Friday, June 9, 2023

🌸🌸’’ہم جوڑنا چاہتے ہیں، جُڑنا نہیں چاہتے‘‘🌸🌸


ایک طرح سے آج ہم سوشل میڈیا کے دور میں جی رہے ہیں۔ یعنی ہماری طرزِ زندگی میں سوشل میڈیا ایک اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اب چاہے تعلیم و تعلّم کا سلسلہ ہو، ارسال و ترسیل کا سلسلہ ہو، مصدقہ یا غیر مصدقہ خبروں کا سلسلہ ہو، اُلٹے پلٹے لطیفوں کا سلسلہ ہو، بحرے بے بحرے شعر و شاعری کا سلسلہ ہو، ادب و بے ادبی کا سلسلہ ہو، نئے نئے سوشل ایکٹویسٹ نوجوانوں کا سلسلہ ہو یا ریٹائرڈ بزرگ و بزرگہ کے مشورے اور رہنمائی کا سلسلہ ہو۔ یہ سب کے سب مل کر زندگی کو اتنی اُلجھن میں ڈالے ہوئے ہیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ اب تک کیا کرتے رہے ہیں، اور اب کرنا کیا ہے؟ 

ہر ادارے کا ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے خواہ وہ کسی میدان میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اور کسی فارغ کو کوئی کام نہیں آتا تو اُسے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بنا دیا جا تا ہے۔ وہ بیٹھے بیٹھائے پریس ریلیز گھڑتا ہے اور اخباروں کو بھیج دیتا ہے، دوسری صبح شائع ہونے پر اُسے بے انتہا خوشی ہوتی ہے، اتنی جیسے کہ اُس نے محلّہ فتح کر لیا ہو، اب محلے والے سب اُس کے پیروکار بن جائیں گے۔ پھر اُس شائع شدہ پریس ریلیز یا خبر کو اخبار سے کاٹ کر واٹس ایپ کے ذریعہ مزید لوگوں کو بھیجتا ہے۔ ان سب مختلف میدانوں میں سرگرم لوگوں میں عمومی طور پر تین قسم افراد پائے جاتے ہیں۔

۱۔ نوجوانی میں رنگ بازیاں

۲۔ جوانی میں جگاڑبازیاں

۳۔ بڑھاپے میں رنگ سازیاں

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(آل عمران - 31)

اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اطاعت اختیار کرے۔ 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ  صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم قریش کے پاس تشریف لائے جنہوں نے خانۂ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے۔ تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا، اے گروہِ قریش !خدا  عَزَّوَجَلَّ کی قسم ،تم اپنے آباء و اجداد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے ہٹ گئے ہو۔ قریش نے کہا ہم اُن بتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں۔

اس پر یہ آیت ِ کریمہ نازل ہوئی۔

اب آپ ذرا غور فرمائیں؛ 

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے ؟ 

جس کا کہنا ہے ہم اُن بزرگوں کے ساتھ یہ رویّہ اِس لئے رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے قریب کریں۔؟

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے جس کا کام ہی فتویٰ جاری کرنا ہے۔؟ اُن کے اداروں اور ویب سائٹوں پر فتاویٰ کی بھرمار ہے۔ جب کہ اُسی جماعت کی پیروی کرنے والے کا عمل بیشتر فتویٰ کے خلاف ہے۔

کیا ہمارے سماج میں ایسی جماعت نہیں ہے جس کا کام ہی اپنے بزرگوں کے خیالات اور کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔؟ اور اسی قسم کی سطحی بنیادوں پر کئی شکم پروری کی مسلکیں اور جماعتیں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر بھی گروپ بنے ہوئے ہیں۔ ذرا سی باتیں اپنے مزاج کے خلاف محسوس ہوا کہ لن ترانیاں شروع ہو گئیں اور علمی باڑھ آگیا۔ اور اگر کسی نے مسئلے کا مدلل حل بتایا تو جس جماعت یا مسلک کے بزرگوں کے خیالات کے خلاف محسوس ہوا تو بزرگوں کے اقوال کی باڑھ لگا دی گئی۔ جب کہ اُس کا تعلق نہ سنت نبوی سے ہے اور نہ ہی احکامِ خداوندی سے۔

مالیات کا شعبہ اور صحت کا شعبہ پر کئی صدی پہلے ہی دوسری قوموں کا قبضہ ہو چکا اور ہمارے علماء کرام فتاویٰ لکھتے رہے۔ اب خوراک کا شعبہ بھی دوسری قوم کے ہاتھ میں جا چکا ہے۔ اور ہمارے پاس بچا ہے تو صرف مدارس، تعلیمی ادارے وہ بھی مسلکی بنیادوں پر۔ احکامِ خداوندی اور سنت رسول کا پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہے؟ تعلیم اور عقیدے کی روح نکل چکی ہے۔ صرف عمارتیں، لائبریریاں اور روایتی سہولتیں رہ گئی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عبادات غالب ہے اور اخلاق مغلوب ہے۔

ہماری قوم تعلیمی اعتبار سے مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن تک نہیں پہنچ پاتی اور محکمہ میں کام کے لئے جانا ہوتا ہے اور کچھ وقت درکار ہوتا ہے، یا بعض دفعہ سرکاری عملہ ٹال مٹول کرتا ہے تو ہماری رائے بنتی ہے کہ  ’’ہر محکمہ میں سنگھی گھسے ہوئے ہیں، اس لئے ہمارے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں‘‘۔

لیکن جب ہمارے رفاہی ادارے اور دینی ادارے کے ایڈمن یا ذمہ دار سند، مارک شیٹ وغیرہ جیسے کاموں کی درخواست کے لئے جائے تو کہاجاتا ہے ’’ہاں یہی کام رہ گیا ہے میرا‘‘ یہ جواب کس قدر مناسب ہوگا؟ آپ بتائیں۔

معقول معاوضہ نہ دینے اور مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے لئے ہمارے ہی اداروں کے ذمہ داران کا یہ جواب کہ ’’ادارہ آپ کا اتنا دے سکتا ہے، آپ چاہیں تو کر لیں‘‘، یا ’’آپ کی طرح بہتیرے مارے پھر رہے ہیں، میں تو رحم کھا کر آپ کو ملازمت دے رہا ہوں‘‘ ایسی قوم کے قابل افراد دوسرے لوگوں کے یہاں کام نہ کریں تو کیا کریں۔؟ چوری، بے ایمانی آتی نہیں کہ شکم پروری کے ادارے میں شامل ہو جائیں۔ اب وہ بے چارے بن جاتے ہیں۔ اپنے ایمان کو بچاتے ہوئے، مٹی، پتھر ڈھونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سبزی یا دیگر خورنی اشیاء کا ٹھیلہ لگا کر روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ تب بھی انہیں طعنہ مارا جاتا ہے۔ ’’پڑھیں فارسی، بیچیں تیل‘‘ تو بھائی آپ بتائیں کہ کیا کریں؟

اعلیٰ درجے کا مسلمان کون ہے؟

المسلم من سلم المسلمون من لسانیہ و یدہ

جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

خیر الناس من ینفع الانسان

اچھا انسان وہ ہے جس سے انسان کو فائدے پہنچے۔

اب آپ خود اِن دو بنیادی اصولوں پر قائم کتنے فیصد مسلمان بطورِ نمونہ پیش کریں گے؟

جو قوم مسجد بنا کر خوش ہو جاتی ہے، وہ ادارے قائم کر لیں گے؟ 

مسجد بنانے سے پہلے امام رکھ لیا جاتا اور اس کی تنخواہ کے لئے چندہ کیا جاتا ہے۔ یہ ویسے ہی کہ ڈرائیور پہلے رکھ لیا اور گاڑی خریدنی ابھی باقی ہے۔ ہمارے دینی اور ملی اداروں کا حال یہ ہے کہ یہ دس نکمّے اور باتونی اور چاپلوس کو رکھیں گے، لیکن دو کام کے آدمی نہیں رکھیں گے۔ کیوں کہ انہیں صدقہ زکوٰۃ کا بندر بانٹ کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صدقہ کے حقدار صرف رفاہی ادارے یا مدارس ہی ہیں۔ اگر کسی کو دسویں بارویں درجات کرنے کے لئے پیسے کم پڑیں تو اسے نہ دیا جائے۔ جب ترتیب ہی درست نہیں ہو سکی ابھی تک تو نتیجہ مثبت کیسے آئے گا؟

ابھی گزشتہ رمضان میں ہی (چند فیکٹری یا کسی کے احاطہ میں) اُن مقامات پر نمازِ تراویح پڑھنے سے روکا گیا۔ اور اڑچنیں کی گئی جس کے ہماری حمیت جاگی لیکن اصول پھر یاد نہیں آیا اور نہ دلایا گیا۔ اگر کسی نے یاد بھی دلایا تو اسے بزدل اور کمزور ثابت کرنے میں اپنی صلاحیتیں کھپائی گئیں۔

ان کے بیان سے یقیناً ہمارے اکثر بھائیوں کو دکھ ہوا ہوگا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ہم نئی پرمپرا چلنے نہیں دیں گے۔‘‘ میرا سوال اپنے بھائیوں سے ہے کہ کیا تراویح پڑھنا اتنا ضروری ہے؟ وہ بھی کہیں بھی اکٹھے ہوکر؟ آپ اپنی مساجد میں تراویح پڑھیے۔ وہاں کوئی روکتا ہے تو آپ کو حق بنتا ہے کہ آپ اپنے حقوق کا استعمال کریں۔ 

ابھی حال ہی میں حج پر جانے والے مسافروں کی بس کو شرارت پسندوں نے روک کر تکلیف پہنچائی، جس کے تعلق سے سوشل میڈیا پر کچھ خبریں بھی آئیں۔ پھر خاموش۔ کیوں کہ ہمیں حج پر جانا ضروری ہے۔ دولت کی نمائش کیسے ہوگی؟ ایک طرف تو ہماری قوم اپنے آپ کو غریب، محتاج، لاچار اور پسماندہ ظاہر کرتی ہے۔ دوسری طرف یہ دولت کی نمائش کیوں؟ کیا حج اور عمرہ پر جانے والے اشخاص یہاں کے فرائض ادا کر چکے ہیں؟ 

ہم ایسے پچاسوں ادارے اور سیکڑوں افراد کو جانتے جو اپنے ورکروں کو وقت پر ماہانہ اجرت ادا کرنے کے لئے کئی قسم کے بہانے بناتے ہیں اور جب کہ ہر سال ایک یا دو بار عمرہ پر جانے کے لئے اُن کے پاس مال ہوتا ہے۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں؟ ہمارے سماج کے ایسے دو سطحی سوچ رکھنے والے اور عمل کرنے والے افراد ہی معاشرے کے ناسور ہیں۔ جب میں نے اس مضمون رکھا ہے ’’ہم جوڑنا تو چاہتے ہیں، جُڑنا نہیں چاہتے‘‘

۔۔۔۔۔۔

فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش

ری فورمسٹ، ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن کنسلٹنٹ


Friday, February 24, 2023

وقت پر قدر کریں

 وقت پر قدر کریں

گزشتہ کچھ دنوں سے ٹیلی ویژن پر دو نئے اینکر دکھائی دے رہے ہیں جو بچوں کو اسکول بھیجنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ یہ دونوں کوئی پروفیشنل اینکر نہیں ہیں۔ جی ہاں ایک ہیں ہمارے ملک کے عزت مآب  وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی اور دوسرے مرکزی وزیر برائے ترقی انسانی وسائل ڈاکٹرمرلی منوہر جوشی۔ ہندوستانی تعلیم کے شاندار پانچ سال کی اہم کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہیں کہ ۶؍سے ۱۴؍ سال کی عمر کے تمام بچوں کی تعلیم کو مفت اور لازمی بنانے کے لئے آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔ تعلیم ہر فرد کے لئے ضروری ہونی چاہئے، اس کے ساتھ ہی ساتھ وسیلہ بھی اور روزگار بھی۔تعلیم عقل و شعور کو بیدار کرنے کے لئے بے شک ضروری ہے ساتھ ہی عصری تعلیم بھی تاکہ پڑھ لکھ کر بے روزگاری میں اضافہ نہ ہو جو کہ کرپشن کا بھی سبب بنتا ہے۔ جتنے جاہلوں سے ملک کو نقصان ہوتا ہے اس کے کہیں زیادہ پڑھے لکھے بے روزگاروں سے ہوتا ہے۔ کیوں کہ جب انہیں ان کی سطح کا کام نہیں مل پاتا تو یہ کوئی اور گھریلو کام کرنے میں ہچکچاتے ہیں اور گھر اورمعاشرہ کے لئے بوجھ بنے رہتے ہیں حالانکہ ہر پیشہ کو اپنانے کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے۔ بغیر معلومات کے کسی بھی کام کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکتا۔

ملک اور عوام کے مفاد میں ابتدائی اور ثانوی درجہ کی تعلیم سب کے لئے ضروری ہونی چاہئے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ قابلیت کی بنیاد پردیا جائے نہ کہ دولت کی بنیاد پر۔ کسی بھی حالت میں دولت دے سکنے کی صلاحیت رکھنے والے درخواست دہندہ کی طرف دھیان نہیں دینا چاہئے۔کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ امیر خاندان سے آنے والے طلباء ہی قابل ہوتے ہیں اور وہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے نچلے درمیانہ طبقے سے بھی آسکتے ہیں اور غریب خاندان سے بھی۔ داخلہ کے لئے بھی اور فیس فنڈز کے بارے میں بھی پالیسی ایسی ہونی چاہیے۔ جو قابلیت کی بنیاد پر داخلہ کے حقدار ہیں، ان کو اس وجہ سے محروم نہ کردیا جائے کہ وہ مطلوبہ رقم ادا نہیں کرسکتے۔ اگر مالی طور پر کمزور خاندان کے طلباء قابل اور اہل ہوں تو ان کو حکومت کی جانب سے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے وظیفہ دیا جانا چاہئے اور فیس حکومت کی جانب سے ادا کیا جانا چاہئے تاکہ ملک کے قابل اثاثہ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ حکومت کو چاہئے کہ نوجوانوں کی قابلیت سے فائدہ اٹھائیں۔ آج بھی کئی نوجوان ایسے ہیں جو روزمرہ کے آلات تیار کر رہے ہیں جن کی مدد سے وہ کام پہلے کے مقابلے میں کافی کم خرچ اور کم وقت میں انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کو ایسے نوجوانوں کی ہمت افزائی کرنی چاہئے۔ گزشتہ چند سالوں میں کئی ایسی خبریں آئیں جن میں ان لوگوں کی صلاحیتوں کو اب تسلیم کیا گیا اور ایواڈ دیا گیا جن کی عمریں اب ساٹھ سال کو تجاوز کر چکی ہیں۔ انہوں نے نوجوانی اور جوانی غیر ملکوں میں گزاری اور ان کی صلاحیتوں سے غیر ملکوں نے فائدہ اٹھایا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے ملک کے ہونہار نوجوان کی کارکردگی کو غیر ملکوں میں قبول کیا جاتا ہے لیکن ان کی قابلیت اور صلاحیت کوخود ہمارا ملک بعد میں کیوں تسلیم کرتا ہے؟…ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہونہاروں کی قابلیت و صلاحیت کو وقت پر تسلیم کریں، ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیںاور ملکی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔

نوجوانوں کی قابلیت کو علاقائی سطح پر بھی بہتر اور کارآمد بنانے کی ضرورت ہے۔ جن قصبوں اور گائوں میں کوئی ایجوکیشنل سوسائٹی نہیں ہے وہاں کے ذی شعور فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ پہلے ایک ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کریں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ کا اجتماعی نظم کریں اور اس کے لئے بھی گائوںاور قصبہ کی سطح پر زکوٰۃ فنڈ قائم کریں۔ زکوٰۃ کے مصارف کے زیادہ حقدار وہ نوجوان ہیں جنہیں تعلیم کی ضرورت ہے اور وہ ذہین اور باصلاحیت نوجوان جو غربت کی وجہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، پہلے ان کی مدد کیجئے۔  جب تک یہ نوجوان تعلیم حاصل کر کے اہل نہ ہوجائیں تب تک انہیں زکوٰۃ فنڈ سے تعاون کیا جائے اور جب اہل ہو جائیں تو وہ اپنی آسانی کے اعتبار سے زکوٰۃ فنڈ سے لی گئی رقم واپس کریں تاکہ فنڈ برقرار رہ سکے اور اس فنڈ سے ضرورت مند استعمال کر کے اپنے آپ کو قابل اور اہل بنا سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ ایجوکیشنل سوسائٹی اوراجتماعی زکوٰۃ فنڈ کا قیام مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرنے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔ 

ایجوکیشنل سوسائٹی اور زکوٰۃ فنڈ اپنی سہولت کے اعتبار سے کم سے کم دس کلو میٹر کے احاطہ میں ایک ہونا چاہئے۔ اگر کسی گائوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے تو پچاس کلو میٹر کے اندر کئی گائوں کو ملا کر ایک ایجوکیشنل سوسائٹی اور زکوٰۃ فنڈ بنایا جا سکتا ہے۔ ایجوکیشنل سوسائٹی کے لئے کم سے کم چار اور زیادہ سے زیادہ آٹھ افراد نگراں وکارکن ہو سکتے ہیں۔ ان میں نصف پچیس سے پچاس سال کے درمیان ہو اور نصف پچاس سال سے زائد کے ہوں۔ ایجوکیشنل سوسائٹی کے تحت ایک چھوٹی سی یا اپنی سہولت اور ضرورت کے اعتبار سے لائبریری قائم کریں جس میں اپنی سہولت اور ضرورت کے اعتبار سے اخبار و رسائل یا کتابیں رکھیں۔

گائوں کا ہر خاندان اس کا ممبر ہو اورجس خاندان کی آمدنی ماہانہ تین ہزار روپے یا سالانہ چھتیس ہزار روپے(Rs. 36,000/-)یا اس سے زائد ہو تو وہ ایجوکیشنل سوسائٹی کو ماہانہ ایک سو روپے یا سالانہ بارہ سو روپے ادا کرے۔ بہتر یہی ہے کہ ماہانہ ایک سو روپے ادا کرتا رہے۔ جس خاندان کی آمدنی ماہانہ تین ہزار روپے سے کم اور پندرہ سو روپے سے زیادہ ہو یا سالانہ چھتیس ہزار روپے سے کم لیکن اٹھارہ ہزار روپے سے زیادہ ہو وہ کم سے کم ماہانہ پچاس روپے اور سالانہ چھ سو روپے ایجوکیشنل سوسائٹی کو ادا کرے۔  

حاصل شدہ رقم  ایجوکیشنل سوسائٹی کی امانت ہوگی جسے تعلیمی اغراض، اخبارات و رسائل یا رکھ رکھائو پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے رکھ رکھائو کی ذمہ داری نوجوان (بیس سے تیس کے مابین عمر) کو سونپی جانی چاہئے اور انہیں یہ ذمہ داری بلا معاوضہ ادا کرنی ہوگی۔ نوجوانوں کے تعلیمی اوقات میں یعنی جس وقت وہ اسکول یا کالج جاتے ہوں اس وقت لائبریری کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری بزرگوںکو سونپی جاسکتی ہے۔ اس وقت بزرگ حضرات استفادہ کر سکتے ہیں۔ 

اسی ضمن میں کیریئر گائیڈنس کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ملک و بیرون ملک میں روزگار کے مواقع سے متعلق فارم اور معلومات مہیا کرائے جائیں۔ اس کی فیس پانچ سے دس روپے کے درمیان صرف امیدوار سے وصول کی جاسکتی ہے۔ ویسے کیریئر گائیڈنس کا کام تھوڑا مشکل ہے اس لئے اس کام کو ضلعی سطح پر یا بہتر ہے کہ صوبائی سطح پر انجام دیا جائے تو زیادہ کارآمد ثابت ہوگا۔ علاقائی ایجوکیشنل سوسائٹیوں کو ان سے رابطہ رکھنا چاہئے۔

اجتماعی زکوٰۃ فنڈکی ضرورت ہر گائوں یا قصبہ میں ہے۔ اس سے مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دورکرنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس فنڈ سے سب سے پہلے ضرورت مند طلباء کو تعاون دیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیمی ضرورت کی تکمیل کرسکیں۔ یاد رہے کہ ابتدائی تعلیم کا بندوبست حکومت کی جانب ہے اس میں صرف ذمہ داروں کو احساس جگانے اور رغبت دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں۔ اگر ابتدائی اور ثانوی سطح پر کوئی دقت ہے تو اس کو سوسائٹی کے ممبران تعلیمی اداروں کے ذمہ دار سے مل کر حل کرسکتے ہیں۔ بارہویںتک کی تعلیم حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جارہی ہے یا بہت ہی معمولی خرچ پر۔ سوسائٹی کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ ان کے علاقے میں ضرورت مند اور باصلاحیت طالب علم کون ہے؟ ان کی ضرورت تعلیمی فیس کی ہوتی ہے۔ ان کو اس شرط کے ساتھ رقم دی جائے کہ جب وہ اہل ہو جائیں گے تو یہ رقم واپس کریں گے۔ لینے والے طالب علم اور گارجین حضرات کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ آج وہ جس زکوٰۃ کی رقم کو لینے کے حقدار ہیں کل جب وہ کود کفیل ہو جائیں گے تو ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ کا شکر ادا کریں اور یک مشت نہ سہی تھوڑا تھوڑا کرکے بھی وہ رقم لوٹادیں تاکہ موجودہ مستحق طلباء اس سے استفادہ کرسکیں۔ 

اگر پندرہ سو روپے سے کم آمدنی والے افراد ہوں تو انہیں بغیر مالی تعاون کے سوسائٹی سے جوڑا جائے۔ انہیںمطالہ کی ترغیب دی جائے۔ ان کی مالی حالت بہتر بنانے کے بارے میں تعاون کیاجائے ۔ اگرکوئی فرد مالی کمزوری کی وجہ سے بزنس نہیں کر پارہا ہے تو اسے اس کے پسند کا کام جسے وہ بخوبی انجام دے سکتا ہو، زکوٰۃ فنڈ سے مالی تعاون دے کر شروع کرادیں۔ اس بارے میں چار پانچ افراد مل بیٹھ کر مشورہ کریں اس فرد کے قابلیت کا جائزہ لیں۔ مشورہ میں اسے بھی شامل کریںاور اس کی پسند کا کم شروع کرائیں۔ تعلیمی اور شعوری طور پر ہر فرد کو اس کا بات احسا س ہونا چاہئے کہ آج وہ کس قابل ہے اور اسے کس چیز کی کتنی ضرورت ہے۔ اگر آج اس کی مالی حالت کمزور ہے تب تو وہ زکوٰۃ فنڈ سے رقم حاصل کرے، اس کا حق ہے۔لیکن جیسے ہی اس کی مالی حالت بہتر ہو اور اس حالت میں ہو کہ اس کی طبیعت اس رقم کو لوٹا دینابہترسمجھتا ہو تو لوٹا دینا چاہئے ورنہ جب وہ زکوٰۃ دینے کا اہل ہوگا تب اس فنڈ کو زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر خدا نہ خواستہ وہ محنت کرتا رہا  اور اس قابل نہ ہو سکا کہ وہ زکوٰۃ فنڈ سے حاصل کردہ رقم نہ لوٹا سکا تو کوئی حرج نہیں کیوں کہ وہ اس وقت زکوٰۃ لینے کا مستحق ہے۔ محنت کا اجر اللہ دے گااور محنت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کی تنگی دور کرے گا۔

تقریباً ہر گائوں میں ایسے افراد ہیں جو سالانہ خاص طور رمضان شریف کے موقع پر زکوٰۃ حاصل کر کے جمع کر لیتے اور اسی سے اپنا کھانا خرچہ پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو افراد و خواتین تندرست و توانا ہوں ان کو کام کی طرف راغب کرایا جائے اور بتایا جائے کہ ان کا یہ عمل بہتر نہیں ہے ایسے افراد کو انفرادی زکوٰۃ نہ دی جائے بلکہ زکوٰۃ فنڈ سے ان کے لئے کاروبارکرایا جائے۔ نادار لیکن صحت مند عورتوں کے لئے بھی گائوں میں کئی کام ہیں جسے وہ کرکے اپنی محنت کی اجرت سے زندگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ زکوٰۃ لے کر اپنا کھانا خرچہ پورا کرنے سے کہیں یہ بہتر عمل ہوگا۔ جو نادار و صحت مند عورتیں زکوٰۃ مانگتی پھرتی ہیں کم از کم انہیں اتنا کام تو ضرور آتا ہے کہ وہ گھریلو کام کاج کی ملازمت مالدار گھرانے میں حاصل کرسکیں۔ گھر کے جھاڑو پوچھا سے لے کر بچوں و بزرگوںکی دیکھ بھال اور گھر باغ کی دیکھ بھال وغیرہ کا کام بخوبی انجام دے سکتیں ہیں۔ اور یہ آمدنی ان کی محنت کی آمدنی ہوگی۔ نادار و صحت مند مرد و عورتیں مرغی، بکری اور دوسرے گھریلو جانور پال کر بھی اپنی خانگی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ عمل ان کے زکوٰۃ لینے سے بدرجہ اولیٰ بہتر ہوگا۔ یہ عمل بظاہر کمتر ہے ہے لیکن در در بھیک مانگنے یا زکوٰۃ و خیرات طلب کرنے سے بہت بہتر ہے۔ اللہ کی ذات سے امید رکھنی چاہئے کہ ان کے اس نیک اور حلال عمل سے جلد ہی خود کفیل و مالدار بنا دے گا۔

اس سلسلے میں ہماری درخواست مساجد کے ائمہ کرام سے ہے کہ وہ جمعہ کے خطبہ میں مختصراً سماجی اور معاشرتی پہلو پر اسلامی نقطہ نظر سے اصلاح فرمائیں۔ میں نے بہت سے ائمہ کرام کو خطبہ میںاس طرح کے جملے کہتے ہوئے سنا کہ ’’ہمارے میں معاشرے میں فلاں فلاں خرابی ہے۔ ہماری قوم کے بچوں کو وضو کرنا نہیں آتا۔ ہماری قوم کے بچوں کو کلمہ نہیں آتا۔ ہماری قوم کے بچوں کو نمازادا کرنا نہیں آتا۔ ہماری عورتوںکوغسل جنابت نہیں آتا۔‘‘ وغیرہ۔ یہ شکایتیں ہیں۔ یہ اصلاح نہیں ہے۔ آپ انہیں ان اعمال کو درستگی سے ادائیگی کے طریقے بتائیے۔ منفی انداز کو مثبت انداز میں تبدیل کیجئے۔ امید ہے کہ اس طرح لوگ دینی امور کی طرف مائل ہوںگے اور سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ اگر آپ چھوٹی چھوٹی معلومات ہر جمعہ میں دس پندرہ میں بتائیں گے تو یہ عوام کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

………محمد فیروزعالم ایڈیٹر ماہنامہ  ’’نئی شناخت‘‘ نئی دہلی    اگست ۲۰۰۳


Thursday, February 9, 2023

چراغ تلے اندھیرا

تَعَلَّمُوا القرآنَ وعلِّمُوهُ الناسَ وتعلَّمُوا العِلْمَ وعلِّمُوهُ الناسَ وتعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وعلِّمُوهَا الناسَ فإِني امرؤٌ مقبوضٌ وإنَّ العلْمَ سَيُقْبَضُ حتى يختلِفَ الرجلانِ في الفريضةِ لا يَجِدَانِ من يُخْبِرُهُمَا

قرآن مجید کی درس وتدریس کی فضیلت میں مذکورہ حدیث عموماً پیش کی جاتی ہے۔

قرآن مجید کے سیکھنے اور سکھانے اور اس کی درس وتدریس کے لیے جمع ہونے کی فضیلت کے بیان میں کئی احادیث مروی ہیں۔ … … حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہےکہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت اور اس کی درس وتدریس کی کوشش کرتی ہے توان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں کی مجلس میں کرتے ہیں جو اللہ کے پاس ہوتے ہیں۔''

اس حدیث میں چار باتیں بیان کی گئیں ہیں

ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔

رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔

فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں کی مجلس میں کرتے ہیں۔

ہم میں سے کون ایسا ہے جو ان مذکورہ بالا باتوں میں سے کسی ایک کی بھی خواہش نہ رکھتا ہو، کس قدر تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی عمل میں یہ تمام فضیلتیں ایک ساتھ جمع ہو جاتی ہیں۔

مزید قرآن و حدیث سے حوالہ دینے یا وضاحت کرنے سے بہتر ہے کہ ہم رائج خیالات و رواج پر گفتگو کریں۔ کیوں کہ یہ بھی ہمیں کچھ نہ کچھ مرحلے آسان کرتی ہیں۔ مثال کے طور مذکورہ محاورہ ’’چراخ تلے اندھیرا‘‘ کا کیا مطلب ہمارے معاشرے میں لیا جاتا رہا ہے، اس پر توجہ دیں۔

۱۔اس موقع پر مستعمل جہاں کسی نیکی خوبی یا فائدے کی بات سے قریب تر اشخاص وغیرہ محروم ہوں یا بیگانوں کو فائدہ پہنچے اور یگانےمحروم رہیں ، روشن دلوں سے بے خبری واقع میں آئے.۔

۲۔پرانے زمانے میں گھروں میں رات کو چراغ جلائے جاتے تھے ۔ چراغ کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے جبکہ وہ سارے گھر کو روشن کرتا ہے ۔ اسی مناسبت سے اگر کسی شخص سے ساری دنیا کو فیض پہنچے لیکن اس کے قریب کے لوگ محروم رہیں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔

۳۔ اس سے متعلق ایک حکایت بیان کی جاتی ہے ۔ ایک سوداگر سفر کرتا ہوا ایک بادشاہ کے قلعہ کے پاس پہنچا تو رات ہوچکی تھی اور قلعہ کا دروازہ بند کیا جاچکا تھا ۔ اس نے قلعہ کی دیوار کے سایہ میں رات گزارنے کا ارادہ کیا ‘ اس نے سمجھا کہ بادشاہ کے ڈر سے کوئی بدمعاش یہاں آنے کی ہمت نہیں کرے گا ۔ رات کو چور اس کا سارا سامان چرا کر رفو چکر ہوگئے ۔ صبح سوداگر اٹھا تو اپنی بدحالی کی فریاد لے کر بادشاہ کے سامنے گیا ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا تم قلعہ سے باہر کھلے میدان میں آخر سوئے ہی کیوں ‘‘ ۔ اس نے عرض کیا ’’بادشاہ سلامت! مجھ کو اطمینان تھا کہ آپ کا اقبال میری حفاظت کرے گا اور کسی کو مجھ لوٹنے کی ہمت نہ ہوگی مجھے خبر نہیں تھی کہ ’’چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔‘‘

۴۔غیروں کو فائدہ پہنچانا اور اپنوں کو محروم رکھنا

اگر ہم معاشرے میں نظر دوڑاتے تو اکثر ایسا ہی ہو تا دکھائی دے رہا ہے۔ ہم علم حاصل کر رہے ہیں لیکن ٹکسالی علم کے حامل ہیں خواہ وہ عصری یا دینی، کوئی بھی تعلیم ہو۔ ابھی کچھ دنوں پہلے تک روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا چھوٹا ویڈیو یا آڈیو پیغام واٹس ایپ کے ذریعہ آجاتا تھا جس میں اماموں، مولویوں، مؤذنوں کی مفلوک الحالی کا رونا رویا جا رہا ہے۔ کچھ اماموں کی تنظیمیں بھی ہیں، ان کے رہنما ان کی خاصیتیں بیان کر رہے ہیں اور اُن کی محنت اورکوششوں کو اس طرح لوگوں پر بیان کر رہے ہیں کہ جیسے دین انہیں کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔

پھر دوسری طرف مسلم قوم کے ساتھ دیگر فرقہ کے لوگوں کے ذریعہ ستائے جانے کے واقعات بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر مسلم قوم کی کیا سوچ و فکر بنتی جارہی ہے۔ جو ملا اسے عمل میں نہیں لایا جاتا  اور نہ ہی شکر کیا جاتا۔ جو نہیں ملا اُس کا رونا رویا جاتا۔ آخر مسلمان چاہتا کیا ہے؟ آخر مسلمان دنیا میں جنت کی امید کیوں لگائے بیٹھا ہے۔؟

اگر آپ سے کوئی لیڈر مذاکرات کے لئے کہتا ہے تو اسے بھی آپ تسلیم نہیں کرتے۔ … … اگر الیکشن کی تیاری کی وجہ سے ایسا بیان آ رہا ہے … تو آج کوئی نیا تو ہے نہیں۔ … دہائیوں سے جاری ہے۔ 

اگر آپ کہتے ہیں بیوقوف بنایا جارہا ہے تو آپ دہائیوں سے بیوقوف ہیں اور نئے بن بھی رہے ہیں۔

وہ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں، اُن کا کام ہے، اُن کی ذمہ داری ہے۔ وہ کر رہے ہیں۔ … … ہمیں بھی کچھ تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ … … جیسے کہا گیا کہ قیامت قریب ہے۔ … … نجات حاصل کرنے کے لئے کچھ سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔ … … کیا ہم اس کی تیاری کر رہے ہیں؟

قرآن مجید پڑھنا پڑھانا بہت ہی عمدہ عمل ہے، جیسا کہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ دس لوگوں سے پوچھیں کہ آپ اپنے بچے کو قرآن مجید پڑھا کر ایک حافظ مولوی بنانا پسند کریں گے؟ … … تو دس میں سے شایدسبھی کا جواب اثبات میں ہوگا۔ لیکن یہ یہی سوال اس طرح پوچھیں کہ آپ اپنے بچے کو قرآن مجید اور احادیث پڑھا کر ایک اچھا انسان بنانا پسند کریں گے؟ … … تو تقریباً سب کے سب سوچ میں پڑھ جائیں گے۔

ایسا ہم کیوں کہہ رہا ہیں … … کہ ہم چاہتے تو ہیں … … کہ ہم قرآن و حدیث والے بنیں … لیکن نفسانی خواہش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

جو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ کبھی کسی تعلیمی ادارے کا رُخ نہیں کیا۔ یا کسی نے زبانی طور پر کوئی تعلیم نہ دی۔ یا اُن تک نہ پہنچی تو اُن کو تو اَن پڑھ کہا جاسکتا ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کریں یا کسی غلط رسموں سے وہ اپنی زندگی گزاریں تو اُن آپ اَن پڑھ اور جاہل کہہ سکتے ہیں۔ وہ کہیں کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا۔ تو کسی حد تک اُن کا کہنا درست ہے۔ 

لیکن جو کسی نہ کسی طریقے پڑھ لکھ رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے کا بھی رُخ کر رہے ہیں۔ دسیوں برس اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ذمہ داری نبھا رہے ہیں لیکن طور طریقے غیر سنت ہے تو اُن کو کیا کہیں گے؟

حافظ یا مولوی بن کے بندہ گھر آتا ہے اور وہ گھر میں سنت کے مطابق طریقہ رائج کرنا چاہتا ہے تو اُسے گھر کے ہی لوگوں سے جواب ملتا ہے کہ  ’’دو چار کتابیں پڑھ کے قابلیت جھاڑ رہے ہیں…  ہمارے یہاں جو رائج ہیں…  ہم وہی کریں گے۔ … تم اپنا درس مدرسے کے بچوں کو دینا۔‘‘

بچے ماشاء اللہ اتنے فرماں بردار ہوتے ہیں کہ اُن کے ماں باپ اَن پڑھ یا لا علم ہیں اور بھی روایتی خرافات کے ساتھ زندگی جی رہے تو پڑھے لکھے بچے بھی اپنے والدین کو اتنی جلدی قائل نہیں کر پاتے۔ اور اُن کا جواب ہوتا ہے کہ ’’میرے ماں باپ جیسا کہیں گے، ویسا تو کریں گے۔‘‘ ہم نہیں جانتے کہ سنت کیا ہے اور فرض کیا ہے؟ جو ہمارے خاندان میں رائج ہے وہیں کریں گے۔

اب آپ بتائیں اِس جہالت کو کیسے سدھاریں گے؟

علم کیا ہے؟ اللہ کی معرفت کا ذریعہ۔ اور 

جاہلیت یہ ہے کہ اللہ کی  الوہیت سے آدمی جاہل ہو اور اپنے آپ کو کسی ایک معاملے میں یا اکثر معاملات میں شریعت کا پابند نہ سمجھے۔

سورہ لقمان میں حق باری تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّـهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان۱۳)

’’اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے‘‘۔[سورہ لقمان۱۳]

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ  (لقمان۱۴)

’’ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے‘‘[سورہ لقمان۱۴]

دیکھئے تو ماں اپنے بچے کو کس قدر مشقّت کے ساتھ اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے،جب کہ باپ بچے کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری کو نبھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ اس وجہ سے والدین کا اپنے بچے پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ اپنے محسن والدین کے احسانات کا بھی شکر گذارہو۔۔

آج تربیت اولاد کے موضوع پر دسیوں کتابیں بازار میں موجود ہیں۔

اور گھروں و خاندانوں کا جائزہ لیں تو نتیجہ نکلے گا کہ ہم نے بچوں کو صرف پیسہ کمانے کی مشین بنائی ہے۔ باقی سب کچھ ویسے ہی چل رہا جیسے پرانے زمانے سے چل رہا تھا۔

جہالت کے نمونے کے طور پر اللہ کے رسول مُحمَّدکے زمانے میں ایک شخص کا لقب ابو جہل پڑا۔ اہلِ علم کو پتا ہوگا کیوں؟  …  کیوں کہ وہ شخص یعنی  ’’عمرو بن ھشام بن المغیرہ جس کی کنیت ابوالحکم تھی۔ آبائی مذہب پر سختی سے قائم رہنے کی وجہ سے ابوجہل کے لقب سے مشہور ہوا۔ اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دشمن تھا۔ مکے میں آنحضرت اور صحابہ نے اس کے ہاتھوں سخت اذیتیں جھیلیں۔ بدر کی لڑائی میں قتل ہوا۔‘‘

وہ شخص سمجھدار اور عقل مند ہونے کی وجہ سے اپنے زمانے کا ابوالحکم تھا لیکن اللہ کا پیغام نہ ماننے کی وجہ سے ابو جہل قرار دیا گیا۔  اب ہم پڑھے لکھے ہونے اور اللہ کا پیغام نہ ماننے کے بعد بھی پکے مومن، جنت کا پرچہ میرے نام نکل چکا ہے۔ چاہے ہم اپنی زندگی سنت کے مطابق نہ گزاریں، شیطان کو اپنا دوست اور بھائی بنائے رکھیں پھر بھی پکے مُحمَّدی۔

 دوستی، تعلقات، بڑی گہرائی تک ہے۔ لیکن جیسے ہی معاملات کی نوبت آتی ہے۔ وہاں پر سب کھل کر سامنے آجاتے ہیں کہ کون کتنا دین دار ہے۔

وہاں تک دین کے ساتھی ہزارو

جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے

سہیل آفندی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش


Sunday, July 17, 2022

🌹 پانچ تحفے 🌹

اُن کو مل سکتے ہیں، جن کو ہائپر ٹینشن یا ڈائی بی ٹیز کی پروبلم ہے۔ اور وہ گزشتہ ایک سال سے اسے نارمل کرنے کے لئے دوائی استعمال کر رہے ہیں۔تو اُن کو ایک یا دو تحفے مل سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے اُنہیں پانچوں تحفے مل جائیں۔ جی ہاں دوستو! تو اُن کی حالت کیسی ہوگی، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔

تحفہ نمبر۱ ’’آنکھوں کی دقت‘‘۔ اگر کسی کو اُوپر بیان کئے گئے پروبلم میں سے کوئی بھی پروبلم شروع ہو گئی ہے تو اُنہیں آنکھوں کی کمزوری ہو سکتی ہے۔ اُنہیں دھندلا دکھائی دے سکتا ہے۔ آنکھوں میں خون کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پڑنے لگتی ہے۔ آنکھوں کے عصبات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تحفہ نمبر۲ ’’دل کی بیماری‘‘۔ ادیبوں اور شاعروں یا افسانوی ادب والی دل کی بیماری نہیں بلکہ جسمانی طور پر دل کی بیماری شروع ہو سکتی ہے۔ ہارٹ تک خون کی سپلائی کم ہو جاتی ہے۔ خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، خون کی نلیاں پتلی پڑ جاتی ہیں، ہارٹ کو خون پمپنگ کرنے میں زور لگانا پڑتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ہارٹ کام کرنا بند کر دیتا ہے، جسے عام زبان میں ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔

تحفہ نمبر۳ ’’گردے کا ناکام ہونا‘‘۔ یہ ایک بہت بڑی اور خطرناک پروبلم ہے۔ گردے ناکام ہونے کی شکایتیں آپ نے عام طور سے سنی ہوں گی۔ کہ فلاں کے گردے فیل ہو گئے، اُن کو اب ڈائیلائسس کے لئے ہر ہفتے جانا پڑتا ہے۔جب سے HIIMS کھلا ہے وہاں سب سے زیادہ گردے کے مریض آ رہے ہیں۔ اس لئے ہماری گزارش کہ جن کو کڈنی کی پروبلم ہے وہ جلدی سے جلدی اسے ٹھیک کریں۔ ورنہ اُن کے ساتھ کوئی بھی اَن ہونی ہو سکتی ہے۔ کڈنی کا فیل ہونا سب سے خطرناک پروبلم ہے۔

تحفہ نمبر۴ ’’برین اسٹرک‘‘ یعنی پیرلائز ہونا۔ عام زبان میں اسے لقوہ بھی کہتے ہیں۔ یہ پروبلم بھی خون کے گاڑھا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بلڈ کلوٹنگ ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے برین اسٹروک ہو جاتا ہے۔

تحفہ نمبر۵ ’’خاندانی انتشار‘‘ اِن چاروں بیماریوں کی وجہ سے جو سب سے بڑی پروبلم آتی ہے وہ ہے خاندانی نظام کا درہم برہم ہو جانا۔ جی ہاں دوستو! آپ ذرا غور کریں اگر کسی خاندان میں کسی ایک کو بھی کڈنی کی پروبلم شروع ہو گئی ہے اور انہیں ہفتہ میں ایک یا دو بار ڈائیلائسس کی ضرورت پڑ رہی ہے اور آپ کو انہیںلے کر بار بار اسپتال جانا پڑتا ہے۔ جس میں خرچ تو آتا ہی ہے ساتھ میں ایک دو لوگ اور مصروف ہو جاتے ہیں۔ عموماً بیمار ہو کر اسپتال جانے والی پروبلم میں ایک کے ساتھ دو فری جاتے ہیں۔ جو غیر معمولی طور سے خاندانی نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ لہٰذا ایک کے ساتھ دو فری جانے والی پروبلم سے نجات حاصل کریں۔

جی ہاں دوستو یہ باتیں ہمیں کیسے معلوم ہوئیں؟ یہ پتا چلا HIIMS میں آنے والے مریضوں کے ڈیٹا سے۔ جس میں اکثر مریض پہلے بیان کئے گئے چاروں امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جن میں اکثر کی کڈنی ستّر، اسّی اور نوے فیصد تک کام کرنا بند کر چکا ہوتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ کڈنی والی پروبلم تحفہ میں نہ ملے تو آپ D M H سے دور رہیں۔ یعنی ڈاکٹر، میڈیسن اور ہاسپیٹل سے دور رہیں۔

تو اِس کا علاج کیا ہے؟ کیسے بچیں؟ اور کیسے صحت مند رہیں؟ اس کا آسان علاج کیا ہے؟

سب سے پہلے تو آپ مرض ہونے کی وجہ جانیں۔

جسم میں مرض ہونے کی پہلی وجہ ہے گندگی۔ یعنی Toxin۔  باہری گندگی تو آپ کو دکھائی دیتی ہے لیکن اندرونی گندگی نہ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اُس صفائی کے لئے عموماً آپ وقت نکالتے ہیں اور نہ ہی کوشش کرتے ہیں۔ تو سب سے پہلے اپنے جسم میں بھری ہوئی گندگی (Toxin) کو باہر نکالیں۔ نہیں نکالیں گے تو آپ صحت مند نہیں رہیں گے۔ 

Toxin نکالنا ہو تو کیا کریں؟

قدرتی خوراک کو اپنی دوائی بنائیں۔ یعنی درست خوراک صحیح وقت پر لینا شروع کریں۔

تو سب سے پہلے ایلوپیتھی میڈیسن کو الوداع کریں۔ اور نیچرل ڈائٹ کو اپنائیں۔ یہ آپ کے لئے بطورِ دوا بھی کام کرے گا اور بطورِ خوراک بھی۔ 

اس کا کوئی Side Effects نہیں ہے بلکہ Side Benefitsہیں۔

یاد رکھیں اگر آپ نے خوراک کو دوائی نہیں بنایا تو جلد ہی دوائی آپ کی خوراک بن جائے گی۔ اور آپ کو پوری زندگی دوائی پر گزارنی پڑے گی۔ جس سے آپ کی صحت اور آپ کے سرمایہ، دونوں کا نقصان ہوگا۔

اس لئے ڈی آئی پی ڈائٹ کو اپنائیں۔ اس بارے میں جاننے کے لئے یو ٹیوب پر موجود ڈاکٹر بسوا روپ رائے چودھری کا ویڈیو دیکھیں۔ اور اپنا ڈائٹ پلان تیار کریں۔

ڈائٹ پلان ہمارے بلوگ پر بھی موجود ہے۔

اگر پھر بھی آپ کو کوئی پریشانی آئے یا آپ ایسا نہیں کر پا رہے ہیں تو ڈی آئی پی ڈائٹ پلان یا کسٹمائز ڈی آئی پی ڈائٹ پلان تیار کرنے کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔

ڈی آئی پی ڈائٹ نہ صرف مذکورہ بیماریوں کو دور کرتا ہے بلکہ اور بھی کئی متعدی بیماریوں کو ٹھیک کرنے میں کارگر ہے۔ جیسے کہ خونی یا بادی بواسیر، سورائسس، پیشاب کی جلن، بے خوابی، عورت مرد کے جنسی امراض اور نامردی، بالوں کا جھڑنا اور وقت سے پہلے سفید ہونا۔ داغ دھبے کا نا مٹنا، موٹاپا، گانٹھ، وغیرہ درجنوں امراض جسے آپ اَن دیکھا کر دیتے ہیں یا کر چکے ہیں، سبھی کو ٹھیک کرنے میں معاون ہے۔

یہ HIIMS کیا ہے۔ ہاسپیٹل اینڈ انسٹی ٹیوٹ آف انٹی گریٹڈ میڈیکل سائنسز

Hospital & Institute of Integrated Medical Sciences

https://hiims.in پر جاکر تفصیل معلوم کر سکتے ہیں۔

فی الحال یہ چنڈی گڑھ، جے پور، جودھپور، دہلی، گروگرام، امرت سر  میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ آپ HIIMS کے طریقہ کار کو اپنا کر اپنے گھر پر بھی علاج کر سکتے ہیں۔ کڈنی ڈائی لائسس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے اس ویڈیو کو دیکھیں۔

Kidney Failure | CKD | Kidney Dialysis | Hot Water Tub Therapy | HIIMS

https://www.youtube.com/watch?v=PeXwbL5KxCU


محمد فیروزعالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537

Saturday, April 16, 2022

گرمی کے موسم میں صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کے پانچ رہنما اصول

گرمیوں کا موسم شروع ہوگیا ہے، ہمارے ملک میں موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کی بیماریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں احتیاط سب بہتر طریقہ ہے اپنے آپ کو فٹ اینڈ اکٹیو رکھنے کے لئے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ ایسے موسم میں ہمیں کسی طرح کے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہاں پانچ نقاط کا ذکر کریں گے۔جسے سمجھ کر اور عمل کرکے اپنے آپ کو موسمی تبدیلیوں سے ہونے والی پریشانیوں سے بچا سکتے ہیں۔

Outside Food

باہر کا کھانا ہرگز نہ کھائیں کیوں اس سے فوڈ پوازننگ اور ڈائیریا کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ خاص طور پر گرمی کے موسم میں باہر کا کھانا کھانے سے بچیں۔

کھانا کھانے کے لئے ہمیشہ سنت طریقہ اپنائیں۔ یعنی پیٹ کا تین حصہ کریں، ایک حصہ کھانا، دوسرا حصہ پانی اور تیسرا حصہ خالی۔ گیس کو صحیح طریقے سے بننے اور خارج ہونے کے لئے۔ ورنہ آپ ہمیشہ پیٹ کی تکلیفوں میں مبتلا رہیں گے۔ ہاضمہ کی خرابی صحت کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ 

کھانا کھانے سے بیس منٹ پہلے کم سے کم دو سو میلی لیٹر پانی ضرور پی لیا کریں۔ اگر آپ کو  کھانے کے دوران پانی پینے کی عادت ہے تو گرم پانی لے کر بیٹھیں، درمیان میں گھونٹ گھونٹ کرکے پانی پئیں، اکٹھے نہیں۔ وہ بھی سو ایم ایل زیادہ پانی نہ پئیں، کھانا مکمل کرنے کے بعد ایک دو گھونٹ پانی پی لیں۔ باقی ضروری پانی چالیس منٹ کے بعد پئیں۔ اس سے آپ کا ہاضمہ بھی درست رہے گا اور غذائیت بھی بھرپور ملے گی۔ بیماری آپ سے کوسوں دور رہے گی۔ ان شاء اللہ

Elderly & Patients

مریض اور بزرگ افراد کو گرمی کے موسم میں خاص خیال رکھنا ہے۔ کوشش کریں گھر سے باہر نہ جائیں۔ کیوں کہ گرمیوں میں ہارٹ کو اسکین تک بلڈ پہنچانے میں کافی زور لگانا پڑتا ہے

جب گرمی میں ٹمپریچر ۴۰ سے ۴۵ ڈگری تک پہنچ جاتا ہے تو ہیٹ اسٹروک ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس موسم میں ہارٹ اٹیک، چکن پوکس، ڈائریا،ہائپرٹینشن وغیرہ جیسی بیماریاں گھیرنے لگتی ہیں۔ بلکہ اِن بیماریوں کے ہونے جانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

اگر گھر سے نکلنا بہت ضروری ہو تو دھوپ سے بچنے کے لئے چھتری کا استعمال ضرور کریں۔ ساتھ میں پینے کا پانی بھی رکھیں۔

Dehydration

پانی کی کمی سے پیشاب کی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے پانی خوب پئیں، پانی ابال کر پئیں۔

اوور ہیٹ ہونے سے لو یعنی ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈی ہائڈریشن ہو جاتا ہے۔  اس لئے پانی خوب پئیں۔ ایکسرسائز کرتے وقت بھی خوب پانی پئیں۔ ویسے بھی گرمیوں میں ڈی ہائڈریشن ہو ہی جاتا ہے۔ عورتوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ کب انہیں پانی کی کمی پڑ گئی، اور کب انہیں یورِن انفیکشن ہوگیا۔ اس لئے انہیں خاص خیال رکھنا چاہیے۔ لگاتار پانی پیتے رہنا چاہیے۔ پانی کو اُبال کر ٹھنڈا کرکے پئیں۔ کیوں اِس موسم میں پانی کی کوالیٹی میں کمی آ جاتی ہے۔ پانی میں زنک، آرسینک، جراثیم کش وغیرہ پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈائریا، ٹایفائیڈ، چکن گنیا جیسی بیماریاں ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

Temperature

گرمیوں میں ٹمپریچر کی بہت اہمیت ہوتی ہے، اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ جیسے اے سی والی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں تو اصل مقام پر پہنچنے سے دس منٹ پہلے اے سی بند کر لیں۔  پھر اطمینان سے دروازہ کھول کر باہر نکلیں کیوں کہ باہر کا ٹمپریچر آپ کی بوڈی ٹمپریچر سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ اور اگر آپ کولنگ سے اچانک باہر نکلیں گے توآپ کو ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے۔ یہی وہ عرصہ ہوتا ہے جہاں آپ اچانک بیمار ہو سکتے ہیں۔

گرمی کے سفر سے آنے کے بعد ٹھنڈ میں بیٹھ کر غٹاغٹ ٹھنڈا پانی ہرگز نہ پئیں بلکہ کچھ دیر رُک کر نارمل ٹمپریچر کا پانی پئیں تھوڑا تھوڑا کرکے۔ پیاس لگی ہوتی ہے، لیکن اچانک ہی زیادہ پانی پینے سے بچیں۔ ورنہ بلڈ پریشر میں دقت آ سکتی ہے۔

فریج کا پانی ہرگز نہ پئیں۔ نہ خود پئیں اور نہ ہی بچوں کو عادت ڈالیں۔ ہمیشہ روم ٹمپریچر یا گھڑے کا پانی پئیں۔ ہمارے پیٹ کا ٹمپریچر ۳۰ تا ۳۲ ڈگری سیلسیس ہوتا ہے، جب آپ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں یعنی جسم میں ڈالتے ہیں تو پانی کا ٹمپریچر کو جسم کے ٹمپریچر میں بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ جس سے آنتوں کا انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آپ باہر کا سافٹ ڈرنک کبھی نہ پئیں، سڑک پر فروخت ہونے والے ٹھنڈا پانی ہرگز استعمال نہ کریں۔ ہاں ہو سکے تو ناریل پانی ضروری پئیں۔ اب یہ آسانی سے اکثر جگہوں پر دستیاب ہوتا ہے۔ گھر میں بادام شیک بنائیں فروٹ یا فلاور شیک بنائیں۔ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بچوں کے لئے زیادہ مفید اور کارآمد ہوگا۔

Loose Cloths

ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ گرمیوں میں ہمیشہ ڈھیلے کپڑے پہنیں، تاکہ ہمارے جسم کو مکمل طریقے سے ہوا ملتی رہے۔ عموماً آپ محسوس کریں گے کہ ٹائٹ کپڑے میں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ بی پی بڑھتا ہے تو ایسے میں کوئی بھی اپنے کپڑے کو ڈھیلا کرتا ہے تو اس کو بہت جلدی راحت ملتی ہے۔ تو کوشش کریں کہ آپ گرمیوں میں ڈھیلے کپڑے پہنیں، تاکہ سانس سے متعلق پریشانیوں کے شکار ہونے سے بچیں۔ اور دوسری تکلیف دہ بیماریوں سے بچیں۔

ہمیں امید ہے کہ آپ گرمی کے موسم میں اِن پانچ باتوں کا خاص خیال رکھیں گے اور صحت مند زندگی گزاریں گے۔ اگر آپ نے مذکورہ باتوں کا خیال رکھا تو بیماری آپ کو چھو کر بھی نہیں جائے گی۔

اگر آپ سفر میں نکل رہے ہیں تو ایک احتیاط یہ برتیں کہ ساتھ میں فائیو فوس کی ایک چھوٹی شیشی ضرور رکھیں۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی ایک دو ٹکیہ چوسیں۔ اس سے کافی راحت ملتی ہے۔


پیش کش        ابو اسجد رحیمی

16th April 2022


Thursday, February 10, 2022

ماں کے دودھ میں کمی کا مؤثر علاج

اب اکثر ایسا ہو رہا ہے کہ پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد ماں کے دودھ میں کمی آ جاتی ہے۔ بچہ کو خاطر خواہ خوراک نہیں مل پاتا اور بچہ بھوکا رہ جاتا ہے۔ توکیا کریں؟

ایسی حالت میں عمومی طور پر لوگ ڈبہ بند دودھ، جانوروں سے ملنے والے دودھ پر آ جاتے ہیں۔ والدین مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب بچے کا پیٹ بھر جاتا ہے۔ لیکن چند ہفتے بعد ہی بچوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پنپنے لگتی ہیں، جن میں پیٹ پھولنا، قبض، اُلٹی، کمزوری یہاں تک کہ پیلیا کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ بچہ بے ہوش ہو جاتا ہے، کمزوری کی وجہ سے ہاتھ پیر اکڑ جاتا ہے۔ وغیرہ۔    اب والدین بچے کو لے کر ڈاکٹر یا اسپتال کا چکر کاٹنے لگ جاتے ہیں۔ یہ ہونے والے واقعات یقیناً والدین یا ذمہ داران کے لئے پریشان کن ہوتا ہے۔ 

تو اب ایسی نوبت نہ آئے، ہمیں کیا کرنا چاہیے۔؟

ولادت کے بعد چند احتیاطی چیزوںکا ہونا بہت ضروری ہے۔

۱۔شہد ایک دو ماہ بعد یا پیدائش کے بعد دودھ کی کمی ہو تو شہد کے ذریعہ بچہ کو خوراک دیں۔ اس کی ماں کی غذائیت کا پورا خیال رکھیں تاکہ دودھ کی کمی نہ پڑے اوربچہ کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔اگر اِس عرصہ میں مذکورہ کسی بھی قسم کی بیماری کا شکار ہونے پر شہد کا ہی استعمال کریں۔ 

۲۔نونہال اور شہد نہ ملے تو ہمدرد کا نونہال بہت ہی مناسب ہے بچہ کے پیٹ کی جملہ تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے۔ 

۳۔ کیلکیریا فوس بایوکیمک سالٹ میں ایک بہتر سالٹ کیلکیریا فوس بہت ہی مناسب ہے۔ یہ عمومی طور پر ہومیوپیتھی اسٹور پر مل جاتا ہے۔

دودھ وافر مقدار میں ہو اس کے لئے ماں کو چاہیے کہ درج ذیل بایوکیمک سالٹ استعمال کریں۔

Calc Flr. 3x

Calc Phos 3x

Nat Mur 3x

Silicea 12 x

ان چاروں میں سےایک میں سے چار ٹیبلٹ روزانہ ایک بار چوسنا ہے، اس کے بعد گنگنا پانی پی لیں۔ ہر ایک کو لینے کے مابین چار گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔

مثال کے طور سب سے پہلے کلکریا فلوریکا صبح سات بجے چوس لیں۔

اس کے بعد کلکریا فوس گیارہ بجے

اس کے بعد نیٹرم میور سہ پہر تین بجے

اس کے بعد سلیشیا شام سابجے۔

چند دنوں میں معقول مقدار میں دودھ آ جائے گا جس سے بچے کو بھرپیٹ خوراک مل جائے گا۔ ماں بھی صحت مند رہے گی۔

ماں کو چاہیے کہ اپنی قوتِ دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے ہلدی اور ہلدی سے بنا ہوا حلوہ کا استعمال ضرور کریں۔ اس طرح کے رکھ رکھاؤ کے طور طریقے بہشتی زیور میں بھی موجود ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اس کا مطالعہ کریں اور اپنی صحت کی دیکھ بھال کریں۔

’’بہشتی زیور‘‘ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی بہت ہی عمدہ تصنیف ہے۔ قوم کی بچیوں کو اس کی تعلیم ضروری دینی چاہیے۔ میرا اپنا تجزیہ ہے کہ اگر ہماری بیٹیاں اس کتاب کو سمجھ لیں تو آج کی گریجویٹ ہیں۔ اس میں حالات کے تحت وہ سارے طور طریقے بتا دیئے گئے ہیں جس آپ اپنے خاندان کی صحت و عافیت کا خیال کرسکتے ہیں۔ سرمایہ کی بچت کرسکتے ہیں اور بھاگ دوڑ سے بچ سکتے ہیں۔

اس بارے میں مزید معلومات اور رہنمائی کے لئے رابطہ کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیروزعالم

بایوکیمسٹ

9891079585 

3 PM to 9 PM



Sunday, September 19, 2021

شیرخوار بچوں میں ہونے والی تکلیفیں اوراُس کا علاج

برسات کا موسم ختم ہونے والا ہے اور سردی جلدی ہی ہمارے ماحول پر اپنا اثر دکھانے والی ہے۔ عمومی طور پر یہ آنے جانے والے موسم ہماری صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اکثر مرد و خواتین اور خاص طور سے بچے اور بزرگ موسم کی چپیٹ میں آ ہی جاتے ہیں۔

احتیاط اور علاج بتانے سے پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ جو بھی بیماری سے متأثر ہوتے ہیں، اُن میں پہلی وجہ قوت دفاع یا قوت مدافعت کی کمی سب سے اہم ہے، جسے آج زیادہ تر لوگ امیونی ٹی (Immunity) کی کمی کے طور جاننے لگے ہیں۔ اس کی بھرپائی کے لئے اکثر لوگ کسی بھی سنی سنائی یا مشہور برانڈ کے مشروبات، معجون، پاوڈر وغیرہ کا استعمال کرتےہیں یا ڈاکٹروں کی مشورے سے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کی اشیاء کے استعمال کے باوجود کئی کئی مہینے بیماری میں گزرجاتے ہیں۔ یا ایمرجنسی میں بھرتی ہوکر علاج کرانا پڑتا ہے۔ اکثر ایک کے ساتھ ایک یا بعض دو کو ساتھ میں جانا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر کئی مہینوں میں طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ 

پھر چند ہفتے ٹھیک رہتے ہیں جب تک دوسرا موسم آ جاتا ہے اور پھر دوسری بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو گویا سال میں کئی بار بیمار پڑنا اور کئی بار علاج کرانا۔ 

اگر یہی سلسلہ پیدائش کے وقت سے ہی شروع ہو جائے تو اُس خاندان یا اُس جوڑے کی حالت کیا ہوگی؟ کیا کچھ نہیں گزرتا ہوگا بچے کے والدین پر۔ اللہ کی عنایت کردہ ایک نعمت اور آئے دن ڈاکٹر یا اسپتال کا دورہ۔ یہ حال نہ آپ کے لئے بہتر ہے اور آپ کے بچے کے لئے۔ شیرخوار بچوں میں ہونے والی پہلی بیماری وہ ہوتی ہے جو اُس کے والدین کی طرف سے یا اُن کی لاپرواہی کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ

بچے کو قبض ہونا  اگر ماں کا دودھ پیتے بچے کو قبض ہو جائے تو یقیناً اُس کی ماں کو قبض ہے یا اُس نے قبض تیار کرنے والا کھانا کھایا ہے۔ اس ایسی ماؤں کو سادہ اور غذائیت سے پُر کھانا کھانا چاہیے۔ تاکہ بچے کو پوری مقدار میں دودھ مل سکے اور غذائیت کی کمی کا شکار نہ ہو۔

بچے کو ٹھنڈ لگ جانا  اس کی ایک وجہ تو کپڑے کی لاپرواہی ہے کہ بچہ کو آپ نے کھلا چھوڑ دیا یا مناسب پوشاک میں نہیں رکھا، یا ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا، یابچہ اپنے پیشاب پر کئی گھنٹے پڑا رہا۔ وغیرہ دوسری سب سے اہم وجہ جس میں اکثر خواتین لاپرواہی کرتی ہیں وہ ہے ٹھنڈا کام (کپڑا دھونا، برتن دھونا یا کافی دیر سے بارش میں بھیگنا) کرنے کے فوراً بعد بچہ کو دودھ پلا دیا تو اس بچہ کو سانس لینے میں دقت آئے گی۔ پسلی چلنے لگے گی۔ نیمونیا بھی ہو سکتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماں کو ایامِ حیض میں ہونے والی دقتوں کی وجہ سے بچہ میں کئی طرح کی دقت ہو سکتی ہے ۔ جس میں کمزوری، خون کی کمی، قبض وغیرہ یا اسی سے ملتی جلتی بیماری بچہ کو بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ ماں تو بالکل صحت مند ہے لیکن بچہ کمزور ہو گیا ہے اور سانس کی بیماری بھی لاحق ہو گئی ہے تو اس میں لاپرواہی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تو اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اب اس کا علاج کیسے کریں؟ 

۱۔ گھریلو طور پر ’’شہد‘‘ کا استعمال ضرور کریں۔ شہد ہر عمر و جنس کے لئے یکساں طور پر مفید غذا ہے۔

اگر بچہ کو قبض ہو تو اسے روزانہ کم سے کم دس ملی لیٹر یا چائے کے چھوٹے چمچہ سے ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام کو ضرور چٹانا چاہیے۔ دو تین دنوں میں اچھا خاصا افاقہ ہو جائے گا اور غذائیت بھی بھرپور ملے گی۔ اس سے بچہ تندرست ہو جائے گا۔ اگر دو چمچہ سے زیادہ شہد کھانے میں بچہ دلچسپی لے تو ضرور دیجیے۔

۲۔ ہمدرد کا بنا نونہال گرائپ سیرپ استعمال کریں۔ استعمال کے لئے عمر اور مقدار اس کے پیکٹ میں دستیاب پرچی پر لکھا ہوتا ہے۔ اسی پر عمل کریں۔

۳۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو ٹھنڈ کے موسم میں اجوائن کو ابال کر ضرورپینا چاہیے۔ میٹھا کرنے کے لئے گڑ کا استعمال کریں۔ چینی کا نہیں۔ دو چار بوند بچہ کو پلایا جا سکتا ہے۔

۴۔ Calcarea Phosphorica 6x آسانی سے ہومیوپیتھی اسٹور پر مل جاتا ہے ۔ ایک ایک ٹیبلٹ بارہ گھنٹے کے اندر چار بار بچہ کو دینا ہے۔ بہت ہی چھوٹا بچہ ہو تو اسے اس کے منہ سائز کے چمچہ میں دو چار قطرہ پانی سے گھول کر پلائیں۔ 

انتباہ  یاد رہے لیٹے ہوئے حالت میں بچہ کو کچھ بھی نہ کھلائیں نہ پلائیں۔ اپنے گود میں بٹھا کے سر اونچا کر کے شہد چٹائیں یا نونہال چٹائیں یا ٹیبلٹ چوسائیں۔ دودھ پلانے والی مائیں بھی بچے کو گود میں لے ہی دودھ پلائیں۔ سوئے ہوئے حالت میں دودھ پلانے سے کئی زچہ بچہ دونوں کو نیند آ جاتی ہے، عموماً زچہ بے پردگی میں سوتی ہیں۔ یہ غیر مناسب ہے۔ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ اگر زچہ کو دودھ زیادہ آ رہا ہے اور بچہ دودھ پیتے ہوئے سو جاتا ہے تو دودھ بہہ کر بچہ کے ناک، کان اور گردن تک پہنچ جاتا ہے، جس سے انفیکشن کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔ کچھ دنوں میں بچہ کے کان سے بدبودار مواد خارج ہونے لگتا ہے جسے کام بہنا کہتے ہیں۔ اگر اس پر فوراً دھیان نہ دیا گیا تو مسلسل کان میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے بچہ بہرا بھی ہو سکتا ہے۔ آنکھ کے انفیکشن سے کئی بار روشنی سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔ یا گردن اور سر کا زخم بھی عموماً تجربہ میں آیا ہے۔ اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔

اسی ضمن میں ایک بات اور آتی ہے کہ اگر عورت کو اتنی مقدار میں دودھ نہ ہو کہ بچہ کے لئے کافی ہو تو اکثر والدین بازار سے ملنے والے دودھ بچے کو پلاتے ہیں، جس سے بچے کو پیٹ کی کئی قسم کی دقتیں آنے لگتی ہیں۔ ایسی حالت سے نمٹنے کے لئے چند بہتر بایوکیمک سالٹ ہیں جو عورتوں میں دودھ کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے نام اور طریقۂ استعمال یہ ہیں۔

  صبح خالی پیٹ چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Calcarea Fluorica 6x

  گیارہ بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Calcarea Phosphorica 6x

دن میں تین بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Natrum Muriaticum 6x

شام میں سات بجے چار ٹیبلٹ گنگنے پانی سے  Silicea 12x

ان کے استعمال سے چند دنوں کے اندر ہی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔

مزید معلومات کے لئے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ 

9891079585

ڈاکٹر محمد فیروزعالم، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر 

صحت کے بارے میں ہمارے تجرباتی مضامین درج ذیل بلاگ پر بھی ملاحظہ فرمائیں۔

https://careyourselfbc.blogspot.com/

 

خوشخطی اور کتابت قائم رکھنا ضروری ہے؟

مذکورہ سرخی کو پڑھنے کے بعد اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ خوشخطی اور کتابت سیکھنا اور قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟ آج کے کمپیوٹر...