Friday, July 4, 2025

بیمار جنّتی

کھلی فضا میں رہنے والے بیمار حضرات و خواتین کی شکایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ مضمون تیار کیا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ جنت جیسی سہولت والی جگہ میں رہنے والے لوگ بھی جوڑوں کے درد، شوگر، بی پی، تھائرائیڈ، مائیگرین جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔


ایک صاحب نے مہاراشٹر سے فون کیا کہ ہمیں پیروں کی ورزش بتائیں۔ میں نے چلنے سے متعلق آپ کا مضمون پڑھا ہے۔

حالاں کہ چلنے سے متعلق تفصیلات وہاں موجود ہے، پھر بھی ان کا سوال ہے پیروں کی تکلیف سے متعلق۔ 

سوال تو ان کا بھی ہے جن کی عمر چالیس، پچاس، ساٹھ سال سے زائد ہیں۔

اور 

سوال اُن کا بھی ہے جو قدرتی ماحول میں رہتے ہوئے گھٹنے اور کمر درد میں مبتلا ہیں۔ بہت سے پچاس پلس پر کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ 

یہ تو لوگوں کے حالات ہیں۔

اب وجوہات پر غور کریں۔ پھر اس کا حل بتایا جائے گا۔

سب سے پہلی وجہ مادّی سہولت نے تن آسانی پیدا کی۔ جس کی وجہ سے روزمرہ کے وہ کام جو ہم خود کرتے تھے اب دوسروں پر منحصر ہو گئے۔ یا مشینی ذرائع پر منحصر ہو گئے۔ 

مثلاً مختصر سی مسافت کے لیے بھی بائیک یا کار کا استعمال کرتے ہیں۔ کھانے پینے و دیگر اشیاء کی ہوم ڈیلیوری۔

دوسری وجہ ضرورت سے زیادہ خوراک اور بے وقت کھانا۔

پہلے لوگ ’’دو جون کی روٹی‘‘ کے طلب گار ہوتے تھے اور اسی کے لیے محنت کرتے تھے۔ اب پانچ وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔

بیماری کی شکایت پر کوئی تنبیہ کرے تو کہا جاتا ہے کہ میرے پاس ہے تو کھاتے ہیں۔ میرے پیٹ موٹا ہونے سے تجھے کیا تکلیف ہے؟

ایسے اصول پسندوں کو جو دوقت کا کھانا کھاتے ہیں انہیں کنجوس یا غریب اور پچھڑا گردانا جاتا ہے۔

تیسری اور سب سے بڑی وجہ ’’لاپرواہی‘‘ ہے۔ جس کی فہرست بہت لمبی ہے۔

اب اِس کا حل کیا ہے؟

بازار میں کئی قسم کی سہولتیں دوا، آپریشن، اور بیساکھی یا تکیہ یعنی سہارا کی شکل میں موجود ہیں۔ قیمت دیجیے اور حاصل کیجیے۔

چاہیں تو دوا سے ٹھیک ہو سکتے ہیں یا مسلسل دوا پر جی سکتے ہیں۔

آپ چاہیں تو آپریشن کرا لیں۔ جسم کے کئی حصّے اور ہڈیوں کو بدلنے، بڑا کرنے، جوڑنے وغیرہ جیسی سہولتیں آ چکی ہیں۔ جیسے Hip, knee, spine Replacement وغیرہ، سب کو بدلا جا سکتا ہے اور بدلا جا رہا ہے۔ ہڈی جتنی بھی چور ہو چکی ہو اس کی جگہ نئی ہڈی لگائی جا سکتی ہے یا کسی دھات کی مدد سے ویسی ہی ہڈی بنا کر جوڑ دی جاتی ہے اور لنگڑاپن بھی نہیں آتا۔ آرام سے چل سکتے ہیں، گاڑی ڈرائیو کر سکتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ اپنی ضروری حاجت کے لیے دوسرے کے محتاج نہیں رہیں گے۔

تیسری صورت لاپرواہی کا ایک حصہ ہے، بیساکھی، تکیہ یعنی دوسرے کی مددلینا۔

یعنی یہ مان چکے ہوتے ہیں کہ اب ہمیں پوری زندگی دوا کے سہارے ہی زندگی گزارنا ہے۔ یا بیساکھی کے سہارے ہی چلنا پھرنا، یا یہ کہ اب ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ وغیرہ

پہلی اور تیسری قسم کی سوچ والے لوگ زیادہ ہیں۔

پوری زندگی دوا کھاتے، بیساکھی پر چلتے، کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہوئے گزار دیں گے لیکن درست علاج کراکر صحت مند زندگی نہیں گزاریں گے۔

بیمار شخص نہ اپنے لیے مفید ہے اورنہ معاشرہ کے لیے۔ ایک طرح سے یہ منفی سوچ کے لوگ ہیں اور معاشرہ میں منفی اثرات و سوچ پھیلانے کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔

معمولی درد کو بھی بہانہ بنا کر اور عمر عہدہ، مال کا دھونس جما کر بیچ صف میں کرسی لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ معاشرہ میں یہ کیا طریقہ اپنایا گیا ہے؟ 

ایسی حالت میں نہ آپ اللہ کے قریب ہو پارہے ہیں اورنہ معاشرہ کے لیے بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔ بلکہ بچوں اور جوانوں کے ذہن کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ 

اگر واقعی معذور ہیں تو کرسی لے کر کنارے بائیں طرف بیٹھیے، کیوں کہ آپ کی بیماری نے آپ کو سطحی طور پر بچوں کی صف میں لا دیاہے۔ اب آپ اپنی سوچ اور جگہ کے اعتبار سے ہی اللہ کے زیادہ قریب ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا ایسے لوگوں سے میری درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے اپنے لیے بہتر بنیں یا نہ بنیں، لوگوں کے لیے بدتری اور برائی کا ذریعہ نہ بنیں۔

اب آئیے سب سے آسان حل پر۔

اللہ تعالیٰ نے جن کو قدرتی ماحول اور سہولیات فراہم کی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس سے استفادہ کریں۔ مادّی سہولتوں کے قدرتی سہولتوں کو ترجیح دیں۔ ہم نے دیکھا ہے اور جانا ہے کہ 

 ☆ …لوگ گاؤں میں بھی اے سی استعمال کرنے لگے ہیں اور پانی کے لیے مشین اور ٹینک استعمال کر رہے ہیں۔

 ☆ …گاؤں کے لوگ کنویں یا ہینڈ پائپ کا پانی استعمال کر سکتے ہیں لیکن نہیں کرتے۔ صاف پانی کہیں سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …رہائشی کمرے میں کھڑکی اور روشندان ضرور بنائیں۔ ضرورتاً ہلکا پنکھا اور ایگزاسٹ فین استعمال کریں۔

 ☆ …کم سے کم دو کلو میٹر روزانہ پیدل چلیں۔

 ☆ …خوراک کا عرصہ دس سے بارہ گھنٹے کا رکھیں۔

 ☆ …مغرب بعد کھانا کھالیں تاکہ کھانے اور سونے میں تین گھٹنے کا فاصلہ رہ سکے۔ دس بجے رات تک سو جائیں۔

 ☆ …موبائیل فون بند کرکے اپنے جسم سے دور رکھ دیں۔

 ☆ …کوشش کریں کہ کوئی بھی الیکٹریکل آلات آپ کے جسم سے قریب نہ ہو، کم سے کم دو فٹ کی دوری کا خیال رکھیں۔

 ☆ …اس سہولت کے لیے زیرو وولٹ میٹ اور تھریپی کا طریقہ رائج ہے، استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

 ☆ …فجر پڑھ کے پندرہ تا تیس منٹ چہل قدمی کریں۔ اگر گھاس دستیاب ہو تو اس پر ننگے پاؤں چلیں۔

 ☆ …ناشتہ میں پہلے پھل کھائیں، بعد میں گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …بھوکے پیٹ کبھی چائے نہ پئیں۔ خواہ بسکٹ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔

 ☆ …صبح سات بجے سے پہلے کچھ بھی نہ کھائیں۔ چائے تو بالکل نہ پئیں۔ پانی پی سکتے ہیں۔

 ☆ …جن کو اسموکنگ کی عادت ہے وہ بھی چھوڑیں۔ یہ بیماری کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 ☆ …دوپہر کے کھانا میں پہلے سلاد کھائیں۔ اس کے بعد گھر کا کھانا کھائیں۔

 ☆ …کھانے سے پہلے تھوڑا پانی پی لیں اور کھانے کے بعد بھی تھوڑا ہی پانی پئیں۔

 ☆ …باقی پانی کی ضرورت بیس منٹ سے چالیس منٹ کے دوران محسوس ہوگی۔ اب جی بھر کر پانی پئیں۔

 ☆ …رات کا کھانا مغرب بعد کھالیں۔ سات بجے کے بعد پانی تو پئیں لیکن کھانا نہ کھائیں اور نہ ہی چائے یا کافی پئیں۔


اب رہی بات ’’بیمار جنتی‘‘ کی تو یہ اللہ والے لوگ جن کو ہرا بھرا کھیت، میدان، کھلیان، پارک دستیاب ہیں وہ بھی اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ٹانگوں، گھٹنوں، کمر اور بدن کے دوسرے حصّوں کے درد میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ گنہگار ہی کا جنت میں داخلہ منع ہے، بلکہ بوڑھے اور بیمار بھی جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔

 ☆ …لہٰذا وہ لوگ جو باقاعدہ نماز ادا کرتے ہیں اگر کہیں غلطی کر رہے ہیں تو میری اُن سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے سنت طریقے کے مطابق نماز کی ادائیگی کریں تاکہ جوڑوں کے درد اوربیماری سے بچ سکیں۔ 

 ☆ …جن کو سانس کی تکلیف ہو وہ لمبا سجدہ کریں۔ نماز میں وہ ساری ورزشیں موجود ہیں، جسے کرنے کے لیے لوگ جم جایا کرتے ہیں اور پیسہ دیتے ہیں۔ 

 ☆ …مسجد جائیں،درست طریقے سے نماز کی ادائیگی کریں۔ 

 ☆ …ممکن ہو تو نوافل کی بھی ادائیگی کریں۔ نوافل میں قیام، رکوع، سجدہ کو اپنی سہولت کی اعتبار سے طول دیں یعنی لمبا، قیام، رکوع اور سجدہ کریں تاکہ تندرستی برقرار رہے۔ 

 ☆ …جم والی رقم سے ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ ضرورت مند کو خودکفیل بنائیں۔ اپنے ہر کام میں معیانہ روی اختیار کریں، زندگی بہتر ہو جائے گی۔ جنت صرف وہی نہیں جس کا وعدہ اللہ نے کیاہے۔ 


اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جنت جیسی سہولتیں اِسی روئے زمین پر بھی فراہم کی ہیں اس کا فائدہ اٹھائیں، صحت مند زندگی گزاریں۔ دنیا و آخرت دونوں سنور جائے گی۔ ان شاء اللہ

 ☆ ☆ ☆

 محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس 

9811742537

نوئیڈا، اترپردیش، ہندوستان

Wednesday, June 4, 2025

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔

شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔


شتم رسول ﷺ کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ محمدﷺ کی بعثت سے پہلے بھی بہت سارے معاملے ہوئے، ہر سیرت نگار اور جانکار کو پتا ہے کہ بعثت کے بعد آپ کے ساتھ کیا کیا برتاؤ کیا گیا۔ اور کس کس دور میں کیا گیا؟ ہر دور میں دین اور شریعت کا مذاق اڑایا گیا۔ ہر دور میں طریقے جدا جدا رہے۔ کبھی زبانی حملے کیے گئے، کبھی عملی حملے کیے گئے، کبھی نسلوں کو گالی دی گئی۔ لکھنے پڑھنے کے دور میں اخبارات اس کے ذرائع بنے۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ٹی وی ڈیبیٹ میں بیٹھ کر گالیاں دی جا رہی ہیں۔ دین و شریعت پر عمل پیرا لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی۔ ہر دور میں کی گئی اور آج بھی کی جا رہی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا کہ کیوں ہمارے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے؟

ہمارے ساتھ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ ہم خود اندرونی طور پر آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، برائی کرتے ہیں۔ نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس طرح وہ ہمارے ساتھ سلوک کرتے ہیں، ہمارے اپنے خود ہمارے ساتھ عصبیت برتتے ہیں۔ یہی سب سے بنیادی وجہ ہے۔ اور سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ساری عصبی اور ذہنی خرابی ہماری نسل در نسل منتقل ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم اِن غلطیوں کے وارث پیدا ہوئے ہیں۔ غور کریں تو پتا چلے گا کہ خود محمدﷺ کے اُمتی کا دم بھرنے والے اُن کے قول و عمل اور فرمان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ محمدﷺ کے اُمتی کہلانے کا شوق رکھتے ہیں لیکن طریقہ اور سوچ ابوجہل والی پالے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی جذباتی شناخت کے ساتھ فوٹو ایڈٹ کرکے ڈالا جاتا ہے کہ بس، عام آدمی اُسی میں جذباتی بن جاتا ہے۔ اور پھر ہماری قوم کے لوگ آن میں کان کٹا بیٹھتے ہیں۔ کیوں کہ دوسری طرف سے ہمارا اپنا طعنہ دیتا کہ تجھے رسولﷺ سے محبت نہیں۔ تجھے قرآن سے محبت نہیں۔

’’اُس مسلم کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے جو اسے پڑھے اور فاروڈ نہ کرے۔‘‘

یا اس جیسے دیگر جذباتی جملے … … …

مسلم قوم کو تو کب کا شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔

 آخر اس طرح کے پوسٹ کو دوسروں تک پہنچا کر اُسے پرموٹ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیوں اپنے آپ کو خود ہی ذلیل کرتے ہیں؟

کچھ ٹی وی چینل نے تو اسی کام کا بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اس طرح کے جذباتی ڈیبیٹ کریں گے اور سوشل میڈیا پر پھیلا دیں گے۔ فاروڈ کرنے کا کام تو ہماری قوم کے لوگ خود ہی کر دیتے ہیں۔

ہمارے یہاں گرافک ڈیزائنر کی بھرمار ہے جو اس کے چہرے پر جوتا بنا کر پوسٹ کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔

اسی طرح کی سوچ کے تعلق سے سینکڑوں امیجز اور ویڈیوز نظر سے گزرے ہوں گے۔ اور جب اُن پر غور کیا جائے اور سوچا جائے تو اس کا نتیجہ یہی آئے گا کہ سب سے زیادہ گستاخی اور مخالفت کرنے والے ہم خود ہی ہیں۔

وہ کیسے؟ ذرا اِس حدیث پر غور کریں۔

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَيَدِهٖ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللهُ عَنْه

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اُن چیزوں (عادتوں اور طریقوں) کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

ہم کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن کیا اس کا حق ادا کرتے ہیں؟ 

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، لیکن کیا ہم مذکورہ حدیث پر عمل کرتے ہیں؟

آخر ہماری عبادات کیسی ہیں کہ ہم منکرات سے نہیں رُکتے؟ انسانیت کو تکلیف پہنچانے سے نہیں رُکتے۔ کیوں ہر غلط کام معاشرے میں ہماری پہچان بن چکی ہے۔ یہ چاروں عبادات ادا کرنے کے بعد بھی ہمارے قول اور عمل میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ کیوں؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کو فاروڈ کرنے کی؟

کیا ضرورت پڑی اِس طرح کے ویڈیوز اور امیجز کے بارے میں جذباتی بیان دینے کی اور تشہیر کرکے لوگوں کو ورغلانےکی؟ یہ تو صرف دل کی بھڑاس نکالنے کی طرح ہے۔

آپ خود سے سوچئے کہ 

سنجیدہ موضوع پر کتنے لوگ گفتگو کرتے ہیں، یا عمل میں لاتے ہیں؟ 

کتنے لوگ سنجیدگی سے سنت نبویہ کے مطابق عبادات کو بجا لاتے ہیں؟ 

’’اپنی ذات سے دوسرے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے‘‘ کتنے لوگ یہ خیال رکھتے ہیں؟

اگر غلطیاں اور کمیاں شمار کرائی جائے تو غلطیوں کا پلندہ تیار ہو جائے گا۔

اگر ٹی وی پر اس طرح کے پروگرام آ رہے ہیں تو ٹی وی دیکھنا بند کیجیے۔ ویسے بھی اب ٹی وی دیکھنے کی یا معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہ گیا ہے۔ اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ 

سب کے سب آپ کے جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں اور اُس کا فائدہ اٹھاتے۔ نقصان ہوتا ہے تو صرف اور صرف ہمارا۔

مسلم قوم خود رسولﷺ کے فرمان (طور طریقے) کی نافرمانی کر رہا ہے تو کیا یہ رسولﷺ کو گالی دینے کی طرح نہیں ہے؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔

ایک گالی اُس نے دی ہے۔ وہ ہم تک پہنچی تو ہمیں دُکھ ہوا۔ اور ہمارے دُکھی ہونے سے اُنہیں خوشی ملتی ہیں۔

اب ہمیں سوچنا ہے کہ کیا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا مخالف خوش ہو۔

یا وہ کام کیا جائے جس سے ہمارا رب خوش ہو۔

اگر ہمیں اللہ کی رضا مقصود ہے تو ہمیں رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر کام کرنا ہی ہوگا۔ اور خدا و رسول کی رضا کو اپنا نشانہ بنانا ہی ہوگا۔

لہٰذا ہمیں صبر کے ساتھ غلط ویڈیوز اور امیجز وغیرہ پرموٹ کرنا بند کردینا ضروری ہے۔

کوئی تبصرہ یا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

اس پر گفتگو کرنا بند۔

برداشت کی عادت ڈالیے۔ 

آپ کا کیا ارادہ ہے۔؟

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

ری فورمسٹ

3rd June 2025

 

Monday, May 12, 2025

دوا کیوں فروخت کی جاتی ہے؟

Why is the medicine sold?

موجودہ دور میں لوگوں کے پاس پیسے آئے۔  آرام دہ زندگی ہوگئی۔ لوگ آرام طلب ہو گئے۔  ہر ضرورت کی چیز اب گھر بیٹھے منگائیے اور لطف اٹھائیے۔  دوائیاں بھی آپ کو رعایتی قیمت پر گھر پہنچا دی جا رہی ہیں۔  اپنی پسند کا کھانا گھر بیٹھے منگائیے اور کھائیے۔  اپنی ہر ضرورت کی چیز آپ کو اب دروازے پر مہیا کرا دی جاتی ہیں۔ 

آرام طلب زندگی ہو جانے کی وجہ سے لوگوں نے گھومنا پھرنا، چلنا چلانا، آپس میں ہنسنا، بولنا بہت کم ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ باہمی اور اجتماعی گفتگو چوپال وغیرہ کا طور طریقہ اب ختم سا ہو تا جا رہا ہے۔ 

لو گ اپنے موبائیل میں مست ہیں۔ اور روز بروز نئی نئی بیماریوں کے شکار ہو رہے ہیں، اس لئے اب دوائیاں زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ 

اور ایک سب سے بڑی وجہ بھی ہے کہ ’’اکثر لوگ اپنی صحت کی حفاظت کرنا نہیں جانتے۔‘‘ 

آج کے دور میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ 

’’لوگ بیمار ہوکر کیوں مرتے ہیں؟‘‘ 

تو اس کا بالکل صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ 

’’اکثر لوگ دوا میں اپنی عافیت تلاش کرتے ہیں۔‘‘ 

اور دوائیاں کھاتے کھاتے مزید کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کی قوت دفاع زائل ہو جاتی ہے۔ اُن کی امیون پاور کم ہو جاتی ہے۔ یہ عام علم ہے کہ ایک مضبوط مدافعتی نظام وائرس اور بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جب کہ کمزور نظام آپ کو زکام یا اس سے بھی بدتر ہونے کا زیادہ شکار بناتا ہے۔

عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہم کیسے جانیں گے کہ ہماری مدافعتی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے؟ 

تو سب سے پہلے ہم خود اپنی کارکردگی کو جانچیں گے۔ 

جیسے کہ چلنے پھرنے میں کمزوری محسوس کرنا، 

تھکا تھکا سا رہنا، 

نیند ضرورت سے زیادہ آئے۔ 

تھوڑا کام کرکے تھک جائیں، 

وزن اٹھانے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے، 

کسی سے بولنے بات کرنے کی طبیعت نہ کرے یا پڑھنے لکھنے یا سننے کی طبیعت نہ کرے۔ 

تو یہ سب علامتیں امیون پاور کم ہونے کی علامت ہے۔

دوسرا رواجی طریقہ ہے، ڈاکٹر سے مشورہ کرنا۔ 

وہ سب سے پہلے آپ کا بی پی چیک کرے گا اور خون ٹیسٹ کرنے کو کہے گا۔ 

خون کے ٹیسٹ سے اس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے خون میں انفیکشن سے لڑنے والے پروٹین (امیونوگلوبلینز) کی عام سطح کیا ہے؟ اور خون کے خلیات اور مدافعتی نظام کے خلیوں کی سطح کی پیمائش کی جاتی ہے۔ آپ کے خون میں مخصوص خلیوں کی تعداد جو معیاری حد سے باہر ہیں مدافعتی نظام کی خرابی کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

پھر اِس بنیاد پر آپ کا علاج شروع کیا جاتا ہے۔

 ☆ ☆ ☆

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

9811742537


Monday, April 21, 2025

ہیٹ اسٹروک یا لو کے اثرات و علاج

Effects and treatment of Heatstroke

ہیٹ اسٹروک یا سن اسٹروک جسے ہندوستانی زبان میں لو کہتے ہیں یہ جانداروں پر براہِ راست دھوپ کی شدید گرمی اور ہوا میں نمی کی کمی اور مناسب مقدار کے ساتھ ہوا نہ چلنے، یعنی حبس سے پیدا ہوتی ہے۔ پسینہ زیادہ آنے سے جسم میں مائعات اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ جسم میں درجۂ حرارت کا کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے اور حرارت جسم میں جمع ہوجاتی ہے اور لُو لگنے کا باعث بنتی ہے۔ کسی بھی انتہائی گرم سال،  ہندوستان میں ہزاروں افراد شدید گرمی یا لُو لگ جانے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

لُو سے متاثر ہو جانے کی کچھ اہم علامات،جیسے  چکر آنا، سر میں ہلکا پن محسوس ہونا اور ٹانگوں میں اکڑن ہونا ہیں۔ مسلسل بہنے والا پسینہ، سر درد، متلی اور شدید تھکاوٹ بھی لُو کی وابستہ علامات ہیں۔ تاہم، لوگوں کی صحت کی حالت مختلف ہو سکتی ہے اور کچھ لوگ کھڑے ہونے میں مشکل، سانس رکنے، ہاتھ پاؤں سُن ہو جانے، دل کی تیز دھڑکن، پٹھوں میں درد اور اسہال کی شکایت بھی کرتے ہیں۔

بچّے ہیٹ اسٹروک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ جسم کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے کی ان کی صلاحیت پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی۔ ایک اور عنصر یہ ہے کہ ان کا قد بالغوں کی طرح بلند نہیں ہوتا، اس لیے وہ زمین سے منعکس ہونے والی گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی بالغ کے سر کے ارد گرد کا درجۂ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، تو یہ بچے کے قد پر 35 ڈگری ہوگا۔ بچہ چہل قدمی کر رہا ہو تو یہ اور بھی زیادہ ہوگا۔ اس کی حفاظت کے لیے ایسے دنوں میں بچوں کو ٹوپیاں پہننی چاہیے، اپنے ساتھ قدرتی ٹھنڈے مشروبات رکھنے چاہیےاور زیادہ دیر تک باہر کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے۔

نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ ساتھ معمر افراد بھی اَن جانے میں پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں، کیوں کہ وہ نوجوانوں کی طرح گرمی یا پیاس محسوس نہیں کرتے اور وقت پر مناسب مقدار میں پانی یا کوئی مشروب نہیں پیتے۔ آہستہ آہستہ انہیں پسینہ آنا بند ہو جائے گا، اور وہ اپنے جسم کے درجۂ حرارت سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو دیں گے اور انہیں لُو لگ جائے گی۔ اکثر لوگوں کو بار بار پیشاب خارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس خوف سے پانی کم پیتے ہیں یا دیگر قدرتی ٹھنڈے مشروبات سے بچتے ہیں، یہ اُن کے لیے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔  بزرگوں اور بچوں کو گھر میں یا کسی ایک کمرہ میں اکیلا نہ چھوڑیں۔ اگر آپ گھریلو کام میں مصروف ہو تو بھی اپنے ساتھ کسی کو بطور معاون ضرور رکھیں۔ دفاتر یا کام کی جگہ میں بھی گروپ میں کام کریں۔ اگر آپ کا کام اکیلے کیبن میں بیٹھ کرنے والا ہو تو اپنی صحت کا خیال رکھیں اور کسی بھی طرح کی ہونے والی دقتوں اور پریشانیوں کے بارے میں منتظمہ کو آگاہی میں رکھیں۔ بزرگوں کے آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ وہ اکیلے رہنے والے بزرگ شہریوں یا ان معمر افراد کا خیال رکھیں جو اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں لیکن دن کے وقت تنہاء ہوتے ہیں۔ اچانک حدّت بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر لوگ کمزوری کا شکار ہو کر بے ہوش رہے ہیں۔ چکرا کر گر رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی دقت پیدا ہو رہی ہے۔ ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہونا پڑ رہا ہے۔ گلوکوز کی بوتلیں چڑھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ سب صورتِ حال آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں۔ تو ایسی حالت میں ری کوری کی کیا صورت ہوگی؟ یہ اہم سوال ہر ایک کے دل و دماغ میں پیدا ہونا یقینی ہے۔

اپریل کے تیسرے ہفتہ سے گرمی کی بڑھنے لگی ہے۔ ٹمپریچر چھتیس ڈگری سے اوپر پہنچنے لگی ہے۔ اتنی گرمی میں بغیر حفاظتی اقدام کے باہر نکل جانا، اچانک پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں پانی تو اپنے ساتھ رکھیں ہی اور ضرورتاً استعمال کریں۔ لیکن اگر کمزوری زیادہ محسوس ہو تو ناریل پانی یا نیمبو پانی ضرور پئیں۔ یہ بہت ہی عمدہ غذا اور علاج ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی صحت بحال رہے گی بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوگی۔ ایسے حالات میں باہر کا کھانابطورِ غذا استعمال کرنا چھوڑ دیجیے۔ باہر سے صرف ناریل پانی، کھیرا، ککری، تربوز، خربوز، سنترہ اور نیمبو پانی لے سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جلدی میں سنترا کھانے کے بجائے سنترے کا جوس پینا پسند کرتے ہیں۔ جوس بہت ہی مجبوری کی حالت میں پینے کا مشروب ہے۔ یا صحت مند حالت میں شوقیہ پینے کا مشروب ہے۔ لیکن جو لوگ بھی صحت مند حالت میں شوقیہ جوس پیتے ہیں، ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، ہاضمہ کی دقت ہونے لگتی ہے، اور لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم پھلوں اور جوس استعمال کرنے کے باوجود کمزور ہیں اور ہماری صحت میں سدھار نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ ہے غلط طریقے سے غذا لینا یا غلط وقت پر کھانا پینا صحت کو بحال نہیں کرپاتا۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے روز مرہ کے معمول کو بہتر بنائیں۔ سفر کی حالت میں نیمبوپانی، ناریل پانی، سنترہ پر گزارا کریں۔ بھاری بھرکم کھانا سے پرہیز کریں۔ گھر پہنچ کر کھانا کھائیں اور کھلی جگہ میں چہل قدمی کریں۔ بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں کئی طرح کے گھریلو نسخے جیسے لہسن، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، الائچی وغیرہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ 

گرمی سے ہونے والی تکالیف سے بچنے اور اچانک ہونے والی دقتوں سے آزادی حاصل کرنا آسان ہے۔ عمومی طور پر احتیاط برتنا ضروری ہے۔ 

سفر سے آکر ٹھنڈا پانی کا استعمال نہ کریں۔

ہمیشہ اپنی طبیعت کے مطابق سادہ پانی یا گنگنا پانی پئیں۔

ریفریجریٹر سے کھانے پینے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں۔

زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس سے بھوک مر جاتی ہے۔

کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری اور قبض کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ 

صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے کے درمیان صرف پھلوں کا استعمال کریں۔

دوپہر کے کھانا سے پہلے سلاد ضرور کھائیں۔ اس کے بعد ہی کھانا کھائیں۔

شام کا کھانا مغرب کے فوراً بعد کھا لیں۔ 

اگر دیر سے کھانا کھائیں گے تو بدہضمی اور نیند کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہے۔ 

رات کے وقت میں کوئی بھی ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ 

لو سے بچنے کا ایک آسان اور گھریلو علاج کچے آم کو پانی میں ابال کر یا آگ میں پکا کر اس کے گودے کا شربت بنایا جائے میٹھا یا نمکین۔ اسے پیا جائے۔ بچے بڑے اور بزرگ سب کے لیے یکساں مفید ہے۔

اللہ شافی، اللہ کافی


نوٹ    ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے اور ڈائٹ پلان کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

۱۷؍اپریل ۲۰۲۵ء 


Tuesday, April 8, 2025

The effects of changing weather and our health

 بدلتے موسم کے اثرات اور ہماری صحت


ابھی چند دنوں میں اچانک گرمی بڑھنے کی وجہ سے کئی طرح کی صحت سے متعلق پیچیدگیاں اور پریشانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ سردی اچھی طرح آہستہ آہستہ ختم ہونے کے بجائے ایک طرح سے ختم ہوگئی اور اچانک ہی حدّت بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر لوگ اچانک کمزوری کا شکار ہو کر بے ہوش رہے ہیں۔ چکرا کر گر رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی دقت پیدا ہو رہی ہے۔ ایمرجنسی میں ایڈمٹ ہونا پڑ رہا ہے۔ گلوکوز کی بوتلیں چڑھانی پڑ رہی ہیں۔ یہ سب صورتِ حال آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں۔ کیوں کہ لوگوں کی صحت اور قوّت مدافعت نئے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اب کمزوری کی وجہ سے انسان کئی کئی دنوں تک کام کرنے کے قابل نہیں ہو پا رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ری کوری کی کیا صورت ہوگی؟ یہ اہم سوال ہر ایک دل و دماغ میں پیدا ہونا یقینی ہے۔

ابھی جو مارچ کے خاتمہ تک سردی تھی اور اپریل کے پہلے ہفتہ تک میں ہی گرمی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ ٹمپریچر تیس سے چونتیس چھتیس ڈگری تک پہنچ جا رہی ہے۔ دن کے وقت میں رات کے ٹمپریچر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بغیر حفظ ما تقدم کے باہر نکل جانا، اچانک بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ ایسی صورت میں پانی تو اپنے ساتھ رکھیں ہی اور ضرورتاً استعمال کریں۔ لیکن اگر کمزوری زیادہ محسوس ہو تو ناریل پانی یا نیمبو پانی ضرور پئیں۔ یہ بہت ہی عمدہ غذا اور علاج ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی صحت بحال رہے گی بلکہ قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوگی۔ ٹمپریچر اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب سے ہی باہر کا کھانا بطورِ غذا کھانا چھوڑ دیجیے۔ باہر سے صرف ناریل پانی، کھیرا، ککری، سنترہ اور نیمبو پانی لے سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جلدی میں سنترہ کھانے کے بجائے سنترے کا جوس پینا پسند کرتے ہیں۔ جوس بہت ہی مجبوری کی حالت میں پینے کا مشروب ہے۔ یا صحت مند حالت میں شوقیہ پینے کا مشروب ہے۔ لیکن جو لوگ بھی صحت مند حالت میں شوقیہ جوس پیتے ہیں، ان کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، ہاضمہ کی دقت ہونے لگتی ہے، اور لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم پھلوں اور جوس استعمال کرنے کے باوجود کمزور ہیں اور ہماری صحت میں سدھار نہیں ہو رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ ہے غلط طریقے سے غذا لینا یا غلط وقت پر کھانا پینا صحت کو بحال نہیں کرپاتا۔ لہٰذا ایسی صورتِ حال سے نبردآزما ہونے کے لیے روز مرہ کے معمول کو بہتر بنائیں۔ سفر کی حالت میں نیمبوپانی، ناریل پانی، سنترہ پر گزارا کریں۔ بھاری بھرکم کھانا سے پرہیز کریں۔ گھر پہنچ کر کھانا کھائیں اور کھلی جگہ میں چہل قدمی کریں۔ بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں کئی طرح کے گھریلو نسخے جیسے لہسن، ادرک، کالی مرچ، دار چینی، لونگ، الائچی وغیرہ موجود ہیں۔ اسے جانیں، سمجھیں اور عمل میں لائیں، تاکہ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ ابھی ابھی ہم لوگ رمضان سے فارغ ہوئے ہیں تو بہتر یہی ہے کہ ہم ابھی بھی کم کم کھانا کھائیں تاکہ بدہضمی کا شکار نہ ہوں۔ اور قوت مدافعت قابو میں رہے۔

بدلتے موسم کے ساتھ دہلی این سی آر میں ہوا کا معیار (Airi Quality) بدتری کی طرف رواں ہے۔ اس دوران لوگ کئی قسم کی غلطیاں اور لاپرواہیاں بھی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پھیپھڑے کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اُن کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ بعض کا گلا سوکھتا ہے۔ کھانسی ہونے لگتی ہے۔ آلودگی کی انفیکشن سے بخار بھی ہو جاتا ہے۔ خون کی گرمی کم پڑ جاتی ہے یعنی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ گٹھیا کے مریضوں کا درد بڑھ جاتا ہے۔ جلد کی بیماری یعنی چرم روگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ قبض بھی ہو جاتا ہے۔ ہارٹ کی رفتار سست ہو جانے یا اٹیک پڑ جانے جیسی صورتِ حال سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان تکالیف سے بچنے اور اچانک ہونے والی دقتوں سے آزادی حاصل کرنا آسان ہے۔ ہر اُس شخص کے لیے جو احتیاط کرنا چاہیں۔

سفر سے آکر ٹھنڈا پانی کا استعمال نہ کریں۔

ہمیشہ اپنی طبیعت کے مطابق سادہ پانی یا گنگنا پانی پئیں۔

ریفریجریٹر سے کھانے پینے والی اشیاء بالکل استعمال نہ کریں۔

زیادہ چائے پینے سے پرہیز کریں، کیوں کہ اس سے بھوک مر جاتی ہے۔

کھانا کم کھانے کی وجہ سے کمزوری اور قبض کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ 

صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے کے درمیان صرف پھلوں کا استعمال کریں۔

دوپہر کے کھانا سے پہلے سلاد ضرور کھائیں۔ اس کے بعد ہی کھانا کھائیں۔

شام کا کھانا مغرب کے فوراً بعد کھا لیں۔ 

اگر دیر سے کھانا کھائیں گے تو بدہضمی اور نیند کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہے۔ 

رات کے وقت میں کوئی بھی ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ 

اکثر دل، پھیپھڑا سے متعلقہ تکالیف رات گیارہ بجے سے دو بجے کی درمیان پیش آتی ہیں۔ اور دوبجے سے پانچ بجے کے درمیان گردے سے متعلق تکالیف شروع ہو جاتی ہے، اس لئے دن کے اوقات میں مناسب انداز میں پانی پیا کریں۔ عصر کے بعد سے پانی پینے کی مقدار کم کردیں۔ پیاس محسوس ہونے پر ہی پانی پئیں۔ زبردستی نہیں۔

عمومی چائے پینے کے بجائے قدرتی چائے پئیں۔ تلسی یا سجنا کے پتے کو اُبال کرپئیں۔

قدرتی ہنزا چائے تیار کریں (چار فرد کے لیے)

اشیاء ۱۔پودینہ بارہ پتی ۲۔تلسی آٹھ پتی ۳۔ہری الائچی چار عدد۴۔دارچینی، دو گرام ۵۔ادرک بیس گرام ۶۔گڑ بیس گرام

چار کپ پانی ایک پتیلی میں لیجیے۔ مذکورہ سارے اشیاء کو اس میں ڈال کر دس منٹ پکائیں۔ اتارنے کے بعد اس میں لیمن جوس ملا کر لطف لیجیے۔ گرم یا ٹھنڈا دونوں صورتوں میں  مفید ہے۔

گھریلو اشیاء کا استعمال کریں۔ صحت مند رہیں، فضول ڈاکٹروں کے یہاں جانے سے بچیں، اپنی صحت بچائیں اور پیسہ بچائیں۔

اللہ شافی، اللہ کافی


محمد فیروزعالم، ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

۶؍اپریل ۲۰۲۵ء 

9811742537


Tuesday, March 25, 2025

Consumption of Zakat and our Attitude

 ⚽⚽زکوٰۃ کا مصرف اور ہمارا رویّہ⚽⚽

🌻🌻🌻

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْعَٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَٱلْغَٰرِمِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 

(سورۃ التوبۃ، آیت ۶۰)

اس صدقہ سے مراد زکوٰۃِ واجبہ ہے۔ نہ کہ عام صدقہ جو سبھی کے لئے مستحب ہے۔ بغیر کسی کے کسی کا خاص نہیں۔ صدقات صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اور کسی کے لیے نہیں، کیونکہ اس نے انہیں ان تک محدود کر دیا ہے، اور وہ آٹھ قسم کے ہیں۔

پہلا اور دوسرا غریب اور محتاج، اور وہ اس جگہ پر ہیں، دو مختلف قسم کے ہیں، غریب غریبوں سے زیادہ محتاج ہے، کیونکہ اللہ اُن سے شروع کرتا ہے، اور سب سے اہم کے علاوہ شروع نہیں کرتا، پھر سب سے اہم، لہٰذا غریب کو اس سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو کچھ نہیں ملتا، یا اس کے آدھے کے بغیر اپنی کچھ کفایت پاتا ہے۔

(اس کی تفصیل میں کئی قسم کے اختلافات ہیں) 

۳۔ عاملین، جو زکوٰۃ کو وصولنے یا رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ 

۴۔ تالیف قلب، دوسری ضرورت مند قوموں کو اسلام کی طرف رغبت دلانے کے لئے خرچ کرنا۔ 

۵۔ گردن چھڑانا، یعنی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنے والے کو قید سے چھڑانا۔  

۶۔ قرض دار (اس کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں)  

۷۔ اللہ کی راہ میں حملہ آور 

۸۔ مسافر اور اجنبی (یہ آیت تفصیل طلب ہے۔)

مذکورہ امور اور اس کی اقسام سے وہ سبھی اہلِ علم واقف ہیں، جو قرآن و حدیث کے عالم و عامل ہیں۔ وضاحتی مضامین و تقاریر کی بھی کمی نہیں ہے۔ عمومی سوال یہ آتا ہے کہ قوم کی غربت اور بے کسی کیوں دور نہیں ہو رہی ہے؟ ہمارے مالیات کا شعبہ اتنا غیر منظم کیوں ہے؟ ہر سال صدقہ وصولنے والے دور دراز کا سفر کرنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مدارس میں سفراء رکھنے کا رواج اور ضرورت کیوں ہے؟ ہم خود علاقائی طور پر اپنے ادارے چلانے کے اہل کیوں نہیں ہیں؟ اور سب سے اہم کہ ہم اپنی وراثت کی حفاظت کیوں نہیں کر پارہے ہیں؟

کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ یہ ہر ایک کے بعد دوسرے کے پاس مشورہ موجود ہے۔ کرنے کی باری آئے تو آئیں بائیں شائیں۔ اگر چند لو گ تیار بھی ہو جائیں تو اِس میں ہمارا حصّہ کتنا ہوگا؟ یا ہمارا کیا فائدہ؟ 

تنظیمی لائحہ عمل موجود ہے لیکن اُس پر عمل کرے گا کون؟

ایک بہتر لائحہ عمل موجود ہونے کے باوجود ہمارے اندر کچھ کمیاں ہیں، جو ہمیں مالیاتی اور علمی طور پر خود کفیل نہیں ہونے دیتی۔ جس کی وجہ سے ہمارا شمار علمی اور مالی طور سے پسماندگی میں کیا جاتا ہے۔ اگر ہم محلّہ اور گاؤں کے سطح پر بھی اس بہتر بنانے کا ارادہ کر لیں تو کوئی بعید نہیں کہ ہم چند برسوں میں بہتر ادارہ اور اچھے تعلیم یافتہ تیار کرسکیں۔

سب سے پہلے فریضہ کو سمجھیں اور اسے عمل میں لائیں۔

معاشرتی امور کو برتنے میں سنت طریقہ کو عمل میں لائیں۔

نوافل اپنی اپنی مرضی کی ہوتی ہے، اُس پر زور دینا اور ضرورت سے زیادہ ثواب اور جنت کی لالچ دے کر سنن کی خلاف ورزی کرتے ہیں، فرائض سے لاپرواہی برتنا بالکل بند کریں۔ ضعیف، کمزور، غیرمتواتر یا بزرگوں کے اقوال کو بنیاد بنا کر دین کی تبلیغ کرنا بالکل بند کریں۔ فرائض چھوڑ کر فضائل کی رغبت دلانا عقل مندی نہیں ہو سکتی۔ ہاں فرائض اور سنن پر عمل کرتے ہوئے لوگ خود بخود فضائل کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ

عبادات میں سب سے پہلے رواجی طریقۂ کار کو چھوڑیں اور جو رواجی طریقۂ کار پر عمل نہیں کرتے ان کو زبردستی فضائل بیان کرکے جوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ ہمارے یہاں ایک جماعت جو برسوں سے لوگوں کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے، ان کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وہ جوڑنا تو چاہتے ہیں لیکن خود جڑنا نہیں چاہتے۔ کوئی بھی ایرا غیرا جس کے دماغ میں فضائل کا جرثومہ پیدا کر دیا گیا ہے، کسی بھی وقت کو کسی کے بھی دروازے پر تبلیغ کے لیے دستک دیتے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی غیرذمہ دارانہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں، جو فرصت میں ہوتے ہیں، یعنی بچوں کی کمائی سے گھر کا گزارا ہوتا ہے، ایسے لوگ مسجدوں کا رُخ اختیار کرتے ہیں، نوجوانوں کو فرائض چھڑوا کر فضائل کا خواب دکھا کر دین سے بے رغبتی پیدا کرنے والے بن چکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے اِس جماعت کا کام اُن لوگوں کے لیے بے حد کارگر ہے جو کلمہ تک نہیں جانتے، الف کتنی لمبی ہوتی ہے یا کس طرح کی آواز پیدا کرتی ہے۔ ان کو انھوں نے جوڑا ہے تو یہ یقیناً اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن جو کسی طرح اپنی کوشش اور محنتوں سے عام روش میں چل رہے ہیں، اُن کو بے راہ رو کرنے میں بھی اُن کا اہم کردار ہے، جو کہ منفی کردار ہے۔

آخر لاکھوں کی تعداد میں مدارس کے قیام سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا سو سے پانچ سو خاندان کا محلّہ یا گاؤں اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ ایک مکتب کا قیام کر سکے اور اس کے اخراجات اٹھا سکے؟ اپنی ساری ضروریات کے لیے ان کے پاس مال ہوتا ہے اور اپنے بچے کو دینی تعلیم دلانے کے مختصر سی رقم نہیں ہوتی کہ بچے کی ٹیوشن فیس ہی دے سکیں؟ اگر سو خاندان کا ایک گاؤں ہے تو وہاں ایک مسجد تو ہوگی، اُسی مسجد میں باقی وقت میں مکتب آرام سے چلتا ہے اور چلایا بھی جا رہا ہے۔ اپنے ہی گاؤں کے پڑھے لکھے حافظ مولوی کو کیوں نہیں مقرر کیا جاتا؟ کیوں اُس کو وہ معاوضہ اور عزت نہیں دی جاتی کہ وہ دوسرے شہر یا گاؤں کا رُخ کرتے ہیں۔ مکاتب کا قیام ہر محلّہ اور گاؤں میں ضروری ہے، جو عصری تعلیم سے واقف ہیں وہ اپنا وقت اس کی تعلیم دینے میں خرچ کریں، بدلہ میں اُن کو بھی معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنی آگے کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ اور محلّہ کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو سکیں۔ ابتدا سے پانچ درجات تک اتنی صلاحیت پیدا کر دیں وہ کسی بھی سرکاری اسکول کے درجہ چھ میں داخل ہو سکے۔

ہر ایک طالب علم سے بطور ٹیوشن فیس تین سو سے پانچ سو روپے لیا جائے۔ اگر سو بچوں سے یہ فیس وصول ہو جائے تو تیس ہزار روپے ماہانہ آ جائے گا جو تین اساتذہ اور دفتری امور کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ تعلیم گاہ کے طور پر فی الحال مسجد کو استعمال کیا جائے۔ اور گاؤں کے لوگ ہی اپنے پیسے پس انداز کرکے ضرورت کے تحت تعلیمی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے عمارت کی تعمیر کریں۔ ان شاء اللہ بہت جلد بہتری آئے گی۔ نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن پڑھانے کے لیے دور دراز علاقوں سے بچّوں کو لانے لے جانے کا سلسلہ بالکل بند کیا جائے۔ ہر چھوٹا سا ادارہ بیرونی طلباکے نام پر صدقہ زکوٰۃ وصول رہا ہے اور غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ غیرمستحقین کو مستحق بتا کر صدقہ خرچ کیا جانا بہت بڑی بددیانتی ہے۔  (لائحہ عمل موجود ہے اور ہر علاقہ میں بنانے والے بھی موجود ہیں)

اب جو مدارس یا ادارے آگے کی تعلیم دیتے ہیں وہاں داخل کرایا جائے۔ تاکہ وہ چھ سے آگے کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان میں ایسے مدارس کی وافر تعداد موجود ہیں، جو یہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے یہاں عصری تعلیم کا پورا بندوبست ہے۔ چھ سے دس تک کراتے ہیں لیکن ایسے بھی کافی ادارے ہیں جو آگے کی تعلیم دینی اور عصری دونوں ہی فراہم کراتے ہیں۔ بچوں کو وہاں بھیجیں، وہ بھی اتنی دور نہیں بھیجیں کہ آمد و رفت مشکل ہو اور کسی ناگہانی میں بچے سے ملاقات کرنی مشکل ہو۔ جو بھی ادارہ کی جانب سے خوراکی اور مختصر انتظامی فیس ہو، اسے ادا کریں۔ یاد رکھیں صدقہ یا زکوٰۃ کی فہرست میں اگر آپ نہیں آتے ہیں، اور آپ استعمال کرتے ہیں تو گویا آپ مستحق کا حق مارتے ہیں۔ یہ استحقاق کو آپ نے سمجھ لیا تو آپ کے گھر میں برکت ہوگی، بچے تعلیم یافتہ اور فرمابردار ہوں گے۔ دنیا و آخرت کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔

اب بات آتی ہے دسویں کے بعد کی تعلیم کیسے کی جائے؟ تو

پہلی صورت تو یہ کہ دینی ادارہ میں تعلیم مکمل کریں جسے عالمیت یا فضیلت کہا جاتا ہے، کئی جگہ تخصص کے بھی شعبے ہیں، اس کے بعد آپ چاہیں تو وہ کر سکتے ہیں۔ 

اگر ادارہ میں سینئر سیکنڈری کی عصری تعلیم نہیں ہے تو وہیں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں گیارویں اور بارویں علاقائی اسکول سے مکمل کریں۔ اب بھی آپ آگے کی تعلیم مدرسہ سے پوری کر سکتے ہیں، یا اگر آپ دیگر علوم، جیسے وکالت، انجینئرنگ، طب، مینجمنٹ آئی اے ایس، آئی پی ایس، وغیرہ میں جانا چاہتے ہیں تو مدرسہ کی تعلیم چھوڑ سکتے ہیں۔ یہاں پر اصل میں آپ خود سوچنے سمجھنے کے قابل ہو جاتے تو آپ خود سے، ساتھیوں یا اساتذہ کے مشورہ سے اپنی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھیں اور اپنی پسندیدہ موضوع میں قابلیت حاصل کرکے اپنے اور معاشرہ کے لیے بہتری کا ذریعہ بنیں۔ 

دور دراز کا سفر خواہ تعلیم کے لیے یا صدقہ وصولنے کے لیے، یہ دونوں طریقہ غلط رائج ہو چکا ہے۔ ہجرت کی غلط تشریح کرکے لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے۔ اگر علاقائی بنیاد پر ہی صدقہ حاصل کرنا ضروری ہے تو وہاں کے لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ پہلے اپنے گاؤں کی ضرورت پوری کی جائے، بعد میں پڑوسی گاؤں کا خیال رکھا جائے۔ مالدار کسی بھی میدان کے ماہر صنعت کار اپنی زکوٰۃ و خیرات پہلے اپنے قریبی علاقہ پر خرچ کریں، وہاں کے لوگوں اور ادارہ کو مستحکم کریں۔ اس کے پڑوسی یا دور دراز کے ضرورت مندوں کی امداد کریں۔

مدارس میں اور زکوٰۃ کے اداروں میں منتظم اور محصل تو ہونا ہی چاہیے لیکن لوگوں میں بھی یہ فرض کی ادائیگی کا احساس ہونا ضروری ہے کہ اُس مال کو ضرورت مند تک پہنچائیں۔ ہماری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم مال کا بندر بانٹ کر رہے ہیں۔ اور ضرورت مندوں کو خود کفیل نہیں بنا پا رہے ہیں۔

اس بات کا زندہ ثبوت یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں ایک ڈیٹا آیا ہے کہ گزشتہ سال بیس لاکھ کروڑ روپے زکوٰۃ نکالے گئے۔ اتنی رقم کو مستحقین میں تقسیم کیا جائے تو ہم کسی بھی صورت میں اگلے سال کسی بھی مالی تعاون حاصل کرنے کے قابل نہیں بچیں گے۔ پورے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ بیس ہزار کروڑ روپے یا بیس لاکھ کروڑ روپے۔ اگر ہم بیس ہزار کروڑ روپے ہی زکوٰۃ و صدقات کا مان لیں اور اسے دس کروڑ لوگوں میں بھی تقسیم کریں گے توایک فرد کو دو لاکھ روپے ملیں گے۔ اگر پانچ نفوس پر مشتمل خاندان ہے تو ان کی کل سالانہ آمدنی دس لاکھ روپے ہوگئی۔ جب کہ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جس آمدنی دو سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ نہ وہ زکوٰۃ لینے کے قابل ہیں نہ دینے کے قابل۔ لیکن اپنی زندگی بہتر گزار رہے ہیں۔ پھر وہ رقمیں کہاں کھپ گئیں؟ قوم میں ہر برس کتنے لوگ خود کفیل بنتے ہیں؟ کتنے لوگ تعلیم یافتہ بن کے سماج کی بھلائی کاذریعہ بنتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کا جواب نہیں دیا گیا تو حالات بد سے بدتر ہوتے رہیں گے۔ مسلم قوم کبھی بھی مالیاتی طور پر خود کفیل نہیں بن سکے گی اور نہ عزت کا مقام حاصل کر سکے گی۔ ’’زکوٰۃ کے ذریعہ مدارس کے طلبہ اور غریبوں کی مدد کریں‘‘ جیسے بیانات اور درخواستیں آتی رہیں گی۔

🌻🌻🌻

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،  ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس

9811742537   


Sunday, March 23, 2025

Unani Medicine ➖ Effective treatment method

 طب یونانی ➖ کارآمد طریقہ علاج

ایک صحت مند زندگی کے لیے آگ، پانی، ہوا، دھوپ اور مٹی کا اہم کرادار ہے۔ اُن سے پیدا ہونے والی یا بننے والی چیزیں ہماری صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اگر ہم اُن چیزوں سے ہٹ کر کسی بھی مصنوعی طریقے سے اپنے کو صحت مند رکھنا چاہیں تو ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔

دنیا جب سے بنی ہے، مختلف ادوار میں صحت و امراض کا آپس میں تعلق رہا ہے، بنی نوع انسان نے اپنی سوجھ بوجھ اور عقل و خرد سے صحت مند رہنے کے طریقے اپنائے اور اچھی اور بہتر زندگی گزارتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے نوع انسانی نے دنیا کی سیر کی اور قدرتی انفاس سے سامنا ہوتا گیا ویسے ویسے اُن کو اپنانے یا بچاؤ کرنے کے طریقے ایجاد کئے جاتے رہے اور اپنائے جاتے رہے۔ عام انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جوں جوں انسان نے ترقی کی توںتوں حالات سے نبردآزما ہونے کے طریقے ایجاد کرتے رہے اور اپناتے رہے۔ اور پھر ایک وقت یہ آیا کہ مختلف النوع طور طریقے کے انسان آمنے سامنے ہوئے تو مزید کئی قسم کی نئے طور طریقے اور نئی معلومات سے آگاہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حالات بدلے اور انسانی سوچ میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مختلف مقامات پر مختلف طرح کے نباتات و جمادات اور حیوانات وغیرہ سے استفادہ کرنے کا عمل جاری و ساری ہو گیا۔ لیکن قدرتی نظام کے تحت مثبت کے ساتھ منفی کردار بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ 

خودغرضی اور مطلب پرستی کا سلسلہ توآدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی لڑائی کے بعد سے ہی جاری ہوگیا تھا۔ کیوں کہ وہاں خودغرضی ہی قتل کا سبب بنا تھا۔ اور آج بھی ایسا سلسلہ جاری ہے۔ زندگی کو بہتر بنانے کے جتنے بھی طور طریقے بنی نوع انسان کے سامنے آئے، انہوں نے اسے سب کے لیے رائج کرنے کے بجائے علاقہ اور طور طریقے میں بانٹ کر کئی حصے کر دیئے۔ جیسا کہ ہر قسم کے علم و عمل اور صحت و عافیت کے میدان میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ منفی سوچ اور خودغرضی و مطلب پرستی سے صحت و عافیت کا میدان بھی پاک نہیں رہا۔ جہاں ایک طرف انسان نے مختلف طریقہ کو مختلف ناموں سے تعارف کرایا اور صحت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا، وہیں دوسری طرف خودغرضی نے ایک دوسرے کی برتری اور ابتری کا نزاع بھی رائج کر دیا اور مختلف طریقہ ہائے علاج کو ایک دوسرے سے تولنے کی کوشش کی جانے لگی اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے اور وہ طریقہ تو کچھ بھی نہیں۔ اور ابتری ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کے الفاظ اور جملے سماج میں رائج کئے جا چکے۔ جسے طب کے میدان میں کام کرنے والے اور دلچسپی رکھنے والے اصحاب بولتے اور سنتے رہے ہیں۔ جب کہ حالات کو غور سے دیکھا جائے تو ایسا قدرتی نظام میں ہرگز نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کا ہر وہ طریقہ جسے قدرت نے دیا ہے، وہ سب کے سب نوع انسانی کی بھلائی کے لیے ہی ہے۔ اور اسے انسان کے سوچ و فہم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کون اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔

ہمیں نہ تو نئے طور طریقے سے پرہیز ہے اور نہ پرانے طریقے سے الرجی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارا معاشرہ سست ذہنیت کی طرف رواں دواں ہے، جس کے نتیجے میں بیمار ہونے پر جتنی جلدی ممکن ہو، افاقہ کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایلوپیتھی طریقہ علاج سب سے کارگر ہے۔ حالاں کہ بہت سے ایسے امراض ہیں جس کا علاج اِس پیتھی میں موجود ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے ریسرچ اسکالرز اور طب کے ماہرین کہنے لگے ہیں کہ علاج کے لیے ہمیں اب integration  یعنی انضمام کی طرف آنا پڑے گا۔ یعنی جس پیتھی میں جس مرض کا درست، بروقت اور بہتر علاج موجود ہے اسے اپنا کر صحت کو بہتر بنایا جائے۔ اگر متعدی مرض یا طاعون لاحق ہو گیا ہے تو آج بھی دیسی علاج کارگر ہے۔ دیسی علاج سے مراد یہاں یونانی پیتھی اور آیورویدا ہے۔ یہاں پر وہ گھریلو نسخے موجود ہیں جسے اپنا کر بھیانک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں سانس کی ہونے والی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ تر یونانی اور آیوروید کاڑھا پی کر صحت مند ہوئے اور اس سے بھی زیادہ لوگ قدرتی طریقے علاج سے صحت مند ہوئے۔ نیچروپیتھی بھی ایک آسان طریقہ علاج ہے۔ جس کو اپناکر جلدی صحت مند ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا ایک طریقہ ہومیوپیتھی بھی ہے جسے اکثر لوگوں نے درکنار کیا ہوا۔ شاید اِس کی ایک وجہ اس کا سستا اور کم مقدار میں ہونا ہے۔ جب کہ لوگوں کا رُجحان سست روی، زیادہ کھانا پینا کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج کو بھی پیسہ کے بدلے میں پورا پیکیج کا خواہشمند ہونا بھی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

کبھی کبھی منفی رُجحان اور عمل بھی اس میدان کو بے کار و بے اثر بنانے میں معاون بن جاتا ہے، جیسا کہ یونانی پیتھی اور اس کے کارکنان کو نیچا دکھانے کی کوشش کے طور پر کئی میڈیکل کالجز یا اسپتال میں طلباء اور اسٹاف کے درمیان معمولی غلط فہمی یا کمی کو بڑا بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اِس طرح کی حرکت سے جہاں طلباء میں مایوسی اور نامرادی پھیل جاتی ہے۔ کیوں کہ اُن کا سرمایہ اور وقت خرچ ہوا ہے، اگر اس خرچ اور وقت کا درست اور خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آتا تو دنیا تاریک دکھائی دینے لگتی ہے۔ بعض خودغرض اساتذہ اور اسٹاف بھی اصول و ضوابط اور اخلاقی رویّہ کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنا مطلب نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک زوال پذیر ہو جاتے ہیں۔  اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف ذاتی نقصان ہوتا ہے بلکہ پورا کا پورا وہ طبقہ بدنام ہوتا ہے، جس کا نشانہ اس علم و عمل کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کس طرح سے بزرگوں نے اس علم کو فروغ دینے کے لیے شب و روز محنت کی اور جان و مال قربان کیا۔

دُکھ کا مقام یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی اداروں کو وراثت نے نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ اُن کے وارثین میں تو قابل اور اہل پیدا نہ ہو سکے، مجبوراً وہ اہم عہدوں پر فائز رہ کر ادارہ کو چلا رہے ہیں اور تعلیم یافتہ تجربہ کار اور اہل لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی ہوس نے انہیں غیراصولی طریقہ کار اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے اور اہل اپنی دو وقت کی روٹی اور عزت بچانے کے لیے بھی غیراصولی کاموں میں شامل ہوتے رہے اور جب مارکٹ میں پروڈکٹ ناکام ثابت ہوتا ہے تو نہ صرف کمپنی اپنا اعتبار کھوتی ہے بلکہ وہ طریقہ بھی بدنام ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ یونانی پیتھی کے ساتھ بھی ہونے لگا۔ تبھی ہندوستانی بابائے طب حکیم اجمل خاںؒ کے پڑپوتے محترم حکیم مسرور احمد خاں نے ۱۲؍فروری ۲۰۲۵ء بروزِ بدھ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے منعقدہ ورلڈ یونانی میڈیسن ڈے کے موقع پر کہا کہ

 ’’یونانی دوا ساز کمپنیاں ملاوٹ کرنے سے پرہیز کریں‘‘ 

جب کہ دیگر ماہرین نے اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

 ☆کرونا میں یونانی طریقہ علاج نے مریضوں کو نئی زندگی بخشی، 

ڈاکٹر سیّد فاروق

 ☆حکیم اجمل خاں طبیہ کالج میں حکیم صاحب کے نام پر میوزیم بنایا جائے۔ 

سیّد احمد خان

 ☆یونانی طریقہ علاج میں پی ایچ ڈی کی طرف توجہ ضروری، 

پروفیسر مشتاق احمد

جب کہ میری رائے ہے کہ

بیماری سے بچنے کے لیے خالص غذائیت پر توجہ دیا جائے۔

اور

طب یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لیے خالص ادویہ اور بروقت علاج کی فراہمی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر یونانی پیتھی کے دوا ساز ادارے خلوص دل سے اعلیٰ قسم کی ادویہ فراہم کرائیں تو بعید نہیں کہ اِس پیتھی سے لوگ بے رغبت ہوں۔ کہیں نہ کہیں بداخلاقی اور بدانتظامی بھی فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن ہی جاتا ہے۔

میری گزارش اور درخواست ہے کہ جو لوگ بھی اِس فن کو سیکھیں، اس میں بنیادی پہلوؤں اور طریقوں کا دھیان رکھیں۔ خاص طور سے خام مال کی پہچان، فراہمی، موسم، اجزائے ترکیبی کی تعلیم ضرور دیں۔اساتذہ اپنی ذمہ داری کا خیال رکھیں۔ اگر خود غرضی اور لاپرواہی جیسے حالات پیدا ہوتے رہے اور اداروں میں سستی اور لاپروائی بڑھتی رہی تو دن دور نہیں جب حکومت کی توجہ کم ہو جائےاور ادارہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائے۔ نئے حالات اور اشیاء پر غور و خوض اور تحقیق کیا جائے اور رائج کیا جائے۔ طب یونانی طریقہ علاج بہت بہتر ہے۔ یقین اور اعتماد کی سخت ضرورت ہے۔ 

17th February 2025

 ☆ ☆ ☆

نوٹ ہارٹ، کڈنی، لیور، لنگس، پِت، پن کریاز سے جڑی بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

محمد فیروزعالم 

ری فورمسٹ،

ڈائی بی ٹیز ایجوکیٹر اینڈ نائس، 

9811742537


معاشرے میں بائی پاس سرجری کی روایت

 معاشرے میں بائی پاس سرجری کی روایت ہماری پیدائش خواہ کسی بھی مذہبی خاندان میں ہوئی ہو لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد جو معاشرہ دکھائی دیتا ہے وہ ...