Tuesday, March 25, 2025

Consumption of Zakat and our Attitude

 ⚽⚽زکوٰۃ کا مصرف اور ہمارا رویّہ⚽⚽

🌻🌻🌻

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 

(سورۃ التوبۃ، آیت ۶۰)

اس صدقہ سے مراد زکوٰۃِ واجبہ ہے۔ نہ کہ عام صدقہ جو سبھی کے لئے مستحب ہے۔ بغیر کسی کے کسی کا خاص نہیں۔ صدقات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اور کسی کے لیے نہیں، کیونکہ اس نے انہیں ان تک محدود کر دیا ہے، اور وہ آٹھ قسم کے ہیں۔

پہلا اور دوسرا غریب اور محتاج، اور وہ اس جگہ پر ہیں، دو مختلف قسم کے ہیں، غریب غریبوں سے زیادہ محتاج ہے، کیونکہ اللہ اُن سے شروع کرتا ہے، اور سب سے اہم کے علاوہ شروع نہیں کرتا، پھر سب سے اہم، لہٰذا غریب کو اس سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو کچھ نہیں ملتا، یا اس کے آدھے کے بغیر اپنی کچھ کفایت پاتا ہے۔

(اس کی تفصیل میں کئی قسم کے اختلافات ہیں) 

۳۔ عاملین، جو زکوٰۃ کو وصولنے یا رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ 

۴۔ تالیف قلب، دوسری ضرورت مند قوموں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے خرچ کرنا۔ 

۵۔ گردن چھڑانا، یعنی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے والے کو قید سے چھڑانا۔  

۶۔ قرض دار (اس کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں)  

۷۔ اللہ کی راہ میں حملہ آور 

۸۔ مسافر اور اجنبی (یہ آیت تفصیل طلب ہے۔)

مذکورہ امور اور اس کی اقسام سے وہ سبھی اہلِ علم واقف ہیں، جو قرآن و حدیث کے عالم و عامل ہیں۔ وضاحتی مضامین و تقاریر کی بھی کمی نہیں ہے۔ عمومی سوال یہ آتا ہے کہ قوم کی غربت اور بے کسی کیوں دور نہیں ہو رہی ہے؟ ہمارے مالیات کا شعبہ اتنا غیر منظم کیوں ہے؟ ہر سال صدقہ وصولنے والے دور دراز کا سفر کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مدارس میں سفراء رکھنے کا رواج اور ضرورت کیوں ہے؟ ہم خود علاقائی طور پر اپنے ادارے چلانے کے اہل کیوں نہیں ہیں؟ اور سب سے اہم کہ ہم اپنی وراثت کی حفاظت کیوں نہیں کر پارہے ہیں؟

کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ یہ ہر ایک کے بعد دوسرے کے پاس مشورہ موجود ہے۔ کرنے کی باری آئے تو آئیں بائیں شائیں۔ اگر چند لو گ تیار بھی ہو جائیں تو اِس میں ہمارا حصّہ کتنا ہوگا؟ یا ہمارا کیا فائدہ؟ 

تنظیمی لائحہ عمل موجود ہے لیکن اُس پر عمل کرے گا کون؟

ایک بہتر لائحہ عمل موجود ہونے کے باوجود ہمارے اندر کچھ کمیاں ہیں، جو ہمیں مالیاتی اور علمی طور پر خود کفیل نہیں ہونے دیتی۔ جس کی وجہ سے ہمارا شمار علمی اور مالی طور سے پسماندگی میں کیا جاتا ہے۔ اگر ہم محلّہ اور گاؤں کے سطح پر بھی اس بہتر بنانے کا ارادہ کر لیں تو کوئی بعید نہیں کہ ہم چند برسوں میں بہتر ادارہ اور اچھے تعلیم یافتہ تیار کرسکیں۔

سب سے پہلے فریضہ کو سمجھیں اور اسے عمل میں لائیں۔

معاشرتی امور کو برتنے میں سنت طریقہ کو عمل میں لائیں۔

نوافل اپنی اپنی مرضی کی ہوتی ہے، اُس پر زور دینا اور ضرورت سے زیادہ ثواب اور جنت کی لالچ دے کر سنن کی خلاف ورزی کرتے ہیں، فرائض سے لاپرواہی برتنا بالکل بند کریں۔ ضعیف، کمزور، غیرمتواتر یا بزرگوں کے اقوال کو بنیاد بنا کر دین کی تبلیغ کرنا بالکل بند کریں۔ فرائض چھوڑ کر فضائل کی رغبت دلانا عقل مندی نہیں ہو سکتی۔ ہاں فرائض اور سنن پر عمل کرتے ہوئے لوگ خود بخود فضائل کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ

عبادات میں سب سے پہلے رواجی طریقۂ کار کو چھوڑیں اور جو رواجی طریقۂ کار پر عمل نہیں کرتے ان کو زبردستی فضائل بیان کرکے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارے یہاں ایک جماعت جو برسوں سے لوگوں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے، ان کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وہ جوڑنا تو چاہتے ہیں لیکن خود جڑنا نہیں چاہتے۔ کوئی بھی ایرا غیرا جس کے دماغ میں فضائل کا جرثومہ پیدا کر دیا گیا ہے، کسی بھی وقت کو کسی کے بھی دروازے پر تبلیغ کے لیے دستک دیتے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی غیرذمہ دارانہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں، جو فرصت میں ہوتے ہیں، یعنی بچوں کی کمائی سے گھر کا گزارا ہوتا ہے، ایسے لوگ مسجدوں کا رُخ اختیار کرتے ہیں، نوجوانوں کو فرائض چھڑوا کر فضائل کا خواب دکھا کر دین سے بے رغبتی پیدا کرنے والے بن چکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے اِس جماعت کا کام اُن لوگوں کے لیے بے حد کارگر ہے جو کلمہ تک نہیں جانتے، الف کتنی لمبی ہوتی ہے یا کس طرح کی آواز پیدا کرتی ہے۔ ان کو انھوں نے جوڑا ہے تو یہ یقیناً اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن جو کسی طرح اپنی کوشش اور محنتوں سے عام روش میں چل رہے ہیں، اُن کو بے راہ رو کرنے میں بھی اُن کا اہم کردار ہے، جو کہ منفی کردار ہے۔

آخر لاکھوں کی تعداد میں مدارس کے قیام سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا سو سے پانچ سو خاندان کا محلّہ یا گاؤں اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ ایک مکتب کا قیام کر سکے اور اس کے اخراجات اٹھا سکے؟ اپنی ساری ضروریات کے لیے ان کے پاس مال ہوتا ہے اور اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانے کے مختصر سی رقم نہیں ہوتی کہ بچے کی ٹیوشن فیس ہی دے سکیں؟ اگر سو خاندان کا ایک گاؤں ہے تو وہاں ایک مسجد تو ہوگی، اُسی مسجد میں باقی وقت میں مکتب آرام سے چلتا ہے اور چلایا بھی جا رہا ہے۔ اپنے ہی گاؤں کے پڑھے لکھے حافظ مولوی کو کیوں نہیں مقرر کیا جاتا؟ کیوں اُس کو وہ معاوضہ اور عزت نہیں دی جاتی کہ وہ دوسرے شہر یا گاؤں کا رُخ کرتے ہیں۔ مکاتب کا قیام ہر محلّہ اور گاؤں میں ضروری ہے، جو عصری تعلیم سے واقف ہیں وہ اپنا وقت اس کی تعلیم دینے میں خرچ کریں، بدلہ میں اُن کو بھی معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی آگے کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اور محلّہ کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکیں۔ ابتدا سے پانچ درجات تک اتنی صلاحیت پیدا کر دیں وہ کسی بھی سرکاری اسکول کے درجہ چھ میں داخل ہو سکے۔

ہر ایک طالب علم سے بطور ٹیوشن فیس تین سو سے پانچ سو روپے لیا جائے۔ اگر سو بچوں سے یہ فیس وصول ہو جائے تو تیس ہزار روپے ماہانہ آ جائے گا جو تین اساتذہ اور دفتری امور کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ تعلیم گاہ کے طور پر فی الحال مسجد کو استعمال کیا جائے۔ اور گاؤں کے لوگ ہی اپنے پیسے پس انداز کرکے ضرورت کے تحت تعلیمی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے عمارت کی تعمیر کریں۔ ان شاء اللہ بہت جلد بہتری آئے گی۔ نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن پڑھانے کے لیے دور دراز علاقوں سے بچّوں کو لانے لے جانے کا سلسلہ بالکل بند کیا جائے۔ ہر چھوٹا سا ادارہ بیرونی طلباکے نام پر صدقہ زکوٰۃ وصول رہا ہے اور غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ غیرمستحقین کو مستحق بتا کر صدقہ خرچ کیا جانا بہت بڑی بددیانتی ہے۔  (لائحہ عمل موجود ہے اور ہر علاقہ میں بنانے والے بھی موجود ہیں)

اب جو مدارس یا ادارے آگے کی تعلیم دیتے ہیں وہاں داخل کرایا جائے۔ تاکہ وہ چھ سے آگے کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان میں ایسے مدارس کی وافر تعداد موجود ہیں، جو یہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے یہاں عصری تعلیم کا پورا بندوبست ہے۔ چھ سے دس تک کراتے ہیں لیکن ایسے بھی کافی ادارے ہیں جو آگے کی تعلیم دینی اور عصری دونوں ہی فراہم کراتے ہیں۔ بچوں کو وہاں بھیجیں، وہ بھی اتنی دور نہیں بھیجیں کہ آمد و رفت مشکل ہو اور کسی ناگہانی میں بچے سے ملاقات کرنی مشکل ہو۔ جو بھی ادارہ کی جانب سے خوراکی اور مختصر انتظامی فیس ہو، اسے ادا کریں۔ یاد رکھیں صدقہ یا زکوٰۃ کی فہرست میں اگر آپ نہیں آتے ہیں، اور آپ استعمال کرتے ہیں تو گویا آپ مستحق کا حق مارتے ہیں۔ یہ استحقاق کو آپ نے سمجھ لیا تو آپ کے گھر میں برکت ہوگی، بچے تعلیم یافتہ اور فرمابردار ہوں گے۔ دنیا و آخرت کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔

اب بات آتی ہے دسویں کے بعد کی تعلیم کیسے کی جائے؟ تو

پہلی صورت تو یہ کہ دینی ادارہ میں تعلیم مکمل کریں جسے عالمیت یا فضیلت کہا جاتا ہے، کئی جگہ تخصص کے بھی شعبے ہیں، اس کے بعد آپ چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ 

اگر ادارہ میں سینئر سیکنڈری کی عصری تعلیم نہیں ہے تو وہیں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں گیارویں اور بارویں علاقائی اسکول سے مکمل کریں۔ اب بھی آپ آگے کی تعلیم مدرسہ سے پوری کر سکتے ہیں، یا اگر آپ دیگر علوم، جیسے وکالت، انجینئرنگ، طب، مینجمنٹ آئی اے ایس، آئی پی ایس، وغیرہ میں جانا چاہتے ہیں تو مدرسہ کی تعلیم چھوڑ سکتے ہیں۔ یہاں پر اصل میں آپ خود سوچنے سمجھنے کے قابل ہو جاتے تو آپ خود سے، ساتھیوں یا اساتذہ کے مشورہ سے اپنی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھیں اور اپنی پسندیدہ موضوع میں قابلیت حاصل کرکے اپنے اور معاشرہ کے لیے بہتری کا ذریعہ بنیں۔ 

دور دراز کا سفر خواہ تعلیم کے لیے یا صدقہ وصولنے کے لیے، یہ دونوں طریقہ غلط رائج ہو چکا ہے۔ ہجرت کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔ اگر علاقائی بنیاد پر ہی صدقہ حاصل کرنا ضروری ہے تو وہاں کے لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پہلے اپنے گاؤں کی ضرورت پوری کی جائے، بعد میں پڑوسی گاؤں کا خیال رکھا جائے۔ مالدار کسی بھی میدان کے ماہر صنعت کار اپنی زکوٰۃ و خیرات پہلے اپنے قریبی علاقہ پر خرچ کریں، وہاں کے لوگوں اور ادارہ کو مستحکم کریں۔ اس کے پڑوسی یا دور دراز کے ضرورت مندوں کی امداد کریں۔

مدارس میں اور زکوٰۃ کے اداروں میں منتظم اور محصل تو ہونا ہی چاہیے لیکن لوگوں میں بھی یہ فرض کی ادائیگی کا احساس ہونا ضروری ہے کہ اُس مال کو ضرورت مند تک پہنچائیں۔ ہماری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم مال کا بندر بانٹ کر رہے ہیں۔ اور ضرورت مندوں کو خود کفیل نہیں بنا پا رہے ہیں۔

اس بات کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں ایک ڈیٹا آیا ہے کہ گزشتہ سال بیس لاکھ کروڑ روپے زکوٰۃ نکالے گئے۔ اتنی رقم کو مستحقین میں تقسیم کیا جائے تو ہم کسی بھی صورت میں اگلے سال کسی بھی مالی تعاون حاصل کرنے کے قابل نہیں بچیں گے۔ پورے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ بیس ہزار کروڑ روپے یا بیس لاکھ کروڑ روپے۔ اگر ہم بیس ہزار کروڑ روپے ہی زکوٰۃ و صدقات کا مان لیں اور اسے دس کروڑ لوگوں میں بھی تقسیم کریں گے توایک فرد کو دو لاکھ روپے ملیں گے۔ اگر پانچ نفوس پر مشتمل خاندان ہے تو ان کی کل سالانہ آمدنی دس لاکھ روپے ہوگئی۔ جب کہ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جس آمدنی دو سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ نہ وہ زکوٰۃ لینے کے قابل ہیں نہ دینے کے قابل۔ لیکن اپنی زندگی بہتر گزار رہے ہیں۔ پھر وہ رقمیں کہاں کھپ گئیں؟ قوم میں ہر برس کتنے لوگ خود کفیل بنتے ہیں؟ کتنے لوگ تعلیم یافتہ بن کے سماج کی بھلائی کاذریعہ بنتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب نہیں دیا گیا تو حالات بد سے بدتر ہوتے رہیں گے۔ مسلم قوم کبھی بھی مالیاتی طور پر خود کفیل نہیں بن سکے گی اور نہ عزت کا مقام حاصل کر سکے گی۔ ’’زکوٰۃ کے ذریعہ مدارس کے طلبہ اور غریبوں کی مدد کریں‘‘ جیسے بیانات اور درخواستیں آتی رہیں گی۔

🌻🌻🌻

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،  ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537   


Sunday, March 23, 2025

Unani Medicine ➖ Effective treatment method

 طب یونانی ➖ کارآمد طریقہ علاج

ایک صحت مند زندگی کے لیے آگ، پانی، ہوا، دھوپ اور مٹی کا اہم کرادار ہے۔ اُن سے پیدا ہونے والی یا بننے والی چیزیں ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر ہم اُن چیزوں سے ہٹ کر کسی بھی مصنوعی طریقے سے اپنے کو صحت مند رکھنا چاہیں تو ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔

دنیا جب سے بنی ہے، مختلف ادوار میں صحت و امراض کا آپس میں تعلق رہا ہے، بنی نوع انسان نے اپنی سوجھ بوجھ اور عقل و خرد سے صحت مند رہنے کے طریقے اپنائے اور اچھی اور بہتر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے نوع انسانی نے دنیا کی سیر کی اور قدرتی انفاس سے سامنا ہوتا گیا ویسے ویسے اُن کو اپنانے یا بچاؤ کرنے کے طریقے ایجاد کئے جاتے رہے اور اپنائے جاتے رہے۔ عام انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جوں جوں انسان نے ترقی کی توںتوں حالات سے نبردآزما ہونے کے طریقے ایجاد کرتے رہے اور اپناتے رہے۔ اور پھر ایک وقت یہ آیا کہ مختلف النوع طور طریقے کے انسان آمنے سامنے ہوئے تو مزید کئی قسم کی نئے طور طریقے اور نئی معلومات سے آگاہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حالات بدلے اور انسانی سوچ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مختلف مقامات پر مختلف طرح کے نباتات و جمادات اور حیوانات وغیرہ سے استفادہ کرنے کا عمل جاری و ساری ہو گیا۔ لیکن قدرتی نظام کے تحت مثبت کے ساتھ منفی کردار بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ 

خودغرضی اور مطلب پرستی کا سلسلہ توآدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی لڑائی کے بعد سے ہی جاری ہوگیا تھا۔ کیوں کہ وہاں خودغرضی ہی قتل کا سبب بنا تھا۔ اور آج بھی ایسا سلسلہ جاری ہے۔ زندگی کو بہتر بنانے کے جتنے بھی طور طریقے بنی نوع انسان کے سامنے آئے، انہوں نے اسے سب کے لیے رائج کرنے کے بجائے علاقہ اور طور طریقے میں بانٹ کر کئی حصے کر دیئے۔ جیسا کہ ہر قسم کے علم و عمل اور صحت و عافیت کے میدان میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ منفی سوچ اور خودغرضی و مطلب پرستی سے صحت و عافیت کا میدان بھی پاک نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف انسان نے مختلف طریقہ کو مختلف ناموں سے تعارف کرایا اور صحت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا، وہیں دوسری طرف خودغرضی نے ایک دوسرے کی برتری اور ابتری کا نزاع بھی رائج کر دیا اور مختلف طریقہ ہائے علاج کو ایک دوسرے سے تولنے کی کوشش کی جانے لگی اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے اور وہ طریقہ تو کچھ بھی نہیں۔ اور ابتری ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کے الفاظ اور جملے سماج میں رائج کئے جا چکے۔ جسے طب کے میدان میں کام کرنے والے اور دلچسپی رکھنے والے اصحاب بولتے اور سنتے رہے ہیں۔ جب کہ حالات کو غور سے دیکھا جائے تو ایسا قدرتی نظام میں ہرگز نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کا ہر وہ طریقہ جسے قدرت نے دیا ہے، وہ سب کے سب نوع انسانی کی بھلائی کے لیے ہی ہے۔ اور اسے انسان کے سوچ و فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کون اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔

ہمیں نہ تو نئے طور طریقے سے پرہیز ہے اور نہ پرانے طریقے سے الرجی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا معاشرہ سست ذہنیت کی طرف رواں دواں ہے، جس کے نتیجے میں بیمار ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو، افاقہ کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایلوپیتھی طریقہ علاج سب سے کارگر ہے۔ حالاں کہ بہت سے ایسے امراض ہیں جس کا علاج اِس پیتھی میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے ریسرچ اسکالرز اور طب کے ماہرین کہنے لگے ہیں کہ علاج کے لیے ہمیں اب integration  یعنی انضمام کی طرف آنا پڑے گا۔ یعنی جس پیتھی میں جس مرض کا درست، بروقت اور بہتر علاج موجود ہے اسے اپنا کر صحت کو بہتر بنایا جائے۔ اگر متعدی مرض یا طاعون لاحق ہو گیا ہے تو آج بھی دیسی علاج کارگر ہے۔ دیسی علاج سے مراد یہاں یونانی پیتھی اور آیورویدا ہے۔ یہاں پر وہ گھریلو نسخے موجود ہیں جسے اپنا کر بھیانک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں سانس کی ہونے والی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ تر یونانی اور آیوروید کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے اور اس سے بھی زیادہ لوگ قدرتی طریقے علاج سے صحت مند ہوئے۔ نیچروپیتھی بھی ایک آسان طریقہ علاج ہے۔ جس کو اپناکر جلدی صحت مند ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا ایک طریقہ ہومیوپیتھی بھی ہے جسے اکثر لوگوں نے درکنار کیا ہوا۔ شاید اِس کی ایک وجہ اس کا سستا اور کم مقدار میں ہونا ہے۔ جب کہ لوگوں کا رُجحان سست روی، زیادہ کھانا پینا کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج کو بھی پیسہ کے بدلے میں پورا پیکیج کا خواہشمند ہونا بھی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

کبھی کبھی منفی رُجحان اور عمل بھی اس میدان کو بے کار و بے اثر بنانے میں معاون بن جاتا ہے، جیسا کہ یونانی پیتھی اور اس کے کارکنان کو نیچا دکھانے کی کوشش کے طور پر کئی میڈیکل کالجز یا اسپتال میں طلباء اور اسٹاف کے درمیان معمولی غلط فہمی یا کمی کو بڑا بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اِس طرح کی حرکت سے جہاں طلباء میں مایوسی اور نامرادی پھیل جاتی ہے۔ کیوں کہ اُن کا سرمایہ اور وقت خرچ ہوا ہے، اگر اس خرچ اور وقت کا درست اور خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آتا تو دنیا تاریک دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض خودغرض اساتذہ اور اسٹاف بھی اصول و ضوابط اور اخلاقی رویّہ کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنا مطلب نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔  اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف ذاتی نقصان ہوتا ہے بلکہ پورا کا پورا وہ طبقہ بدنام ہوتا ہے، جس کا نشانہ اس علم و عمل کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کس طرح سے بزرگوں نے اس علم کو فروغ دینے کے لیے شب و روز محنت کی اور جان و مال قربان کیا۔

دُکھ کا مقام یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی اداروں کو وراثت نے نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ اُن کے وارثین میں تو قابل اور اہل پیدا نہ ہو سکے، مجبوراً وہ اہم عہدوں پر فائز رہ کر ادارہ کو چلا رہے ہیں اور تعلیم یافتہ تجربہ کار اور اہل لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس نے انہیں غیراصولی طریقہ کار اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے اور اہل اپنی دو وقت کی روٹی اور عزت بچانے کے لیے بھی غیراصولی کاموں میں شامل ہوتے رہے اور جب مارکٹ میں پروڈکٹ ناکام ثابت ہوتا ہے تو نہ صرف کمپنی اپنا اعتبار کھوتی ہے بلکہ وہ طریقہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ یونانی پیتھی کے ساتھ بھی ہونے لگا۔ تبھی ہندوستانی بابائے طب حکیم اجمل خاںؒ کے پڑپوتے محترم حکیم مسرور احمد خاں نے ۱۲؍فروری ۲۰۲۵ء بروزِ بدھ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے منعقدہ ورلڈ یونانی میڈیسن ڈے کے موقع پر کہا کہ

 ’’یونانی دوا ساز کمپنیاں ملاوٹ کرنے سے پرہیز کریں‘‘ 

جب کہ دیگر ماہرین نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

 ☆کرونا میں یونانی طریقہ علاج نے مریضوں کو نئی زندگی بخشی، 

ڈاکٹر سیّد فاروق

 ☆حکیم اجمل خاں طبیہ کالج میں حکیم صاحب کے نام پر میوزیم بنایا جائے۔ 

سیّد احمد خان

 ☆یونانی طریقہ علاج میں پی ایچ ڈی کی طرف توجہ ضروری، 

پروفیسر مشتاق احمد

جب کہ میری رائے ہے کہ

بیماری سے بچنے کے لیے خالص غذائیت پر توجہ دیا جائے۔

اور

طب یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لیے خالص ادویہ اور بروقت علاج کی فراہمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر یونانی پیتھی کے دوا ساز ادارے خلوص دل سے اعلیٰ قسم کی ادویہ فراہم کرائیں تو بعید نہیں کہ اِس پیتھی سے لوگ بے رغبت ہوں۔ کہیں نہ کہیں بداخلاقی اور بدانتظامی بھی فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن ہی جاتا ہے۔

میری گزارش اور درخواست ہے کہ جو لوگ بھی اِس فن کو سیکھیں، اس میں بنیادی پہلوؤں اور طریقوں کا دھیان رکھیں۔ خاص طور سے خام مال کی پہچان، فراہمی، موسم، اجزائے ترکیبی کی تعلیم ضرور دیں۔اساتذہ اپنی ذمہ داری کا خیال رکھیں۔ اگر خود غرضی اور لاپرواہی جیسے حالات پیدا ہوتے رہے اور اداروں میں سستی اور لاپروائی بڑھتی رہی تو دن دور نہیں جب حکومت کی توجہ کم ہو جائےاور ادارہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ نئے حالات اور اشیاء پر غور و خوض اور تحقیق کیا جائے اور رائج کیا جائے۔ طب یونانی طریقہ علاج بہت بہتر ہے۔ یقین اور اعتماد کی سخت ضرورت ہے۔ 

17th February 2025

 ☆ ☆ ☆

نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس، 

9811742537


Thursday, March 20, 2025

Integrated System of Medicine

 انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن


آئی ایس ایم یعنی انٹی گریٹڈ سسٹم آف میڈیسن کے ڈاکٹرس سیل کی جانب سے ۲۲؍جنوری ۲۰۲۵ء کوشکشک سدن، سورج مل وہار، دہلی ۹۲ میں انٹی گریشن کے موضوع پر ایک کانفرس کا انعقاد اپنے وقت مقررہ پر ہوا۔ مقررین کے علاوہ دہلی اور قرب و جوار کے دو سو سے زائد ڈاکٹروں نے شرکت کی۔

خاص مقررین میں جامعہ ہمدرد، نئی دہلی کے فورمر ڈین اورمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ایم عارف زیدی، فورمر ڈائرکٹر آیوش، میونسپل کارپوریش آف دہلی، چندر کیتو،Fleix گروپ آف ہاسپیٹلس کے چیئرمین اور ایم ڈی ڈاکٹر وائی کے تیاگی سابق صدر دہلی بھارتیہ چکتسا پریشن (ڈی بی سی پی)، ڈاکٹر فرحت عمر سابق رجسٹرار ڈی بی سی پی اور ڈاکٹر دھرمیندر کمار ڈسٹرکٹ A&U آفیسر جی بی نگر، یوپی؛ شامل تھے۔

مقررین نے ڈاکٹروں کے طریقۂ علاج اور قانونی سہولیات اور پیچیدگیوں پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور بتایا کہ کیسے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت اصل نشانہ ہونا ضروری ہے۔Quack صرف وہ ڈاکٹرس نہیں ہیں جو غیر سند یافتہ اور نیم حکیم جو کسی بھی طریقے سے علاج کرکے پیسے کماتے اور اپنا پیٹ بھرتے ہیں (مریض صحت یاب ہو یا نہ ہو کوئی مطلب نہیں )بلکہ وہ سند یافتہ ڈاکٹرس بھی ہیں جو مرے ہوئے کو بھی وینڈی لیٹر پر رکھ کر بل بناتے ہیں، اسپتال میں آئے کسی بھی مریض کو نہیں چھوڑتے اور غیرضروری آپریشن کرکے لوگوں کا مال ہڑپ کرتے ہیں۔

انڈین سسٹم آف میڈیسن سیل بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جو بھی ممکنہ طریقہ ہندوستانی رائج ہے، اس کے ذریعہ مریض کو صحت مند بنایا جائے۔ آیوش منترالیہ نے اس بات کی ہمیں اجازت دی ہے۔ مریض صرف دوا سے صحت مند نہیں ہو سکتا۔ ساتھ میں دوسرے طریقہ کار جیسے آیورویدا، یوگا، یونانی، سدھا، ہومیوپیتھی اور نیچروپیتھی وغیرہ کواپنا کر مریض کو صحت مند بنایا جاسکتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ گزشتہ دنوں آئے پینڈمک صورتِ حال کے گزرنے والے سانس کے مریض کی اسپتالوں میں اکثر لوگوں کی موتیں ہوئیں، جب کہ زیادہ تر لوگ آیورویدک کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے۔ یا آیوش منترالیہ کے ذریعہ بتائے گئے طریقے کو اپنا کر صحت مند ہوئے۔

ایلو پیتھ کے ماہر ڈاکٹر چندر کیتونے یہ بھی بتایا کہ COPD, PCOD اور اس طرح کے نازک اعضاء کی تکلیفات میں ہومیوپیتھی اور نیچروں پیتھی میں آسان اور کم خرچ کا علاج موجود ہے، لوگوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ لیکن لوگوں کی سوچ بڑی عجیب ہے کہ ایک خوبصورت کمرہ اے سی میں بیٹھا ایلو پیتھ ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے گھنٹوں انتظار کرتا ہے،  اس کو وہ مہینوں فیس دیتا ہے اور دوا کھاتا رہتا ہے لیکن ایک عام طریقے سے علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع نہیں کرتا۔ نتیجتاً وہ دوا کھاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ جب کہ یوگا اور کھان پان پر توجہ دے کر ہمیشہ کے لیے ایسی خطرناک بیماریوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔

اس کانفرس میں شروع سے آخر تک میری شرکت رہی۔ جس میں غیراصولی اور لاپرواہی یہاں بھی دیکھنے کو ملا۔ آدھے سے زیادہ لوگ آپسی گفتگو میں مصروف تھے۔ اللہ بہتر جانے یہ لوگ مریضوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہوں گے۔ مقررین کی کئی بار درخواست کرنے کے بعد بھی تھوڑی دیر خاموشی رہتی پھر وہی آپسی گفتگو۔

غیراصولی اور لاپرواہی کے دو نمونے اور دیکھنے کو ملے۔ پہلا؛ پچیس سے پچاس برس کی عمر کے بیس فیصد ڈاکٹرس گنجے پن کے شکار پائے گئے۔ دوسرا؛ دس فیصد لوگوں کی نظریں کمزور ہوگئیں، یعنی وہ نظر کا چشمہ استعمال کر رہے ہیں۔ اندازہ تو یہی ہوا کہ یہ تیس فیصد ڈاکٹرس خود لاپرواہی کے مریض ہیں۔

راشٹریہ گان سے کانفرنس کی شروعات ہوئی اور اسی سے اختتام بھی ہوا۔

رپورٹ؛ محمد فیروز عالم

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

23rd January 2025


Saturday, December 14, 2024

Free Free Free One with Two Free

فری فری فری۔ ایک کے ساتھ دو فری

مجھے نہیں پتا کہ مفت میں کوئی بھی سہولت دینے کا رواج کب سے اور کیسے شروع ہوا۔ لیکن مفت راشن یا رعایتی شرح پر راشن فراہم کرنے کا سلسلہ برٹش حکومت کے دوران شروع ہوا۔ اور شرعی اعتبار سے مفت حاصل کرنے کا فلسفہ قرآن مجید (سورہ التوبہ آیت ۶۰) کی وہ آیت جس میں صدقات کے مستحقین کے زمرے میں آٹھ قسم کے لوگ آتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے زبردستی اپنے آپ کو اس میں شامل کر لیا ہے۔ اور اسی کو اب ذریعہ معاش بنا لیاہے۔

مفت کے حصول کی سوچ نے ہمیں ذہنی غلامی کا شکار بنا لیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ  ہماراپورا کا پورا معاشرہ دوڑ میں سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروفِ کار نظر آتا ہے۔ رعایت ایک اچھی سہولت ہے، لیکن کب تک اس سے استفادہ کرنا ہمارے لیے سودمند ثابت ہوگا، اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں رسولِ رحمتﷺ کے طریقہ اور رہنما اصول کو دیکھنا اور عمل میں لانا بھی ضروری ہے۔ جب کہ بہتر اور صحت مند زندگی کے اصول کو یکسر ٹھکرا دیا گیا ہے۔

اگر کوئی شخص صحت مند رہنا چاہتا ہے تو اسے نبی رحمت ﷺ کے رہن سہن اور کھان پان کو اپنانا چاہیے اور انہیں میں سے ایک یہ ہے کہ زیادہ تر خالی پیٹ اور بھوکا رہا جائے۔

اگر قرآنی احکام پر غور کرتے ہیں تو دو بنیادی اصول ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔

قرآن مجید کی سورہ التحریم کی آیت نمبر ۶

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ

(سورۃ التحریم ؛ آیت ۶)

اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

قرآن مجید کی سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر۳۱

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ   فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللہُ  غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔

(آل عمران  آیت ۳۱)

ترجمہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو درگذر فرمائے گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالاتِ انسانی ہیں، اور ان کی حیاتِ طیبہ پوری کائنات کے لئے ہر شعبۂ زندگی میں معیار اور نمونہ ہے۔ اب جو لوگ محبت الٰہی کے دعوے دار ہیں، ان کے دعوے کی جانچ اور پرکھ کے لئے ’’اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کو معیارقرار دیا گیا ہے، جس میں جتنی اطاعتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوگی، اُسی قدر اس کی محبت الٰہی معتبر ہوگی، اور اطاعت رسول کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کی محبت نصیب ہوگی، تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔

سورہ تحریم کی آیت سے ہمیں اپنے اور اپنے رشتہ داروں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور سورہ آلِ عمران کی آیت میں اپنے آپ کو طریقہ رسولﷺ پر گامزن کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی تفسیر توضیح آپ اکثر علماء کرام سے سنتے رہتے ہیں اور پڑھنے والے پڑھتے بھی رہتے ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں نیکی کی رفتار کا رُخ صرف مسجد و مدرسہ کی تعمیر و ترقی، جلسے، جلوس اور عبادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ معاملات نہایت ہی ناکارہ ہو گئے ہیں اور معاشیات پر ہمارا کنٹرول ختم سا ہو گیا ہے۔ سوائے کباڑ کے کام کے۔ تعلیم کے نام پر ہمارے یہاں اسکول، کالجز، مدارس، یونیورسٹیز کی بھرمار ہے، لیکن علم کا اثر کسی بھی میدان میں دکھائی نہیں دیتا۔ ہر جگہ ہم نوکر بنے ہوئے ہیں۔ جو تعلیم یافتہ ہیں وہ ٹرسٹ بنا کر دولت پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، اور جو علم والے ہیں، اُن کے یہاں اسی دولت کی حفاظت پر لگے ہوئے ہیں۔ کل ملا کر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے یہاں نہ معیشت ہمارے قابو میں ہے اور مالی نظام درست ہاتھوں میں ہے۔ صدقات کے مال کو تو ٹرسٹیوں نے اپنا مال بنا لیا ہے۔ دکھاوے لیے جلسے جلوس کر لیے اور چند معذوروں اور بیواوں میں ریوڑیاں بانٹ کر واہ واہی لوٹ لیتے ہیں۔ اور عمومی طور پر لوگوں کو مفت خور بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

جو لوگ مالی اعتبار سے خود کفیل ہیں، اُن کے یہاں دیگر معاملات میں لاپروائی ہے۔ علم کے میدان میں گرچہ ہم (انہوں) نے بہت سے کام کر لیے ہیں جیسا ہے کہ چند دانشوروں کی خوش فہمی ہے۔ لیکن صحت کے میدان میں ہم کہاں ہیں؟ کیا اُن دونوں معاملات کے بارے میں سنت نبوی کے اصول پر کاربند ہیں؟  یا اس کے ثبوت موجود نہیں ہے؟ ………  

ثبوت بے شک ہیں۔ 

لیکن اکثر لوگ دنیا کی محبت میں پڑ کر مال سے صحت خریدنا چاہتے ہیں جوکہ نہایت ہی بے وقوفی والی سوچ ہے۔ مال بہت بڑی ضرورت ہے جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس کا مینجمنٹ درست نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر لوگوں کی موتیں علاج و معالجہ کے دوران ہی ہوتی ہیں۔ اگر اسپتال گئے تو عموماً ایک کے ساتھ دو فری جاتے ہیں۔ ’’ایک کے ساتھ دو فری ‘‘ سننے میں مضحکہ سا لگتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔ ایک مریض کے ساتھ دوسرا ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے۔ ایک طرح سے  بے گناہ قیدی  بھی بنے ہوئے ہیں۔ آخر کب تک اپنے مال اور وقت کو برباد اور صحت سے کھلواڑ کرتے رہیں گے؟ اکثر لوگ پچاس سال کی کمائی ہوئی آمدنی عمر کے آخری پانچ برسوں میں جینے کی خواہش میں اسپتال اور دواؤں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ جبکہ نتیجہ کوئی خاص بہتر نہیں ہوتا بلکہ اکثر تڑپتے ہوئے مرتے ہیں۔ 

میرا سوال یہی ہے کہ کب تک سنت کو اپنانے میں اپنی … ’’انا‘‘  کو داخل رکھیں گے؟

معاشرتی طور پر دوسری بنیادی خامی ہے وقت کا غلط استعمال۔ وقت کی بے قدری۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ نااہل اور غیر ذمہ داری کا عمل خطباء جمعہ کا ہے۔ منبر کے برابر میں جو پیغام آویزاں رہتا ہے، اس کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے یہی خطباء اور ائمہ ہوتے ہیں جو وقت کا خیال نہیں رکھتے۔

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾ 

(سورۃالنساء  آیت ۱۰۳) 

یہ عملی زندگی کا وہ سبق ہے جسے ہمارے ائمہ کرام اپنی قابلیت تھوپنے کے چکّر میں خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آخر وہ پانچ منٹ سے پندرہ منٹ تک اپنی قابلیت تھوپنے میں اور چندہ کرنے کے سلسلے میں تیس منٹ تک صلاۃ جمعہ کو مؤخر کرتے ہیں۔ نہ تو وہ چندہ کے اصول پر طریقۂ سنت کو اپناتے ہیں اور نہ جمعہ کی اہمیت کا انہیں خیال رہتا ہے۔ تو وہ کس بنیاد پر ایک بہتر معاشرتی زندگی کی امید میں جیتے ہیں؟ اور لوگوں کو اُلجھاتے ہیں؟ کیا پیسہ ہی سب کچھ ہے؟ دیکھیے مالداروں کی تاریخ اور سوانح؛ کس کس حالت میں لوگ جی رہے ہیں۔ کروڑوں خرچ کرکے بھی وہ خوشی نہیں خرید پائے اور نہ اپنے بچوں کو دے پائے۔ اور جو مرے ہیں، وہ کس حال میں مرے۔ یہ بھی دیکھیے۔   دیکھے وہی جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو۔

 ☆ ☆ ☆

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ، ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس، نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

9811742537


 

Thursday, November 28, 2024

موسمِ سرما کی تکالیف اور تدارک

  ⬅️ موسمِ سرما کی تکالیف اور تدارک ➡️

عمومی طور پر اس موسم میں دہلی این سی آر اور ملک کے بیشتر حصوں میں ہوا کا معیار (Airi Quality) بد سے بدتر ہو جاتا ہے۔ اس دوران لوگ کئی قسم کی غلطیاں اور لاپرواہیاں بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پھیپھڑے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ ناک سے پانی بہنے لگتا ہے۔ کمزور لوگوں کو ناک اور آنکھ سے پانی بہنے لگتا ہے۔ گلا سوکھتا ہے۔ کھانسی ہونے لگتی ہے۔ آلودگی کی انفیکشن سے بخار بھی ہو جاتا ہے۔ خون کی گرمی کم پڑ جاتی ہے یعنی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ گٹھیا کے مریضوں کا درد بڑھ جاتا ہے۔ بچوں و بڑوں کو نمونیا کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے۔ جلد کی بیماری یعنی چرم روگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قبض بھی ہو جاتا ہے۔ ہارٹ کی رفتار سست ہو جانے یا اٹیک پڑ جانے جیسی صورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان تکالیف سے بچنے اور اچانک ہونے والی دقتوں سے آزادی حاصل کرنا آسان ہے۔ ہر اُس شخص کے لیے جو احتیاط کرنا چاہیں۔

ریفریجریٹر سے کھانے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں۔

ہمیشہ اپنی طبیعت کے مطابق گرم پانی پئیں۔

زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس سے بھوک مر جاتی ہے۔

کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری اور قبض کی شکایت بڑھ جاتا ہے۔ چائے کی جگہ قدرتی چائے پئیں جو گھر میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ 

گرم پانی میں ہلدی ملا کر پئیں۔ 

گنگنے پانی میں شہد ملا کر پئیں۔ 

موٹے اور چربی دار لوگ گنگنے پانی میں شہد کے ساتھ نیمبو ملا کر پئیں۔

گھر میں کالی مرچ، ہلدی پسی ہوئی پاؤڈر کی شکل میں، دار چینی، ادرک یا سونٹھ، لہسن، اجوائن، زیرہ، لونگ، ہری الائچی اضافی طور پر ضرور رکھیں۔

اجوائن کا استعمال  ابال کر اُس کا پانی پئیں، دودھ پلانے والی خواتین بھون کر ڈبے میں رکھ لیں۔ دو گرام کے مقدار چبا کر کھائیں۔ کیوں کہ جلدی میں ابال نہیں پاتیں اور روتے ہوئے بچے کو اپنے ٹھنڈے جسم کے ساتھ دودھ پلا دیتی ہے، جس کی وجہ سے بچے کو اکثر کھانسی اور کئی کو نمونیا تک ہو جاتی ہے۔ دودھ پلانے والی خواتین اجوائن کو مقدم رکھیں۔ تاکہ آپ کو بھی ٹھنڈ نہ لگے اوربچہ بھی بیمار نہ ہو۔ اجوائن کو سرسوں تیل میں پکاکر اسے ٹھنڈا کر کے بوتل میں بھر لیجیے اور اسی سے بچے کو مالش کیجیے۔ روزانہ ایک سے دو گھنٹہ دھوپ ضرور لیجیے۔

کالی مرچ جن کا دل کمزور ہو رات کے وقت اچانک سانس اُکھڑ جائے تو ایسی صورت میں فی الفور دو دانہ کالی مرچ چوسنا شروع کریں۔ ہلکا ہلکا دانت سے دبا کر اس کا عرق چوسیں۔ آرام آ جائے گا۔ یہ عمل دس سے بیس منٹ کا ہوتا ہے۔ کالی مرچ کی ترشی کودبانے کے لیے پانی نہ پئیں اور نہ ہی نمک کھائیں۔ ہارٹ بیٹ کنٹرول ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

ہلدی  جن لوگوں کو ہڈیوں اور نسوں میں درد ہو کھنچاؤ ہوتا ہے، وہ روزانہ صبح میں (سات بجے سے پہلے نہیں) ایک کپ گرم پانی میں دو سے پانچ گرام ہلدی گھول کر چسکی لیں۔ میٹھا کرنے کے لیے گڑ استعمال کریں۔ جب تکلیف زیادہ ہو تو صبح و شام استعمال کریں اور طبیعت بحال ہو جائے تو روزانہ صبح ایک بار ضرور پئیں۔

لہسن جن کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں رہتا ہے، ان کو چاہیے کہ روزانہ دو جوا لہسن کو چوسیں، اگر چوسنا مشکل ہو تو ٹکڑے کر کے پانی سے نگل لیں۔ ایسا دو بار کریں۔ ایک ہفتہ کے بعد ایک بار ہی کافی ہے۔

ادرک سانس کی ہونے والی تکلیف میں شام کے وقت پانچ گرام ادرک کو کئی چھوٹے ٹکڑے کرکے دانتوں سے دبا کر اس کا عرق چوسیں۔ پندرہ بیس منٹ کا وقت لگے گا۔ طبیعت بحال ہو جائے گی۔ کھانسی زیادہ ہو تو سونٹھ کا پاؤڈر شہد میں ملاکر چاٹیں۔ کھانسی میں آرام آ جائے گا اور پھنسا ہوا بلغم آسانی سے نکل جائے گا۔

زیرہ یہ قبض کشا ہے۔ بھون کر کھائیں یا ابال کر پئیں، اس سے قبض میں آرام آ جائے گا۔ اگر مسلسل کئی ہفتہ تک استعمال کریں گے تو قبض ٹھیک ہو جائے گا۔

لونگ دانت کی تکلیف میں نہایت ہی مفید اور بہت جلدآرام دینے والا مسالہ ہے۔ سردی کی تکلیف میں بھی مفید ہے۔

دارچینی جوڑوں کے درد میں نہایت ہی مفید اور کارگر مسالہ ہے۔ یہ ہنزا ٹی کا ایک حصہ بھی ہے، جس کے بنانے کا طریقہ یہاں درج کیا جا رہا ہے۔

قدرتی ہنزا چائے تیار کریں (چار فرد کے لیے)

اشیاء

پودینہ بارہ پتی 

تلسی آٹھ پتی

ہری الائچی چار عدد

دارچینی، دو گرام

ادرک بیس گرام

گڑ بیس گرام

چار کپ پانی ایک پتیلی میں لیجیے۔ مذکورہ سارے اشیاء کو اس میں ڈال کر دس منٹ پکائیں۔ اتارنے کے بعد اس میں لیمن جوس ملا کر لطف لیجیے۔ گرم یا ٹھنڈا دونوں صورتوں میں  مفید ہے۔

گھریلو اشیاء کا استعمال کریں۔ صحت مند رہیں، فضول ڈاکٹروں کے یہاں جانے سے بچیں، اپنی صحت بچائیں اور پیسہ بچائیں۔

اللہ شافی، اللہ کافی

نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے اور ڈائٹ پلان کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

۲۴؍نومبر  ۲۰۲۴ء 

Wednesday, October 2, 2024

آپ ہی سر بلند رہیں گے اگر

سوشل میڈیا کے رواج پانے کے بعد کسی بھی موضوع پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ سب نہیں ہوتا تھا۔ پہلے بھی ہوتا تھا۔ صرف آلات بدل رہے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم آلات و ظرف پر فتویٰ لگا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر برسوں چھاپہ خانہ کی مخالفت کی جاتی رہی۔ پھر تصنیف و تالیف کا سلسلہ چل پڑا، کتابوں کا چلن عام ہوا، مخالفت، الزام تراشی اور اعتراض اور جواب الجواب کا سلسلہ برسوں چلتا رہا۔ پھر کمپیوٹر کا زمانہ آیا ہے۔مہینوں کا کام ہفتوں میں اور ہفتوں کا کام دنوں میں ہونے لگا۔ اور اب تو گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہونے لگا ہے۔ لیکن ہم کہاں ہیں؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ روزمرہ استعمال میں ہونے والی سواری کی مثال لیں۔ کیسی کیسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ برسوں آپ صحرا کے خاک چھانتے رہے۔ پھر راستے بنائے، مختلف قسم کے پکے راستے بھی بنانے لگے۔ پیدل چلتے رہے۔ سواری کے لئے جانوروں کا استعمال کیا، پھر آپ نے مختلف قسم کے دھاتوں کی مدد سے سواریاں بنانی شروع کی۔ آج آپ کس طرح کی سواری استعمال کرتے ہیں، سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر دور میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔ ہمیں اُن تبدیلیوں کو سمجھنا پڑے گا، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا پڑے گا۔

اتنی ساری تمہید باندھنے کا میرا مطلب صرف یہ بتانا ہے کہ Negativityاور Positivity یعنی مثبت اور منفی ہر دور میں رہا ہے۔ دقتیں ہمارے ساتھ اس لئے آرہی ہیں کہ ہم نے اکثر مثبت کو چھوڑا یا دھیان نہیں دیا اور منفی میں اُلجھے رہے اور اب بھی اُلجھے ہوئے ہیں۔ یہاں ہم صرف یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی اور آخرت دونوں جہاں کو بہتر کیسے بنا سکتے ہیں؟کسی بھی کام کے لئے ’’کب‘‘ ’’کیا‘‘ ’’کیوں‘‘ کا سوال ضرور آتا ہے۔ یاد کریں !پرائمر ی کی دوسری تیسری جماعت میں اس کی مشاقی کرا دی گئی ہے۔ کہانی کے خاتمہ پر سوال کے حصہ میں اکثر یہ سوال ضرور ہوتا تھا۔ ’’کس نے کہا؟‘‘ ’’کب کہا؟‘‘ ’’کیوں کہا؟‘‘

ان تین باتوں کو اگر ہم اچھی طرح سمجھ لیں اور عمل کریں تو ہماری دنیاوی زندگی اور اُخروی زندگی دونوں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اب قرآن مجید کی اس بنیادی آیت کو غور سے پڑھیں اور جتنے بھی مفسرین نے اس کی تفسیر کی ہے، سمجھنے کی پوری کوشش کریں۔

إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا

ایمان کے بعد دین کا پہلا رکن صلوٰۃ کے وقت کا تعین اس آیت میں کیا گیا ہے۔صلاۃ کو وقت کے ساتھ اور وقت کو صلاۃ کے ساتھ لازم ملزوم رکھا گیا ہے۔

وقت کی اہمیت کو بتانے اور سمجھانے کے لئے ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔سینکڑوں تقاریر اب آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں دستیاب ہیں۔ اسے اچھی طرح سمجھیں۔ اور قرآن مجید کی روشنی میں عمل کریں۔ کبھی آپ پریشانی کا شکار نہیں ہوں گے۔ اب اس آیت پر غور کریں۔ 

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا

اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں راستے بتا دیئے ہیں۔ اب اختیار ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں؟ صحیح اور درست طریقے کو اپنا کر شکر گزار بندہ بنتے ہیں یا غلط طریقہ کو اپنا کر انکار کرنے والے۔

برسوں سے ہم دوسری قوموں کی بنائی اور ایجاد کی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے آرہے ہیں۔ ہماری لاعلمی کا عالم یہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کیا کیا ایجادات کئے، وہ بھی ہم نہیں جانتے۔ اس لئے اب ہم دوسروں کے دست نگر بن گئے ہیں۔ ذرا سی کسی نے ہماری حمیت کو جھنجھوڑا ، اور ہم نے بائیکاٹ کا حکم نامہ جاری کیا۔ ۔۔ بغیر سمجھے بغیر دلیل کے۔۔۔ اگر آپ سمجھ رہے ہوتے تو آپ خود اُن ضروری اشیاء کو تیار کر لیتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا۔ خود تو تیار نہیں کیا، بلکہ اس کو سمجھنے میں برسوں لگایا۔ تشویش اور شک میں مبتلا رہے۔ منفی رویّہ رکھا۔ بائیکاٹ کا سلسلہ برسوں سے جاری رکھا۔ مثال کے طور پر پرنٹنگ پریس، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائیل فون وغیرہ۔ یہ ترسیلی آلات ہیں۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ صدیوں سے کتابیں چھاپی اور تقسیم کی جاتی رہی ہیں۔ کب آیا ۔۔۔۔۔؟ اور کتنی دیر لگائی ہم نے اسے سمجھنے اور استعمال کرنے میں ؟ غور کریں۔ ۔۔ ’’ٹیلی ویژن ‘‘ پر ہم نے خوب مضامین لکھے۔ برائیاں کنٹینٹ کی تھیں اور ہم برسوں ٹیلی ویژن کی برائی کرتے رہے اور اس کے مثبت پہلو کو بھی اپنانے میں برسوں لگا دیے۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائیل فون کے ساتھ بھی ہمارا رویّہ ایسا ہے۔ جب غیروں کی بنائی ہوئی چیزوں سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو آپ اپنی ضرورت کا سامان خود کیوں نہیں بنا لیتے؟ ۔۔۔کیوں دوسروں کی بنائی ہوئی لاؤڈ اسپیکر کو استعمال کرتے ہیں؟ ۔۔۔لعن طعن کرنے کے لئے۔ ۔۔۔کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ، اسمارٹ فون۔۔ ۔ ۔ اس کے مثبت اور منفی استعمال کو سمجھیں۔۔ ۔ مثبت استعمال آپ کی زندگی سنوار سکتی ہے، ۔۔۔۔ جبکہ اکثر منفی استعمال ہو رہا ہے۔۔۔۔ جس کے نتیجے بھی سامنے آرہے ہیں۔ جس کے لئے آپ فتاویٰ جاری کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔اپنا طریقۂ استعمال نہیں بدلتے اور بائیکاٹ کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔ جاہل عوام اسے من و عن تسلیم کر لیتی ہے۔ ۔۔۔۔آپ کے غلط فیصلے اور رہنمائی کی وجہ سے قوم کئی برس پیچھے چلی جاتی ہے۔ اور روز بروز پیچھے ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔ آخر۔۔۔ آج کیسے دھڑادھڑ یوٹیوبر بن رہے ہیں؟ ۔۔۔گوگل میٹ کے ذریعہ آن لائن کلاسز ہورہی ہیں۔ میٹنگیں ہو رہی ہیں۔ ۔۔۔ کیا یہ مثبت استعمال نہیں ہے؟ ۔۔۔ قوم کو مزید کتنا پیچھے کرنا چاہتے ہیں؟ بار بار یہ کہا جاتا رہا ہے کہ۔۔۔ ’’ہم تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں‘‘۔ ہم تعلیم کے میدان میں پیچھے نہیںہیں۔۔۔ ہم علم اور حکمت کے میدان میں پیچھے ہو رہے ہیں۔ ۔۔ہمارے مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم دی جارہی ہیں لیکن علم و حکمت نہیں۔ ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔۔۔۔ اور وہ سب کچھ سکھایا جس کا علم ہمیں نہیں تھا۔ ۔۔۔ وہ علم کہاں ہے؟ دکھائیے۔۔۔۔

جب ہم نے فیس بک پر سوال کیا کہ ’’وہ کون سی قوم ہے جو ایک خاص دن صاف ستھرا ہو کرصاف ستھرے کپڑے زیب تن کرکے، خوشبو سے آراستہ ہوکر عبادت گاہ جاتی ہے، لیکن چپل یا جوتے پرانے پہن کر جاتی ہے۔‘‘

جواب بھائی! کیوں اپنی کرکری کرنے پر تلے ہوئے ہو؟

جمعہ کی نماز کے لئے جیسے ہی تکبیر پڑھی جاتی ہے ۔ یا پڑھ دی جاتی ہے ۔ اکثر ایک جملہ سننے کو ملتا ہے ’’بچے پیچھے جائیں‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی! ’’کتنے پیچھے جائیں۔‘‘۔ ۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ مسجد ہی نہیں جاتے۔ ۔۔۔ کتنا پیچھے کریں گے؟۔۔۔۔ بچوں کو۔۔۔۔ غور کرکے دیکھیں۔ ۔۔ اپنے علاقے کا مشاہدہ کریں۔۔۔ ایک چھوٹا سا کام جسے آپ آج تک Manage  نہیں کر پائے۔ اور نہ بچوں کو نماز میں مرتب کر پائے اور کہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو زمین پر معلم بنا کر بھیجا ہے۔۔ ۔ حکومت کرنے اور سربلندی حاصل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔

اب تک کی دی گئی مثالوں سے آپ کو لگتا ہے کہ اِس روئے زمین پر آپ نے سربلندی حاصل کر لیا ہے؟ ۔۔۔ یا کر لیں گے؟۔۔۔  اگر سربلندی حاصل کرلیا ہے تو بتائیں وہ کون سا ملک ہے جسے آپ اللّٰہ کے بنائے قانون کے مطابق چلارہے ہیں؟ ۔۔۔ اور آپ ضروریاتِ زندگی کی سبھی اشیاء تیار کرنے اور بہم پہنچانے میں خود کفیل بن چکے ہیں؟۔۔۔ اب نتیجہ والی آیت ملاحظہ فرمائیں۔

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ‏

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کا عمل کیا ہوگا، وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کا عمل کیا ہوگا، وہ بھی دیکھے گا

آخرت میں ہر عمل کا بدلہ ملے گا۔ جس کا ثبوت مذکورہ آیت ہے۔

جس طرح بیمار ہونے کی اصل وجہ بے ترتیب خوراک کھانا ہے۔ …اُسی طرح زندگی میں ناکام ہونے کی اصل وجہ بے ترتیب عمل ہے۔ …پہلے دوڑنا سیکھیں، پھر دوڑ لگائیں۔ ۔ ان شاء اللّٰہ کامیاب ہو جائیں گے۔

جو تقریب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت ہے اسے مضبوطی سے پکڑیں۔ جو تقریب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے وہ ضرور کہیں باہر سے آئی ہے۔ لہٰذا اسے اپنانا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے کے ضمن میں آئے گا۔

آپ غور کریں، نظر دوڑائیں نکاح جیسی سنت جس کو کئی مقام پر اللّٰہ کے رسول نے آدھا ایمان کہا ہے، سب سے پہلے اِسی سنت کی مخالفت ہو رہی ہے … فضول خرچی اور بے ترتیبی کی ایسی مثال شاید تاریخِ اسلام کے کسی دور میں نہیں ملتی … آخر کب ہم فضول خرچی سے بچیں گے۔؟ نوے فیصد سے زاید علماء کرام فضولیات کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں … پھر ہمارا معاشرہ کیسا ہوگا؟ جو موجودہ ہے؟  یا  اس سے بہتر ہو گا؟ … نہیں۔ …قطعی نہیں۔  …اس کی سزا بھی اِسی قوم کو بھگتنی پڑے گی۔ اور بھگت رہی ہے۔

بھائیو! سنت کو اپناؤ۔ 

سرمایہ کا درست استعمال کرو۔ 

جلدی کامیاب ہو جاؤگے۔ 

ایک مثال برہان پور مہاراشٹر کی عامر خان کے ٹی وی پروگرام ’’ستیہ میو جیتے‘‘ کے ذریعہ سامنے آیاہے۔ 

اس طرح کی مثال ہر علاقے میں اپنانا ضروری ہے۔ 

آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایک قوم اپنا ہدف حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو رہی ہے۔ اور آپ جن چیزوں پر ناز کر تے آرہے ہیں، اسے غلامی کی نشانی قرار دے کر نیست و نابود کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔  

آخر کب تک اپنے باپ داداؤں کی بنائی چیزوں پر ناز کریں گے۔ 

آپ کیا بنا کر چھوڑے جا رہے ہیں جس پر آپ کے پوتے ناز کریں گے۔؟؟؟

۱۱نومبر۲۰۲۰ء


Friday, September 20, 2024

سوچئے! یہ کیا ماجرا ہے؟

 سوچئے! یہ کیا ماجرا ہے؟


’’قرآن دنیا کی آسان کتاب

جتنے بھی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں وہ قرآن پڑھ اور سمجھ کر داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ہمارے کسی مولوی صاحب کے پاس جا کر قرآن نہیں سمجھا بلکہ خود ہی سمجھاہے۔

غیر مسلموں کے سمجھنے کے لئے  قرآن آسان اور مسلم کے سمجھنے کے لئے قرآن مشکل۔

سوچئے! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘


واوین یا انورٹیڈ قوماز کے اندر لکھا یہ پیغام واٹس ایپ پر تیر رہا ہے، گھوم رہا ہے۔ عام فہم زبان میں یہ بات سبھی کو سمجھ میں آ رہی ہے۔ ’’لیکن نہیں سمجھ آیا تو ابھی تک قرآن کا پیغام!‘‘


جس نے بھی یہ پیغام دیا ہے وہ یہ بتانا چاہتا ہے مسلم قوم قرآن کے پیغام کو نہیں سمجھتے۔ یا اُن کے لئے سمجھنا مشکل ہے۔

پہلی سطر’’قرآن دنیا کی آسان کتاب‘‘ اس میں شاید ہی کسی کو شک ہو۔

دوسری سطر ’’جتنے بھی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں وہ قرآن پڑھ اور سمجھ کر داخل ہو رہے ہیں‘‘

ظاہر ہے کہ اِس بات کا انہوں نے اقرار کیا ہے کہ دوسرے لوگ یا غیر مسلم قرآن پڑھ اور سمجھ کر داخل ہو رہے ہیں۔

ہمارے لوگوں کی سمجھ کہاں کھپ گئی؟؟؟

کیا ہم قرآن کے پیغام کو سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکے یا نہیں ہیں؟

ہمارے لوگ کسی مولوی صاحب کے پاس جاکر قرآن سمجھنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟

کیا ہمارے کسی مولوی صاحب نے اب تک قرآن سمجھایا ہے؟

کیا ہمارے مولوی صاحب اور جنہوں نے قرآن سمجھا ➖ یا ➖  سمجھایا ہے، وہ قرآن کے احکام پر پابند ہیں؟ 

اگر ہیں تو کس حد تک ؟

آج ہمارے پاس یہ فہرست تو موجود ہے کہ کس عالم یا دانشور نے کتنی کتابیں، تفسیریں، وغیرہ لکھی ہیں؟

کتنے مدرسے یا کتب خانے قائم کئے؟

سماج کا کون سا ایسا باب یا پہلو ہے جس پر ہمارے علماء کرام نے کتابیں نہیں لکھیں یا تقریریں نہیں کیں؟

ایک ہی موضوع پر درجنوں عالموں کی درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ 

نماز کی کتاب کی مثال لے لیجیے۔ کسی بھی شہر کے کتب خانہ بازار میں جائیے، دسیوں کتابیں مل جائیں گی۔ بلکہ دہلی، ممبئی، حیدرآباد، لکھنؤ جیسے شہروں میں سو کے قریب مختلف نسخے نماز کے موضوع پر مل جائیں گے۔

یہاں تک کہ اب ’’انجمن حمایت اسلام لاہور‘‘ کے ذریعہ تیار کردہ ’’اردو کا قاعدہ‘‘ پر سیندھ مارنے کی کوشش کی گئی ہیں۔ کلکتہ اور بہارشریف کے دو کتب خانوں کو میں رابطہ کیا تو اُن کے پاس جواب ٹالنے والا تھا، ’’ابو نے کرایا ہے، علماء کرام ہی بتا سکتے ہیں‘‘ وغیرہ۔ آخر یہ لوگ قوم کو دینا کیا چاہتے ہیں؟

یہ ایسا دعویٰ بھی نہیں ہے کہ جس کی دلیل آپ مجھ طلب کریں۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے دلائل کی بھرمار ہیں۔ 

علماء کرام بنٹے ہوئے ہیں۔ کتب خانے بنٹے ہوئے ہیں۔ مدرسے بنٹے ہوئے ہیں۔ مسجدیں بنٹی ہوئی ہیں۔ 

ہر مسلک و مشرب کی جانب سے درجنوں علماء کرام کتابوں اور تقریروں کی بھرمار کئے ہوئے ہیں۔ 

پھر بھی ہمارے لوگ قرآن کو سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ کیوں؟  اصل  پہلو پر بھی آپ غور کریں۔

اصل بات یہ ہے کہ ’’کیوں‘‘ کے پہلو پر ہمیں غور کرنے کی صلاحیت مفقود ہو چکی ہے۔

آپ اگر دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھیے گا کہ اکثر وہ لوگ جنہوں نے دینِ اسلام قبول کیا ہے، وہ کسی مولوی کی رہنمائی میں تو برائے نام ہیں۔ لیکن کسی غیر مولوی اسکالرز کے ذریعہ عام طور پر بھری مجلس میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اُن کے ذریعہ کئے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے اور دیے جا رہے ہیں۔ اُن کا اطمینانِ قلب ہی، انہیں اسلام کی سچائی کو قبول کرنے پر مائل کر رہا ہے۔ نہ کہ مجبور کر رہا ہے۔ 

لیکن یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ جہاں بھی مجبور کرنے کی صورت پیدا ہوئی ہے، وہ لوگ بظاہر اسلام قبول کر چکے ہیں لیکن عملی طورپر اسلام کے اصولوں پر کاربند نہیں ہیں۔ نہ ہی وہ اصول کو سمجھ پائے اور نہ ہی انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی۔

آپ خود دیکھ رہے ہوں گے کہ ہمارا سماجی طور طریقہ کس حد تک غیروں کے مماثل ہیں۔ ہم لوگ اصول کو اپنی خواہش کے مطابق عمل میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ حدیث کے مطابق اسلام کا اصول ہے کہ 

لا يُؤمنُ أحدُكُم حتى يكونَ هَوَاهُ تبعًا لما جِئتُ بِهِ

کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُس کی طبیعت میرے ذریعہ لائے ہوئے پیغام کے تابع نہ ہو جائے۔

لا يُؤْمِنُ أحدُكم حتى أَكُونَ أَحَبَّ إليه مِن وَلَدِه، ووالِدِه، والناس أجمعين

کوئی شخص اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں (محمد ﷺ) اُن کی اولاد، اُن کے والدین اور دیگر تمام لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

محبت، حبیب، اور محبوب کی تفصیل جاننے کے لئے اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

(سورہ آلِ عمران آیت ۳۱)

اے نبی (محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللّٰہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللّٰہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا، اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ بے شک اللّٰہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

محبت کے اِس جامع حکم اور اصول کو ہم نے یا تو سمجھا نہیں، یا پھر عمل میں نہیں لایا، یا پھر ہم اپنی طبیعت کے مطابق زندگی جینا چاہتے ہیں، جیسا کہ عمومی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کوئی تو وجہ ہے کہ غیروں کے سامنے ہماری عزت نیلام ہو رہی ہے۔ ہمیں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ ہماری عبادت گاہیں مسمار کی جا رہی ہیں۔ ہمارےتعلیمی ادارے برباد کیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک اب ہمارے گھر بھی ہمارے سامنے بلڈوز کئے جا رہے ہیں۔ کیوں؟؟؟

ہم نے بھی دیکھا اور عمومی طور دیکھا اور سنا جا رہا ہے کہ ہمارے لوگ اب اپنی عبادت، ریاضت، معاملات، اور سماجی پہلو کو احکامِ الٰہی اور طریقۂ نبی کو چھوڑ کر اُن سے موازنہ کرکے عمل میں لاتے ہیں۔


’’وہ پندرہ دنوں سے کانوڑ لے کر چلتے ہیں تو راستہ جام نہیں ہوتا؟‘‘

یا اِسی طرح کے دیگر اسباب بیان کرتے ہیں۔

اُن کے اصول وہ جانیں، بلکہ وہی زیادہ جانتے ہیں۔ ہم انہیں اصول سکھانے والے کون ہوتے ہیں؟


بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اس طرح سے سڑک جام کرنے کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ جب کہ اکثریتی طبقہ بھی ایسی حرکتوں کو ناپسند اور خلاف اصول سمجھتے ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح سڑک جام کرنا یا ایک طرفہ سڑک جام کرنا اور وہ بھی کئی کئی ہفتوں تک۔ غیر مناسب ہے۔ 

ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کو تین گنا کرایہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ 

ٹرانسپورٹیشن میں دقتوں کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ 

بہت سارے ضروری کام ٹالنے پڑتے ہیں۔ 

لیکن مریض کا علاج کرانا تو ضروری ہوتا ہے۔ 

انہیں اور بھی زیادہ دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 

ٹریفک کی دقتوں کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی کی پہنچ میں دشواری ہوتی ہے۔ 

مریض جان گنواتے ہیں یا اپاہج ہو جاتے ہیں۔


وہ راستہ جس پر لوگ چلتے ہیں اور اسے اپنے پاؤں سے پامال کرتے ہیں وہ بھی ان سات مقامات میں داخل ہے جن میں نماز پڑھنے سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے، چنانچہ ابن ماجہ نے ’’سنن‘‘ میں حضرت ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا

سَبْعُ مَوَاطِنَ لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمَقْبَرَةُ وَالْمَزْبَلَةُ وَالْمَجْزَرَةُ وَالْحَمَّامُ وَعَطَنُ الْإِبِلِ وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ

(سنن ابن ماجہ۷۴۷)

’’سات مقامات ایسے ہیں جن میں نماز جائز نہیں ۔

(۱) بیت اللہ شریف کی چھت (۲)قبرستان (۳)کوڑے کرکٹ کا ڈھیر (۴)ذبح خانہ (۵)حمام (۶) اونٹوں کا باڑہ (۷) راستہ۔‘‘

مذکورہ حدیث کس زمانے میں قابلِ عمل ہوگی؟

کیا اِس میں راستہ پر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا؟

کئی مقامات پر ٹریفک میں دشواری ہوتی ہے لیکن مسجد کمیٹیوں نے انتظامیہ سے متعینہ وقت کے لئے درخواست دی ہوئی ہے۔ مسجد کے امام و مقتدی وقت کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔

لیکن چند دو ٹکے کے امام جو اپنے بیانات کو طول دیتے ہیں اور جواز افادیت کا فراہم کرتے ہیں، سب سے بڑے فتنہ کے جنم دینے والے ایسے ہی امام اور کمیٹی والے ہیں۔ جس مسجد میں جمعہ کی نماز یا دیگر نماز کا وقت متعین ہوں اور اسے نئی افادیت یا کوئی اور بہانا بنا کر نیا فتنہ پیدا کرنا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

دو ٹکے کے امام اور کمیٹی والوں نے گاؤں تک میں فتنہ پیدا کر رکھا ہے۔ خاص طور سے ان علاقوں میں جہاں فیکٹری اور دفاتر ہیں۔ کیوں ایک ہی وقت میں جمعہ پڑھی جاتی ہے۔؟ جب کہ ہمارے پاس کئی جماعتیں کرنے کی گنجائش ہیں۔ اسی لئے تو کہ کسی کا جمعہ بھی نہ چھوٹے اور انسانیت کو تکلیف بھی نہ ہو۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ آج جمعہ کا دن اور وقت ہے، خود احتیاط کرتے ہیں۔ لوگ احتیاط کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو بھی ہماری ضرورتوں کا خیال رہتا ہے۔ لیکن ہم کس بنیاد پر خطبہ کو طول دے کر نماز کو پانچ سے دس منٹ تک مؤخر کرتے ہیں؟ اور کیوں؟ لاکھوں کی تعداد میں علماء مولوی اور مولوی نما لوگ مدارس اور مساجد کے وقت اور طور طریقے کو کیوں نہیں سنبھال پاتے ہیں؟ مسجدکی صفائی ستھرائی اور امام کی غیرحاضری پر سب سے سب جج یا متولی بن جاتے ہیں۔ لیکن ذمہ داری نبھانے کے نام پر ؟؟ ’’یہ تو فلاں کا کام ہے‘‘

جن قوموں نے وقت کا خیال نہیں رکھا، وہ قومیں تباہ ہوئی ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔

آج بھی وہیں قومیں کامیاب و کامران ہیں، جن کا وقت، مال اور صحت کا تنظیمی ڈھانچہ اصول کے مطابق ہے۔

کیا مسلم قوم نے زکوٰۃ جیسے اہم رکن کو مالیاتی تنظیم کا ذریعہ بنایا؟

کیا مسلم قوم نے صوم جیسے اہم رکن کو جسمانی تنظیم کا ذریعہ بنایا؟

کیا مسلم قوم نے وقت جیسے اہم معاشرتی حکم کو منظم کیا؟

اگر نہیں تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ 

کتنے فیصد ڈاکٹرس، انجینئرز، وکلاء، صنعت کار آپ نے پیدا کئے؟

شاید یہ اللّٰہ کی جانب سے قلعی کا دور چل رہا ہے۔ یعنی ریفرش منٹ کا زمانہ۔ اس دور میں وہی عزت سے رہیں گے، جنہوں نے احکامِ خداوندی اور طریقہ رسول کی پاسداری کی اور جنہوں نے اپنی مرضی سے جینے کا طے کیا ہوا ہے۔ وہ خس و خاشاک کی طرح دنیا سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔

اللّٰہ ہم سب کی حفاظت فرماے۔ صحیح سوچ اور غور فکر کی صلاحیت عطا فرماے۔ آمین

فیروزہاشمی

24th March 2024


خوشخطی اور کتابت قائم رکھنا ضروری ہے؟

مذکورہ سرخی کو پڑھنے کے بعد اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ خوشخطی اور کتابت سیکھنا اور قائم رکھنا کیوں ضروری ہے؟ آج کے کمپیوٹر...