیں وہ تو سماج کے لئے ناسور بن چکے ہیں۔ (جاہل سے مراد ابوجہل کی خصلت والے) یہ ابوجہل تو چلا گیا لیکن اُس کی حرکتیں اُمت مسلمہ کہی والی جماعت کے کچھ لوگوں میں پائی جاتی ہے اور یہ جہالت نسل در نسل جاری ہیں۔ اور نتیجہ بھی سامنے ہے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے؛ جو میرے سامنے ہو رہا ہے۔ اور ہم خود اتنے نا اہل ہو چکے ہیں کہ اِس دقت یا پریشانی کو دور کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔

قریباً پندرہ برس کے بعد مجھے اپنے آبائی گاؤں جانے کا اتفاق ہوا۔ چوبیس گھنٹے میں دیکھا کہ جس طرح دوسرے گاؤں اور شہروں میں گھروں اور سوچ کی تبدیلی آئی ہے وہی یہاں بھی ہوا۔ یعنی لوگوں کے کچے مکانات پکے میں تبدیل ہو گئے۔ سوچنے کا معیار ’’اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا‘‘ ہو چکا ہے۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد ویسے ہی ایک صف والی۔ ہاں بچوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ ہمارے بچپنے میں بچوں کی تعداد آدھا سے زیادہ صف کی ہوا کرتی تھی۔ اس واقعہ کا سرا ۱۹۸۲ء کے اُس واقعہ سے جوڑنے پر پتا چلتا ہے کہ کوئی خاص بہتری گزشتہ چالیس برس میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ جب میں عربی کی دوسری کلاس میں پڑھا کرتا تھا۔ اور اُسی گاؤں کے دو بچے اور حافظہ میں پڑھ رہے تھے۔ ایک حافظ قرآن ہونے کے بعد سالانہ تراویح اپنے گاؤں کے علاوہ دیگر گاؤں میں بھی سناتا رہا اور روزی کے بندوبست کے لئے اُس نے امبروڈی کا کام کرنے لگا۔ دوسر ا حافظ بننے کے بعد عربی کی جماعتیں پڑھی، عمدہ عالم، خوش الحان حافظ و قاری بنا۔ گاؤں کی مسجد میں پنج گانہ نماز کے علاوہ خطبہ جمعہ، عیدین وغیرہ کی بھی ذمہ داری نبھانے لگا۔ گاؤں کے لوگوں میں بگاڑ کا ذہن اُس وقت بنا جب کچھ لوگوں کے دماغ میں مسلک کا دیمک داخل ہو گیا اور وہاں بھی مسلکی بگاڑ شروع ہو گیا۔ احکامِ خداوندی اور طریقۂ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ اور رسول کے نام پر پیروں سے روندا جانے لگا۔ اُن خرافات کا اُس نازک ذہن عالم و حافظ اکیلا مقابلہ کرتا رہا یہاں تک کہ سنت کی پامالی اُس سے برداشت نہیں ہوسکا تو وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو گیا۔ بیوی بچوں کو چھوڑکر ملک عدم چلا گیا۔ یوں سنت کی پامالی کے ساتھ ساتھ ایک دین پرور گھر بھی برباد ہو گیا۔اور ہمارا دینی سرمایہ بھی۔

اب۱۹۸۲ء  کا وہ واقعہ بھی سنئے کہ ہمارے بزرگوں نے کس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ دو بچوں سے قرأت اور مجھ سے تقریر سننے کے بعد ارادہ ظاہر کیا گیا کہ ہم بھی اپنے گاؤں میں مدرسہ کھولیں گے اور بچوں کو دین کی تعلیم دیں گے۔ باہر کے نادار طلبہ کو بھی رکھیں گے۔ میں نے سوال کیا کہ اُن کا خرچ کیسے پورا کیا جائے گا؟ کون اٹھائے گا اُن کا خرچ؟ جواب تھا ’’چندہ کریں گے‘‘ کون کرے گا؟ آپ ہی لوگ مدرس بن جانا اور آپ ہی لوگ چندہ کرنا۔ اپنے گاؤں سے یا باہر سے بھی؟  جیسے ہوتا آرہا ہے۔  

میں نے کہا ’’اگر اِس گاؤں کے لوگ اپنے بچوں کا خرچ نہیں اٹھائیں گے اور باہر سے لائے گئے بچوں کا خرچ نہیں اٹھائیں گے تو ہم ایسے منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔‘‘ وہ دن اور آج کا دن؛ فرق کیا آیا؟ جتنے جاہل پہلے تھے، اس سے بھی زیادہ جاہل اب بن گئے۔ بچوں کو عصری تعلیم دلا کر پختہ مکانات بنا لینا کامیابی کی علامت سمجھ لی گئی۔ نماز پڑھانے کے لئے جاہل مولوی یا حافظ کو رکھ لیا گیا۔ نہ لوگوں کے رابطے آپس میں ہیں؛ کوئی کسی کی خیریت تک نہیں پوچھتا۔ مالدار افراد اپنے مال کے زعم میں چودھری بن رہے ہیں۔ شوگر اور ہارٹ پروبلم کی خیریت بتا رہے ہیں۔ اور اُس پر بڑے فخر سے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں جس کی فیس پانچ ہزار روپے ایک وزٹ کی ہے۔ یہ اُن کی ذہنی کرامات ہے۔ جس کے ذریعہ وہ لوگوں پر دھونس جما رہے ہیں۔ نہ خود دیندار بنے نہ بچوں کو بنایا!!! جب آپ شوگر اور بی پی نپوا رہے ہیں تو کل آپ کے بچے بھی کچھ ایسا ہی کرنے والے ہیں۔ کماتے کماتے بیمار ہوتے ہیں اور صحت حاصل کرنے کے لئے کمائی ہوئی دولت لٹا رہے ہیں۔  یہ ’’ذہنی پستی کی عمدہ مثال ہے‘‘  یہ جاننے کے بعد کسی کو کچھ کام کی بات سمجھ میں آ جائے تو اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھال کر دنیا اور آخرت سنوار لینا۔ نہ سمجھ میں آئے تو جیسا چل رہا، وہ بہت اچھا چل رہا ہے۔ صبح سو کر اٹھو اور لگ جاؤ کام پر۔ وہ اِس لئے کہ بیٹی کی شادی کا خرچ اٹھانا۔ ایک دن کا بادشاہ خریدنا ہے۔ اور بیٹا کو پڑھا لکھا کر نوکر بنانا ہے۔ پھر اُسے بھی ایک دن کا بادشاہ بنا کر لڑکی والوں سے وصولنا ہے۔ بچی ہوئی دولت عمر کے آخری حصہ میں شوگر بی پی کنٹرول کرنے میں خرچ کرنا۔ کم پڑ جائے تو چندہ کرنا۔ 

یاد رہے چندہ کرنا تو ہمارا پیدائشی حق ہے۔ اسے مت گنوانا۔ اور آخر میں تو سب کا جیسا ہوا ویسا ہی ہمارا بھی ہوگا۔ منوں مٹی تلے دب جائیں گے۔ پھر وہی دو ٹکے کے مولوی آئیں گے اور ہماری بخشش کروانے کے لئے ہمارے بچوں کو ہماری نااہلی کا حوالہ دے کر اپنا پیٹ بھریں گے۔ اور چلے جائیں گے۔ اور یہ سال میں دو سے چار بار تو ہوتا رہے ہیں۔ اب آپ اِس پر بھی غور کر لیجیے کہ ہر گھر میں دو چار بار یہ ہوگا تو پورے گاؤں سے سال بھر اُن مولویوں کا پیٹ تو بھرتا رہے گا۔ 

ساتھیوں! بہت ہی ذہنی اضمحلال میں مبتلا ہو کر یہ واقعہ اور حالات رقم کر رہا ہوں۔ برائے کرم ’’دین‘‘ خود سیکھو اور اپنی اولاد کو بھی سکھاؤ۔ ورنہ نوکری اور چاپلوسی کرتے ہوئے اِس دنیا سے چلے جاؤ گے۔ نہ دنیا میں مزا لئے نہ آخرت میں مزا لے پاؤگے۔ مسلک کی تعلیم دے کر اپنا پیٹ بھرنے والے مولویوں سے بچو۔ یہ ہماری قوم کے لئے ناسور ہیں۔ یہ بائیکاٹ گینگ نہ دنیا میں آپ کو کسی کام کا رہنے دیں گے اور نہ ہی تمہاری آخرت سنورنے دیں گے۔ کیوں کہ آپ نے اپنے کو اُن کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ اپنے آپ کو رب کے حوالہ کرو۔

فیروزہاشمی، نوئیڈا، یو پی، بھارت

مضمون نگار، نئی شناخت کے ایڈیٹر، ہیلتھ اینڈ نیوٹریشنل کنسلٹنٹ ہیں۔

یکم فروری ۲۰۲۳ء


Friday, June 9, 2023

🌸🌸’’ہم جوڑنا چاہتے ہیں، جُڑنا نہیں چاہتے‘‘🌸🌸


ایک طرح سے آج ہم سوشل میڈیا کے دور میں جی رہے ہیں۔ یعنی ہماری طرزِ زندگی میں سوشل میڈیا ایک اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اب چاہے تعلیم و تعلّم کا سلسلہ ہو، ارسال و ترسیل کا سلسلہ ہو، مصدقہ یا غیر مصدقہ خبروں کا سلسلہ ہو، اُلٹے پلٹے لطیفوں کا سلسلہ ہو، بحرے بے بحرے شعر و شاعری کا سلسلہ ہو، ادب و بے ادبی کا سلسلہ ہو، نئے نئے سوشل ایکٹویسٹ نوجوانوں کا سلسلہ ہو یا ریٹائرڈ بزرگ و بزرگہ کے مشورے اور رہنمائی کا سلسلہ ہو۔ یہ سب کے سب مل کر زندگی کو اتنی اُلجھن میں ڈالے ہوئے ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ اب تک کیا کرتے رہے ہیں، اور اب کرنا کیا ہے؟ 

ہر ادارے کا ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے خواہ وہ کسی میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اور کسی فارغ کو کوئی کام نہیں آتا تو اُسے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بنا دیا جا تا ہے۔ وہ بیٹھے بیٹھائے پریس ریلیز گھڑتا ہے اور اخباروں کو بھیج دیتا ہے، دوسری صبح شائع ہونے پر اُسے بے انتہا خوشی ہوتی ہے، اتنی جیسے کہ اُس نے محلّہ فتح کر لیا ہو، اب محلے والے سب اُس کے پیروکار بن جائیں گے۔ پھر اُس شائع شدہ پریس ریلیز یا خبر کو اخبار سے کاٹ کر واٹس ایپ کے ذریعہ مزید لوگوں کو بھیجتا ہے۔ ان سب مختلف میدانوں میں سرگرم لوگوں میں عمومی طور پر تین قسم افراد پائے جاتے ہیں۔

۱۔ نوجوانی میں رنگ بازیاں

۲۔ جوانی میں جگاڑبازیاں

۳۔ بڑھاپے میں رنگ سازیاں

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(آل عمران - 31)

اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اطاعت اختیار کرے۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ  صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم قریش کے پاس تشریف لائے جنہوں نے خانۂ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے۔ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا، اے گروہِ قریش !خدا  عَزَّوَجَلَّ کی قسم ،تم اپنے آباء و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے ہٹ گئے ہو۔ قریش نے کہا ہم اُن بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں۔

اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی۔

اب آپ ذرا غور فرمائیں؛ 

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے ؟ 

جس کا کہنا ہے ہم اُن بزرگوں کے ساتھ یہ رویّہ اِس لئے رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں۔؟

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے جس کا کام ہی فتویٰ جاری کرنا ہے۔؟ اُن کے اداروں اور ویب سائٹوں پر فتاویٰ کی بھرمار ہے۔ جب کہ اُسی جماعت کی پیروی کرنے والے کا عمل بیشتر فتویٰ کے خلاف ہے۔

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے جس کا کام ہی اپنے بزرگوں کے خیالات اور کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔؟ اور اسی قسم کی سطحی بنیادوں پر کئی شکم پروری کی مسلکیں اور جماعتیں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر بھی گروپ بنے ہوئے ہیں۔ ذرا سی باتیں اپنے مزاج کے خلاف محسوس ہوا کہ لن ترانیاں شروع ہو گئیں اور علمی باڑھ آگیا۔ اور اگر کسی نے مسئلے کا مدلل حل بتایا تو جس جماعت یا مسلک کے بزرگوں کے خیالات کے خلاف محسوس ہوا تو بزرگوں کے اقوال کی باڑھ لگا دی گئی۔ جب کہ اُس کا تعلق نہ سنت نبوی سے ہے اور نہ ہی احکامِ خداوندی سے۔

مالیات کا شعبہ اور صحت کا شعبہ پر کئی صدی پہلے ہی دوسری قوموں کا قبضہ ہو چکا اور ہمارے علماء کرام فتاویٰ لکھتے رہے۔ اب خوراک کا شعبہ بھی دوسری قوم کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔ اور ہمارے پاس بچا ہے تو صرف مدارس، تعلیمی ادارے وہ بھی مسلکی بنیادوں پر۔ احکامِ خداوندی اور سنت رسول کا پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہے؟ تعلیم اور عقیدے کی روح نکل چکی ہے۔ صرف عمارتیں، لائبریریاں اور روایتی سہولتیں رہ گئی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عبادات غالب ہے اور اخلاق مغلوب ہے۔

ہماری قوم تعلیمی اعتبار سے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن تک نہیں پہنچ پاتی اور محکمہ میں کام کے لئے جانا ہوتا ہے اور کچھ وقت درکار ہوتا ہے، یا بعض دفعہ سرکاری عملہ ٹال مٹول کرتا ہے تو ہماری رائے بنتی ہے کہ  ’’ہر محکمہ میں سنگھی گھسے ہوئے ہیں، اس لئے ہمارے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں‘‘۔

لیکن جب ہمارے رفاہی ادارے اور دینی ادارے کے ایڈمن یا ذمہ دار سند، مارک شیٹ وغیرہ جیسے کاموں کی درخواست کے لئے جائے تو کہاجاتا ہے ’’ہاں یہی کام رہ گیا ہے میرا‘‘ یہ جواب کس قدر مناسب ہوگا؟ آپ بتائیں۔

معقول معاوضہ نہ دینے اور مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے لئے ہمارے ہی اداروں کے ذمہ داران کا یہ جواب کہ ’’ادارہ آپ کا اتنا دے سکتا ہے، آپ چاہیں تو کر لیں‘‘، یا ’’آپ کی طرح بہتیرے مارے پھر رہے ہیں، میں تو رحم کھا کر آپ کو ملازمت دے رہا ہوں‘‘ ایسی قوم کے قابل افراد دوسرے لوگوں کے یہاں کام نہ کریں تو کیا کریں۔؟ چوری، بے ایمانی آتی نہیں کہ شکم پروری کے ادارے میں شامل ہو جائیں۔ اب وہ بے چارے بن جاتے ہیں۔ اپنے ایمان کو بچاتے ہوئے، مٹی، پتھر ڈھونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سبزی یا دیگر خورنی اشیاء کا ٹھیلہ لگا کر روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ تب بھی انہیں طعنہ مارا جاتا ہے۔ ’’پڑھیں فارسی، بیچیں تیل‘‘ تو بھائی آپ بتائیں کہ کیا کریں؟

اعلیٰ درجے کا مسلمان کون ہے؟

المسلم من سلم المسلمون من لسانیہ و یدہ

جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

خیر الناس من ینفع الانسان

اچھا انسان وہ ہے جس سے انسان کو فائدے پہنچے۔

اب آپ خود اِن دو بنیادی اصولوں پر قائم کتنے فیصد مسلمان بطورِ نمونہ پیش کریں گے؟

جو قوم مسجد بنا کر خوش ہو جاتی ہے، وہ ادارے قائم کر لیں گے؟ 

مسجد بنانے سے پہلے امام رکھ لیا جاتا اور اس کی تنخواہ کے لئے چندہ کیا جاتا ہے۔ یہ ویسے ہی کہ ڈرائیور پہلے رکھ لیا اور گاڑی خریدنی ابھی باقی ہے۔ ہمارے دینی اور ملی اداروں کا حال یہ ہے کہ یہ دس نکمّے اور باتونی اور چاپلوس کو رکھیں گے، لیکن دو کام کے آدمی نہیں رکھیں گے۔ کیوں کہ انہیں صدقہ زکوٰۃ کا بندر بانٹ کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صدقہ کے حقدار صرف رفاہی ادارے یا مدارس ہی ہیں۔ اگر کسی کو دسویں بارویں درجات کرنے کے لئے پیسے کم پڑیں تو اسے نہ دیا جائے۔ جب ترتیب ہی درست نہیں ہو سکی ابھی تک تو نتیجہ مثبت کیسے آئے گا؟

ابھی گزشتہ رمضان میں ہی (چند فیکٹری یا کسی کے احاطہ میں) اُن مقامات پر نمازِ تراویح پڑھنے سے روکا گیا۔ اور اڑچنیں کی گئی جس کے ہماری حمیت جاگی لیکن اصول پھر یاد نہیں آیا اور نہ دلایا گیا۔ اگر کسی نے یاد بھی دلایا تو اسے بزدل اور کمزور ثابت کرنے میں اپنی صلاحیتیں کھپائی گئیں۔

ان کے بیان سے یقیناً ہمارے اکثر بھائیوں کو دکھ ہوا ہوگا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ہم نئی پرمپرا چلنے نہیں دیں گے۔‘‘ میرا سوال اپنے بھائیوں سے ہے کہ کیا تراویح پڑھنا اتنا ضروری ہے؟ وہ بھی کہیں بھی اکٹھے ہوکر؟ آپ اپنی مساجد میں تراویح پڑھیے۔ وہاں کوئی روکتا ہے تو آپ کو حق بنتا ہے کہ آپ اپنے حقوق کا استعمال کریں۔ 

ابھی حال ہی میں حج پر جانے والے مسافروں کی بس کو شرارت پسندوں نے روک کر تکلیف پہنچائی، جس کے تعلق سے سوشل میڈیا پر کچھ خبریں بھی آئیں۔ پھر خاموش۔ کیوں کہ ہمیں حج پر جانا ضروری ہے۔ دولت کی نمائش کیسے ہوگی؟ ایک طرف تو ہماری قوم اپنے آپ کو غریب، محتاج، لاچار اور پسماندہ ظاہر کرتی ہے۔ دوسری طرف یہ دولت کی نمائش کیوں؟ کیا حج اور عمرہ پر جانے والے اشخاص یہاں کے فرائض ادا کر چکے ہیں؟ 

ہم ایسے پچاسوں ادارے اور سیکڑوں افراد کو جانتے جو اپنے ورکروں کو وقت پر ماہانہ اجرت ادا کرنے کے لئے کئی قسم کے بہانے بناتے ہیں اور جب کہ ہر سال ایک یا دو بار عمرہ پر جانے کے لئے اُن کے پاس مال ہوتا ہے۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں؟ ہمارے سماج کے ایسے دو سطحی سوچ رکھنے والے اور عمل کرنے والے افراد ہی معاشرے کے ناسور ہیں۔ جب میں نے اس مضمون رکھا ہے ’’ہم جوڑنا تو چاہتے ہیں، جُڑنا نہیں چاہتے‘‘

۔۔۔۔۔۔

فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش

ری فورمسٹ، ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن کنسلٹنٹ


Friday, February 24, 2023

وقت پر قدر کریں

 وقت پر قدر کریں

گزشتہ کچھ دنوں سے ٹیلی ویژن پر دو نئے اینکر دکھائی دے رہے ہیں جو بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ یہ دونوں کوئی پروفیشنل اینکر نہیں ہیں۔ جی ہاں ایک ہیں ہمارے ملک کے عزت مآب  وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی اور دوسرے مرکزی وزیر برائے ترقی انسانی وسائل ڈاکٹرمرلی منوہر جوشی۔ ہندوستانی تعلیم کے شاندار پانچ سال کی اہم کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہیں کہ ۶؍سے ۱۴؍ سال کی عمر کے تمام بچوں کی تعلیم کو مفت اور لازمی بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔ تعلیم ہر فرد کے لئے ضروری ہونی چاہئے، اس کے ساتھ ہی ساتھ وسیلہ بھی اور روزگار بھی۔تعلیم عقل و شعور کو بیدار کرنے کے لئے بے شک ضروری ہے ساتھ ہی عصری تعلیم بھی تاکہ پڑھ لکھ کر بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو جو کہ کرپشن کا بھی سبب بنتا ہے۔ جتنے جاہلوں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے اس کے کہیں زیادہ پڑھے لکھے بے روزگاروں سے ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب انہیں ان کی سطح کا کام نہیں مل پاتا تو یہ کوئی اور گھریلو کام کرنے میں ہچکچاتے ہیں اور گھر اورمعاشرہ کے لئے بوجھ بنے رہتے ہیں حالانکہ ہر پیشہ کو اپنانے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔ بغیر معلومات کے کسی بھی کام کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔

ملک اور عوام کے مفاد میں ابتدائی اور ثانوی درجہ کی تعلیم سب کے لئے ضروری ہونی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ قابلیت کی بنیاد پردیا جائے نہ کہ دولت کی بنیاد پر۔ کسی بھی حالت میں دولت دے سکنے کی صلاحیت رکھنے والے درخواست دہندہ کی طرف دھیان نہیں دینا چاہئے۔کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ امیر خاندان سے آنے والے طلباء ہی قابل ہوتے ہیں اور وہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے نچلے درمیانہ طبقے سے بھی آسکتے ہیں اور غریب خاندان سے بھی۔ داخلہ کے لئے بھی اور فیس فنڈز کے بارے میں بھی پالیسی ایسی ہونی چاہیے۔ جو قابلیت کی بنیاد پر داخلہ کے حقدار ہیں، ان کو اس وجہ سے محروم نہ کردیا جائے کہ وہ مطلوبہ رقم ادا نہیں کرسکتے۔ اگر مالی طور پر کمزور خاندان کے طلباء قابل اور اہل ہوں تو ان کو حکومت کی جانب سے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے وظیفہ دیا جانا چاہئے اور فیس حکومت کی جانب سے ادا کیا جانا چاہئے تاکہ ملک کے قابل اثاثہ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ حکومت کو چاہئے کہ نوجوانوں کی قابلیت سے فائدہ اٹھائیں۔ آج بھی کئی نوجوان ایسے ہیں جو روزمرہ کے آلات تیار کر رہے ہیں جن کی مدد سے وہ کام پہلے کے مقابلے میں کافی کم خرچ اور کم وقت میں انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کو ایسے نوجوانوں کی ہمت افزائی کرنی چاہئے۔ گزشتہ چند سالوں میں کئی ایسی خبریں آئیں جن میں ان لوگوں کی صلاحیتوں کو اب تسلیم کیا گیا اور ایواڈ دیا گیا جن کی عمریں اب ساٹھ سال کو تجاوز کر چکی ہیں۔ انہوں نے نوجوانی اور جوانی غیر ملکوں میں گزاری اور ان کی صلاحیتوں سے غیر ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے ملک کے ہونہار نوجوان کی کارکردگی کو غیر ملکوں میں قبول کیا جاتا ہے لیکن ان کی قابلیت اور صلاحیت کوخود ہمارا ملک بعد میں کیوں تسلیم کرتا ہے؟…ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہونہاروں کی قابلیت و صلاحیت کو وقت پر تسلیم کریں، ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیںاور ملکی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔

نوجوانوں کی قابلیت کو علاقائی سطح پر بھی بہتر اور کارآمد بنانے کی ضرورت ہے۔ جن قصبوں اور گائوں میں کوئی ایجوکیشنل سوسائٹی نہیں ہے وہاں کے ذی شعور فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ پہلے ایک ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کریں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ کا اجتماعی نظم کریں اور اس کے لئے بھی گائوںاور قصبہ کی سطح پر زکوٰۃ فنڈ قائم کریں۔ زکوٰۃ کے مصارف کے زیادہ حقدار وہ نوجوان ہیں جنہیں تعلیم کی ضرورت ہے اور وہ ذہین اور باصلاحیت نوجوان جو غربت کی وجہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، پہلے ان کی مدد کیجئے۔  جب تک یہ نوجوان تعلیم حاصل کر کے اہل نہ ہوجائیں تب تک انہیں زکوٰۃ فنڈ سے تعاون کیا جائے اور جب اہل ہو جائیں تو وہ اپنی آسانی کے اعتبار سے زکوٰۃ فنڈ سے لی گئی رقم واپس کریں تاکہ فنڈ برقرار رہ سکے اور اس فنڈ سے ضرورت مند استعمال کر کے اپنے آپ کو قابل اور اہل بنا سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایجوکیشنل سوسائٹی اوراجتماعی زکوٰۃ فنڈ کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرنے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔ 

ایجوکیشنل سوسائٹی اور زکوٰۃ فنڈ اپنی سہولت کے اعتبار سے کم سے کم دس کلو میٹر کے احاطہ میں ایک ہونا چاہئے۔ اگر کسی گائوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے تو پچاس کلو میٹر کے اندر کئی گائوں کو ملا کر ایک ایجوکیشنل سوسائٹی اور زکوٰۃ فنڈ بنایا جا سکتا ہے۔ ایجوکیشنل سوسائٹی کے لئے کم سے کم چار اور زیادہ سے زیادہ آٹھ افراد نگراں وکارکن ہو سکتے ہیں۔ ان میں نصف پچیس سے پچاس سال کے درمیان ہو اور نصف پچاس سال سے زائد کے ہوں۔ ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت ایک چھوٹی سی یا اپنی سہولت اور ضرورت کے اعتبار سے لائبریری قائم کریں جس میں اپنی سہولت اور ضرورت کے اعتبار سے اخبار و رسائل یا کتابیں رکھیں۔

گائوں کا ہر خاندان اس کا ممبر ہو اورجس خاندان کی آمدنی ماہانہ تین ہزار روپے یا سالانہ چھتیس ہزار روپے(Rs. 36,000/-)یا اس سے زائد ہو تو وہ ایجوکیشنل سوسائٹی کو ماہانہ ایک سو روپے یا سالانہ بارہ سو روپے ادا کرے۔ بہتر یہی ہے کہ ماہانہ ایک سو روپے ادا کرتا رہے۔ جس خاندان کی آمدنی ماہانہ تین ہزار روپے سے کم اور پندرہ سو روپے سے زیادہ ہو یا سالانہ چھتیس ہزار روپے سے کم لیکن اٹھارہ ہزار روپے سے زیادہ ہو وہ کم سے کم ماہانہ پچاس روپے اور سالانہ چھ سو روپے ایجوکیشنل سوسائٹی کو ادا کرے۔  

حاصل شدہ رقم  ایجوکیشنل سوسائٹی کی امانت ہوگی جسے تعلیمی اغراض، اخبارات و رسائل یا رکھ رکھائو پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے رکھ رکھائو کی ذمہ داری نوجوان (بیس سے تیس کے مابین عمر) کو سونپی جانی چاہئے اور انہیں یہ ذمہ داری بلا معاوضہ ادا کرنی ہوگی۔ نوجوانوں کے تعلیمی اوقات میں یعنی جس وقت وہ اسکول یا کالج جاتے ہوں اس وقت لائبریری کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری بزرگوںکو سونپی جاسکتی ہے۔ اس وقت بزرگ حضرات استفادہ کر سکتے ہیں۔ 

اسی ضمن میں کیریئر گائیڈنس کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ملک و بیرون ملک میں روزگار کے مواقع سے متعلق فارم اور معلومات مہیا کرائے جائیں۔ اس کی فیس پانچ سے دس روپے کے درمیان صرف امیدوار سے وصول کی جاسکتی ہے۔ ویسے کیریئر گائیڈنس کا کام تھوڑا مشکل ہے اس لئے اس کام کو ضلعی سطح پر یا بہتر ہے کہ صوبائی سطح پر انجام دیا جائے تو زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔ علاقائی ایجوکیشنل سوسائٹیوں کو ان سے رابطہ رکھنا چاہئے۔

اجتماعی زکوٰۃ فنڈکی ضرورت ہر گائوں یا قصبہ میں ہے۔ اس سے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دورکرنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس فنڈ سے سب سے پہلے ضرورت مند طلباء کو تعاون دیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیمی ضرورت کی تکمیل کرسکیں۔ یاد رہے کہ ابتدائی تعلیم کا بندوبست حکومت کی جانب ہے اس میں صرف ذمہ داروں کو احساس جگانے اور رغبت دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں۔ اگر ابتدائی اور ثانوی سطح پر کوئی دقت ہے تو اس کو سوسائٹی کے ممبران تعلیمی اداروں کے ذمہ دار سے مل کر حل کرسکتے ہیں۔ بارہویںتک کی تعلیم حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جارہی ہے یا بہت ہی معمولی خرچ پر۔ سوسائٹی کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ ان کے علاقے میں ضرورت مند اور باصلاحیت طالب علم کون ہے؟ ان کی ضرورت تعلیمی فیس کی ہوتی ہے۔ ان کو اس شرط کے ساتھ رقم دی جائے کہ جب وہ اہل ہو جائیں گے تو یہ رقم واپس کریں گے۔ لینے والے طالب علم اور گارجین حضرات کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ آج وہ جس زکوٰۃ کی رقم کو لینے کے حقدار ہیں کل جب وہ کود کفیل ہو جائیں گے تو ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ کا شکر ادا کریں اور یک مشت نہ سہی تھوڑا تھوڑا کرکے بھی وہ رقم لوٹادیں تاکہ موجودہ مستحق طلباء اس سے استفادہ کرسکیں۔ 

اگر پندرہ سو روپے سے کم آمدنی والے افراد ہوں تو انہیں بغیر مالی تعاون کے سوسائٹی سے جوڑا جائے۔ انہیںمطالہ کی ترغیب دی جائے۔ ان کی مالی حالت بہتر بنانے کے بارے میں تعاون کیاجائے ۔ اگرکوئی فرد مالی کمزوری کی وجہ سے بزنس نہیں کر پارہا ہے تو اسے اس کے پسند کا کام جسے وہ بخوبی انجام دے سکتا ہو، زکوٰۃ فنڈ سے مالی تعاون دے کر شروع کرادیں۔ اس بارے میں چار پانچ افراد مل بیٹھ کر مشورہ کریں اس فرد کے قابلیت کا جائزہ لیں۔ مشورہ میں اسے بھی شامل کریںاور اس کی پسند کا کم شروع کرائیں۔ تعلیمی اور شعوری طور پر ہر فرد کو اس کا بات احسا س ہونا چاہئے کہ آج وہ کس قابل ہے اور اسے کس چیز کی کتنی ضرورت ہے۔ اگر آج اس کی مالی حالت کمزور ہے تب تو وہ زکوٰۃ فنڈ سے رقم حاصل کرے، اس کا حق ہے۔لیکن جیسے ہی اس کی مالی حالت بہتر ہو اور اس حالت میں ہو کہ اس کی طبیعت اس رقم کو لوٹا دینابہترسمجھتا ہو تو لوٹا دینا چاہئے ورنہ جب وہ زکوٰۃ دینے کا اہل ہوگا تب اس فنڈ کو زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر خدا نہ خواستہ وہ محنت کرتا رہا  اور اس قابل نہ ہو سکا کہ وہ زکوٰۃ فنڈ سے حاصل کردہ رقم نہ لوٹا سکا تو کوئی حرج نہیں کیوں کہ وہ اس وقت زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے۔ محنت کا اجر اللہ دے گااور محنت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کی تنگی دور کرے گا۔

تقریباً ہر گائوں میں ایسے افراد ہیں جو سالانہ خاص طور رمضان شریف کے موقع پر زکوٰۃ حاصل کر کے جمع کر لیتے اور اسی سے اپنا کھانا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو افراد و خواتین تندرست و توانا ہوں ان کو کام کی طرف راغب کرایا جائے اور بتایا جائے کہ ان کا یہ عمل بہتر نہیں ہے ایسے افراد کو انفرادی زکوٰۃ نہ دی جائے بلکہ زکوٰۃ فنڈ سے ان کے لئے کاروبارکرایا جائے۔ نادار لیکن صحت مند عورتوں کے لئے بھی گائوں میں کئی کام ہیں جسے وہ کرکے اپنی محنت کی اجرت سے زندگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ زکوٰۃ لے کر اپنا کھانا خرچہ پورا کرنے سے کہیں یہ بہتر عمل ہوگا۔ جو نادار و صحت مند عورتیں زکوٰۃ مانگتی پھرتی ہیں کم از کم انہیں اتنا کام تو ضرور آتا ہے کہ وہ گھریلو کام کاج کی ملازمت مالدار گھرانے میں حاصل کرسکیں۔ گھر کے جھاڑو پوچھا سے لے کر بچوں و بزرگوںکی دیکھ بھال اور گھر باغ کی دیکھ بھال وغیرہ کا کام بخوبی انجام دے سکتیں ہیں۔ اور یہ آمدنی ان کی محنت کی آمدنی ہوگی۔ نادار و صحت مند مرد و عورتیں مرغی، بکری اور دوسرے گھریلو جانور پال کر بھی اپنی خانگی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ عمل ان کے زکوٰۃ لینے سے بدرجہ اولیٰ بہتر ہوگا۔ یہ عمل بظاہر کمتر ہے ہے لیکن در در بھیک مانگنے یا زکوٰۃ و خیرات طلب کرنے سے بہت بہتر ہے۔ اللہ کی ذات سے امید رکھنی چاہئے کہ ان کے اس نیک اور حلال عمل سے جلد ہی خود کفیل و مالدار بنا دے گا۔

اس سلسلے میں ہماری درخواست مساجد کے ائمہ کرام سے ہے کہ وہ جمعہ کے خطبہ میں مختصراً سماجی اور معاشرتی پہلو پر اسلامی نقطہ نظر سے اصلاح فرمائیں۔ میں نے بہت سے ائمہ کرام کو خطبہ میںاس طرح کے جملے کہتے ہوئے سنا کہ ’’ہمارے میں معاشرے میں فلاں فلاں خرابی ہے۔ ہماری قوم کے بچوں کو وضو کرنا نہیں آتا۔ ہماری قوم کے بچوں کو کلمہ نہیں آتا۔ ہماری قوم کے بچوں کو نمازادا کرنا نہیں آتا۔ ہماری عورتوںکوغسل جنابت نہیں آتا۔‘‘ وغیرہ۔ یہ شکایتیں ہیں۔ یہ اصلاح نہیں ہے۔ آپ انہیں ان اعمال کو درستگی سے ادائیگی کے طریقے بتائیے۔ منفی انداز کو مثبت انداز میں تبدیل کیجئے۔ امید ہے کہ اس طرح لوگ دینی امور کی طرف مائل ہوںگے اور سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ اگر آپ چھوٹی چھوٹی معلومات ہر جمعہ میں دس پندرہ میں بتائیں گے تو یہ عوام کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

………محمد فیروزعالم ایڈیٹر ماہنامہ  ’’نئی شناخت‘‘ نئی دہلی    اگست ۲۰۰۳


Thursday, February 9, 2023

چراغ تلے اندھیرا

تَعَلَّمُوا القرآنَ وعلِّمُوهُ الناسَ وتعلَّمُوا العِلْمَ وعلِّمُوهُ الناسَ وتعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وعلِّمُوهَا الناسَ فإِني امرؤٌ مقبوضٌ وإنَّ العلْمَ سَيُقْبَضُ حتى يختلِفَ الرجلانِ في الفريضةِ لا يَجِدَانِ من يُخْبِرُهُمَا

قرآن مجید کی درس وتدریس کی فضیلت میں مذکورہ حدیث عموماً پیش کی جاتی ہے۔

قرآن مجید کے سیکھنے اور سکھانے اور اس کی درس وتدریس کے لیے جمع ہونے کی فضیلت کے بیان میں کئی احادیث مروی ہیں۔ … … حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہےکہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کی درس وتدریس کی کوشش کرتی ہے توان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں کی مجلس میں کرتے ہیں جو اللہ کے پاس ہوتے ہیں۔''

اس حدیث میں چار باتیں بیان کی گئیں ہیں

ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔

رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔

فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں کی مجلس میں کرتے ہیں۔

ہم میں سے کون ایسا ہے جو ان مذکورہ بالا باتوں میں سے کسی ایک کی بھی خواہش نہ رکھتا ہو، کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی عمل میں یہ تمام فضیلتیں ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں۔

مزید قرآن و حدیث سے حوالہ دینے یا وضاحت کرنے سے بہتر ہے کہ ہم رائج خیالات و رواج پر گفتگو کریں۔ کیوں کہ یہ بھی ہمیں کچھ نہ کچھ مرحلے آسان کرتی ہیں۔ مثال کے طور مذکورہ محاورہ ’’چراخ تلے اندھیرا‘‘ کا کیا مطلب ہمارے معاشرے میں لیا جاتا رہا ہے، اس پر توجہ دیں۔

۱۔اس موقع پر مستعمل جہاں کسی نیکی خوبی یا فائدے کی بات سے قریب تر اشخاص وغیرہ محروم ہوں یا بیگانوں کو فائدہ پہنچے اور یگانےمحروم رہیں ، روشن دلوں سے بے خبری واقع میں آئے.۔

۲۔پرانے زمانے میں گھروں میں رات کو چراغ جلائے جاتے تھے ۔ چراغ کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے جبکہ وہ سارے گھر کو روشن کرتا ہے ۔ اسی مناسبت سے اگر کسی شخص سے ساری دنیا کو فیض پہنچے لیکن اس کے قریب کے لوگ محروم رہیں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

۳۔ اس سے متعلق ایک حکایت بیان کی جاتی ہے ۔ ایک سوداگر سفر کرتا ہوا ایک بادشاہ کے قلعہ کے پاس پہنچا تو رات ہوچکی تھی اور قلعہ کا دروازہ بند کیا جاچکا تھا ۔ اس نے قلعہ کی دیوار کے سایہ میں رات گزارنے کا ارادہ کیا ‘ اس نے سمجھا کہ بادشاہ کے ڈر سے کوئی بدمعاش یہاں آنے کی ہمت نہیں کرے گا ۔ رات کو چور اس کا سارا سامان چرا کر رفو چکر ہوگئے ۔ صبح سوداگر اٹھا تو اپنی بدحالی کی فریاد لے کر بادشاہ کے سامنے گیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا تم قلعہ سے باہر کھلے میدان میں آخر سوئے ہی کیوں ‘‘ ۔ اس نے عرض کیا ’’بادشاہ سلامت! مجھ کو اطمینان تھا کہ آپ کا اقبال میری حفاظت کرے گا اور کسی کو مجھ لوٹنے کی ہمت نہ ہوگی مجھے خبر نہیں تھی کہ ’’چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔‘‘

۴۔غیروں کو فائدہ پہنچانا اور اپنوں کو محروم رکھنا

اگر ہم معاشرے میں نظر دوڑاتے تو اکثر ایسا ہی ہو تا دکھائی دے رہا ہے۔ ہم علم حاصل کر رہے ہیں لیکن ٹکسالی علم کے حامل ہیں خواہ وہ عصری یا دینی، کوئی بھی تعلیم ہو۔ ابھی کچھ دنوں پہلے تک روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا چھوٹا ویڈیو یا آڈیو پیغام واٹس ایپ کے ذریعہ آجاتا تھا جس میں اماموں، مولویوں، مؤذنوں کی مفلوک الحالی کا رونا رویا جا رہا ہے۔ کچھ اماموں کی تنظیمیں بھی ہیں، ان کے رہنما ان کی خاصیتیں بیان کر رہے ہیں اور اُن کی محنت اورکوششوں کو اس طرح لوگوں پر بیان کر رہے ہیں کہ جیسے دین انہیں کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔

پھر دوسری طرف مسلم قوم کے ساتھ دیگر فرقہ کے لوگوں کے ذریعہ ستائے جانے کے واقعات بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر مسلم قوم کی کیا سوچ و فکر بنتی جارہی ہے۔ جو ملا اسے عمل میں نہیں لایا جاتا  اور نہ ہی شکر کیا جاتا۔ جو نہیں ملا اُس کا رونا رویا جاتا۔ آخر مسلمان چاہتا کیا ہے؟ آخر مسلمان دنیا میں جنت کی امید کیوں لگائے بیٹھا ہے۔؟

اگر آپ سے کوئی لیڈر مذاکرات کے لئے کہتا ہے تو اسے بھی آپ تسلیم نہیں کرتے۔ … … اگر الیکشن کی تیاری کی وجہ سے ایسا بیان آ رہا ہے … تو آج کوئی نیا تو ہے نہیں۔ … دہائیوں سے جاری ہے۔ 

اگر آپ کہتے ہیں بیوقوف بنایا جارہا ہے تو آپ دہائیوں سے بیوقوف ہیں اور نئے بن بھی رہے ہیں۔

وہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، اُن کا کام ہے، اُن کی ذمہ داری ہے۔ وہ کر رہے ہیں۔ … … ہمیں بھی کچھ تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ … … جیسے کہا گیا کہ قیامت قریب ہے۔ … … نجات حاصل کرنے کے لئے کچھ سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔ … … کیا ہم اس کی تیاری کر رہے ہیں؟

قرآن مجید پڑھنا پڑھانا بہت ہی عمدہ عمل ہے، جیسا کہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ دس لوگوں سے پوچھیں کہ آپ اپنے بچے کو قرآن مجید پڑھا کر ایک حافظ مولوی بنانا پسند کریں گے؟ … … تو دس میں سے شایدسبھی کا جواب اثبات میں ہوگا۔ لیکن یہ یہی سوال اس طرح پوچھیں کہ آپ اپنے بچے کو قرآن مجید اور احادیث پڑھا کر ایک اچھا انسان بنانا پسند کریں گے؟ … … تو تقریباً سب کے سب سوچ میں پڑھ جائیں گے۔

ایسا ہم کیوں کہہ رہا ہیں … … کہ ہم چاہتے تو ہیں … … کہ ہم قرآن و حدیث والے بنیں … لیکن نفسانی خواہش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

جو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ کبھی کسی تعلیمی ادارے کا رُخ نہیں کیا۔ یا کسی نے زبانی طور پر کوئی تعلیم نہ دی۔ یا اُن تک نہ پہنچی تو اُن کو تو اَن پڑھ کہا جاسکتا ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کریں یا کسی غلط رسموں سے وہ اپنی زندگی گزاریں تو اُن آپ اَن پڑھ اور جاہل کہہ سکتے ہیں۔ وہ کہیں کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا۔ تو کسی حد تک اُن کا کہنا درست ہے۔ 

لیکن جو کسی نہ کسی طریقے پڑھ لکھ رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے کا بھی رُخ کر رہے ہیں۔ دسیوں برس اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ذمہ داری نبھا رہے ہیں لیکن طور طریقے غیر سنت ہے تو اُن کو کیا کہیں گے؟

حافظ یا مولوی بن کے بندہ گھر آتا ہے اور وہ گھر میں سنت کے مطابق طریقہ رائج کرنا چاہتا ہے تو اُسے گھر کے ہی لوگوں سے جواب ملتا ہے کہ  ’’دو چار کتابیں پڑھ کے قابلیت جھاڑ رہے ہیں…  ہمارے یہاں جو رائج ہیں…  ہم وہی کریں گے۔ … تم اپنا درس مدرسے کے بچوں کو دینا۔‘‘

بچے ماشاء اللہ اتنے فرماں بردار ہوتے ہیں کہ اُن کے ماں باپ اَن پڑھ یا لا علم ہیں اور بھی روایتی خرافات کے ساتھ زندگی جی رہے تو پڑھے لکھے بچے بھی اپنے والدین کو اتنی جلدی قائل نہیں کر پاتے۔ اور اُن کا جواب ہوتا ہے کہ ’’میرے ماں باپ جیسا کہیں گے، ویسا تو کریں گے۔‘‘ ہم نہیں جانتے کہ سنت کیا ہے اور فرض کیا ہے؟ جو ہمارے خاندان میں رائج ہے وہیں کریں گے۔

اب آپ بتائیں اِس جہالت کو کیسے سدھاریں گے؟

علم کیا ہے؟ اللہ کی معرفت کا ذریعہ۔ اور 

جاہلیت یہ ہے کہ اللہ کی  الوہیت سے آدمی جاہل ہو اور اپنے آپ کو کسی ایک معاملے میں یا اکثر معاملات میں شریعت کا پابند نہ سمجھے۔

سورہ لقمان میں حق باری تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان۱۳)

’’اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے‘‘۔[سورہ لقمان۱۳]

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ  (لقمان۱۴)

’’ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے‘‘[سورہ لقمان۱۴]

دیکھئے تو ماں اپنے بچے کو کس قدر مشقّت کے ساتھ اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے،جب کہ باپ بچے کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ اس وجہ سے والدین کا اپنے بچے پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ اپنے محسن والدین کے احسانات کا بھی شکر گذارہو۔۔

آج تربیت اولاد کے موضوع پر دسیوں کتابیں بازار میں موجود ہیں۔

اور گھروں و خاندانوں کا جائزہ لیں تو نتیجہ نکلے گا کہ ہم نے بچوں کو صرف پیسہ کمانے کی مشین بنائی ہے۔ باقی سب کچھ ویسے ہی چل رہا جیسے پرانے زمانے سے چل رہا تھا۔

جہالت کے نمونے کے طور پر اللہ کے رسول مُحمَّدکے زمانے میں ایک شخص کا لقب ابو جہل پڑا۔ اہلِ علم کو پتا ہوگا کیوں؟  …  کیوں کہ وہ شخص یعنی  ’’عمرو بن ھشام بن المغیرہ جس کی کنیت ابوالحکم تھی۔ آبائی مذہب پر سختی سے قائم رہنے کی وجہ سے ابوجہل کے لقب سے مشہور ہوا۔ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دشمن تھا۔ مکے میں آنحضرت اور صحابہ نے اس کے ہاتھوں سخت اذیتیں جھیلیں۔ بدر کی لڑائی میں قتل ہوا۔‘‘

وہ شخص سمجھدار اور عقل مند ہونے کی وجہ سے اپنے زمانے کا ابوالحکم تھا لیکن اللہ کا پیغام نہ ماننے کی وجہ سے ابو جہل قرار دیا گیا۔  اب ہم پڑھے لکھے ہونے اور اللہ کا پیغام نہ ماننے کے بعد بھی پکے مومن، جنت کا پرچہ میرے نام نکل چکا ہے۔ چاہے ہم اپنی زندگی سنت کے مطابق نہ گزاریں، شیطان کو اپنا دوست اور بھائی بنائے رکھیں پھر بھی پکے مُحمَّدی۔

 دوستی، تعلقات، بڑی گہرائی تک ہے۔ لیکن جیسے ہی معاملات کی نوبت آتی ہے۔ وہاں پر سب کھل کر سامنے آجاتے ہیں کہ کون کتنا دین دار ہے۔

وہاں تک دین کے ساتھی ہزارو

جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے

سہیل آفندی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش


Sunday, July 17, 2022

🌹 پانچ تحفے 🌹

اُن کو مل سکتے ہیں، جن کو ہائپر ٹینشن یا ڈائی بی ٹیز کی پروبلم ہے۔ اور وہ گزشتہ ایک سال سے اسے نارمل کرنے کے لئے دوائی استعمال کر رہے ہیں۔تو اُن کو ایک یا دو تحفے مل سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اُنہیں پانچوں تحفے مل جائیں۔ جی ہاں دوستو! تو اُن کی حالت کیسی ہوگی، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔

تحفہ نمبر۱ ’’آنکھوں کی دقت‘‘۔ اگر کسی کو اُوپر بیان کئے گئے پروبلم میں سے کوئی بھی پروبلم شروع ہو گئی ہے تو اُنہیں آنکھوں کی کمزوری ہو سکتی ہے۔ اُنہیں دھندلا دکھائی دے سکتا ہے۔ آنکھوں میں خون کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پڑنے لگتی ہے۔ آنکھوں کے عصبات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تحفہ نمبر۲ ’’دل کی بیماری‘‘۔ ادیبوں اور شاعروں یا افسانوی ادب والی دل کی بیماری نہیں بلکہ جسمانی طور پر دل کی بیماری شروع ہو سکتی ہے۔ ہارٹ تک خون کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، خون کی نلیاں پتلی پڑ جاتی ہیں، ہارٹ کو خون پمپنگ کرنے میں زور لگانا پڑتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ہارٹ کام کرنا بند کر دیتا ہے، جسے عام زبان میں ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔

تحفہ نمبر۳ ’’گردے کا ناکام ہونا‘‘۔ یہ ایک بہت بڑی اور خطرناک پروبلم ہے۔ گردے ناکام ہونے کی شکایتیں آپ نے عام طور سے سنی ہوں گی۔ کہ فلاں کے گردے فیل ہو گئے، اُن کو اب ڈائیلائسس کے لئے ہر ہفتے جانا پڑتا ہے۔جب سے HIIMS کھلا ہے وہاں سب سے زیادہ گردے کے مریض آ رہے ہیں۔ اس لئے ہماری گزارش کہ جن کو کڈنی کی پروبلم ہے وہ جلدی سے جلدی اسے ٹھیک کریں۔ ورنہ اُن کے ساتھ کوئی بھی اَن ہونی ہو سکتی ہے۔ کڈنی کا فیل ہونا سب سے خطرناک پروبلم ہے۔

تحفہ نمبر۴ ’’برین اسٹرک‘‘ یعنی پیرلائز ہونا۔ عام زبان میں اسے لقوہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پروبلم بھی خون کے گاڑھا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بلڈ کلوٹنگ ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے برین اسٹروک ہو جاتا ہے۔

تحفہ نمبر۵ ’’خاندانی انتشار‘‘ اِن چاروں بیماریوں کی وجہ سے جو سب سے بڑی پروبلم آتی ہے وہ ہے خاندانی نظام کا درہم برہم ہو جانا۔ جی ہاں دوستو! آپ ذرا غور کریں اگر کسی خاندان میں کسی ایک کو بھی کڈنی کی پروبلم شروع ہو گئی ہے اور انہیں ہفتہ میں ایک یا دو بار ڈائیلائسس کی ضرورت پڑ رہی ہے اور آپ کو انہیںلے کر بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے۔ جس میں خرچ تو آتا ہی ہے ساتھ میں ایک دو لوگ اور مصروف ہو جاتے ہیں۔ عموماً بیمار ہو کر اسپتال جانے والی پروبلم میں ایک کے ساتھ دو فری جاتے ہیں۔ جو غیر معمولی طور سے خاندانی نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ لہٰذا ایک کے ساتھ دو فری جانے والی پروبلم سے نجات حاصل کریں۔

جی ہاں دوستو یہ باتیں ہمیں کیسے معلوم ہوئیں؟ یہ پتا چلا HIIMS میں آنے والے مریضوں کے ڈیٹا سے۔ جس میں اکثر مریض پہلے بیان کئے گئے چاروں امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جن میں اکثر کی کڈنی ستّر، اسّی اور نوے فیصد تک کام کرنا بند کر چکا ہوتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ کڈنی والی پروبلم تحفہ میں نہ ملے تو آپ D M H سے دور رہیں۔ یعنی ڈاکٹر، میڈیسن اور ہاسپیٹل سے دور رہیں۔

تو اِس کا علاج کیا ہے؟ کیسے بچیں؟ اور کیسے صحت مند رہیں؟ اس کا آسان علاج کیا ہے؟

سب سے پہلے تو آپ مرض ہونے کی وجہ جانیں۔

جسم میں مرض ہونے کی پہلی وجہ ہے گندگی۔ یعنی Toxin۔  باہری گندگی تو آپ کو دکھائی دیتی ہے لیکن اندرونی گندگی نہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اُس صفائی کے لئے عموماً آپ وقت نکالتے ہیں اور نہ ہی کوشش کرتے ہیں۔ تو سب سے پہلے اپنے جسم میں بھری ہوئی گندگی (Toxin) کو باہر نکالیں۔ نہیں نکالیں گے تو آپ صحت مند نہیں رہیں گے۔ 

Toxin نکالنا ہو تو کیا کریں؟

قدرتی خوراک کو اپنی دوائی بنائیں۔ یعنی درست خوراک صحیح وقت پر لینا شروع کریں۔

تو سب سے پہلے ایلوپیتھی میڈیسن کو الوداع کریں۔ اور نیچرل ڈائٹ کو اپنائیں۔ یہ آپ کے لئے بطورِ دوا بھی کام کرے گا اور بطورِ خوراک بھی۔ 

اس کا کوئی Side Effects نہیں ہے بلکہ Side Benefitsہیں۔

یاد رکھیں اگر آپ نے خوراک کو دوائی نہیں بنایا تو جلد ہی دوائی آپ کی خوراک بن جائے گی۔ اور آپ کو پوری زندگی دوائی پر گزارنی پڑے گی۔ جس سے آپ کی صحت اور آپ کے سرمایہ، دونوں کا نقصان ہوگا۔

اس لئے ڈی آئی پی ڈائٹ کو اپنائیں۔ اس بارے میں جاننے کے لئے یو ٹیوب پر موجود ڈاکٹر بسوا روپ رائے چودھری کا ویڈیو دیکھیں۔ اور اپنا ڈائٹ پلان تیار کریں۔

ڈائٹ پلان ہمارے بلوگ پر بھی موجود ہے۔

اگر پھر بھی آپ کو کوئی پریشانی آئے یا آپ ایسا نہیں کر پا رہے ہیں تو ڈی آئی پی ڈائٹ پلان یا کسٹمائز ڈی آئی پی ڈائٹ پلان تیار کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔

ڈی آئی پی ڈائٹ نہ صرف مذکورہ بیماریوں کو دور کرتا ہے بلکہ اور بھی کئی متعدی بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں کارگر ہے۔ جیسے کہ خونی یا بادی بواسیر، سورائسس، پیشاب کی جلن، بے خوابی، عورت مرد کے جنسی امراض اور نامردی، بالوں کا جھڑنا اور وقت سے پہلے سفید ہونا۔ داغ دھبے کا نا مٹنا، موٹاپا، گانٹھ، وغیرہ درجنوں امراض جسے آپ اَن دیکھا کر دیتے ہیں یا کر چکے ہیں، سبھی کو ٹھیک کرنے میں معاون ہے۔

یہ HIIMS کیا ہے۔ ہاسپیٹل اینڈ انسٹی ٹیوٹ آف انٹی گریٹڈ میڈیکل سائنسز

Hospital & Institute of Integrated Medical Sciences

https://hiims.in پر جاکر تفصیل معلوم کر سکتے ہیں۔

فی الحال یہ چنڈی گڑھ، جے پور، جودھپور، دہلی، گروگرام، امرت سر  میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ آپ HIIMS کے طریقہ کار کو اپنا کر اپنے گھر پر بھی علاج کر سکتے ہیں۔ کڈنی ڈائی لائسس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے اس ویڈیو کو دیکھیں۔

Kidney Failure | CKD | Kidney Dialysis | Hot Water Tub Therapy | HIIMS

https://www.youtube.com/watch?v=PeXwbL5KxCU


محمد فیروزعالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537

دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیا...