Thursday, June 6, 2024

ارتداد، اسباب اور تدارک

’’اسلام ایک ایسا نظامِ حیات ہے، جس نے مختلف شعبہ ہائے زندگی اور تمام مراحل کے لیے دستورالعمل تیار کیا ہے۔ بہتر زندگی گزارنے اور فطرت کے مطابق عمر بسر کرنے کے لیے واضح ہدایات دیں اور سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس میں ہر گوشہ حیات کے لیے روشن طریق، واضح اور معتدل احکام موجود ہیں۔ مذہبِ اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس میں تمام چیزوں کی اور ہر پریشانی کے لیے احکام اور راہِ نجات موجود ہے۔‘‘

عمومی طورپر اسلام کا یہ تعارف ہر کسی کو پتا ہے۔ بہت کم لوگ اِس سے ناواقف ہیں۔ 

ارتداد کی پہلی وجہ دینی تعلیم سے دوری اور اسلامی تربیت سے عاری زندگی۔ ارتداد کی دوسری وجہ مخلوط تعلیم نے جس قدر معاشرے میں تباہی و بربادی پھیلائی ہے۔ ارتداد کی تیسری وجہ فلمیں، ڈرامے اور سیریلز نے سماج میں جس قدر گندگی پھیلائی ہے، وہ کسی صاحبِ بصیرت سے ڈھکی، چھپی نہیں ہے۔ 

ارتداد کی یہ تین بنیادی وجہیں قرار دی جا رہی ہیں اور لکھ کر اور بیان دے کر اپنا پلّا جھاڑ لیا جا رہا ہے۔ یا کسی ادارہ یا تنظیم کے لیٹر ہیڈ پر پریس ریلیز جاری کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھا دی۔ جب کہ ارتدار کی اصل وجہ اخلاقی طور پر عملی فقدان ہے۔ اسلام کا اخلاقی نظام وہی قابلِ عمل ہے جو اللہ کے رسول مُحمَّد سے ثابت ہے۔

ہمارے یہاں دینی تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے، اور دین داری کے دعویدار کی بھی کمی نہیں، پھر دین سے دوری وجہ کیوں کر قرار دی جاسکتی ہے؟ کئی علاقے تو ایسے جسے مدرسوں کا شہر کہتے ہیں، کئی علاقے ایسے ہیں جسے مولویوں اور حافظوں کا شہر کہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو تعارف کرانے میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائی وہ جگہ تو پورا … …ہے گویا ایک طرح سے یہ سب باتیں کہنے اور جتانے تک ہی محدود ہے۔ یا کرتا پائجامہ ٹوپی تک محدود ہے۔ یا مسجد و مدرسہ تک محدود ہے۔ عملی اور عقلی طور پر کسی بھی طرح سے ہمارے اندر دینی اصول نہیں ہے یا برائے نام ہے؟ ہماری کوئی ایسی پہچان نہیں ہے جو دیگر ہندوستانیوں سے امتیاز ظاہر کرتی ہو؟ جیسے دیگر لوگوں کی عبادتیں اور معاشرتی معاملات ہیں، ویسے ہی ہمارے بھی ہیں۔ ہماری کون سی امتیازی شناخت ہے جسے دیکھ کر یا پرکھ ہے دوسری قومیں ہم سے معاملہ کریں اور بھروسہ رکھیں؟ کیا ہم معاشرہ میں متأثر کن شخصیت کے مالک ہیں؟

مخلوط تعلیمی ادارے اور رہن سہن کئی صدی سے رائج ہے، جسے ایک وقت میں آپ ہی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کہتے رہے ہیں اور تھوڑے ہی وقت کے فاصلہ پر علیحدہ معاشرہ اور تعلیم گاہ کی تشکیل کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور جو آپ تیسری وجہ قرار دیتے ہیں، وہ نہایت ہی لچر اور گھٹیا سوچ کی پیداوار ہے۔ یعنی فلمیں اور سیریلز وغیرہ۔ اخلاقی بگاڑ کی سب سے اہم وجہ ٹی وی، فلمیں اور اب موبائل کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کہ اخلاقی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب آپ کا انتخاب ہے۔ آپ نے اپنی ضروریات، تفریحات، تعلیمات وغیرہ کے لئے کس کا انتخاب کیا ہے؟ آخر مادّی سہولیات کو اخلاقی بگاڑ کا سبب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ اِس طرح کی اخلاقی بگاڑ کے سامان کیا پہلے کی تین صدیوں میں نہیں ہوا کرتے تھے؟ کیا اُس وقت اخلاقی بگاڑ نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج جس رفتار اور جس نہج پر تعلیم کے دوران اور تعلیم کے بعد بھی، تعلیم گاہیں مختلف ہونے کے باوجود بھی ارتداد کے واقعات پیش آئے ہیں اور آ رہے ہیں۔ وہ ایسی وجہ اور لمحۂ فکریہ ہے کہ اُس کو اکثر تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں نے گفت و شنید کرنا غیر مناسب سمجھا ہے۔

۱۔ارتداد کی پہلی اہم وجہ غیر سنت نکاح کا چلن 

یعنی معاشرے میں غیرمتوازن نکاح کی تقریبات کا انعقاد۔ بچّے وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرتے دیکھتے ہیں، نہ کہ وہ کرتے ہیں جو ہم کہتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے کرکے دِکھایا۔ اور ہم نے اُن کے کئے کام کو تاویل کرکےاپنی مرضی کے مطابق کیا۔ جیسے

یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ 

یہ سب ہم لوگ نہیں مانتے۔ 

یہ طریقہ اُس طرف کا ہے۔ 

وہ زمانہ اور تھا۔ 

ایسا کہاں کوئی کرتا ہے۔ 

باپ دادا کے زمانے سے چلتا آ رہا ہے۔ 

ہمارے باپ دادا نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

وغیرہ۔

ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے

’’شادی ایسی ہونی چاہئے کہ دو لوگوں کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے لیکن 500 لوگ اپنا پیٹ اپنی خوشیوں کیلئے بھر لیتے ہیں!‘‘

سنت نبوی کے مطابق نکاح مسجد میں ہونی چاہیے اور مختصر و سادہ ولیمہ۔ جن علاقوں میں یہ طریقہ رائج ہوا ہے، اُن علاقوں کے لوگ معاشرے میں خودکفیل اور باعزت ہو چکے ہیں۔

جب کہ دولت کی نمائش یا دوسروں کی برابری کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ دل و دماغ میں ہے ’’کیا کہیں گے لوگ‘‘ اور یہی ہے سب سے بڑا روگ، معاشرتی پستی کا۔

۲۔ ارتداد کی دوسری بنیادی اور اہم وجہ اخلاقی پستی ہے۔ 

جس پر ہم نے آنکھیں بند رکھی ہوئی ہیں۔ اہلِ علم واضح طور پر سمجھائیں کہ 

قُوْٓااَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ 

(پوری آیت سورہ التحریم آیت ۶ میں ملاحظہ فرمائیں)

سے کیا مراد ہے؟ کس کو حکم دیا گیا ہے؟ کس کو ذمہ داری دی گئی ہے؟ کیا بطورِ گارجین یا والد و والدہ ہم اٹھ کر نماز پڑھ لیں، یا زندگی کے اپنے کام سنت کے مطابق کرلیں اور بچوں پر نظر نہ رکھیں تو ہم گارجین کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں کیا؟

معاشرہ میں دیکھیں پچاس سے زائدہ عمر کے لوگ اب مسجدوں کا رُخ کرنے لگے ہیں، اور مسلم علاقہ میں گھر منتقل کرنے کا من بنا چکے ہیں یا منتقل کر چکے ہیں۔ اُن کو معلوم ہو چکا ہے کہ کبھی بھی اللہ کے یہاں سے بلاوا آ سکتا ہے۔ جس طرح مقولہ مشہور ہے کہ ’’جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے‘‘  ویسے ہی لگتا ہے مسلمان کی موت جب قریب آنے لگتی ہے تو وہ مسلم علاقہ کا رُخ کر لیتا ہے۔ تاکہ کوئی تو ہو جو میّت کو کاندھا دے سکے اور قبرستان میں جگہ مل سکے۔

معاشرے میں مادّی سہولیات کی فروانی ہے۔ اور ہم نے مادّی سہولیات کو غلط طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جوانی میں غفلت اور جسمانی آسائش کی طلب۔ کمزوری میں عبادت کی چاہت۔ اولاد یا بچّوں کے تئیں بے رُخی، ہر شئے کو پیسے سے خریدنے کی عادت و رغبت نے ہمارے بچوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ فضول کی تقریبات منعقد کرنا اور شرکت کرنا ہمارے بچوں کو دین سے دور کرنے کا اہم سبب ہے۔ مثلاً نکاح، سنّت کو خیرباد کرکے معاشرتی رسم و رواج کے ساتھ انجام دینے نے ہی ہمارے بچوں میں بھی یہ چاہت پیدا کر دی۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ’’یہ تو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے ہوتا آیا ہے‘‘ جب اللہ کے رسول ﷺ نے دین کا پیغام دیا تھا تو قریش مکّہ نے بھی یہی جملہ کہا تھا۔ قریش باپ دادا کے طریقہ کو نہ چھوڑ سکے اور وہ کفر پر رہے، جبکہ ہم طریقۂ رسول کو چھوڑ کر پکّے مسلمان ہیں۔ 

اگر معاشرتی بگاڑ کا اہم سبب ٹیلی ویزن، فلمیں اور سیریلز ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا ان لوگوں نے اس کا استعمال آپ پر تھوپا ہے یا آپ نے خود اسے اپنایا ہے؟ بازار میں بیچنا اُن کی ضرورت تھی اور ہے۔ استعمال کرنا آپ کی ضرورت ہے یا نہیں، اس پر غور کرنا آپ کا کام ہے۔ آپ خود غور کریں کہ اِن تینوں اسباب کو اپنے گھر میں لانے کے لئے کیا کیا بہانے گڑھے ہیں؟ اور بچوں کی خوشی کی خاطر کتنے سنت کو پامال کیا ہے؟

تیسری وجہ والدین کو دوست نہ سمجھنا اور اپنے فیصلے خود کرنا۔

کون سے بچّے اپنے والدین کو اپنا دوست نہیں سمجھتے؟ یہ خاص سوال ہر ایک کے ذہن میں ضرور آئے گا۔ کیوں کہ جو والدین اپنا تربیتی کردار نہیں نبھاتے تو اکثر ایسا نتیجہ نکلتا ہے اور بچے اپنا فیصلہ خود کرنے لگتے ہیں۔ جس کا نتیجہ ننانوے فیصد پچھتاوا ہی ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ شوہر ملازمت پر اور بیگم بچپن سے ہی بچے کو ٹیوشن میں بھیج کر آرام فرماتی ہیں۔ بلکہ اکثر بیگمیں ٹیوشن ٹیچر سے کہتی ہیں کہ میڈم اسے ایک گھنٹہ اور پڑھائیے، میں اتنے روپے زیادہ دوں گی۔ جب تک میں نہ آؤں اسے چھٹی نہ دیجیے گا۔

اسی طرح کے معاشرتی بگاڑ میں ایک وجہ اپنے لوگوں کے ذریعہ بھروسہ کا ٹوٹنا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے رشتہ داروں سے بھی مشورہ کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔

حل سب سے پہلے سب سے اہم معاشرتی ذمہ داری ’’نکاح‘‘ کو مسجد میں سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔ جمعہ یا ظہر بعد نکاح کیا جائے، حاضرین کو شربت پلا کر رخصت کیا جائے، اتنا ہی کافی ہے۔ ولیمہ آپ اپنی حیثیت کے مطابق سادہ کریں۔ لیکن نمائش نہ کریں۔ وقت بھی بچے گا اور سرمایہ بھی، سنت کے مطابق سنت کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔

سنت کے مطابق توحید کو اپنے دل و دماغ سے قبول کریں اور عمل میں لائیں۔ ہم ایک مشترکہ سماج میں رہنے والے ہیں۔ دوسری قوموں کا تو ایک بہانہ ہے، خود دیکھیں کہ ذات برادری اور علاقائیت کے نام پر ہم نے کتنے خرافات و خلفشار مچا رکھا ہے۔

مادّی سہولیات کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کریں، اسے اپنے گھر اور اپنے سر پر لازم قرار نہ دیں۔ 

صحت مند زندگی کے لیے صحت مند سماج کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 ☆ ☆ ☆

فیروزہاشمی

4th June 2024

 

Sunday, May 26, 2024

ہماری تعلیمی سرگرمی اور غیرخاطرخواہ نتائج

 ہماری تعلیمی سرگرمی اور غیرخاطرخواہ نتائج

ابنائے قدیم اپنے ادارے کو اپنے مال سے ایک فیصد بطورِ تعاون ضرور دیں۔

ہماری تعلیمی سرگرمیوں کی معلومات کوئی مصدقہ ذرائع یا اصول کے مطابق نہیں ہے بلکہ پریس ریلیز اور آئے دن ہونے والی علمی سرگرمیوں، جلسوں اور تقریبات کی خبروں پر مبنی ہیں۔ اور دورِ موجود ہ میں سوشل میڈیا کے ذریعہ۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ 

اگر کسی کے مضمون یا کتاب کے حصّہ کو اپنے نام سے نقل کر لیا جائے تو سرقہ اور کئی کتابوں سے اپنی طبیعت کے مطابق مواد کو نقل کر لیا جائے تو اسے ریسرچ کہتے ہیں۔

مسلمان صدقہ دیتا ہے تو فوٹو کھنچواتا ہے

اور غیرمسلم صدقہ کرتا ہے تو مصروف جگہ میں اپنے صدقہ رکھ دیتا ہے تاکہ ضرورت مند اپنی ضرورت کے مطابق لے جائیں۔

بہت فرق ہے سوچ میں۔

مدارسِ اسلامیہ کے تعلیمی سرگرمی کو جاری رکھنے کے لئے سب سے ضروری اور اہم ذریعہ مال ہے۔ بہت کم ادارے ایسے ہیں جن کی آمدنی کا ذریعہ بذریعہ جائیداد وہ خود پیدا کر چکے ہیں۔ (جیسے مارکیٹ، فلیٹ وغیرہ کا کرایہ، کھیت اور غلّہ)  اور وہ کبھی بھی لوگوں سے چندہ یا مالی تعاون کی درخواست نہیں کرتے۔ جو مل جائے، کافی ہے۔ پہلے زبانی طور پر ایک دوسرے کے ذریعہ یا اپنے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے لوگ مالی تعاون کر تے رہے ہیں۔ کلینڈر اور دیگر پمفلٹ کے ذریعہ مالی تعاون کی درخواست کی جاتی رہی ہے۔ اب بھی یہی ذریعہ ہے۔

لیکن جب سے سوشل میڈیا کا چلن عام ہوا ہے، اب اس کے ذریعہ باتیں ہم تک بھی پہنچی ہیں۔ ان بڑے اداروں سے مالی تعاون کی درخواست آئی ہیں تو میں ششدر رہ گیا۔ اور اس میں بھی خاص ابنائے قدیم سے خصوصی درخواست کی گئی۔

اب یہاں سوچنے والی بات ہے کہ وہ لوگ جو آٹھ دس برس کسی ادارہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، مالی تعاون دینے اور لینے کا طریقہ سیکھتے ہیں اور بعد میں بتاتے بھی ہیں۔ وہ خود عمل پیرا کیوں نہیں ہو پاتے۔؟

میں ان جامعات و اداروں کے نام لینا یہاں مناسب نہیں سمجھتا۔ میں صرف سوچ رہا ہوں اور آپ کو بھی سوچنے پر مجبور ہونا چاہیے کہ آخر ہم جن اداروں سے علمی، عملی ،جسمانی اور قلبی سیرابی حاصل کرتے ہیں، وہاں سے فارغ ہونے اور عملی میدان میں آنے کے بعد کیا اِس قابل بھی نہیں بن پاتے کہ اپنی آمدنی کا ایک فیصد حصّہ ادارہ کو بطور تعاون دے سکیں۔ یقیناً بن جاتے ہیں۔ لیکن کیا مالی تعاون کرتے ہیں؟ ننانوے فیصد کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہوگا۔ ابنائے قدیم کا حوالہ دے کر جب اس شہر میں جانا ہو تو وہاں قیام کر لیا جاتا ہے اور بعض دفعہ قیام و طعام دونوں کا ہی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ بحیثیت طالب علم مدرسہ (کیوں کہ ۱۹۷۹ سے ۱۹۸۹ء تک میں نے بھی مدرسہ سے تعلیم حاصل کی ہے)درخواست کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے بھی مدرسہ سے متوسطہ اور علیا کی تعلیم حاصل کی ہے، وہ اپنی آمدنی کا ایک فیصد سالانہ اپنے ادارے کو تعاون کریں۔ اگر آپ کے اندر اِس سے بھی زیادہ دینے کی ہمت، طاقت، اور مال ہے تو ضرور دیجیے۔ اُن اداروں کو خود کفیل بنائیے۔ اُن بچوں کے لئے سہارا بنئے جن کے والدین بچوں کی خوراکی دینے کے اہل نہیں ہیں۔ 

مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والدین اور گارجین سے درخواست ہے کہ اگر وہ زکوٰۃ و صدقات لینے والے کے زمرے میں نہیں آتے تو برائے مہربانی جھوٹی درخواست دے کر، مجبور و معذور بن کر خوراکی کی معافی کے طلب گار نہ بنیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے دورانِ تعلیم خوراکی معاف کرواکے خوش ہوئے وہ آج بھی مفت کھا کر خوش ہوتے ہیں اور مفت خوری کی فہرست میں اپنے آپ کو شامل رکھتے ہیں۔ خواہ وہ کتنے ہی تعلیم یافتہ اور باشعور کیوں نہ بن گئے ہیں، وہ مفت مال حاصل کرنے میں ایسے دوڑ لگاتے ہیں جیسے اِس ماہ میں پولیٹیکل افطار پارٹی میں لوگ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ 

خواہ آپ کتنا ہی کم کیوں نہ کماتے ہوں، اگر آپ نے ایک فیصد بھی دینے کا ارادہ کرلیا تو مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہم سب کو جلد ہی خودکفیل بنا دے گا۔اور ہمارے اندر لینے اور جمع کرنے کے بجائے دینے والا بنا دے گا۔ نہ ہمارے گھر سے برکت اٹھے گی اور نہ ہی بیماری یا دوسری آزمائشوں میں مبتلا ہوں گے۔ ان شاء اللہ

زکوٰۃ و صدقات کے پہلے مستحق آپ کے اپنے محلّہ اور گاؤں والے ہیں، پہلے اُنہیں خودکفیل بنائیے، اُس کے بعد بتدریج لوگوں کی امداد کیجیے۔ بلکہ اُنہیں خود کفیل بنائے اور اپنے ادارے کو ضرورایک فیصداپنے مال میں سے دیجیے خواہ آپ صاحب نصاب ہوں یا نہ ہوں۔

فیروزہاشمی،نئی دہلی


Wednesday, April 10, 2024

عید یومِ محاسبہ و معاہدہ

 ⬅️’’عید‘‘  یومِ محاسبہ و معاہدہ ➡️


عمومی طور پر دنیا میں مسلمانوں کے تین تہوار منائے جاتے ہیں، جو کہ خوشی، معاہدہ، محاسبہ، ایثار وغیرہ کا پیغام اور اعادہ کرنے کا پہلو واضح کرتے ہیں، وہ تین ہیں۔  

رمضان المبارک، شوال المکرم اور ذی الحجہ 

رمضان کے ایک ماہ پورا کرنے کے بعد عید کا تہوار ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے مزدوری دیے جانے کا دن ہے۔ تقریباً ایسے ہی جیسے کہ ایک مزدور خواہ وہ کسی میدانِ عمل میں محنت و مشقت کرتا ہو، جب اُس کے معاوضہ ملنے کا دن اور وقت آتا ہے تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ اُسی طرح عید کا دن مومنین کے لئے بے حد خوشی کا دن ہوتا ہے۔ اِس کے جتنے بھی احکام و فضائل ہیں وہ اکثر رمضان المبارک سے جڑے ہوئے ہیں، لہٰذا رمضان المبارک کو سمجھ کر برتنے والے زیادہ خوشی محسوس کریں گے اور وہ عملی زندگی میں احکامِ خداوندی پر عمل پیرا ہونے کے لئے طریقۂ محمدی کو اپنائیں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے سامنے خوش و خرم اور سرخ رو ہوں گے۔

رمضان المبارک جو سراپا زندگی جینے کا پیغام دیتا ہے اور عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ اصل پیغام و عمل یہ ہے کہ رمضان کے علاوہ گیارہ مہینے بھی آپ اسی طور طریقے کے مطابق زندگی گزاریں۔ جیسا کہ قرآن مجید میں صوم سے متعلق رہنمائی اور ہدایت اور پیغام سورہ بقرہ آیت ۱۸۳ تا ۱۸۵ موجود ہے۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔

مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۝۰ۡوَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۱۸۵

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو۔

روزے کی فرضیت کا حکم سن ۲ ہجری میں تحویلِ قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا۔ آیتِ روزہ شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَن قام رمضان إيمانًا واحتسابًا غُفر له ما تقدَّم من ذنبه. 

متفق علیہ 

جس نے بھی ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کا اہتمام کیا اُس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

عید کی تشریح اور تعریف میں بہت سی روایتیں اور تاریخی طور طریقے موجود ہیں، لیکن مومنین کی اصل عید رمضان المبارک کے اصولوں پر کاربند رہنے کے بعد انعام لینے کا دن ہے۔ عید اور بقیہ ایامِ زندگی گزارنے کے لئے قرآن کی یہ آیت رہنمائی کرتی ہے، جس کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہر مومن کے لئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸)

سورۂ یونس، آیت ۵۸

آپ کہہ دیجیے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ 

کسیپیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اس کو ’’فَرح ‘‘کہتے ہیں ،اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں نصیحتیں، سینوں کی شفاء اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمایا۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ

سورۃ الاعراف آیت ۳۱

اے آدم کی اولاد! ہر نمازکے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

مذکورہ آیت کی روشنی میں زندگی پوری کی پوری اس اصول کے مطابق گزارنے والا اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہوگا۔ ہمیں کس طرح سے زندگی جینے کے اصول اللہ تعالیٰ نے بتا دیے ہیں، اور صحت کے اصول اس آیت کے ٹکڑے میں کہ ’’کھاؤ پیولیکن فضول خرچی نہ کرو۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ فضول خرچی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔

خوشی کی تشریحات میں علماء کرام اور اہلِ علم نے خوب خوب تشریح کی ہے اور اکثر غلو کے شکار بھی ہوئے ہیں۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کے ذریعہ بھی ایسے ہی کچھ پیغام عام کئے جا رہے ہیں۔ یہاں پر ہم صرف ان امور کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جس عمل کو کام و دہن کے بطور اوّل رکھ کر فضول خرچی کے شکار بنے ہوئے ہیں۔ بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ مفت خوروں کو وہ ساری حدیثیں اور احکام یاد ہیں جہاں شکم پروری ہو جاتی ہو۔ نہ اُس میں وقت کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اُس میں مال و صحت کے ضائع ہونے کے بارے میں خیال رکھا جاتا ہے۔

نقصان کے پہلو کو بیان کرنے کے لئے عموماً سقراط سے منسوب ایک جملہ دہرایا جاتا ہے کہ سقراط سے جب زہر کے متعلق سوال کیا گیا تو جواب یہ ملا کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو وہ زہر ہے۔ 

اس کی تشریح تو بہت کچھ کی گئی ہے اور کی جاسکتی ہے لیکن اِس سے پہلے اللہ کا یہ حکم ہمارے رہنمائی کے لئے کافی ہے کہ ’’کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو‘‘ اہلِ علم و عقل و شعور والے انسان کے لئے سمجھنا کوئی مشکل نہیںکہ فضول خرچی کسے کہتے ہیں؟ 

جہاں بے مصرف وقت خرچ کیا جائے اُس کا وبال آئے گا۔

جہاں بے مصرف مال خرچ کیا جائے خواہ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، دکھاوے، گھر وغیرہ تو اُس کا وبال آئے گا۔ اور آخرت میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔

رمضان کے مبارک مہینے میں لوگوں نے کس طرح سے اپنا وقت اور مال ضائع کیا ہے اور ساتھ میں اعمال بھی۔ بہت افسوس ہوتا ہے یہ بتاتے ہوئے کہ اِس عمل کو اکثر علماء کرام بھلائی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اور وہ شاید اِس لئے کہ اِس کو کھانے پینے والی ساری حدیثیں اور احکام یاد ہے، لیکن ’’ولا تسرفوا‘‘ بھول جاتے ہیں۔

جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ایک نیکی کا بدلہ ستر سے سات سو گنا تک بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ اور آگے کی کوئی حد نہیں کہ اللہ کی رحمت کتنی جوش میں آئے اور اس کے بدلے کتنی نیکی لکھی جائے۔ مثلاً قرآن مجید پڑھنے والے کو ایک حرف پر دس نیکی عام دنوں میں لکھی جاتی ہے۔ یہی نیکی رمضان میں بڑھ کر کتنی ہو جاتی ہے اندازہ کیجیے۔ اس موقع پر سب سے اہم یہ بھی ہو کہ قرآن کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، جو کہ عموماً نہیں کیا جاتا۔ ہم صرف دس گنا اور ستر گنا پر خوش اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ ذرا غور کریں یا لوگوں سے پوچھیں کہ سورہ فاتحہ ہم نماز میں پڑھتے ہیں۔ کتنے لوگوں کو اُس کا مطلب پتا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہہ رہا ہے اور کیا طلب کر رہا ہے۔ شروع کی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اُس کی صفات کی قرآت کرتے ہیں لیکن کیا دل سے اقرار کرتے ہیں؟ پھر جب کہتے ہیں ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘  کیا زبان سے پڑھنے کے ساتھ ساتھ دل و دماغ میں یہ احساس جاگتا ہے کہ ہم اللہ سے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں؟

درود شریف پڑھنے کے بعد ’’اللہم ظلمت نفسی ظلما کثیرا‘‘ آخر تک یہ دعاء بھی پڑھتے ہیں، لیکن کیا دل و دماغ سے یہ اقرار کرتے ہیں کہ واقعی ہم اپنے اوپر کتنا ظلم کرتے ہیں؟ اور اللہ سے معافی کے طلب گار بھی ہیں تو کیا احساس جاگتا ہے؟ اگر ہاں تو آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ اللہ کے رو برو ہیں۔ اور اگر نہیں تو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ آپ اللہ کے نزدیک ہو جائیں، اُن کے نیک بندوں میں آپ کا شمار ہو۔ آپ کو اللہ کی ذات سے بخشش، رحمت اور رہنمائی کی امید جاگتی رہے۔ تب ہی ایمان میں پختگی آئے گی۔ یہی سب سے اہم پیغام رمضان نے دیا جس کا شکریہ ہم عید کے روز ادا کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نہیں سمجھتے تو پھر ہونے والی ہر تکلیف پر ہم آہ واویلا کرتے نظر آتے ہیں۔ مداوا کے لئے کبھی گلے، ہاتھ، پاؤں وغیرہ میں دھاگہ باندھتے ہیں اوربھلائی کی امید لگاتے ہیں جو کہ ایمان کی کمی اور اللہ پر اعتبار نہ ہونے کی طرح ہے۔ اور ایسی صورت میں ہماری دیگر عبادات کس کام کی؟ جب اللہ پر یقین اور اعتبار ہی نہ ہو۔ یعنی توحید کا ستون ہی کمزور ہو تو بقیہ ارکان کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 

اس لئے ہماری گزارش ہے کہ چند آیتیں ہی سہی روزانہ پڑھنے اور سمجھنے کی عادت ڈالیں۔ بیس منٹ سے چالیس منٹ بہت مناسب ہے۔ روحانی غذائیت بھی ملے گی اور اللہ کے احکام کو سمجھنے اور برتنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اللہ سے قریب ہوتے جائیں گے۔ قرآن کو پڑھنے اور سمجھ کر پڑھنے کے بارے میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا

"اقرءوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعاً لأصحابه." 

(مسلم)

قرآن پڑھو! یہ روزِ قیامت اپنے ساتھی کی شفاعت کرے گا۔

اب ہم عہد کریں کہ صرف وہی کام کریں گے جس کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اور طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار کریں گے۔ ان شاء اللہ

ہم عبادات میں طریقہ سنت نبوی کو اپنائیں گے۔ نہ کہ کسی مولوی، پیر یا بزرگ کا

ہم مال کے تعلق سے بھی طریقہ نبوی پر عمل کریں گے۔نہ کہ مروّجہ رسم و رواج کو اپنا کر نیکی کی امید رکھیں گے۔ جب کہ یہ مال اور وقت دونوں ضائع ہونے کا سبب بن رہا ہے اور روزِ قیامت بھی ہمیں اس کا بدلہ وبال کی صورت میں ملے تو ہمیں نقصان ہوگا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان میں افطار کی دعوت کرنے والے اور کرانے والے دونوں کی بہت ساری خوبیوں اور نیکیوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ آدھا دن کھانا پکانے اور بندوبست کرنے میں لگاتے ہیں اور عصر کے بعد سے مغرب تک اور مغرب سے لے کرعشاء تک کتنی آپا دھاپی میں گزارتے ہیں جبکہ ہمیں یہ وقت سال میں ایک ماہ کے لئے ملا ہے کہ نیکی کا بدلہ ستر یا سات سو گنا تو لکھا جائے گا۔ اور اس وقت کو ہم فضول کاموں میں خرچ کر کے اللہ تعالیٰ سے بھلائی کی امید کرتے ہیں۔ کیسے؟

ابتدائی درجہ میں پڑھائی جانے والی کتاب ’’اردو کا قاعدہ‘‘ کے بہت سے چھوٹے جملے ابھی بھی یاد ہے، اور یاد اِس لئے بھی ہے کہ درجہ بدرجہ بچوں کو یہی پڑھانا رہتا ہے۔ باقی تعلیم تو بعد کی ہے۔ غور کریں اور دھیان دیں تو توحید کے مکمل کرنے کے سارے جملے یہاں مل جائیں گے۔ اسی کتاب میں آگے لکھا ہے ’’کوئی بھوکا ملے تو اسے کھانا کھلا دو‘‘  جب کہ ہم سارے پیٹ بھرے کو دعوت دیتے ہیں۔ اب اس کے پیچھے نیت کیا ہو سکتی ہے۔ اگر وہ بیان کیا جائے تو یہی کہا جائے کہ آپ کو کسی کی نیت پر شک کرنے کا کیا حق ہے؟ تو میری گزارش ہے آپ خود اپنے سے سوال کریں کہ 

یہ افطار پارٹی کس کے لئے کر رہے ہیں؟ 

محلّہ میں رعب جمانے کے لئے؟ 

بزنس پارنٹر پیدا کرنے کے لئے؟ 

لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے؟  

یا  اللہ کی رضا کے لئے؟

پورا رمضان گزر جاتا ہے۔ بیڑی، سگریٹ، تمباکو، گٹکھا وغیرہ کی نہ تو عادت چھوڑتے ہیں اور نہ ہی یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ فضول خرچی کے ضمن میں ہے۔ برے کو برا نہیں جانیں گے تو برائی کیسے چھوڑیں گے۔ شیطان نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کے سامنے برے کام کو اچھا کرکے پیش کروں گا۔ اور شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ کیوں کہ ہمیں پیکنگ نئی مل رہی تو ہم خوش ہو جاتے ہیں کہ مال نیا اور درست ہوگا۔ یہ فضول خرچی چھوڑیے، غیر سنت عمل کو چھوڑیے۔ اپنے آس پڑوس کو خودکفیل بنائیے۔ اس سلسلے میں مال کو خرچ کرنے کا سنت طریقہ اپنائیے۔

اس وقت صدقۂ فطر کو مختلف طریقے اور نام و جنس سے رقم طے کرنے کے معاملے میں لوگوں کو اُلجھایا جا رہا ہے۔ آپ نہ الجھیں بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ صدقۂ فطر خوردنی اشیاء میں سے ایک صاع دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ نصف صاع کا مشورہ وقتی تھا۔ افسوس کہ ہمارے علماء کرام وضاحت کرنے کے بجائے لوگوں کو الجھائے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں جو بھی غلہ جس علاقے میں کھایا جاتا ہے، اُس غلہ سے ایک صاع کے برابر غلہ ادا کریں، قیمت میں بدلنے کی گنجائش نکال لی گئی ہے، تو بھی آپ ایک صاع کے برابر غلہ کی قیمت ادا کریں۔ اگر آپ کا اسٹینڈرڈ ڈبل ہے تب تو آپ کی خیر نہیں کہ آپ کھاتے کچھ اور ہیں اور کھلاتے کچھ اور ہیں۔ یہ صدقۂ فطر ادا کرنے میں گھوٹالہ کہا جائے گا۔ یعنی نیت کا فتور۔ ہماری نیکیاں کیسے ضائع چلی جاتی ہیں، اُس سمجھنے کے لئے متفق علیہ کی روایت مشکوٰۃ شریف کی پہلی حدیث ملاحظہ فرمائیں۔

’’إنَّمَا الأعۡمَالُ بِالنِّیات، وإنما لامری ئٍ ما نوی، فمن کانت ھجرتہ إلی اﷲ و رسولہ، فھجرتہ إلی اﷲ و رسولہ و من کانب ھجرتہ إلٰی دنیا یصیبھا، أو امراۃٍ یتزوجھا فھجرتہ إلٰی ما ھاجر إلیہ۔

سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کووہی ملے گا جس نے اس کی نیت کی، جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت  اللہ اور اس کے رسول کے لیے (ہی) ہے۔ (یعنی اسے ثواب ملے گا) اور جس شخص نے دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہے (یعنی اسے ثواب نہیں ملے گا)

عبادات میں دکھاوا ہمارے بدلہ کو ایسے ختم کر دیتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ختم کرکے راکھ کر دیتی ہے۔ لہٰذا ساتھیو! اس عید پر عہد کریں کہ جو بھی کریں گے اللہ کی رضا کی خاطر ہی کریں گے اور کچھ وقت گھر میں بیٹھ کر دین کو سمجھنے میں لگائیں گے۔ خود نہ سمجھ آئے تو علماء کرام سے رابطہ کریں گے۔ اپنے کاموں کا محاسبہ کریں گے اور ایک لائحہ عمل بنائیں گے۔ اسی کے مطابق عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں نیک بدلہ ملے گا۔ ان شاء اللہ 

فیروزہاشمی

نوئیڈا، اترپریش، ہندوستان

۸؍اپریل ۲۰۲۴ء 

9811742537 

Saturday, March 23, 2024

عید کی خریداری

 عید کی خریداری

جوں جوں عید قریب ہوتی جارہی ہے لوگوں میں خریداری کا رُجحان بڑھتا جاتا ہے اور جلد بازی کی جاتی ہے، کیوں کہ ریڈی میڈ کپڑے بازار سے کم نہ پڑ جائیں، یا سلائی کرنے والے انکار نہ کردیں۔ جب کہ اس موقع پر کپڑے، سلائی، خوردنی اشیاء کی سپلائی بڑھانی بہت ضروری ہوتی ہے۔ عام دنوں کے مقابلے اس ماہ میں کھانے پینے کا چلن کچھ زیادہ ہی ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر جہاں لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے اور بتاتے ہیں اور خریداری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف لوگوں کے عجیب و غریب مشورے کئی لوگوں کو مزید اُلجھن و پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ خواہ پورے گیارہ مہینے مستحب مسائل، سنت و نوافل، مسواک، توتھ پیسٹ وغیرہ کے بارے میں کوئی دقت یا فکر نہیں ہوتی؛ یہاں تک کہ حلال و حرام کی بھی پروا نہیں ہوتی۔ …کتنے فرائض چھوٹے، …کتنی سنتیں چھوٹیں  …یا پامالی ہوئیں،  …کوئی غم نہیں۔  …لیکن اس ماہ میں سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔

آخر کیوں؟

یاد رکھیے سارے اصول ویسے ہی اِس ماہ میں بھی رہتے ہیں، صرف نیکی کا اجر ستر گنا سے سات سو گنا ہو جاتا؛ اس کا بہر حال ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے،  …لیکن عام دنوں میں فرائض کو چھوڑنے کا گناہ کم نہیں ہو جاتا  …اور نہ ہی اُس کا بدل رمضان میں کئے گئے عبادت کے بدلے بھرپائی ہو پاتی ہے۔  …سب سے زیادہ تو حیرت مشورے پر ہوتی ہے۔ اور آج کل سوشل میڈیا اِس کام کا اہم ذریعہ ہے۔

۲۲؍مارچ ۲۰۲۳ء کی صبح ایک ویڈیو پیغام موصول ہوا جس میں اسرائیلی کھجور کے بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

 بظاہر یہ ایک عمدہ پیغام ہے۔ 

لیکن جن کمپنیوں کے نام گنوائے گئے ہیں، اُن کے بارے میں واقفیت ہمارے کتنے فیصد لوگوں کو ہے؟

کیا اسرائیل ہمیں اَن برانڈیڈ بوریوں میں بھر کے کھجور نہیں بیچ سکتا؟

اور ابھی تازہ مشورہ ہے

’’عید کی خریداری اپنوں سے ہی کریں

اپنا کھائے گا زکوٰۃ نکالے گا

غیر کھائے گا ہتھیار نکالے گا‘‘

یعنی کہ اب سارا کام چھوڑ کے ہم یہ غور کرنے پر لگ جائیں کہ یہ جو کھانا کھا رہے ہیں، یہ کس کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے؟

جب کہ ہمیں سب سے پہلے اِس امر پر غور کرنا چاہیے کہ ہم علمی اعتبار سے کتنے چاق و چوبند بن چکے ہیں کہ ہم اُن کمپنیوں کے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں گے؟  …ہمارے گھروں میں ہماری خود کی بنائی ہوئی کتنی چیزیں ہیں؟  …کیا ہم اپنے گھروں سے اُن اشیاء کو نکالنے کے لئے تیار ہیں، جو اسرائیلی پروڈکٹ ہیں؟  …اگر ایسا نہیں ہے تو ایک منفی پیغام پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک کے بدلے ستر گنا ثواب حاصل کرنے کا موقع بھی گنوا رہے ہیں۔  …

اور سب سے اہم یہ کہ ہم حلال کھارہے ہیں یا حرام۔

اس طرح کے پیغامات سے منفی ذہن تو تیار کیا جاسکتا ہے،  …الجھایا تو جا سکتا ہے لیکن غور و فکر کرکے مثبت طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔  …شیطانی ذہن پر کام کرنے والوں نے ہمارے دماغ تک کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔  …ہمارے ہی لوگ منفی پیغامات کو پرموٹ بھی کر رہے ہیں۔  …کیا پہننا ہے؟  …کیا کھانا ہے؟  …کیا برتنا ہے؟  …اس پر ہم کبھی بھی غور نہیں کرتے،  …جب کہ غور کرنے کے لئے ہمارے پاس پورے گیارہ مہینے بھی ہیں، لیکن نہیں۔  …حلق میں ایک بوند پانی چلا جائے مسئلہ پوچھا جاتا ہے کہ روزہ ہوگا یا نہیں۔  ………لیکن حرام ہمارے کھانے میں کب شامل ہو گیا،  …اُس کا احساس تک نہیں۔  ………بعض کاروباری لوگوں جو کبھی سیٹھ تھے، کے بارے میں یہ بھی پتا چلا کہ اب وہ حج کرکے آ چکے ہیں،  …اب وہ اِس سیٹ پر نہیں بیٹھتے  …نہ ہی کاروبار کرتے ہیں،  …اب یہ کام اُن کا جانشین بیٹا ہے یا کوئی عزیز کرتا ہے۔ … یعنی کہ اکثر لوگوں کا کاروبار بھی غلط طریقے سے رہا اور عمر کے آخری حصہ میں حج کر لیا  …تو  …گویا سمجھ لیا کہ  …ساری حرام کاری معاف ہوگئی۔  …ہرگز نہیں۔  …غور کر لیجیے کہ ہم نے اگر حرام کاری کی ہے تو گویا ہم نے حرام کی کمائی سے ہی خود کی پرورش پائی ہے اور اپنے بچوں کی پرورش کی ہے۔  ………اور اس کا بدل عمرہ اور حج کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔  ………جو لوگ بھی کلمہ گو ہیں اور اللّٰہ کو معبود مان چکے ہیں، اور مُحمَّد کو رسول اقرار کر کے تسلیم کر چکے ہیں، اُن کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اپنے سچے اور پکے مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کریں؛ یعنی عملی نمونہ بنیں۔

اس کا عملی نمونہ پیش کرنے کا طریقہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول مُحمَّد کے ذریعہ بتا دیا ہے۔

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللہَ فَاتَّبِعُونِى يُـحْـبِـبْــكُمُ اللہُ وَيَـغْـفِـرْ لَكُمْ ذُنُـوبَـكُمْ  وَاللہُ  غَـفُورٌ رَّحِيمٌ

(آل عمران ۳۱)

اے نبی (محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللّٰہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللّٰہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا، اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ کیوں کہ اللّٰہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت سے اللّٰہ کی محبت کا واجب ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں تک کے اس کی علامتیں، اس کے نتائج اور بدلہ بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس کے تمام حالات میں اس کے قول و فعل میں دین کی بنیادوں اور اس کی شاخوں میں رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیروی ضروری ہے۔ تبھی اللّٰہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخشے گا۔ اگر ہم نے احکام خداوندی کو بروئے کار لانےمیںطریقہ رسول کو نہیں اپنایا تو ہمارے اعمال بے کار ہیں۔

ایک صحیح حدیث کے حوالہ سے ہمیں یہ بتا دیا گیا ہے کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ اور کس طرح سے ہمیں ذمہ داریوں کا حساب دینا ہے۔ اگر ہم نے اس حکم کا بھی خیال نہیں کیا تو یقین جانیے کہ ہم یا آپ بہت زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوں گے، بلکہ آئے دن ہو رہے ہیں؛ اور آخرت بھی تباہ ہو جائے گی۔

عَـنِ ابْـنِ عُـمَـرَ رَضِيَ اللہُ  عَـنْـهُـمَـا عَـنِ النَّبِيِّ صلی اللہ عَـلَیْہِ وَسَـلم أَنَّهُ قَالَ أَلاَ كُـلُّـكُـمْ رَاعٍ وَ كُـلُّـكُـمْ  مَسْـئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالأَمِـيـرُ الَّـذِي عَـلَـى النَّـاسِ رَاعٍ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَ وَلَدِهِ وَ هِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَ هُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

 (صحیح مسلم)

سیدناابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ تم میں سے ہرشخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا (حاکم سے مراد منتظم اور نگراں کار اور محافظ ہے) پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا(کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کیے، ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں؟) اور آدمی اپنے گھر والوں کا حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی حاکم ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کے متعلق سوال ہو گا۔ غرضیکہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کا سوال ہو گا۔ ‘‘

ہماری آزمائشیں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں؛ اور ہوتی رہیں گی۔ شکل و ہیئت چاہے جیسی ہو۔ بیماریاں آتی ہیں تو وہ ہمارے گناہوں کو کم کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ یا پھر اس آزمائش پر صبر کے بدلے آخرت میں اجردیا جائے گا۔ لیکن اگر ہم آہ و زاریاں کرتے رہے اور صبر کے امتحان میں ناکام ہوئے تو نہ دنیا میں ہمارے حالات اچھے ہونے والے ہیں اور نہ ہی آخرت میں اچھا ہونے والا ہے۔

ایک طرف جہاں گیارہ مہینے میں زبانی اور سوشل میڈیا کے ذریعہ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ میں گزرتے ہیں اور ویسے اِس مبارک ماہ میں بھی ہو رہا ہے۔  …روزہ کا قضا،  …فدیہ دینا،  …زکوٰۃ و فطرہ کا نصاب کیا ہے؟  …کتنے دن کی تراویح پڑھنی ہے۔؟  …کتنی رکعتیں پڑھنی ہیں؟  …تہجد اور قیام اللیل کیا ہے؟  …تراویح پڑھی یا نہیں؟ …کہاں پڑھی؟  …کتنے دن کی پڑھی؟ وغیرہ

دوستو! اِن امور کا تعلق ہماری عبادات سے ہے۔ جس کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کے لئے کتابیں، آڈیو، ویڈیو اور علماء کرام سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔  …لیکن اُس کے لئے ذوق و شوق کی ضرورت ہے۔  …اپنے ذوق کا مطالعہ کیجیے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔  …ہم گلی کے نکڑ پر اِس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں۔  …جو کہ بارآور ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ خود الجھے ہوئے ہیں اور دوسروں کو الجھا کر وقت خراب کر رہے ہیں۔

زندگی کا ایک دوسرا پہلو معاملات کا بھی ہوتا ہے،  …جس کے بارے میں اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح سے رہنمائی کر دی ہے۔  …اگر ہم نے انسانی معاملات و ضروریات کو سنت کے مطابق عمل میں نہیں لایا تو یقیناً پکڑے جائیں گے۔  …کیوں کہ اِن امور کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔  …ہم افطار کی دعوت کراکر عبادات کو تو بہتر بنا رہے ہیں،  …… لیکن جو وقت ہماہمی میں ضائع کر رہے ہیں وہ زیادہ نقصاندہ ہے۔  جب کہ ہمیں اُس وقت کو ذکر و اذکار میں گزار کر عبادات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔  ……افطار کی دعوت عموماً لوگوں میں رابطہ کی غرض سے کیا جاتا ہے۔  ……لیکن اب اور بھی کئی دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جا رہا ہے،  ……اور اس مقصد کو ہم آپ جیسے لوگ خوب سمجھتے ہیں۔ اس لئے اس پر غور کر لینا چاہیے کہ نیت کے مطابق ہی اِس کا نتیجہ بھی نکلنے والا ہے۔

اِنہی عبادات کے ساتھ انسانی معاملات کا سلسلہ بھی ہوتا ہے۔  ……

جس میں لوگوں سے لئے گئے قرض ادا نہ کرنا،…… 

پبلک پیلس یا راہ داری پر قبضہ جما لینا۔ ……

اسکول، عبادت گاہ وغیرہ کے آس پاس گندگی پھیلانا۔ ……

خصوصاً خود و نوش والی عبادات کے بعد۔ ……

ویسے بھی ہماری قوم کو کھانے پینے والی ساری حدیثیں یاد رہتی ہیں۔ ……

لیکن اُس کے ذریعہ ہونے والی معاشرتی بگاڑ پر اُن کا دھیان برسوں سے نہیں گیا ہے۔ ……اور نہ ہی دھیان دلایا گیا ہے۔…… 

’’دعوت قبول کرنا سنت ہے‘‘… لیکن کیا فرض کو چھوڑ کرکے؟ ……

یہاں تک کہ’’ فرضِ کفایہ‘‘ کو ادا کرنے کے لئے بھی کئی فرائض کو چھوڑا جاتا ہے،…

جیسے کہ جنازہ میں شرکت کرنا۔ ……اور اِس کے پیچھے لوگوں کے ذہن میں یہی بات رہتی ہے کہ ……

’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ ؟ ……

نکاح کے مواقع پر بھی فضول کھانے کے پروگراموں کے ذریعہ فرائض کو طاق پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ……

’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ……کھایا ہے تو کھلانا بھی پڑے گا۔ ……

آخر ہم نے کھانے اور کھلانے کا طریقہ سنت سے کیوں نہیں لیا؟ ……

زکوٰۃ و صدقات کا بھی یہی حال ہے۔ ……

قوم کے پاس اتنی دولت ہے کہ نہ ضرورت مندوں کو دروازے دروازے جانا پڑے اور نہ مدارس کو سفیر رکھنا پڑے۔ ……لیکن ایسا ہو رہا ہے۔ ……ہم میں ایسے لوگ ہیں کہ زکوٰۃ و صدقات دینے میں گریز کرتے ہیں اور مانگنے والے مانگ کر خوش ہوتے ہیں بلکہ اُسی کو آمدنی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ ……جبکہ زکوٰۃ و صدقات کے تقسیم کا مقصد غریب و مسکین کو خود کفیل بنانا ہے۔ …………نہ کہ سال بھر پیٹ بھرنے سامان کرنا۔

اتنی تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم معاملات میں سنت کو اپنائیں، 

لوگوں کو خود کفیل بنائیں؛ 

ہر اعتبار سے، خواہ روز مرہ کی ضروریات ہو یاتعلیمی مقاصد کو پورا کرنا یا صحت و خوردنی اشیاء کی فراہمی کا معاملہ۔ یا رشتہ داری کو مضبوط کرنے کا طریقہ۔ ……سنت کو اپنائیں، 

اللّٰہ کی رضا کے لئے عبادات و معاملات کو بہتر بنائیں۔ ……

ہم دیکھ رہے ہیں اکثر معاملات کی خرابی نے ہمیں ذلت کے دہانے پر پہنچایا۔ ……معاملاتی طور پر ہمیں انسانی روابط کو فروغ دینا ہے نہ کہ بائیکاٹ اور منفی باتیں اور  رویّہ کو فروغ دے کر اپنے کو کنارہ کش کرلینا؛ ……

یہ زندگی کی علامت نہیں ہے۔ ……

ہمیں اپنی شراکت (کنٹربیوشن) پیش کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ……

یہی سب سے ضروری کام ہے۔ ……

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں معاملات میں بہتر بنائے؛ تاکہ ہم انسانیت کے لئے بہتر ثابت ہو سکیں۔آٰمین 

ختم شد 


Friday, February 23, 2024

➗ ➗زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے ➗ ➗

 ➗ ➗زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے ➗ ➗


دورِ رواں میں اب تقریباً اکثریت کی زندگی کا مقصد کھانا پینا، سونا، گھومنا پھرنا،دنیا کی آسائشیں حاصل کرنا، استعمال کرنا اور مرجانا ہے۔جبکہ ایک مسلم قوم کی زندگی کا مقصد اور نصب العین اعلاء کلمۃ اللہ کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوٓا آبَاءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ 

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْـرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ  ِۨ اقْتَـرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَـرْضَوْنَـهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَجِهَادٍ فِىْ سَبِيْلِـهٖ فَتَـرَبَّصُوْا حَتّـٰى يَاْتِىَ اللّـٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِيْنَ 

(سورہ توبہ آیت ۲۳، ۲۴)

اے ایمان والو! اپنے باپوں اور بھائیوں سے دوستی نہ رکھو اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں، اور تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

کہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے، اور اللہ نافرمانوں کو راستہ نہیں دکھاتا۔

مذکورہ آیت میں اسی بات کی تعلیم دی گئی ہےکہ ہمیں ایمان والوں کو اپنا دوست یا رفیق بنانا چاہیے۔ اور اگر ہمارے بھائی یا باپ اگر ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں تو ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ضروری ہے۔

إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

(سورہ آل عمران آیت  ۱۴۰)

اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں اور اس لیے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔

یہ آیت غزوہ بدر اور احد کے تعلق سے نازل کی گئی جس میں اہل ایمان اور اہل کفر کا موازنہ کیا گیا ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے ہم (اللہ تعالیٰ) دن و رات اور زمانے کے الٹ پھیر کے ذریعہ یاد دہانی کراتے ہیں تاکہ لوگ اپنا محاسبہ کریں کہ کیا انہوں نےاپنے آپ کو واقعی روزِ قیامت اپنے وعدے میں پورے اترنے کے قابل بنا لیا ہے؟   اگر نہیں تو یہ موقع ہے، ایسے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ نا کہ خوابِ خرگوش میں سوئے رہیں اور نیند کھلے تو دنیا میں شرمندگی اور لاچاری کا سامنا کرنا پڑے اور روزِ قیامت بھی شرمندگی کا سامنا ہو۔

اس کی مزید تفصیل جاننے کے لئے تفسیر کا مطالعہ کیا جائے۔

قرآن مجید ایک دوسری آیت ۴۱، سورہ روم میںاللہ تعالیٰ نے یاد دہانی کرائی ہے۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيْقَهُـمْ بَعْضَ الَّـذِىْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُـمْ يَرْجِعُوْنَ 

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔

مذکورہ تینوں قرآنی حوالہ کو سمجھنے کے بعد کیا اب بھی اپنے آپ کو سنوارنے کے بارے میں نہیں سوچیں گے؟

جب ہر گھر سے نوجوان (عمر ۲۵ تا ۴۰ برس) یکے بعد دیگرے اللہ کو پیارے ہونے لگے توقوم کے کچھ غیور حضرات کو آج یہ فکر ستانے لگی ہے کہ بیواوں اور یتیموں کا سہارا کون اور کیسے بنے گا؟ ۔۔۔۔۔۔۔ 

آج یہ فکر ستانے لگی ہے کہ ہماری بیٹیاںپیسہ پرست بن چکی ہیں تبھی تو لالچ میں غیرمسلموں کا ساتھ پسند آرہا ہے اور چھ مہینہ کے بعد جب وہ گھر سے نکال دیتے ہیں تو ان لالچی بیٹیوں کے پاس رونے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔ ’’یعنی اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ ’’ہمیں تو اُن کی بیٹیوں سے پیار ہے، ہمیں مسلمانوں سے نفرت تھوڑے ہی ہے‘‘ ہم تو پریم پجاری ہیں۔ ہمیں تو اس کام کے پیسے دیے جاتے ہیں۔ ہم تو دو طرفہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مال اور مزا دونوں۔

آخر کب تک ہم چادر سے زیادہ ٹانگ پھیلا کر اپنے جسم کی نمائش کرتے رہیں گے؟

نکاح کو سنت طریقے پر انجام دینے میں اور کتنے  وقت انتظار کرنا ہے؟ یہ کہنا ہم کب چھوڑیں گے کہ ’’وہ زمانہ اور تھا‘‘ کیا ہم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کے زمانہ سے بہتر زمانہ میں جی رہے ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس طرح کی باتیں کر کے ہم بذاتِ خود محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیروکار کی دعوے داری کے باوجود انکار کر رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں۔ دوسری قوم اگر ہمارے رسول کے خلاف کہہ دے تو ہمیں ہماری حمیت ایسے جاگتی ہے کہ ہم سے بڑا ایمان والا کوئی نہیں ہے۔ کھلے عام ہم سنت کی خلاف وزی کریں تو ہم پکے مومن؟؟ یہ دہرا معیار کیوں؟ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں؟ کب تک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرکے اپنے آپ کو محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کہتے رہیں گے؟ 

مذکورہ سوالات جسے پڑھ کے یا سن کے آپ کو ناگوار گزر رہی ہیں، ایسا ہی ہوگا، نا گوار ہی گزرے گا۔

کیوں؟  کیوں کہ ہمارے اکابرین نے ہمیں ہر موقع پر یہی کہا کہ ’’تم ابھی بچّے ہو،  تم ابھی نہیں سمجھوگے‘‘ 

افسوس یہ کہ ہمیں سمجھانے والا ابھی تک کوئی ایسا بزرگ نہیں ملا، یا اصل میں قرآن و حدیث کو سمجھ کر مجھے سمجھانے والا نہیں ملا

ننانوے فیصد لوگوں نے رٹّا لگا کے تعلیم حاصل کی ہے، بس وہی آگے منتقل کرتے جا رہے ہیں۔

دس سے پندرہ برس کسی بھی دینی یا عصری ادارہ میں عمر خرچ کرکے کیا حاصل کیا؟

آج بھی میرے سوال جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ آج بھی میرے سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔

ملیں گے بھی کیسے؟ جب سنت کو طریقہ محمدی کے مطابق عمل میں لایا ہی نہیں تو کیسے ملیں گے۔؟

مالی طور پر معاشرہ کی بہتری کا نظام صدقہ کی وصولی ہے۔کیا یہ نظام سنت کے مطابق جاری ہے؟ نہیں۔ اگر یہ سنت کے مطابق عمل میں لایا جائے تو بہت جلد مسلم قوم مالی طور پر خود کفیل بن جائے گی۔ لیکن میں تجربہ ہے کہ برسوں سے صدقہ کا نظام غیر شرعی طریقے سے رائج ہے۔ خود کفیل بنانے کا ہمارے یہاں کوئی نظام نہیں ہے۔ کوئی بھی جماعت، تنظیم یا ادارہ دعوے داری کرتی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو خود کفیل بنایا ہے تو یہ صرف آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں تعلیمی ادارے تو بڑے بڑے ہیں، اسپتال بھی بنا لئے، اور دیگر فلاحی ادارے بھی بنا لئے لیکن تعلیمی اعتبار سے ہماری قوم کے کتنے فیصد لوگ ان اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں؟ اُن اسپتالوں میں کتنے فیصد ڈاکٹرس آپ کے کام کرتے ہیں؟  شاید ہی کوئی ایسا صوبہ بچا ہوگا جہاں مسلم قوم نے اپنے یہ تینوں ادارے قائم نہیں کئے ہوں گے۔ لیکن آپ ان اداروں کا دورہ کریں اور پتا لگائیں کہ ہماری قوم کے کتنے فیصد لوگ استفادہ کر رہے ہیں اور کتنے فیصد لوگ خدمات انجام دے رہے ہیں؟

رفاہی اداروں میں گھوم کر دیکھیے، وہاں بھی اگر تعلقاتی اور چاپلوس قسم کے لوگ ہیں تو معقول تنخواہ اورصلاحیت مند ہیں، خود دار ہیں تو ان کی اجرت دینے کے لئے جواب ہے ’’بھائی خیراتی ادارہ ہے، اتنی اجرت تو ادارہ نہیں دے سکتا۔ سوچ لیجے کرنا چاہتے ہیں تو کیجیے ورنہ کہیں اور دیکھیے۔‘‘ انٹرویو ایسے لیں گے جیسے کہ آئی ایس افسر بحال کر رہے ہیں۔ اور اجرت ’’دس ہزار روپےماہانہ‘‘ ایک گریجویٹ یا فارغ التحصیل بندہ یا بندی کیوں اس قسم کے اداروں میں کام کرے؟ آج کی تاریخ میں چار سو روپے کی دہاڑی اینٹ مٹی ڈھو کر بھی بنا لیتے ہیں۔ ایک قلی بھی ہزار روپے کی دہاڑی بنا لیتا ہے۔ ایک سبزی یا پھل فروخت کرنے والا بھی ہزار روپے کی دہاڑی نکال لاتا ہے۔ اگر ہم یہ موازنہ پیش کر رہے ہیں تو ممکن ہے یہ میرے سوچ کی غلطی کہہ سکتے ہیں کہ ’’بتاؤ بھائی یہ مولوی کس سے اپنا موازنہ کر رہا ہے‘‘ یہ اتنا بڑا فرق اور یہ غلط موازنہ کس نے قائم کیا ہے؟ ہم ہر اُس مذہب کے ٹھیکیدار سے سوال کر رہے ہیں جو اپنی کارنامے گنوا کے چندہ وصولتے ہیں اور ضرورت مندوں پر خرچ کے نام پر دس فیصد بھی نہیں۔ باقی نوے فیصد سرمایہ کس کام میں استعمال ہوتا ہے؟ یہی سب سے بڑی غلطی اور گھوٹالہ ہے جس کی وجہ سے ہماری قوم خود کفیل نہیں ہو پا رہی ہے۔

تعلیم یافتہ نہ ہونے کے پیچھے کی وجہ صرف اور صرف یہ کہ قابل لوگوں کو کام پر رکھ کر اُن کی محنت کے مطابق معاوضہ نہ دینا۔ اور خود غرضانہ نظام کو معاشرہ میں رائج رکھنا۔ اور جب تک اس سوچ کے تحت یہ نظام چلتا رہے گا، مسلم معاشرہ کبھی بھی خود کفیل نہیں ہو سکے گا۔

بات ہے ۱۹۸۲ء کی جب ہم عربی ثانیہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ہمارے گاؤں کے دو اور لڑکے درجہ حفظ میں پڑھا کرتے تھے اور مکمل کرنے کے قریب تھے۔ شعبان میں مدرسے کی چھٹی کے بعد ہم لوگ گاؤں پہنچے ہوئے تھے۔ صلوٰۃ مغرب کے بعد مسجد کے قریب ایک صاحب کے بیٹھک میں اکثر لوگ جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرتے تھے۔ ہم لوگوں کو بھی شامل کیا گیا۔ حافظوں سے قرأت سنی گئی۔ مجھ سے تقریر سنی گئی۔ جوش جذبات میں لوگوں نے اپنی خواہشات کا اظہار کیا کہ ہمارے گاؤں کے تین لوگ چند سالوں کے بعد حافظ مولوی بن جائیں گے تو ہم بھی اپنے گاؤں میں ایک مدرسہ کھولیں گے، اور بچوں کو دینی تعلیم کا بندوبست کریں گے۔ ہمارا گاؤں بھی دین دار ہو جائے گا۔ میرا سوال تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی لائحہ عمل ایسا ہے کہ آپ بچوں کو دینی تعلیم دے سکیں گے اور انہیں خود کفیل بنا سکیں گے؟ جواب میں وہی برسوں پرانا جملہ ’’چندہ کریں گے۔‘‘ 

کون کرے گا؟ 

جیسے دوسرے مدرسے کے مولوی حافظ کرتے ہیں ویسے یہاں کے کریں گے۔ 

میں کہا کہ پھر آپ لوگ کیا کریں گے؟ 

آپ کتنے بچوں کی کفالت کریں گے؟ 

خاموشی

میں نے کہا کہ جب آپ لوگ خود اپنے سرمایہ سے اپنے گاؤں کے بچوں کوتعلیم یافتہ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں تو ہم اس منصوبے میں شامل ہو ں گے۔ بصورتِ دیگر ہم اس میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔

ظاہر ہے کہ ایک سولہ برس کے بچے کا یہ جواب چالیس سے اسی برس کے لوگوں کے لئے گراں گزرے گا۔

کیوں کہ مجھے اُن کے اندر کا جذبہ نکالنا تھا۔ افسوس یہ کہ میں اُن کے اندرونی جذبے کو آج تک نہیں نکال پایا۔ ایسا نہیں کہ ہمارے میں گاؤں کے لوگ مالدار نہیں ہیں۔ کل بھی تھے آج بھی ہیں۔ ایسے ایسے لوگ ہیں جو کم و بیش دس یتیم بچوں کی کفالت کر سکتے ہیں۔ لیکن چوں کہ یہ کام کرنا پڑے گا۔ اس میں انہیں شہرت نہیں ملے گی یا کم ملے گی۔ یتیم بچے پڑھ لکھ کر کچھ قابل بن جائیں گے۔ وہ ہمارے مالدار گھرانے کے لوگوں کو کل بھی برداشت نہیں تھا اور آج بھی ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر یہ یتیم بچے پڑھ لکھ کر کسی قابل بن گئے تو اُن کو صبح شام سلام کون کرے گا؟  بس یہی ابو جہل والی جہالت ہماری قوم کوخود کفیل نہیں بنا پا رہی ہے۔ مالدار لوگوں میں خود نمائی کا جذبہ ختم نہیں ہو رہا۔ غریب و یتیم جو صبح شام لوگوں کے طعنے اور جھڑکی سن کے دو وقت کی روٹی کمانے کے لائق بنے گا تو اُن کی کیوں سنے گا؟ وہ تو اُس مالک کی شکر گزاری کرے گا جس نے اُسے اس قابل بنایا ہے یا بنانے میں تعاون کیا ہے۔ جن لو گوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے اور زمین پر اُس کی قدر کریں گے جنہوں نے اسے اپنے مقصد حاصل کرنے میں دامے درمے سخنے تعاون کیا ہے۔ افسوس کہ ہمارے مالدار لوگوں میں بہت کم لوگوں میں نیکی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔

اب اُن تینوں بچوں کا کیا ہوا؟ جی ہاں ایک حافظ بنا، تراویح سناتا رہا، روزی روٹی کے لئے امبروڈری کا کام سیکھا، اور کرتا رہا۔ پڑھانے کے لئے کسی مدرسہ میں نہیں گیا ۔ 

دوسرا حافظ اور مولوی بنا، تراویح سناتا رہا، جمعہ بھی پڑھاتا رہا۔ کسی ادارہ میں بھی درس دیتا رہا۔ لیکن معاشرہ کے طور طریقہ اور قرآن و حدیث میں زبردست ٹکراؤ نے اس کا ذہنی توازن بگاڑ دیا۔ ذہنی توازن کھونے کے بعد وہ خود بھی کھو گیا۔ اللہ بہتر جانے کہاں گیا۔ یعنی جو اُس نے پڑھا اگر اس موضوع پر جمعہ میں خطاب کیا تو لوگوں کو گراں گزرتا۔ لوگ اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملات کے موضوع پر کوئی مولوی نہ ٹوکے۔  انہیں تو مسجد و مدرسہ کے لئے ایسا مولوی چاہیے جو معاشرے کی غلطیوں پر پردہ ڈالے بلکہ ہو سکے تو وہ بھی ویسا ہی کرے جیسا کہ معاشرے میں رائج ہے۔ تو اب آپ خود نتیجہ نکالیں کہ معاشرے میں بہتری کیسے آئے گی۔؟

تیسرا،  مولوی بنا،۱۹۸۹ء میں فضیلت مکمل کی، پیشہ کتابت کو بنایا، صحافت کی، سافٹوئیر ڈیولپمنٹ کیا، فی الحال ہیلتھ کنسلٹنٹ کے طور پر لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ وہی اُس کی روزی کا ذریعہ ہے۔ صحت اور معاشرہ کے موضوع لکھ کر لوگوں کو جگانے اور احتیاط رکھنے کی ترغیب دلاتا ہے۔ پرانے موضوعات جو مسلم قوم کی دکھتی رگ کہی جا سکتی ہے، کبھی کبھی دبانے کی کوشش کرتا ہے، جس سے بہت سے اہل علم ناراض ہو جاتے ہیں، لیکن بہتری کا فارمولہ اُن کے پاس بھی نہیں ہے۔ یا اُن کی عزتِ نفس انہیں روک رکھی ہے۔

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے

منشی امیر اللہ تسلیم

اللہ بس باقی ہوس

 ☆ ☆ ☆

از ➗  فیروزہاشمی


1st May 2021


Monday, December 11, 2023

نیوٹریشن بذریعہ نیٹ ورک مارکٹ

 نیوٹریشن  بذریعہ نیٹ ورک مارکٹ


آج کے دور میں صحت مند زندگی اور ایک اچھا روزگار ہر فرد کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں ایک طرح سے روزگاروں میں چھٹنی اور نئے روزگار پیدا نہیں ہونا ایک دشوار کن مرحلہ بن گیا ہے۔ ایسی صورت و حالت میں نئے روزگار کے بارے میں غور کرنا اور سوچنا بھی ضروری ہے۔

لیکن گھبرائیے نہیں سیکھنے اور کرنے والے کے لئے نیٹ ورک مارکٹ میں بہت کچھ ہے۔ اگر آپ نے کبھی ’’دروازے دروازے ‘‘ جا کر لوگوں کو سامان بیچا ہے یا بیچنا پسند کرتے ہیں اور کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے موقع ہے اچھے پیسے کمانے کے اور اچھی زندگی جینے کے۔ آپ انگریزی میں اِس کا نام لیں گے تو لوگوں پر زیادہ اثر ہوگا۔ (کیوں کہ ہم برسوں سے انگریزی کے غلام بن چکے ہیں۔)  ’’ڈور ٹو ڈور مارکیٹنگ‘‘ یا  ’’اِن ہیرٹ بزنس‘‘ گڈ ہیلتھ اینڈ لائف اسٹائل۔ 

⚽ نیوٹریشن یعنی غذائیت کیا ہے اور غذائیت کیوں ضروری ہے؟  ⚽

سب سے بنیادی سطح پر، غذائیت ایک باقاعدہ، متوازن غذا کھانے کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ 

اچھی غذائیت آپ کے جسم کو ایندھن میں مدد دیتی ہے۔ 

آپ جو غذا کھاتے ہیں وہ آپ کے جسم کو آپ کے دماغ، پٹھوں، ہڈیوں، اعصاب، جلد، خون کی گردش اور مدافعتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے درکار غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں۔

جسم کو برقرار یا صحت مند رکھنے کے لئےغذائیت بہت ضروری ہے۔

اس کو حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ قدرتی غذا ہے۔ اس کا بہتر طریقہ سنت نبوی سے ملتا ہے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’طب نبوی‘‘ کے نام سے کتاب بازار میں موجود ہے۔  اور بھی کئی مصنّفین کی کتابیں معاون ہیں۔

نیچرل طریقے سے جسم کو صحت مند رکھنے یا بیمار ہونے پر علاج کے قدرتی طریقے کو نیچروپیتھی کہتے ہیں۔ 

علاج کے جتنے بھی طریقۂ کار ہیں تقریباً سبھی میں قدرتی غذاؤں کو شامل رکھا گیا ہے۔ لیکن لوگوں کے رہن سہن، حالات اور موسم کی تبدیلی نے صحت مند رہنے کے لئے کئی طرح کے مزید طریقے ایجاد کر لئے گئے ہیں۔ ابھی تک جو ہم نے مطالعہ کیا ہے، تجربہ کیا ہے، یا بھگتا ہے تو ایسی صورت میں صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ قدرتی طریقہ کار کو اپنایا جائے۔

نیچروپیتھی اب آیوش منترالیہ میں منظور شدہ ہے۔

بیمار ہونے کے بعد علاج کے مختلف طریقے سماج میں رائج ہیں۔ جیسے ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، یونانی یا آیوروید۔ اس کے علاوہ بھی کئی طریقے رائج ہیں جو گھریلو کہے جاتے ہیں۔ جس کونہ تو عام لوگ اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی گورنمنٹ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے۔ جیسے نسوں اور ہڈیوں کے ماہرین گاؤں دیہاتوں میں پائے جاتے ہیں۔ سانپ یا زہریلے کیڑے مکوڑے کے کاٹے کا علاج کسی بھی پیتھی میں مکمل طور پر نہیں ہے۔ یہ بھی گاؤں کے ماہرین بہت حد تک نپٹا دیتے ہیں۔ اسپتال میں تو صرف تسلی رہتی ہے۔ بس۔ 

⚽ نیوٹریشن کیا ہے؟⚽

اب رہی بات آج کے بھاگم بھاگ زندگی کی تو ایسے میں نیوٹریشنل ویلیو کی بہت اہمیت ہے۔ جس کے حاصل کرنے کا قدرتی طریقہ پھل ، سبزیاں یا آگ بغیر پکے ہوئے کھانے سے ملتا ہے۔ جس کے پاس کھانا کھانے کے لئے وقت نہیں ہے، وہ نیوٹریشنل کیپسول، ٹیبلٹ یا رَس پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔

اکثر آپ نے ٹی وی وغیرہ پر ریوائٹل کا اشتہار دیکھا یا سنا ہوگا۔ بہت سارے لیتے بھی ہیں۔ دماغین، چیون پراش اور مختلف قسم کے ٹانک بھی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ جس کو جیسی سہولت یا پسند ہے وہ کرتا ہے۔

پوری دنیا میں ہزاروں کمپنیاں ایسی ہیں جو نیوٹریشنل ٹیبلٹ، کیپسول یا رَس یعنی سیرپ بناتی ہیں اور بیچتی ہیں۔ ہاں بیچنے کا طریقہ الگ ہے۔ 

⚽نیٹ ورک مارکٹ کیا ہے؟ ⚽

اکثر و بیشتر نیوٹریشنل پروڈکٹ ’’نیٹ ورک مارکٹ‘‘ کے ذریعہ عام لوگوں کو فروخت کئے جاتے ہیں۔ یہ بہت ہی پرانا طریقۂ کار ہے اپنے پروڈکٹ کو صحیح و سالم لوگوں تک پہنچانے کا۔ بہت کم ایسی کمپنی ہے جس میں تھرڈ پارٹی شامل نہیں ہے۔ ورنہ اکثر تھرڈ پارٹی کے شامل ہونے کی وجہ سے پروڈکٹ کی کوالیٹی میں کمی یا خرابی آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے مارکٹنگ میں پروبلم آ جاتی ہے اور اِسی وجہ سے نیٹ مارکٹ میں کام کرنے والے بد ظن ہو جاتے ہیں۔  اکثر لوگ اسے پھنسے پھنسانے والا بزنس کہتے ہیں، اور کرنے والے کا مذاق بناتے ہیں۔ تھرڈ پارٹی کی شمولیت کی وجہ سے اکثر نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ لیکن جو لوگ تجارت کے طور طریقے کو سمجھ لیتے ہیں، وہ شاذ و نادر ہی نقصان کے شکار ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ بہت پیسے کماتے ہیں۔ یہاں تک ایک میڈیکل پریکٹشنر سے بھی کئی گنا زیادہ۔

اب رہی بات کہ وہ کس قدر کارگر ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بہت ہی مناسب اورکارآمد پروڈکٹ ہوتے ہیں۔ جو مصروف لوگوں کے صحت کی ضمانت کے طور پر کارگر ہیں۔ بہت سے وہ لوگ جسے اسپتالوں نے علاج کرنے سے انکار کر دیا، یعنی یہ کہہ دیا کہ ’’لے جائیے، گھر پہ خدمت کیجیے‘‘ یا ایسا بھی ہوا کہ برسوں سے علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہونے پر جب اُن کو نیوٹریشن دیا گیا تو وہ چند مہینے میں صحت مند ہو گئے۔ اور بعض تو ایسے ہو گئے جیسے کہ وہ کبھی بیمار ہی نہ تھے۔

ویسےتو میرے پاس تقریباً ڈھائی سو کمپنیوں کی فہرست اور پچاس سے زیادہ کمپنیوں کے کام کاج کے بارے میں معلومات موجود ہیں جن میں اِس وقت بھی ایک مشہور نام مارکیٹ میں گردش کر رہا تھا۔ لیکن چند برسوں میں ہی اس کا نتیجہ بھی خراب آنے لگا اور لوگ کمپنی کو چھوڑنے لگے۔ گزشتہ تین برس تک بہت عمدہ ریزلٹ تھا۔ ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں سے چھٹکارا پا چکے ہیں۔

ہندوستان میں بہت سی ایسی کمپنیاں ہیںجس میں شامل ہو کر اکثر لوگ ناکام ہوئے ہیں، کیوں کہ جوڑنے والے اکثر خود کمپنی کی پالیسی اور طور طریقے کو نہیں جانتے اور پروڈکٹ کے بارے میں تو بہت کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ ایسی حالت میں جو کسی دوست یا ساتھی کے کہنے کی بنیاد پر کمپنی سے جُڑ جاتے ہیں، اور ساتھی پر ہی بھروسہ کر کے بزنس کرنا پسند کرتے ہیں، وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ اور نیٹ ورک مارکٹ سے بدظن ہو جاتے ہیں۔ اور سب سے بڑا نقصان تعلقات کی خرابی کا ہوتا ہے۔ لہٰذا بہتر تو یہ ہوگا کہ کمپنی کے طور طریقے اور پروڈکٹ کے بارے میں خود اطمینان کرکے ہی کمپنی سے جڑیں اور لطف لیں۔جو ریلائبل  یعنی قابلِ اعتماد کمپنی ہوتی ہے،ایک مناسب رقم میں اُن کے بنائے ہوئے پرڈکٹ کو خریدنا ہوتا ہے، جو آپ کو کمپنی میں شامل کرنے والے کے اسپانسر کے بعد ہی ممکن ہے۔ اگر کمپنی اپنے بنائے ہوئے پروڈکٹ آپ سے بیچتی ہے تو تب تو کمپنی قابلِ اعتماد ہے، ورنہ نہیں۔

وہ کیسے؟ کئی کمپنی ایک معینہ قیمت لے کر سوٹ پیس دے دیتی ہے کہ اس چاہے آپ خود استعمال کیجیے یا بیچ دیجیے اور اپنے جیسے دو یا چار یا دس مزید کسٹمر لائیے تو ہم آپ کو یہ انعام دیں گے، یا اپنی کمپنی کا دوسرا پروڈکٹ اتنے فیصد رعایت پر دیں گے۔ جو عموماً اُن کے پروڈکٹ بھی نہیں ہوتے بلکہ دوسری کمپنیوں کے مال کو مہنگے داموں میں رعایت کر کے بیچتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ آپ اسے خود استعمال کریں یا بیچ دیں۔ اس طرح کی کمپنیاں عموماً آپ کے پیسے سے اور آپ کی محنت سے اپنا پروڈکٹ بیچنا چاہتی ہیں، جب کہ اُسی طرح کے پروڈکٹ بازار میں آسانی سے اور کم قیمت پر دستیاب ہیں تو کمپنیوں سے اکثر لوگ ایک طرح سے ٹھگی کے شکار ہوتے ہیں۔ بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو ٹھگتے ہیں۔ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو بتاتے سکھاتے رہتے ہیں اور جوڑتے رہتے ہیں۔

جب کہ ایک ریلائبل  یعنی قابلِ اعتماد کمپنی اپنے پروڈکٹ کے ذریعہ آپ سے شروعات کرنے کو کہتی ہے۔ خود ٹریننگ کا مکمل بندوبست کرتی ہے۔ آپ کے سوالوں اور اشکالات کا تسلی بخش جواب دیتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ اگر آپ کو اطمینان ہے تو آپ کمپنی کے طور طریقے کے مطابق کام کو سیکھیں اور لوگوں تک پروڈکٹ پہنچائیں اور پیسے کمائیں۔ 

اور روزانہ سیکھیں، تاکہ آپ زیادہ پروڈکٹ زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور زیادہ پیسے کمائیں۔ جب آپ سیکھ جائیں تو جن کو بھی اسپانسر کریں، اُن کی صحیح تربیت کریں۔ کمپنی کے ٹریننگ پروگرام میں شرکت کو لازم کریں۔اتفاقاً اگر آپ کسی بھی طرح پروڈکٹ بیچنے یعنی نئے کو اسپانسر کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں، تو کمپنی کے ذریعے دیئے جانے والے فری ٹریننگ سے بہت کچھ سیکھ جائیں گے۔ اتنا سیکھ جائیں گے کہ دوسری جگہوں سے ایسا سیکھنے کے لئے ہزاروں روپے ایک ایک سیمینار اٹینڈ کرنے کے دینے پڑیں گے۔ لہٰذا بہتر تو یہ ہوگا کہ آپ پروڈکٹ کے بارے میں جانیں، کئی کمپنیوں میں ایک طرح سے  بی فارما یا ڈی فارما لیول تک کی معلومات فراہم کرا دی جاتی ہے۔ بزنس میں بھی بی بی اے یا ایم بی اے تک کی تعلیم دے دی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں بہت سارے لوگ دونوں میدانوں میں ماہر بن جاتے ہیں۔ یا پھربزنس میں ماہر ہو گئے تو اپنا اچھا خاصا بزنس تو کر ہی لیتے ہیں۔ یعنی بغیر پیسے لگائے کامیاب ہونے کی اچھی جگہ ہے۔

اور اگر آپ کو کمپنی کے طور طریقے اور پروڈکٹ پر اطمینان نہیں ہے تو آپ مزید پیسے نہ لگائیں، توجہ ہٹائیں اور دوسرے کام کی طرف راغب ہوں۔ اور جہاں لالچ زیادہ دیا جائے، خواب دکھائے جائیں تو سمجھ لیجیے آپ پھنسنے جا رہے ہیں۔

☘️🌿🍀🌱🌲🎄🌻

فیروزہاشمی، نوئیڈا، اترپردیش

۱۹؍نومبر۲۰۲۳ء

☘️🌿🍀🌱🌲🎄🌻


دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ

۱ دینی اداروں کا تعلیمی نصاب و نظام؛ اجمالی جائزہ ہمارے معاشرے میں جب تعلیم و تربیت کی بات کی جاتی ہے تو اس وقت سب سے زیادہ پس و پیش اور خیا...